المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعِينَهُمْ
تین افراد ایسے ہیں جن کی مدد اللہ پر لازم ہے
حدیث نمبر: 2895
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى العَنْبري، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا ابن عَجْلان، عن سعيد المقبُري، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"ثلاثٌ حقٌّ على الله أن يُعينَهم: المكاتَبُ الذي يريدُ الأداء، والمجاهدُ في سبيل الله، والناكِحُ يريدُ أن يَستعِفَّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2859 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2859 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمے حق ہے: وہ مکاتب غلام جو (رقم کی) ادائیگی کا ارادہ رکھتا ہو، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، اور وہ نکاح کرنے والا جو پاکدامنی کا ارادہ رکھتا ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2895]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2895]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل ابن عجلان: وهو محمد. وقد تقدم برقم (2711) من طريق يحيى بن محمد بن يحيى، عن مُسدَّد.»
الحكم على الحديث: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2896
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو الوليد هشام بن عبد الملك، حدثنا عَمرو بن ثابت، حدثنا عبد الله بن محمد بن عَقيل، عن عبد الله بن سهل بن حُنَيف، أنَّ سهلًا حدَّثه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَن أعانَ مُجاهدًا في سبيل الله - أو غازِيًا - أو غارِمًا في عُسرتِه، أو مكاتبًا في رقبتِه، أظلَّه الله في ظِلّه يومَ لا ظِلَّ إلّا ظِلُّه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2860 - بل عمرو رافضي متروك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2860 - بل عمرو رافضي متروك
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں کسی مجاہد کی، یا کسی غازی کی، یا کسی تنگ دست مقروض کی، یا کسی مکاتب غلام کی اس کی گردن چھڑانے میں مدد کی، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2896]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2896]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عمرو بن ثابت: وهو عمرو بن أبي المقدام البكري، ولأنَّ عبد الله بن سهل لا يُعرف روى عنه غير عبد الله بن محمد بن عَقِيل، ولم يرو هذا الحديث غيره، وقد توبع عمرو بن ثابت عليه فيما تقدم برقم (2479)، فيبقى الشأن في تفرد ابن عَقيل به. وله شواهد أوردناها هناك.»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عمرو بن ثابت: وهو عمرو بن أبي المقدام البكري
2. الْعَمَلُ الَّذِي يُدْخِلُ الْجَنَّةَ
وہ عمل جو جنت میں داخل کرنے والا ہے
حدیث نمبر: 2897
حدثني محمد بن صالح بن هانئ ومحمد بن عبد الله بن دِينار العَدْل، قالا: حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكين، حدثنا عيسى بن عبد الرحمن السُّلَمي، حدثنا طلحة اليامِيّ، عن عبد الرحمن بن عَوسَجة، عن البراء بن عازب، قال: جاء أعرابيٌّ إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله، علِّمني شيئًا يُدخِلُني الجنة، فقال:"لَئِن أقصرْتَ الخُطبةَ لقد أعرضْتَ المسألةَ: أعتقِ النَّسَمةَ وفُكَّ الرقَبَة" قال: أوَليسا واحدًا؟ قال:"فإنَّ عِتْقَ النسَمةِ أن تَفَرَّدَ بعِتْقها، وفَكَّ الرقَبةِ أن تُعينَ في ثمنِها، والمِنْحةُ المَوكُوفة، والفَيءُ على ذي الرَّحِمِ الظالِم، فإن لم تُطِقْ ذلك، فأطعِمِ الجائعَ، واسقِ الظَّمآن، وأْمُر بالمعروف وانْهَ عن المُنكر، فإن لم تُطِقْ ذلك، فكُفَّ لِسانَك إلّا مِن خَيرٍ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2861 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2861 - صحيح
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل سکھائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ تم نے کلام مختصر کیا ہے لیکن سوال بہت بڑا کیا ہے: «أعتقِ النَّسَمةَ وفُكَّ الرقَبَة» ”کسی جان کو آزاد کرو اور گردن چھڑاؤ“۔“ اس نے عرض کی: کیا یہ دونوں ایک ہی چیز نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں! جان آزاد کرنے «عِتْقَ النسَمةِ» کا مطلب یہ ہے کہ تم اکیلے اسے آزاد کرنے کی ذمہ داری اٹھاؤ، جبکہ گردن چھڑانے «فَكَّ الرقَبَةِ» کا مطلب یہ ہے کہ تم اس کی قیمت کی ادائیگی میں تعاون کرو، نیز دودھ والا جانور نفع کے لیے عاریتہً دینا، اور ایسے ظالم قریبی رشتہ دار پر احسان کرنا (جو صلہ رحمی نہ کرتا ہو) بھی اس میں شامل ہے، پھر اگر تم اس کی طاقت نہ رکھو تو بھوکے کو کھانا کھلاؤ، پیاسے کو پانی پلاؤ، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، اور اگر تم اس کی بھی طاقت نہ رکھو تو اپنی زبان کو سوائے خیر کے ہر بات سے روکے رکھو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2897]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2897]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، طلحة الياميّ: هو ابن مُصرِّف.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
3. قِصَّةُ مُكَاتَبَةِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مکاتبت (آزادی کے معاہدے) کا واقعہ
حدیث نمبر: 2898
أخبرني أبو القاسم عبد الرحمن بن الحَسَن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن عاصم بن سليمان وعلي بن زيد (2) ، عن أبي عثمان النَّهْدي، عن سلمان، قال: كاتبتُ أهلي على أن أغرِسَ لهم خمسَ مئة فَسِيلةٍ، فإذا عَلِقَتْ فأنا حُرٌّ، فأتيتُ النبي ﷺ فذكرتُ ذلك له، فقال:"اغرِسْ، واشترِط لهم، فإذا أردتَ أن تَغرِسَ فآذِنِّي"، فجاء فجعل يَغرِس، إلّا واحدةً غَرَستُها بيدي، فعَلِقَت جميعًا إلّا الواحدةَ (1) .
هذا حديث صحيح من حديث عاصم بن سليمان الأحول على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2862 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح من حديث عاصم بن سليمان الأحول على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2862 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے مالکان سے اس شرط پر مکاتبت کی کہ میں ان کے لیے پانچ سو کھجور کے پودے لگاؤں گا، جب وہ جڑ پکڑ لیں گے تو میں آزاد ہو جاؤں گا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پودے لگاؤ اور ان سے (کامیابی کی) شرط کر لو، اور جب تم پودے لگانے کا ارادہ کرو تو مجھے اطلاع دینا“، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پودے لگانے لگے، سوائے ایک پودے کے جو میں نے اپنے ہاتھ سے لگایا تھا، وہ سب کے سب ہرا ہو گئے (جڑ پکڑ لی) سوائے اس ایک پودے کے۔
عاصم بن سلیمان احول کی یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2898]
عاصم بن سلیمان احول کی یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2898]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن الحسن القاضي، وقد انفرد في هذا الإسناد بذكر عاصم بن سليمان - وهو الأحول - وإنما هذا الخبر بهذه السياقة لعلي بن زيد - وهو ابن جُدعان - كذلك رواه جماعة من الحُفاظ عن عفان بن مسلم، وعلي بن زيد هذا ضعيف باتفاق، وعليه فما وقع في "مسند أحمد" من تصحيح الحديث اغترارًا بذكر عاصم بن سليمان هنا غير صحيح البتة، والله ولي التوفيق في "مسنده" (469).»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن الحسن القاضي
حدیث نمبر: 2899
أخبرنا ميمون بن إسحاق الهاشمي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلابي، حدثنا همَّام، عن عباس الجُريري، حدثنا عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله ﷺ:"أيُّما مُكاتَبٍ كُوتِبَ على ألف أُوقيّة فأدّاها إلّا عشرَ أَواقٍ، فهو عبدٌ، وأيُّما مُكاتَبٍ كُوتِب على مئة دينارٍ فأدّاها إلّا عشرةَ دنانير، فهو عبدٌ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2863 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2863 - صحيح
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مکاتب غلام سے ایک ہزار اوقیہ پر معاہدہ ہوا اور اس نے سوائے دس اوقیہ کے سب ادا کر دیا، تو وہ (ابھی تک) غلام ہی ہے، اور جس مکاتب سے سو دینار پر معاہدہ ہوا اور اس نے سوائے دس دینار کے سب ادا کر دیا، تو وہ (بھی) غلام ہی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2899]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2899]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وعباس الجُريري: هو ابن فرُّوخ، وليس هو عباسًا الجزري، كما أصلحه الإمام أحمد في "المسند" بعد أن كان في أصل نسخته: عباس الجريري، اعتمادًا على ما قاله شيخه عبد الصمد - وهو ابن عبد الوارث - الذي يرويه عن همام - وهو ابن يحيى العَوْذي - فقد رواه عن عبد الصمد غير الإمام أحمد، فقالوا فيه: عباس الجريري، وهو الذي قاله غير واحد ممَّن رواه عن همام غير عبد الصمد، كعمرو بن عاصم الكلابي هنا، وعبد الله بن يزيد المقرئ فيما نقله الدارقطني في "السنن" بإثر الحديث (4213)، وكذلك نسبه أبو الوليد الطيالسي في روايته عن همام، غير أنه انفرد بتسميته العلاء بدل عباس، فالأصح أنه عباس الجُريري كما قال الذهبي في "الكاشف". وقد تابعه على معنى حديثه سليمانُ بن سُليم الحمصي، يرويه عن عمرو بن شعيب.- وأخرجه النسائي في العِتق كما في "تحفة الأشراف" (8725) عن عبد القدوس بن محمد، عن عمرو بن عاصم، بهذا الإسناد.»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2900
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلْمان بن الحسن الفقيه إملاءً ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكرَم البَزّاز، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا علي بن المُبارك، عن يحيى بن أبي كثير، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: قضَى رسولُ الله ﷺ في المكاتَب أن يُقتَلَ بدِيَةِ الحُرّ على قَدْر ما أَدَّى منه (1) . قال يحيى: قال عِكْرمة عن ابن عباس: يُقام عليه حدُّ المَملُوك (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2864 - تابعه أبان على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2864 - تابعه أبان على شرط البخاري
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب غلام کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ اسے آزاد مرد کی دیت کے مطابق (خون بہا) دیا جائے گا اس قدر جتنا اس نے (بدلِ کتابت) ادا کر دیا ہو۔ عکرمہ رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ (ایسے شخص پر) غلام والی حد نافذ کی جائے گی۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2900]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2900]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكنه اختُلِف في وصله وإرساله، وفي رفعه ووقفه، كما بسطناه في "سنن أبي داود" بتحقيقنا (4581)، وقد نبَّه على ذلك أبو داود باختصار بإثر الحديث (4582).»
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
4. يُؤَدِّي الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا عُتِقَ مِنْهُ بِحِسَابِ الْحُرِّ، وَمَا رَقَّ فَبِحِسَابِ الْعَبْدِ
مکاتب جتنا آزاد ہو چکا ہو اس کے حساب سے آزاد کی طرح ادا کرے گا اور جتنا غلام باقی ہو اس کے حساب سے غلام کی طرح
حدیث نمبر: 2901
أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي وعلي بن عبد العزيز، قالا: حدثنا مُسلِم بن إبراهيم، حدثنا أبان بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي كَثير، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: قال رسول الله ﷺ:"يُودَى المكاتَبُ بقَدْر ما عَتَقَ منه بحِسابِ الحُرِّ، وما رَقَّ فبِحسابِ العَبدِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکاتب (غلام) کی دیت اس کی آزادی کی شرح کے مطابق آزاد (انسان) کے حساب سے ادا کی جائے گی، اور جتنی غلامی باقی ہے اس کا حساب غلام کے مطابق ہوگا۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2901]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2901]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات كسابقه،»
الحكم على الحديث: رجاله ثقات كسابقه
حدیث نمبر: 2902
أخبرنا إبراهيم بن عِصْمة، حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة. وأخبرني عبد الله بن محمد الصَّيدلاني، حدثنا محمد بن أيوب؛ قالا: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أيوب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، أنَّ النبي ﷺ قال:"إذا أصاب المُكاتَبُ حَدًّا، أو وَرِثَ ميراثًا، فإنه يَرِثُ بقَدْر ما عَتَقَ، ويُقامُ عليه بقَدْر ما عَتَقَ منه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2866 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2866 - صحيح
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مکاتب غلام پر کوئی حد لازم آئے یا اسے کوئی وراثت ملے، تو اسے اپنی آزادی کی شرح کے مطابق وراثت ملے گی اور اسی قدر (آزادی کے تناسب سے) اس پر حد قائم کی جائے گی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2902]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2902]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكنه اختُلف في وصله وإرساله ورفعه ووقفه، كما بيناه مبسوطًا في "سنن أبي داود" بتحقيقنا (4582)، وأشار إلى ذلك أبو داود بإثره.»
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 2903
حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، قال: حدثني نَبْهان مُكَاتَبُ أم سَلَمة، قال: إني لأقودُ بها بالبَيداء - أو بالأبْواء - قالت: مَن هذا؟ فقلت: أنا نَبْهان، فقالت: إني قد تركتُ بقيّة مُكاتَبتِك لابن أخي محمد بن عبد الله بن أبي أُميّة، أُعِينُه به في نكاحه، قال: فقلت: لا والله، لا أؤدّيه أبدًا، قالت: إن كان إنما بك أن تَدخُل عليَّ أو تَراني، فوالله لا تَراني أبدًا، إني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إذا كان عند المُكاتَب ما يُؤدِّي، فاحتجِبي منه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2867 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2867 - صحيح
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مکاتب غلام نبھان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں مقام بیداء یا ابواء میں ان کی سواری کی مہار پکڑے ہوئے تھا، انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نبھان ہوں، انہوں نے فرمایا: میں نے تمہاری مکاتبت کی بقایا رقم اپنے بھتیجے محمد بن عبد اللہ بن ابی امیہ کے لیے چھوڑ دی ہے تاکہ اس کے نکاح میں اس کی مدد ہو سکے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے ہرگز ادا نہیں کروں گا، انہوں نے فرمایا: اگر تمہارا مقصد (رقم نہ دے کر) میرے پاس آنا یا مجھے دیکھنا ہے تو اللہ کی قسم تم مجھے کبھی نہیں دیکھ سکو گے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب مکاتب کے پاس ادائیگی کے لیے (مال) موجود ہو تو اس سے پردہ کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2903]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2903]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين من أجل نبهان مكاتب أم سلمة، فقد روى عنه الزُّهْري ومحمد بن عبد الرحمن مولى أبا طلحة وذكره ابن حبان في "الثقات"، ووثقه الذهبي في "الكاشف"، وقال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 15/ 668 - 669 وهو يتحدث عن حديث نبهان الآخر عن أم سلمة في حديث: "أفعمياوان أنتما": إسناده قوي، وأكثر ما عُلِّل به انفرادُ الزُّهْري بالرواية عن نبهان، وليست بعلة قادحة، فإنَّ من يعرفُه الزُّهْري، ويصفُه بأنه مُكاتَب أم سلمة، ولم يجرحه أحدٌ، لا تُرَدُّ روايته.»
الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين من أجل نبهان مكاتب أم سلمة
حدیث نمبر: 2904
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو بكر الحَنَفي، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبيه، عن عبد الله بن وهب، عن تَميم الداري، أنه قال: يا رسول الله، الرجلُ من المشركين يُسلِم على يَدَي الرجلِ المُسلمِ، قال:"هو أَولى به في حياتِه ومَماتِه" (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه، وعبد الله بن وهب بن زَمْعة (1) مشهور. وشاهدُه عن تَميم الداري حديث قَبيصة بن ذُؤيب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2868 - هذا ما خرج له إلا ابن ماجة فقط ثم هو وهم من الحاكم ثان فإن ابن زمعة لم يرو عن تميم الدارمي وصوابه عبد الله بن موهب
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه، وعبد الله بن وهب بن زَمْعة (1) مشهور. وشاهدُه عن تَميم الداري حديث قَبيصة بن ذُؤيب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2868 - هذا ما خرج له إلا ابن ماجة فقط ثم هو وهم من الحاكم ثان فإن ابن زمعة لم يرو عن تميم الدارمي وصوابه عبد الله بن موهب
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! مشرکین میں سے کوئی شخص کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لے (تو اس کا حکم کیا ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنی زندگی اور موت میں اسی (مسلمان) کا زیادہ حقدار ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبد اللہ بن وہب بن زمعہ مشہور راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2904]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور عبد اللہ بن وہب بن زمعہ مشہور راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المكاتب/حدیث: 2904]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم، لكن اختُلف فيه على يونس بن أبي إسحاق، وهو السَّبيعي - فرواه أبو بكر الحنفي - واسمه عبد الكبير بن عبد المجيد - كما هنا، عن يونس، عن أبيه، عن عبد الله بن وهب - وغيره يقول: ابن موهب - عن تَميم الداري، وخالف أبا بكر الحنفي عبيدُ بنُ عُقيل البصري، فرواه عن يونس بن أبي إسحاق، عن عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، عن عبد الله بن موهب، وهذا أولى بالصواب كما قال النسائي بإثر (6379)، وذكر الدارقطني في "الغرائب والأفراد" كما في "أطرافه" للمقدسي (1525) أنَّ هذا غريب من حديث أبي إسحاق السَّبيعي. فالمحفوظ أنَّ الحديث لعبد العزيز بن عمر كما قال المزي في "التهذيب" 16/ 288.»
الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم