🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. كِتَابُ الطَّلَاقِ
کتاب الطلاق
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2828
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنْطري ببغداد، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الله بن المؤمَّل، عن ابن أبي مُلَيكة: أنَّ أبا الجَوزاء أتى ابنَ عباس، فقال: أتعلَمُ أنَّ ثلاثًا كُنّ يُردَدْن على عهد رسول الله ﷺ إلى واحدةٍ؟ قال: نعم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2792 - ابن المؤمل ضعفوه
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ ابوالجوزاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور بولے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا؟ انہوں نے جواباً کہا: جی ہاں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2828]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2829
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، أخبرني ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عباس، قال: كان الطلاقُ على عهدِ رسول الله ﷺ وأبي بكر وسنتين من خلافة عُمر طلاقُ الثلاثِ واحدةً، فقال عُمر: إن الناس قد استعجَلُوا في أمرٍ كانت لهم فيه أَناة، فلو أمضَيناهُ عليهم؛ فأمضَاهُ عليهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2793 - على شرط البخاري ومسلم
(سیدنا عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اکرم کے زمانے میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے دو سالوں میں تین طلاقوں کو ایک شمار کیا جاتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں نے ایسے کام میں جلدبازی کی ہے جس میں ان کی بربادی ہے، اگر ہم یہ حکم ان پر نافذ کر دیں (تو بہت اچھا ہو) پھر آپ نے اس کو نافذ کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2829]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. مَا أَحَلَّ اللَّهُ شَيْئًا أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ
اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ حلال چیز طلاق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2830
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا مُعرِّف بن واصِل، عن مُحارِب بن دِثار، عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ:"ما أحلَّ اللهُ شيئًا أبغضَ إليه مِن الطلاق" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ومن حُكْم هذا الحديث أن يُبدَا به في كتاب الطلاق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2794 - بعد تصحيح الحاكم للحديث على شرط مسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کو حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ طلاق ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، اس حدیث کے حکم میں سے یہ بھی ہے کہ اس کو کتاب الطلاق کے آغاز میں ذکر کرنا چاہئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2830]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا، أَوْ عَبْدًا عَلَى سَيِّدِهِ
وہ ہم میں سے نہیں جو کسی عورت کو اس کے شوہر سے یا غلام کو اس کے آقا سے بہکائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2831
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصغَاني، حدثنا الأحوص بن جَوّاب، حدثنا عمار بن رُزَيق، عن عبد الله بن عيسى، عن عِكْرمة، عن يحيى بن يَعمَر، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"ليس منا من خَبَّب امرأةً على زوجِها، أو عبدًا على سيِّدِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2795 - على شرط البخاري
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو بیوی کو اس کے شوہر سے بگاڑ دے اور غلام کو آقا سے بگاڑ دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2831]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2832
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل، قالا: أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن الواسطي، حدثنا عمرو بن عون، حدثنا هُشَيم، أخبرنا حميد، عن أنس، قال: لما طَلَّق النبيُّ ﷺ حفصةَ، أُمِرَ أَن يُراجِعَها فراجَعَها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2796 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ کو طلاق دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رجوع کرنے کا حکم دیا گیا تو آپ نے رجوع کر لیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2832]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2833
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الخَضِر بن أبانَ الهاشمي، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن صالح بن صالح، عن سَلَمة بن كُهيل، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ طلَّق حفصةَ، ثم راجَعَها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2797 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ کو طلاق دی پھر رجوع کر لیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2833]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. طَلَاقُ الْمَرْأَةِ بِأَمْرِ الْأَبَوَيْنِ
والدین کے کہنے پر عورت کو طلاق دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2834
أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد الأسَدي الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذِئْب، حدثني خالي الحارث بن عبد الرحمن، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، قال: كانت تحتي امرأةٌ أُحبُّها، وكان عمر يكرهُها، فقال عمر: طلِّقْها، فأبَيتُ، فذَكَر ذلك للنبي ﷺ، فقال:"أطِعْ أباكَ وطلِّقْها"، فطلَّقتُها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والحارث بن عبد الرحمن هو: ابن أبي ذُباب المدني خالُ ابن أبي ذئب، قد احتجّا جميعًا به!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2798 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میرے نکاح میں ایک ایسی خاتون تھی جس کے ساتھ میں محبت کرتا تھا لیکن (میرے والد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو وہ اچھی نہیں لگتی تھی۔ سیدنا عمر نے (مجھے) کہا: اس کو طلاق دے دو میں نے انکار کر دیا تو انہوں نے یہ بات نبی اکرم کو بتا دی تو آپ نے فرمایا: اپنے والد کی بات مانو اور اس کو طلاق دے دو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا اور حارث بن عبدالرحمن ابوذباب المدنی کے بیٹے اور ابن ابی ذئب ہیں اور امام بخاری اور امام مسلم نے ان کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2834]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2835
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل، أخبرنا عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي: أنَّ رجلًا أتى أبا الدَّرْداء، فقال: إنَّ أمي لم تَزَلْ بي حتى تزوجتُ، وإنها تأمُرُني بطلاقِها، وقد أبَتْ عَلَيَّ إلّا ذاك، فقال: ما أنا بالذي آمُرُك أن تَعُقَّ والدتَك، ولا أنا بالذي آمُرُك أن تُطلِّق امرأتَك غير أنك إن شئتَ حدثتُك بما سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"الوالدُ أوسَطُ أبواب الجنة"، فحافِظْ على ذلك الباب إن شئتَ أو أَضِعْه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2799 - صحيح
سیدنا ابوعبدالرحمن السلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری والدہ میرے ہمراہ رہتی ہے، اب میں نے شادی کرا لی ہے جب کہ میری والدہ مجھے اس کو طلاق دینے کا کہہ رہی ہے اور اس بات پر مجھے غصہ آ رہا ہے تو (سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ) نے کہا: میں نہ تو تجھے یہ کہتا ہوں کہ تم اپنی والدہ کی نافرمانی کرو اور نہ یہ کہتا ہوں کہ تو اپنی بیوی کو طلاق دے دے، تاہم اگر تو چاہے تو میں تجھے ایک ایسی بات سناتا ہوں جو میں نے خود رسول اللہ سے سنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والد جنت کا درمیانی راستہ ہے اس لیے چاہے تو اس کی حفاظت کر لے اور چاہے تو اس کو ضائع کر لے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2835]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ، النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ
تین چیزیں ایسی ہیں جن میں سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور مذاق بھی سنجیدگی: نکاح، طلاق اور رجوع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2836
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سليمان بن بلال، عن عبد الرحمن بن حَبيب، أنه سمع عطاء بن أبي رباح يقول: أخبرني يوسف بن ماهَك، أنه سمع أبا هريرة يحدِّث، عن رسول الله ﷺ، سمعه يقول:"ثلاثٌ جِدُّهُنّ جِدٌّ، وهَزْلُهن جِدٌّ: النكاحُ، والطلاقُ، والرَّجْعة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وعبد الرحمن بن حبيب هذا هو: ابن أرْدَك من ثِقات المدنيِّين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2800 - فيه لين يعني عبد الرحمن بن حبيب بن أردك
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جن کی حقیقت بھی حقیقت ہے اور جن کا مذاق بھی حقیقت ہے: (1) نکاح۔ (2) طلاق۔ (3) رجعت۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور یہ عبدالرحمن بن حبیب اردک کا بیٹا ہے، ان کا شمار ثقہ مدنی راویوں میں ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2836]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2837
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابِق الخَولاني، حدثنا بِشر بن بَكر. وحدثنا أبو العباس غير مرة، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أيوب بن سويد؛ قالا: حدثنا الأوزاعي، عن عطاء بن أبي رباح، عن عُبيد بن عُمير، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ:"تجاوزَ اللهُ عن أمتي الخطأَ، والنسيانَ، وما استُكرِهُوا عليه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2801 - على شرط البخاري ومسلم
(سیدنا عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا اور نسیان اور وہ عمل جس پر مجبور کر دیا گیا ہو معاف کر رکھا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2837]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں