🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. عَذَابُ مَنْ أَفْطَرَ قَبْلَ وَقْتِهِ
وقت سے پہلے روزہ افطار کرنے والے کے عذاب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1584
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر بن سابِق الخَوْلاني، حدثنا بِشْر بن بكر، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن سُلَيم بن عامر أبي يحيى الكَلَاعي، قال: حدثني أبو أُمامةَ الباهلي قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"بَيْنا أنا نائمٌ إذ أتاني رجلان، فأخذا بضَبْعيَّ فأتَيا بي جبلًا وَعْرًا، فقالا لي: اصعَدْ، فقلت: إني لا أُطيقه، فقالا: إنا سنُسهِّلُه لك، فصَعَّدْتُ، حتى إذا كنتُ في سواء الجبل إذا أنا بأصواتٍ شديدةٍ، فقلتُ: ما هذه الأصوات؟ قالوا: هذا عُواءُ أهل النار، ثم انطُلِقَ بي، فإذا أنا بقومٍ مُعلَّقين بعَرَاقيبهم، مُشقَّقةٍ أشداقُهم، تسيلُ أشداقُهم دمًا، قال: قلتُ: من هؤلاء؟ قال: هؤلاء الذين يُفطِرون قبل تَحِلَّة صومِهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: میں سو رہا تھا کہ اچانک میرے پاس دو فرشتے آئے اور انہوں نے مجھے بازوؤں سے پکڑ کر ایک دشوار گزار پہاڑ پر لے گئے اور مجھ سے کہا کہ اس پر چڑھیں، میں نے عرض کیا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا، انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے یہ راستہ آسان کر دیں گے، چنانچہ میں اوپر چڑھ گیا، جب میں پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو اچانک مجھے نہایت ہولناک چیخیں سنائی دیں، میں نے پوچھا: یہ کیسی آوازیں ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ جہنمیوں کے چیخنے کی آوازیں ہیں، پھر مجھے آگے لے جایا گیا تو میں نے کچھ ایسے لوگ دیکھے جو اپنی کونچوں کے بل الٹے لٹکے ہوئے تھے، ان کی بانچھیں پھٹی ہوئی تھیں اور ان سے خون بہ رہا تھا، میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ وہ بدبخت ہیں جو وقتِ افطار سے پہلے ہی (بغیر کسی شرعی عذر کے) روزہ توڑ دیتے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1584]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ نَاسِيًا فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ وَلَا كَفَّارَةَ
جس نے رمضان میں بھول کر روزہ توڑ دیا اس پر نہ قضا ہے اور نہ کفارہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1585
أخبرني أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن أفطَرَ في رمضانَ ناسيًا، فلا قَضاءَ عليه ولا كفَّارةَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان میں بھول کر کچھ کھا پی لیا اور روزہ توڑ دیا، تو اس پر نہ اس کی قضا ہے اور نہ ہی کوئی کفارہ۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس مخصوص سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1585]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1586
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق بن موسى الخَطْمي (1) ، حدثنا أبي، حدثنا أنس بن عِيَاض عن الحارث بن عبد الرحمن، عن عمِّه، عن أبي هريرةَ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ليسَ الصِّيامُ من الأكل والشرب، إنما الصيامُ من اللَّغْو والرَّفَث، فإن سابَّكَ أحدٌ أو جَهِلَ عليك فقل: إنِّي صائم، إنِّي صائم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ محض کھانے اور پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے، بلکہ حقیقی روزہ تو لغویات اور بیہودہ باتوں سے بچنے کا نام ہے، پس اگر تمہیں کوئی گالی دے یا تمہارے ساتھ جہالت و نادانی سے پیش آئے تو تم (اس کے جواب میں) کہہ دو: میں روزے سے ہوں، میں روزے سے ہوں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1586]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1587
أخبرنا أبو بكر بن أبي نصر المروَزي، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا قُتيبة بن سعيد البَلْخي، حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا عمرو بن أبي عمرو، عن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"رُبَّ صائمٍ حَظُّه من صيامِه الجُوعُ، ورُبَّ قائمٍ حَظُّه من قيامِه السَّهَر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزے سے سوائے بھوک کے کچھ حاصل نہیں ہوتا، اور بہت سے راتوں کو عبادت کے لیے کھڑے ہونے والے ایسے ہیں جنہیں اپنے قیام سے سوائے جاگنے (کی تھکن) کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1587]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. جَوَازُ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ
روزہ دار کے لیے بوسہ لینے کی اجازت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1588
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم وإبراهيم بن نصر الرّازيّان، قالا: حدثنا أبو الوليد الطيالسي، حدثنا الليث بن سعد، عن بُكَير بن عبد الله بن الأشَجّ، عن عبد الملك بن سعيد بن سُوَيد الأنصاري، عن جابر بن عبد الله، عن عمر بن الخطاب أنه قال: هَشِشْتُ يومًا فقبَّلتُ وأنا صائم، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فقلت: صَنعتُ اليوم أمرًا عظيمًا فقبلتُ وأنا صائم، فقال رسول الله ﷺ:"أرأيتَ لو تَمَضْمَضْتَ ماءً وأنت صائمٌ؟" قال: فقلت: لا بأسَ بذلك، فقال رسول الله ﷺ:"ففيمَ؟" (1) . حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ایک دن میں جوشِ محبت میں آ گیا اور روزے کی حالت میں (اپنی اہلیہ کا) بوسہ لے لیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: آج میں نے ایک سنگین غلطی کر دی ہے کہ روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم روزے کی حالت میں (وضو کرتے ہوئے) پانی سے کلی کرو (تو کیا اس سے روزہ ٹوٹے گا)؟ میں نے عرض کیا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس (بوسے) پر کیسا خوف؟
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1588]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. تَعْجِيلُ الْإِفْطَارِ
افطار میں جلدی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1589
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى (1) ، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن عبد الله، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"لا يزالُ الدِّينُ ظاهرًا ما عَجَّل الناسُ الفِطرَ، لأنَّ اليهود والنصارى يُؤخِّرون" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے، کیونکہ یہودی اور نصرانی افطار کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1589]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. اسْتِحْبَابُ الْإِفْطَارِ عَلَى التَّمْرِ
کھجور سے افطار کرنے کی ترغیب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1590
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا شُعبة، عن عبد العزيز بن صهيب، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن وَجَدَ تمرًا فليُفطِرْ عليه، ومن لا فليُفطِرْ على الماء، فإنه طَهور" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے کھجور میسر ہو وہ اس سے افطار کرے، اور جسے نہ ملے وہ پانی سے افطار کرے کیونکہ پانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1590]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1591
أخبرني إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا قيس بن حفص الدَّارمي، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن عاصم الأحول، عن حَفْصة بنت سِيرين، عن الرَّباب، عن عمِّها سلمان بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا كان أحدُكم صائمًا فليُفطِرْ على التَّمر، فإن لم يَجِدِ التمرَ فعلى الماءِ، فإنَّ الماء طَهور" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم:
سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے چاہیے کہ وہ کھجور سے افطار کرے، پھر اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے افطار کرے، کیونکہ پانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر بھی موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1591]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1592
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا جعفر بن سليمان، أخبرني ثابت البُنَاني، أنه سمع أنس بن مالك يقول: كان رسولُ الله ﷺ يُفطِرُ على رُطَباتٍ قبل أن يصلِّي، فإن لم يكن رُطَباتٌ فعلى تَمَراتٍ، فإن لم يكن تَمَراتٌ حَسَا حَسَواتٍ من ماء (1) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز (مغرب) ادا کرنے سے پہلے چند تر کھجوروں سے افطار فرماتے تھے، اگر وہ میسر نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے، اور اگر وہ بھی نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ بھر لیتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1592]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. الْإِفْطَارُ قَبْلَ الصَّلَاةِ
نماز سے پہلے افطار کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1593
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا زكريا بن يحيى بن أبَان، حدثنا محمد بن عبد العزيز الواسطي، حدثنا شعيب بن إسحاق، حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قتادة، عن أنس بن مالك: أنَّ النبيَّ ﷺ كان لا يُصلِّي المغرب حتى يُفطِرَ ولو على شَرْبةٍ من ماء (1) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز اس وقت تک ادا نہ فرماتے جب تک افطار نہ فرما لیتے، چاہے وہ پانی کا ایک گھونٹ ہی کیوں نہ ہوتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1593]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں