المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. كِتَابُ الطَّلَاقِ
کتاب الطلاق
حدیث نمبر: 2828
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم القَنْطري ببغداد، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الله بن المؤمَّل، عن ابن أبي مُلَيكة: أنَّ أبا الجَوزاء أتى ابنَ عباس، فقال: أتعلَمُ أنَّ ثلاثًا كُنّ يُردَدْن على عهد رسول الله ﷺ إلى واحدةٍ؟ قال: نعم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2792 - ابن المؤمل ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2792 - ابن المؤمل ضعفوه
ابوالجوزاء سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا: کیا آپ کے علم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں (اکٹھی دی گئی) تین طلاقیں ایک ہی شمار کر کے (رجوع کے لیے) لوٹا دی جاتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2828]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2828]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن المؤمَّل، فهو ضعيف يعتبر به، وقد روي هذا الحديث من وجه آخر صحيح عن ابن عباس سيأتي بعده.»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2829
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، أخبرني ابن طاووس، عن أبيه، عن ابن عباس، قال: كان الطلاقُ على عهدِ رسول الله ﷺ وأبي بكر وسنتين من خلافة عُمر طلاقُ الثلاثِ واحدةً، فقال عُمر: إن الناس قد استعجَلُوا في أمرٍ كانت لهم فيه أَناة، فلو أمضَيناهُ عليهم؛ فأمضَاهُ عليهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2793 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2793 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں تک (اکٹھی دی گئی) تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگوں نے ایسے معاملے میں جلدی شروع کر دی ہے جس میں ان کے لیے مہلت تھی، چنانچہ اگر ہم اسے ان پر نافذ کر دیں (تو بہتر ہوگا)“، پھر انہوں نے اسے ان پر نافذ کر دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2829]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2829]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، ومحمد بن عبد السلام: هو النيسابوري الورّاق، ومعمر: هو ابن راشد، وابن طاووس: هو عبد الله بن طاووس بن كيسان اليماني.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
2. مَا أَحَلَّ اللَّهُ شَيْئًا أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ
اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ حلال چیز طلاق ہے
حدیث نمبر: 2830
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا مُعرِّف بن واصِل، عن مُحارِب بن دِثار، عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ:"ما أحلَّ اللهُ شيئًا أبغضَ إليه مِن الطلاق" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ومن حُكْم هذا الحديث أن يُبدَا به في كتاب الطلاق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2794 - بعد تصحيح الحاكم للحديث على شرط مسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ومن حُكْم هذا الحديث أن يُبدَا به في كتاب الطلاق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2794 - بعد تصحيح الحاكم للحديث على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس حدیث کا علمی مقام یہ ہے کہ کتاب الطلاق کا آغاز اسی سے کیا جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2830]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس حدیث کا علمی مقام یہ ہے کہ کتاب الطلاق کا آغاز اسی سے کیا جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2830]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات إلّا أنه قد اختُلف في وصله وإرساله على مُعرِّف بن واصل، وقد صحَّح إرسالَه أبو حاتم الرازي كما في "العلل" لابنه (1297)، ورجَّحه الدارقطني في "العلل" (3123)، والبيهقي في "سننه الكبرى" 7/ 322، وقال: المرسل هو المشهور. وخالفهم آخرون فصحَّحوه موصولًا، منهم ابن القطان الفاسي في "بيان الوهم" 5/ 422 في باب أحاديث ضعفها عبد الحق الإشبيلي وهي صحيحة أو حسنة وما أعلَّها به ليس بعلة، وكذلك مال إلى ترجيح الوصل ابنُ التركماني في "الجوهر النقي" 7/ 323.»
الحكم على الحديث: رجاله ثقات إلّا أنه قد اختُلف في وصله وإرساله على مُعرِّف بن واصل
3. لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا، أَوْ عَبْدًا عَلَى سَيِّدِهِ
وہ ہم میں سے نہیں جو کسی عورت کو اس کے شوہر سے یا غلام کو اس کے آقا سے بہکائے
حدیث نمبر: 2831
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصغَاني، حدثنا الأحوص بن جَوّاب، حدثنا عمار بن رُزَيق، عن عبد الله بن عيسى، عن عِكْرمة، عن يحيى بن يَعمَر، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"ليس منا من خَبَّب امرأةً على زوجِها، أو عبدًا على سيِّدِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2795 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2795 - على شرط البخاري
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف یا کسی غلام کو اس کے آقا کے خلاف بھڑکائے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2831]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2831]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي من أجل عمار بن رزيق.»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2832
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل، قالا: أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن الواسطي، حدثنا عمرو بن عون، حدثنا هُشَيم، أخبرنا حميد، عن أنس، قال: لما طَلَّق النبيُّ ﷺ حفصةَ، أُمِرَ أَن يُراجِعَها فراجَعَها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2796 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2796 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ ان سے رجوع کر لیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رجوع فرما لیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2832]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2832]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2833
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الخَضِر بن أبانَ الهاشمي، حدثنا يحيى بن آدم، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة، عن صالح بن صالح، عن سَلَمة بن كُهيل، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ طلَّق حفصةَ، ثم راجَعَها (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2797 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2797 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی، پھر ان سے رجوع فرما لیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2833]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2833]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الخضر بن أبان الهاشمي، وقد توبع.»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
4. طَلَاقُ الْمَرْأَةِ بِأَمْرِ الْأَبَوَيْنِ
والدین کے کہنے پر عورت کو طلاق دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2834
أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد الأسَدي الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذِئْب، حدثني خالي الحارث بن عبد الرحمن، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، قال: كانت تحتي امرأةٌ أُحبُّها، وكان عمر يكرهُها، فقال عمر: طلِّقْها، فأبَيتُ، فذَكَر ذلك للنبي ﷺ، فقال:"أطِعْ أباكَ وطلِّقْها"، فطلَّقتُها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والحارث بن عبد الرحمن هو: ابن أبي ذُباب المدني خالُ ابن أبي ذئب، قد احتجّا جميعًا به!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2798 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والحارث بن عبد الرحمن هو: ابن أبي ذُباب المدني خالُ ابن أبي ذئب، قد احتجّا جميعًا به!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2798 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے میں محبت کرتا تھا، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے ناپسند کرتے تھے، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اسے طلاق دے دو، میں نے انکار کیا، پھر انہوں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے والد کی اطاعت کرو اور اسے طلاق دے دو“، چنانچہ میں نے اسے طلاق دے دی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ حارث بن عبدالرحمن مدنی، ابن ابی ذئب کے ماموں ہیں اور شیخین نے ان سے احتجاج کیا ہے! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2834]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ حارث بن عبدالرحمن مدنی، ابن ابی ذئب کے ماموں ہیں اور شیخین نے ان سے احتجاج کیا ہے! [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2834]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد من أجل الحارث بن عبد الرحمن - وهو القرشي العامري - فهو صدوق لا بأس به، وليس هو بابن أبي ذُباب، كما جزم به المصنف بإثر الحديث، وبنَى عليه أن الشيخين قد احتجا به، على أنَّ ابن أبي ذُباب من رجال مسلم وحده، وإنما أخرج له البخاري في "الأدب المفرد". ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة.»
الحكم على الحديث: إسناده جيد من أجل الحارث بن عبد الرحمن - وهو القرشي العامري - فهو صدوق لا بأس به
حدیث نمبر: 2835
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل، أخبرنا عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي: أنَّ رجلًا أتى أبا الدَّرْداء، فقال: إنَّ أمي لم تَزَلْ بي حتى تزوجتُ، وإنها تأمُرُني بطلاقِها، وقد أبَتْ عَلَيَّ إلّا ذاك، فقال: ما أنا بالذي آمُرُك أن تَعُقَّ والدتَك، ولا أنا بالذي آمُرُك أن تُطلِّق امرأتَك غير أنك إن شئتَ حدثتُك بما سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"الوالدُ أوسَطُ أبواب الجنة"، فحافِظْ على ذلك الباب إن شئتَ أو أَضِعْه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2799 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2799 - صحيح
ابوعبدالرحمن سلمی سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا: میری والدہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتیں یہاں تک کہ میں نے شادی کر لی، اور اب وہ مجھے اسے طلاق دینے کا حکم دیتی ہیں، تو انہوں نے فرمایا: میں وہ نہیں ہوں جو تمہیں اپنی والدہ کی نافرمانی کا حکم دوں، اور نہ ہی میں تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیتا ہوں، البتہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ حدیث سنا دوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”والد (والدین) جنت کا درمیانی دروازہ ہے“، اب تمہاری مرضی ہے کہ اس دروازے کی حفاظت کرو یا اسے ضائع کر دو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2835]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2835]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكن أبا عبد الرحمن السُّلَمي - واسمه عبد الله بن حبيب - لم يسمع هذا الحديث من أبي الدرداء، كما توضحه رواية سفيان الثَّوري وحماد بن زيد، وهما ممن سمع من عطاء بن السائب قبل تغيُّره، حيث قالا في روايتهما: إنَّ هذا الرجل رحل إلى أبي الدرداء بالشام، ومعلوم أنَّ أبا عبد الرحمن السُّلمي لم يُذكَر أنه رحل إلى الشام، وإنما مُكْثه كان في الكوفة وبها توفي، فالرجل المذكور هو الذي أخبره بما أفتاه به أبو الدرداء، وهو رجلٌ مُبهَم لم يُبيَّن. ولم نجد أحدًا من أهل العلم نبَّه على هذا، بل صحَّح الحديثَ بعضُهم، لعلَّ ذلك لأجل أنَّ أبا عبد الرحمن السُّلَمي من كبار التابعين، فيُقبَل مرسَلُه كحال سعيد بن المسيّب عن عمر بن الخطاب مثلًا، والله أعلم بالصواب. إسماعيل: هو ابن عُليَّة.»
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
5. ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ، النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ
تین چیزیں ایسی ہیں جن میں سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور مذاق بھی سنجیدگی: نکاح، طلاق اور رجوع
حدیث نمبر: 2836
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سليمان بن بلال، عن عبد الرحمن بن حَبيب، أنه سمع عطاء بن أبي رباح يقول: أخبرني يوسف بن ماهَك، أنه سمع أبا هريرة يحدِّث، عن رسول الله ﷺ، سمعه يقول:"ثلاثٌ جِدُّهُنّ جِدٌّ، وهَزْلُهن جِدٌّ: النكاحُ، والطلاقُ، والرَّجْعة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وعبد الرحمن بن حبيب هذا هو: ابن أرْدَك من ثِقات المدنيِّين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2800 - فيه لين يعني عبد الرحمن بن حبيب بن أردك
هذا حديث صحيح الإسناد، وعبد الرحمن بن حبيب هذا هو: ابن أرْدَك من ثِقات المدنيِّين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2800 - فيه لين يعني عبد الرحمن بن حبيب بن أردك
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تین چیزیں ایسی ہیں جن کا حقیقت میں کہنا بھی حقیقت ہے اور مذاق میں کہنا بھی حقیقت ہی شمار ہوتا ہے: نکاح، طلاق اور رجوع۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور اس کے راوی عبدالرحمن بن حبیب مدینہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2836]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور اس کے راوی عبدالرحمن بن حبیب مدینہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں، اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2836]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير عبد الرحمن بن حبيب - وهو ابن أرْدك - فقد قال عنه النسائي: منكر الحديث. قلنا: وهذا الحديث مسندًا من منكراته، وذلك أنَّ ابن جُرَيج قد روى عن عطاء بن أبي رباح، قال: يُقال: من نكح لاعِبًا أو طلق لاعِبًا فقد جاز. قال ابن عبد البر: لو كان - والله أعلم - صحيحًا عن عطاء (قلنا: يعني حديثه الذي هنا عن أبي هريرة) لما خفي (يعني على ابن جُرَيج) فإنه أقعد الناس بعطاء وأثبتهم فيه. قلنا: لكن في الباب ما يشهد له، وعليه العمل باتفاق كما قال الترمذي بإثر الحديث (1184)، وابن المنذر في "الأوسط" 9/ 259، وأبو بكر الجصّاص في "أحكام القرآن" 2/ 99، وابن عبد البر في "الاستذكار" (24963)، وذكروا شواهده.»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 2837
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابِق الخَولاني، حدثنا بِشر بن بَكر. وحدثنا أبو العباس غير مرة، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أيوب بن سويد؛ قالا: حدثنا الأوزاعي، عن عطاء بن أبي رباح، عن عُبيد بن عُمير، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ:"تجاوزَ اللهُ عن أمتي الخطأَ، والنسيانَ، وما استُكرِهُوا عليه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2801 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2801 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے خطا، بھول چوک اور اس کام کو معاف فرما دیا ہے جس پر انہیں مجبور کیا گیا ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2837]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2837]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح من جهة بشر بن بكر، ضعيف من جهة أيوب بن سويد. الأوزاعي: هو عبد الرحمن بن عمرو. وقال الحافظ في "الفتح" 8/ 125: هو حديث جليل، وقد أُعلَّ بعلة غير قادحة.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح من جهة بشر بن بكر