🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. وَمِنْ كِتَابِ: آيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ
دلائلِ نبوت میں وارد رسول اللہ ﷺ کی نشانیاں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4267
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن المُنذِر الحِزَاميّ، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن ابن عَجْلان، عن القَعْقاع بن حَكيم، عن أبي صالحٍ، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"بُعِثتُ لأتمَّمَ صالحَ الأخلاقِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4221 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4267]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. ذِكْرُ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
رسول اللہ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4268
أخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن زُرَارة بن أوفَى، عن سعدِ بن هِشام: أنه دخل مع حكيم بن أفْلَحَ على عائشةَ، فسألَها فقال: يا أم المؤمنين، أنبِئيني عن خُلُقِ رسولِ الله ﷺ، قالت: أليس تَقرأُ القرآنَ؟ قال: بلى، قالت: فإِنَّ خُلُقَ نبيِّ الله ﷺ القُرآن (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4222 - على شرط البخاري ومسلم
سعید بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ حکیم بن افلح کے ہمراہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے عرض کی: اے ام المومنین رضی اللہ عنہا! ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے متعلق کچھ بتائیے! آپ نے فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی کا اخلاق قرآن ہی تو ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4268]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. كَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
رسول اللہ ﷺ خیر و بھلائی میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4269
حدثنا أبو عَمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا حامد بن سهل الثَّغْري، حدثنا عارِمُ بن الفضل، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب ومعمر والنُّعمان بن راشد، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: ما لَعَنَ رسولُ الله ﷺ مسلمًا من لعنةٍ بذكْرٍ (2) ، ولا ضَرَبَ بيده شيئًا قَطُّ إلَّا أن يضربَ بها في سبيل الله، ولا سُئل عن شيء قَطُّ فمنعَه إلَّا أن يُسأل مَأثَمًا، فإن كان مأثمًا كان أبعدَ الناس منه، ولا انتَقَم لِنفسِه من شيء قَطُّ يُؤتى إليه، إلَّا أن تُنتَهَكَ حُرماتُ الله، فيكونُ لله يَنتَقِمُ، ولا خُيِّر بين أمرَين قطُّ إلا اختارَ أيسرَهُما، وكان إذا أحدَث العهد بجبريلَ يُدارِسُه كان أجودَ الناسِ بالخَير مِن الرِّيحِ المُرسَلةِ (3)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. ومن حديث أيوب السَّختِياني غريبٌ جدًّا، فقد رواه سليمان بن حَرْب وغيرُه عن حماد، ولم يذكروا أيوب، وعارِمٌ ثقة مأمون.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4223 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی مسلمان پر لعنت نہیں کی اور نہ اپنے ہاتھ سے کبھی کسی چیز کو مارا، البتہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہاتھ کے ساتھ مارا ہے۔ اور آپ سے جب بھی کسی نے کچھ مانگا، آپ نے اس کو منع نہیں فرمایا۔ البتہ گناہ کا مطالبہ پورا نہیں کیا۔ کیونکہ آپ گناہ سے بہت دور رہنے والے تھے اور آپ نے اپنی کسی تکلیف پر کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا البتہ اگر حرمات اللہ کی توہین کی جاتی تو آپ اللہ تعالیٰ کے لئے انتقام لیتے اور آپ کو جب بھی دو چیزوں میں سے کوئی ایک چیز پسند کرنے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے ان میں سے اس کو پسند کیا جو آسان تر ہو اور جب جبریل امین شروع شروع میں آپ کے ساتھ (قرآن کریم کا) دور کرنے آتے تھے تو آپ لوگوں پر تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ اور یہ ایوب سختیانی کی حدیث سے زیادہ غریب ہے چنانچہ اس کو سلمان بن حرب وغیرہ نے سیدنا حماد کے حوالے سے روایت کیا ہے لیکن اس میں ایوب کا ذکر نہیں ہے اور غارم ثقہ ہیں، مامون ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4269]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4270
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن يونس بن عمرو، عن العَيزار بن حُرَيث، عن عائشة: أنَّ رسول الله ﷺ مكتوبٌ في الإنجيل: لا فَظٌّ ولا غليظٌ، ولا سَخَّابٌ بالأسواق، ولا يَجزي بالسيئة مثلَها، بل يَعفُو ويَصفَحُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4224 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: انجیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات یوں لکھی ہوئی تھیں۔ آپ تندخو اور بدمزاج نہیں، نہ بازاروں میں شور کرنے والے ہیں اور نہ آپ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے بلکہ معاف فرما دیا کرتے تھے اور درگزر فرما دیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4270]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4271
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر الأدَمِي القارئ ببغداد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن إبراهيم الدَّوْرَقي، حدثنا أحمد بن نصر بن مالك الخُزاعي، حدثنا علي بن الحسين بن واقِد، عن أبيه، قال: سمعتُ يحيى بن عُقَيل يقول: سمعتُ عبد الله بن أبي أوفى يقول: كان رسولُ الله ﷺ يُكثِرُ الذِّكْرَ، ويُقلُّ اللغوَ، ويُطيلُ الصلاةَ، ويَقصُر الخُطبةَ، ولا يَستنكِفُ أن يمشيَ مع العبدِ والأرملةِ حتى يَفرُغَ لهم من حاجتِهم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4225 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ذکر کیا کرتے تھے۔ فضول گوئی نہیں کرتے تھے، نماز لمبی پڑھاتے تھے اور خطبہ مختصر دیتے تھے۔ آپ غلاموں اور مسکینوں کی حاجت روائی کے لئے ان کے ہمراہ چلنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4271]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4272
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا شُعْبة، عن قَتَادة، قال: سمعت عبد الله بن أبي عُتبة يقول: سمعت أبا سعيد الخُدْري يقول: كان رسول الله ﷺ يُكثر الذِّكر، ويُقِلُّ اللغوَ، ويُطيل، الصلاة، ويَقصُر الخُطبَة، ولا يستنكِفُ أن يمشيَ مع العبدِ والأرملةِ، حتى يَفرُغَ لهم من حاجتهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. قال الحاكم: وقد قدَّمتُ هذه الأحاديثَ الصحيحةَ في دلائل النبوة من أخلاق سيدنا المصطفى لقول الله ﷿: ﴿وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [الدخان: 32] وقوله ﷿: ﴿اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (1)[الأنعام: 124] وقوله: ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ (1) مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ (2) وَإِنَّ لَكَ لأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ (3) وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾. فاسمع الآن الآياتِ الصحيحةَ بعدها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4226 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ذکر کیا کرتے تھے اور فضول گوئی نہیں کرتے تھے۔ نماز طویل کرتے اور خطبہ مختصر کرتے تھے اور آپ غلاموں اور مسکینوں کی حاجت روائی کے لئے ان کے ہمراہ چلنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: میں نے یہ صحیح احادیث سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق میں سے دلائل نبوت کے ضمن میں درج کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَلَقَدِ اخْتَرْنَاھُمْ عَلٰی عِلْمٍ عَلَی الْعَالَمِیْن (الدخان: 32) بے شک ہم نے ان کو تمام جہانوں پر منتخب کر لیا ہے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: اللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ (الانعام: 124) اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے۔ اور فرمایا: نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَ مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ وَ اِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ وَ اِنَّکَ لَعَلٰی لَخُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم: 1 تا 4) قلم اور اس کے لکھے کی قسم تم اپنے رب کے فضل سے مجون نہیں اور ضرور تمہارے لئے بے انتہاء ثواب ہے اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔ تو ان کے بعد یہ آیات صحیحہ سنو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4272]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4273
حدثنا عَلي بن حَمْشَاذَ العَدْل إملاءً، حدثنا هارون بن العباس الهاشمي، حدثنا جَنْدَلُ بن والقٍ، حدثنا عمرو بن أوس الأنصاري، حدثنا سعيد بن أبي عَروبة، عن قَتَادة، عن سعيد بن المسيّب، عن ابن عبّاس، قال: أوحَى اللهُ إلى عيسى ﵇: يا عيسى، آمن بمحمدٍ، وأُمُر من أدركَه من أمتك أن يُؤمنوا به، فلولا محمدٌ ما خلقتُ آدمَ، ولولا محمدٌ ما خلقتُ الجنةَ والنارَ، ولقد خلقتُ العرشَ على الماء، فاضطربَ فكتبتُ عليه: لا إله إلّا الله [محمد رسول الله] (2) فسَكَنَ (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4227 - أظنه موضوعا على سعيد
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ اے عیسیٰ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ اور اپنی امت کو حکم دے دو کہ ان میں سے جو ان کو پائے وہ ان پر ایمان لائے۔ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں آدم علیہ السلام کو پیدا نہ کرتا اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو میں جنت کو پیدا نہ کرتا اور میں نے عرش کو پانی پر بنایا تو وہ ہلنے لگا تو میں نے اس پر لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ لکھ دیا تو وہ ساکن ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4273]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. اسْتِغْفَارُ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِحَقٍّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
حضرت آدم علیہ السلام کا نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے استغفار کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4274
حدثنا أبو سعيد عمرو بن محمد بن منصور العَدْل، حدثنا أبو الحسن محمد بن إسحاق بن إبراهيم الحَنْظَلي، حدثنا أبو الحارث عبد الله بن مسلم الفِهْري، حدثنا إسماعيل بن مَسلَمة، أخبرنا عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، عن جده، عن عُمر بن الخطاب، قال: قال رسول الله ﷺ:"لمّا اقترفَ آدمُ الخطيئةَ قال: يا ربِّ، أسألُك بحقّ محمدٍ لَمَا غَفَرْتَ لي، فقال الله: يا آدمُ، وكيف عرفتَ محمدًا ولم أخلُقْه؟ قال: يا ربِّ، لأنك لما خلقَتني بيدِك ونفخْتَ فيَّ من رُوحِك، رفعتُ رأسي فرأيتُ على قوائم العرشِ مكتوبًا: لا إله إلَّا الله محمد رسول الله، فعلمتُ أنك لم تُضِفْ إلى اسمِك إلَّا أحبَّ الخلقِ إليك، فقال الله: صدقتَ يا آدم، إنه لأحبُّ الخلق إليَّ، وإذ سألْتَني (1) بحقه (2) فقد غَفَرتُ لك، ولولا محمدٌ ما خَلَقتُك" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وهو أولُ حديث ذكرتُه لعبد الرحمن بن زيد بن أسلَمَ في هذا الكتاب (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4228 - بل موضوع
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب سیدنا آدم علیہ السلام نے خطا کا ارکاب کیا تو اللہ تعالیٰ سے عرض کی: اے میرے رب! میں تجھ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے دعا مانگتا ہوں، تو مجھے معاف کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم علیہ السلام! تو نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے پہچانا؟ حالانکہ ان کو تو میں نے ابھی پیدا ہی نہیں کیا۔ آدم علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب! تو نے جب مجھے اپنے ہاتھ سے تخلیق فرمایا اور میرے اندر اپنی روح پھونکی تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے عرش کے پائے پر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ لکھا ہوا دیکھا تو میں جان گیا کہ تو نے جس کا نام اپنے نام کے ساتھ ملا کر لکھا ہوا ہے وہ تمام مخلوقات میں تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم علیہ السلام! تو نے سچ کہا ہے۔ واقعی وہ مجھے تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ محبوب ہے تو مجھ سے اس کا واسطہ دے کر دعا مانگ۔ میں نے تجھے معاف کر دیا ہے اور اگر محمد نہ ہوتے تو میں تجھے پیدا نہ کرتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور یہ پہلی حدیث ہے جو میں نے عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے حوالے سے اس کتاب میں درج کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4274]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4275
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِي، حدثنا قُرادٌ أبو نُوح، أخبرنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبي موسى، قال: خرج أبو طالبٍ إلى الشام، وخرج معه رسولُ الله ﷺ في أشياخٍ من قريش، فلما أشرفُوا على الراهِبِ هبَطُوا، فحوَّلُوا رحالَهم، فخرج إليهم الراهبُ، وكانوا قبلَ ذلك يَمرُّون به فلا يخرج إليهم ولا يَلتفِتُ، قال: وهم يَحُلُّون رحالَهم، فجعل يتخلَّلُهم حتى جاء فأخذَ بيدِ رسولِ الله ﷺ، قال: هذا سيّدُ العالَمين، هذا رسولُ ربِّ العالَمين، هذا يبعثُه اللهُ رحمةً للعالَمين، فقال له أشياخٌ من قريش: وما عِلْمُك بذلك؟ قال: إنكم حين أشرفتُم من العَقبةِ لم يَبْقَ شجرٌ ولا حجرٌ إِلَّا خَرَّ ساجدًا، ولا تَسجدُ إِلَّا لِنبيٍّ، وإني أعرفُه خاتَمُ النبوة أسفل من غُضروف كتفِه مثلُ التفّاحة، ثم رجع فَصَنَع لهم طعامًا ثم أتاهم، وكان رسول الله ﷺ في رِعْية الإبل، قال: أرسِلُوا إليه، فأقبلَ وعليه غَمامةٌ تُظِلُّه، قال: انظُروا إليه، غَمامةٌ تُظلُّه، فلما دنا من القوم وَجَدَهُم قد سَبَقُوه إلى فَيْء الشجرة، فلما جلسَ مال فيءُ الشجرة عليه، قال: انظُروا إلى فيء الشجرة مالَ عليه، فبينما هو قائم عليه وهو يُناشِدُهم أَن لا تَذْهَبُوا به إلى الروم، فإنَّ الرومَ إن رأوه عرفُوه بالصِّفة فقتلوه. فالتفتَ فإذا هو بسبعةٍ نفرٍ قد أقبَلُوا من الروم فاستقبَلَهم، فقال: ما جاء بكم؟ قالوا: جئنا، فإنَّ هذا النبيَّ خارجٌ في هذا الشهر فلم يَبْقَ طريقٌ إِلَّا قد بُعث ناسٌ، وإنا بُعِثْنا إلى طريقِه هذا، فقال لهم الراهبُ: هل خَلَّفتُم خَلْفَكم أحدًا هو خيرٌ منكم؟ قالوا: لا، قالوا: إنما أُخبرنا خَبَرَه، بُعِثنا لطريقك هذا، قال: أفرأيتُم أمرًا أراده اللهُ أن يَقضِيَه، هل يستطيعُ أحدٌ من الناس ردَّه؟ قالوا: لا، قال: فبايِعُوه، فبايَعُوه وأقامُوا معه، قال: فأتاهم الراهبُ، فقال: أنشُدُكُمُ الله أَيكُم وَليُّه، قالوا: أبو طالب، فلم يَزَلْ يُناشِدُه حتى ردَّه وبعثَ معه أبو بكر بلالًا، وزَوّدَه الراهبُ من الكَعْك والزيتِ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4229 - أظنه موضوعا فبعضه باطل
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوطالب شام کے سفر پر روانہ ہوئے اور چند قریشی بزرگوں کی معیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ یہ لوگ راہب کے پاس گئے اور اپنی سواریوں کو ابھی باندھ رہے تھے کہ راہب خود چل کر ان کے پاس آیا، حالانکہ یہ لوگ پہلے بھی وہاں سے گزرتے تھے تو نہ وہ کبھی خود چل کر ان کے پاس آیا اور نہ کبھی انہیں زیادہ اہمیت دی (راوی) کہتے ہیں۔ یہ لوگ ابھی اپنی سواریاں کھول رہے تھے کہ وہ خود ان کے اندر آ گھسا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کا ہاتھ مبارک تھام کر بولا: سیدالعالمین ہے۔ یہ رسول رب العالمین، اللہ تعالیٰ ان کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجے گا تو اشیاخ، قریش نے اس سے کہا: تجھے یہ سب کیسے پتہ چلا؟ اس نے کہا: تم جب اس پہاڑی پر چڑھے تو ہر درخت اور ہر پتھر سجدہ ریز ہو گیا تھا اور یہ نبی کے علاوہ کسی کے آگے سجدہ نہیں کرتے اور میں اس کو اس مہر نبوت سے پہچانتا ہوں جو ان کے کندھوں کے نیچے کی طرف ہے۔ پھر وہ واپس گیا اور ان سب کے لئے کھانا تیار کر کے لایا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے چرواہوں میں تھے۔ اس نے کہا: آپ کو بلائیں۔ جب آپ ان کی طرف آ رہے تھے تو ایک بادل مسلسل آپ پر سایہ کئے ہوئے تھا، جب آپ قوم کے قریب تشریف لائے تو سب لوگ درختوں کے سائے میں بیٹھ چکے تھے۔ جب آپ بیٹھے تو درخت کا سایہ آپ کی جانب جھک گیا۔ راہب نے کہا: دیکھو درخت کا سایہ ان کی جانب جھکا جا رہا ہے۔ اس دوران وہ راہب قریش کو تاکیدیں کرتا رہا کہ تم لوگ ان کو روم کی جانب مت لے کر جاؤ کیونکہ اہل روم نے اگر ان کو دیکھ لیا تو وہ ان کی نشانیوں سے ان کو پہچان لیں گے اور وہ ان کو شہید کر ڈالیں گے۔ اچانک وہاں پر روم کی طرف سے سات آدمی آ پہنچے۔ راہب نے ان سے ملاقات کی اور ان سے آنے کی وجہ پوچھی تو وہ بولے: ہم اس لئے آئے ہیں کہ یہ نبی اس شہر کے باہر کہیں ہے اور شہر کے تمام راستوں پر لوگوں کو بھیج دیا گیا ہے اور ہمیں اس راستہ پر بھیجا گیا ہے۔ راہب نے ان سے کہا: کیا تم اپنے پیچھے کسی ایسے شخص کو چھوڑ کر آئے ہو جو تم سے بہتر ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: ہمیں تو اس کی خبر ملی تھی، اسی لئے ہمیں تمہارے اس راستے کی طرف بھیجا گیا ہے۔ راہب نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے جب اللہ تعالیٰ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو کسی میں یہ طاقت ہے کہ اس کو روک سکے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ راہب نے کہا: تو پھر ان کی بیعت کر لو اور ان کے ہمراہ ٹھہر جاؤ۔ (راوی) کہتے ہیں۔ پھر راہب قریش کے پاس آیا اور بولا: میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ تم میں ان کا سرپرست کون ہے؟ ابوطالب نے کہا: میں ہوں۔ راہب نے ابوطالب سے بہت اصرار کیا۔ بالآخر سیدنا ابوطالب نے آپ کو سیدنا ابوبکر اور سیدنا بلال کی معیت میں واپس بھیج دیا۔ راہب نے ان کو کیک اور زیتون زادراہ کے طور پر پیش کئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4275]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. ذِكْرُ شَقِّ صَدْرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
نبی کریم ﷺ کے سینۂ مبارک کے شق ہونے کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4276
حدثنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا حَيْوة بن شُرَيح الحَضْرمي، حدثنا بقيَّة بن الوليد، حدثني بَحِير بن سَعْد، عن خالد [بن مَعْدان، عن] (1) ابن عَمرو السُّلمي، عن عُتْبة بن عَبْدٍ: أَنَّ رجلًا سألَ رسولَ الله ﷺ كيفَ - أو ما - كان أول شأنِك يا رسولَ الله؟ قال:"كانت حاضِنَتي من بني سَعْد بن بكر، فانطلقتُ أنا وابنٌ لها في بَهْمٍ لنا، ولم نأخُذْ معنا زادًا، فقلت: يا أخي، اذهَبْ فأتِنا بِزادٍ من عند أُمَّنا، فانطلَقَ أخي وكنتُ عند البَهْمِ، فأقبل طَيْرانِ أبيضانِ كأنهما نَسْران، فقال أحدُهما لصاحِبِه، أهُو هُو؟ قال: نعم، فأقبَلا يَبتَدِراني، فأخذاني فبَطَحَاني للقَفَا فشَقّا بَطْني، ثم استَخْرجا قلبي فشَقّاه، فأخرجا منه عَلَقَتين سَودَاوَين، فقال أحدهما لصاحبِه: حُصْهُ - يعني خِطْهُ - واختِمْ عليه بخاتَم النبوّة، فقال أحدُهما لصاحبِه: اجعلْه في كِفّةٍ واجعل ألفًا من أمتِه في كِفّة، فإذا أنا أنظُرُ إلى الألْف فَوقي أُشفِقُ أن يَخِرُّوا عليَّ، فقالا: لو أنَّ أمَّتَه وُزِنَتْ به لمالَ بهم، ثم انطَلَقا وتَرَكاني، وفَرِقْتُ فَرَقًا شديدًا، ثم انطلقتُ إلى أمي فأخبرتُها بالذي رأيتُ، فأشفَقَت أن يكون قد التُبِسَ بي، فقالت: أعِيدُك بالله، فرَحَلَتْ بعيرًا لها فجعلَتْني على الرَّحْل ورَكِبَتْ خَلْفي، حتى بَلَغْنا أمّي، فقالت: أدَّيتُ أمانَتي وذِمَّتي، وحَدَّثَتْها بالذي لَقِيتُ، فلم يَرُعْها ذلك، قالت إني رأيتُ خرج مني نُورٌ أضاءتْ منه قُصورُ الشام (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4230 - على شرط مسلم
سیدنا عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ساتھ سب سے پہلا واقعہ کیا پیش آیا تھا؟ آپ نے فرمایا: میری دایہ بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھتی تھیں۔ ایک دن میں اور ان کا بیٹا ریوڑ لے کر گئے ہوئے تھے اور ہمارے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز نہ تھی۔ میں نے کہا: اے میرے بھائی! تم جاؤ اور امی جان سے کچھ کھانے پینے کو لے آؤ، تو میرا بھائی چلا گیا اور بکریوں کے پاس میں اکیلا تھا۔ میں نے دیکھا کہ گدھ کے جیسے دو سفید پرندے میری طرف آ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہی ہے وہ؟ دوسرے نے کہا: جی ہاں۔ تو وہ جلدی جلدی میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے پکڑ کر چت لٹا لیا۔ پھر میرا پیٹ چاک کیا، پھر میرا دل نکالا، پھر اس کو بھی چیرا اور اس میں سے دو سیاہ رنگ کے لوتھڑے نکالے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو کاٹ لو اور اس پر نبوت کی مہر ثبت کر دو تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اس کو ایک ہاتھ میں رکھو اور دوسرے ہاتھ میں ان کی امت کے ایک ہزار آدمیوں کو رکھو۔ تو میں نے دیکھا کہ یہ ایک ہزار آدمی میرے اوپر تھے اور مجھے خدشہ تھا کہ کہیں یہ میرے اوپر نہ گر جائیں۔ پھر انہوں نے کہا: اگر اس کی پوری امت کو بھی اس کے ساتھ وزن کریں گے تو یہ پھر بھی بھاری ہو گا۔ پھر انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور وہ چلے گئے اور مجھ پر بہت شدید گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ پھر میں اپنی والدہ کے پاس آیا اور تمام قصہ ان کو سنایا تو وہ خود اس بات سے ڈر گئیں کہ کہیں مجھ کو کوئی نقصان نہ ہو جائے۔ وہ بولیں: میں تجھے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتی ہوں۔ پھر انہوں نے اونٹ پر کجاوہ کسا اور مجھے کجاوے پر بٹھایا اور خود میرے پیچھے سوار ہو گئیں اور چل پڑیں۔ حتیٰ کہ وہ مجھے میری والدہ کے پاس لے آئی۔ آپ میری والدہ سے بولیں: میں نے یہ امانت تمہارے سپرد کر دی ہے اور اب میں بری الذمہ ہوں۔ پھر میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ میری والدہ کو سنایا لیکن میری والدہ اس سے پریشان نہ ہوئیں اور بولیں: بے شک میں نے دیکھا کہ مجھ سے ایک نور خارج ہوا ہے جس کی روشنی سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة/حدیث: 4276]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں