المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
36. ذِكْرُ وَفَاةِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَدَفْنُهُ بِأَيْدِي رَهْطٍ مِنَ الْكُوفَةِ
حضرت ابو ذرؓ کی وفات اور کوفہ کے چند افراد کے ہاتھوں ان کی تدفین
حدیث نمبر: 4421
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني بريدة (1) بن سُفيان، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن عبد الله بن مسعود قال: لما سارَ رسولُ الله ﷺ إلى تبوكَ جعلَ لا يزالُ يَتخلّف الرجلُ، فيقولون: يا رسول الله، تَخلَّف فلانٌ، فيقول:"دَعُوه، إن يَكُ فيه خيرٌ فسيُلْحِقُه اللهُ بكم، وإن يكُ غيرَ ذلك فقد أراحَكُم اللهُ منه" حتى قيل: يا رسول الله، تَخلّف أبو ذَرّ، وأبطأ به بَعيرُه، فقال رسولُ الله ﷺ:"دَعُوه، إن يَكُ فيه خيرٌ فسيُلْحِقُه اللهُ بكم، وإن يكُ غيرَ ذلك فقد أراحَكُم اللهُ منه"، فتَلَوَّم أبو ذرٍّ على بَعِيره فأبطأَ عليه، فلما أبطأ عليه أخذَ مَتاعَه فجعلَه على ظهرِه، فخرج يتبعُ رسولَ الله ﷺ ماشِيًا، ونزلَ رسول الله ﷺ في بعض مَنازِله، ونظر ناظِرٌ من المسلمين فقال: يا رسول الله، إنَّ هذا الرجلَ يمشي على الطريق، فقال رسولُ الله ﷺ:"كُن أبا ذَرٍّ، فلما تأمّلَه القومُ قالوا: يا رسول الله، هو واللهِ أبو ذَرٍّ! فقال رسول الله ﷺ:"رَحِمَ الله أبا ذَرٍّ، يمشي وحدَه، ويموتُ وحدَه، ويُبعَثُ وحدَه". فضرب الدهرُ من ضَرْبتِه، وسُيِّر أبو ذرٍّ إلى الرَّبَذة، فلما حضرَه الموتُ أوصى امرأتَه وغُلامَه: إذا مِتُّ اعْسِلاني وكَفِّناني، ثم احمِلاني فضَعَاني على قارِعةِ الطريق، فأولُ: رَكْبٍ يَمُرُّون بكم فقولوا: هذا أبو ذرٍّ، فلما ماتَ فعلوا به كذلك، فاطَّلع ركبٌ فما عَلِمُوا حتى كادت ركائبهم تَوَطَّأُ سَريرَه، فإذا ابن مسعودٍ في رهْطٍ من أهل الكُوفة، فقالوا: ما هذا؟ فقيل: جنازة أبي ذرٍّ، فاستهلَّ ابن مسعودٍ يبكي، فقال: صدقَ رسولُ الله ﷺ:"يَرحَمُ اللهُ أبا ذرٍّ، يمشي وحدَه، ويموتُ وحدَه، ويُبعَثُ وحدَه". فنزل فوَلِيَه بنفسِه حتى أَجَنَّه، فلما قَدِمُوا المدينةَ ذُكِر لعثمانَ قولُ عبدِ الله وما وَلِيَ منه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4373 - فيه إرسال
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4373 - فيه إرسال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف روانہ ہوئے تو لوگ پیچھے رہنے لگے، صحابہ عرض کرتے: یا رسول اللہ! فلاں شخص پیچھے رہ گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”اسے چھوڑ دو، اگر اس میں کوئی خیر ہوئی تو اللہ اسے تم سے لا ملائے گا، اور اگر اس کے سوا کچھ ہوا تو اللہ نے تمہیں اس سے راحت دے دی ہے“، یہاں تک کہ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ابو ذر پیچھے رہ گئے ہیں اور ان کے اونٹ نے انہیں سست کر دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، اگر اس میں کوئی خیر ہوئی تو اللہ اسے تم سے لا ملائے گا، اور اگر اس کے سوا کچھ ہوا تو اللہ نے تمہیں اس سے راحت دے دی ہے“، ادھر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ کا تھوڑی دیر انتظار کیا مگر وہ سست رہا، جب تاخیر ہونے لگی تو انہوں نے اپنا سامان اٹھا کر اپنی پیٹھ پر لاد لیا اور پیدل ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ فرمایا ہوا تھا کہ ایک دیکھنے والے نے دیکھ کر کہا: یا رسول اللہ! یہ ایک شخص راستے پر پیدل چل رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش یہ ابو ذر ہو“، جب لوگوں نے غور سے دیکھا تو پکار اٹھے: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم یہ تو ابو ذر ہی ہیں! تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ابو ذر پر رحم فرمائے، وہ تنہا چلتا ہے، تنہا مرے گا اور تنہا ہی اٹھایا جائے گا“۔ پھر زمانہ گزرتا گیا اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو مقامِ ربذہ کی طرف منتقل کر دیا گیا، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنی اہلیہ اور غلام کو وصیت کی: جب میں مر جاؤں تو مجھے غسل دینا، کفن پہنانا اور پھر اٹھا کر شاہراہ کے کنارے رکھ دینا، اور جو پہلا قافلہ تمہارے پاس سے گزرے تو ان سے کہنا کہ یہ ابو ذر ہیں، جب ان کا انتقال ہوا تو انہوں نے ایسا ہی کیا، اچانک ایک قافلہ سامنے آیا تو انہیں خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ ان کی سواریاں جنازے کے قریب پہنچ گئیں، اس قافلے میں اہل کوفہ کی ایک جماعت کے ساتھ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ بتایا گیا کہ یہ ابو ذر کا جنازہ ہے، اس پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ زار و قطار رونے لگے اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا تھا کہ ”اللہ ابو ذر پر رحم فرمائے، وہ تنہا چلتا ہے، تنہا مرے گا اور تنہا ہی اٹھایا جائے گا“۔ پھر وہ سواری سے اترے اور خود ان کی تدفین کی ذمہ داری سنبھالی یہاں تک کہ انہیں دفن کر دیا، جب وہ مدینہ پہنچے تو امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے سیدنا عبداللہ بن مسعود کا قول اور ان کی تدفین کا تذکرہ کیا گیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4421]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4421]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف بُريدة بن سفيان، ولإرساله كما سيأتي بيانه، ومع ذلك حسَّن هذا الإسناد ابن كثير في "البداية والنهاية" 7/ 159! وقد رُويَت قصة وفاة أبي ذرٍّ بسياق آخر بإسناد أحسن من هذا عن أُم ذرّ، فهو أَولى مما رواه بُريدةُ بن سفيان، ولهذا قال ابن القيم في "زاد ...» [ترقيم الرساله 4421] [ترقيم الشركة 4398] [ترقيم العلميه 4373]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف بُريدة بن سفيان
37. نِدَاءُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مَوْسِمِ الْحَجِّ بِبَرَاءَةٍ
حج کے موقع پر حضرت علیؓ کا سورۂ براءت کا اعلان کرنا
حدیث نمبر: 4422
حدَّثنا أحمد بن كامل القاضي، حدَّثنا أحمد بن محمد بن عيسى البِرْتي، حدَّثنا إسحاق بن بِشْر الكاهِلي، حدَّثنا محمد بن فُضيل، عن سالم بن أبي حَفْصة، عن جُميع بن عُمير اللَّيثي، قال: أتيتُ عبد الله بن عمر فسألتُه عن عليٍّ فانتَهرَني، ثم قال: ألا أُحدِّثك عن عليّ: هذا بيتُ رسولِ الله ﷺ في المسجدِ، وهذا بيت عليٍّ، إنَّ رسولَ الله ﷺ بَعَثَ أبا بكر وعُمر ببراءةَ إلى أهلِ مكة، فانطلقا، فإذا هما براكِبٍ، فقالا: مَن هذا؟ قال: أنا عليٌّ، فقال: يا أبا بكر، هاتِ الكتابَ الذي معك، قال أبو بكر: وما لي يا عليّ؟! قال: والله ما عَلِمتُ إِلَّا خيرًا، فأخذ عليٌّ الكتابَ فذهبَ به، ورجعَ أبو بكر وعُمر إلى المدينة، فقالا: ما لنا يا رسول الله؟! قال:"ما لكما إِلَّا خيرٌ، ولكن قيل لي: إنه لا يُبلِّغُ عنك إلَّا أنت أو رجلٌ منك" (1) .
هذا حديث شاذٌّ والحَمْلُ فيه على جُميع بن عُمير، وبعده على إسحاق بن بِشْر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4374 - شاذ
هذا حديث شاذٌّ والحَمْلُ فيه على جُميع بن عُمير، وبعده على إسحاق بن بِشْر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4374 - شاذ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں نے ان سے علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے مجھے جھڑکا، پھر فرمایا: کیا میں تمہیں علی کے بارے میں نہ بتاؤں؟ یہ مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر ہے اور یہ علی رضی اللہ عنہ کا گھر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو سورہ براءت دے کر اہل مکہ کی طرف روانہ کیا، وہ چل پڑے تو انہوں نے ایک سوار کو دیکھا، انہوں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: میں علی ہوں، علی نے کہا: اے ابوبکر! وہ تحریر (خط) لائیے جو آپ کے پاس ہے، ابوبکر نے پوچھا: اے علی! کیا میرے متعلق کچھ ہوا ہے؟ علی نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو خیر ہی جانتا ہوں، پس علی رضی اللہ عنہ نے وہ تحریر لی اور اسے لے کر چلے گئے، جبکہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما مدینہ واپس آ گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے متعلق کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے خیر ہی ہے، لیکن مجھے یہ کہا گیا ہے کہ تمہاری طرف سے (یہ پیغام) صرف تم خود یا تمہارا ہی کوئی آدمی پہنچائے گا۔“
یہ حدیث شاذ ہے اور اس کی کمزوری کا باعث جمیع بن عمیر اور اس کے بعد اسحاق بن بشر ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4422]
یہ حدیث شاذ ہے اور اس کی کمزوری کا باعث جمیع بن عمیر اور اس کے بعد اسحاق بن بشر ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4422]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل إسحاق بن بشر الكاهلي، فهو هالك وكذَّبه غير واحدٍ، وجُميع بن عُمير ضعيف، ولا ينزل إلى درجة من يُتّهم كما أطلقه الذهبي في "تلخيصه" عليه غير مرة، ولم ينفردا بهذا الخبر، فقد تابع إسحاق بن بشر على الشطر الثاني منه في إرسال عليٍّ ببراءة محمدُ ...» [ترقيم الرساله 4422] [ترقيم الشركة 4399] [ترقيم العلميه 4374]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل إسحاق بن بشر الكاهلي
حدیث نمبر: 4423
حدّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمري، حدَّثنا إبراهيم بن زياد سَبَلان، حدَّثنا عَبّاد بن العوام، عن سفيان بن حُسين، عن الحَكَم، عن مِقسَم، عن ابن عبّاس: أنَّ رسول الله ﷺ بعثَ أبا بكر، وأمرَه أن يُنادي بهؤلاءِ الكَلِمات، فأتبَعَه عليًّا، فبَيْنا أبو بكر ببعضِ الطريق إذ سمع رُغاءَ ناقةِ رسولِ الله ﷺ، فخرج أبو بكر فَزِعًا، فظنَّ أنه رسولُ الله ﷺ، فإذا عليٌّ، فدفع إليه كتابَ رسولِ الله ﷺ قد أمَّرَه على المَوسِم، وأمَر عليًّا أن يُناديَ بهؤلاء الكَلِمات، فقام عليٌّ في أيام التَّشريق فنادَى ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ﴾ ﴿فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ﴾، لا يَحُجَّنَّ بعد العامِ مُشرِكٌ، ولا يَطُوفَنَّ بالبيت عُرْيانٌ، ولا يدخلُ الجنةَ إِلَّا مؤمنٌ، فكان عليٌّ يُنادي بها، فإذا بُحَّ قام أبو هُريرة فنادَى (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد صحَّتِ الروايةُ عن عَليٍّ بشَرْح هذا النِّداء:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4375 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4375 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور انہیں ان کلمات کے ساتھ منادی کا حکم دیا، پھر ان کے پیچھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا، ابوبکر ابھی راستے ہی میں تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے بلبلانے کی آواز سنی، وہ گھبرا کر نکلے کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں، مگر وہ علی تھے، علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر دی جس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امیرِ حج مقرر کیا گیا تھا اور علی رضی اللہ عنہ کو ان کلمات کی منادی کا حکم دیا گیا تھا، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے ایامِ تشریق میں کھڑے ہو کر پکارا: ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ﴾ [سورة التوبة: 3] ”بے شک اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذمہ ہیں“، اور ﴿فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ﴾ [سورة التوبة: 2] ”پس تم زمین میں چار مہینے تک چل پھر لو“، نیز یہ کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے، کوئی برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف نہ کرے اور جنت میں سوائے مؤمن کے کوئی داخل نہ ہوگا، علی رضی اللہ عنہ یہ منادی کرتے رہے اور جب ان کی آواز بیٹھ جاتی تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر پکارتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4423]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4423]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح الحكم هو ابن عتيبة، ومِقْسَم: هو ابن بُجْرة، ويُقال: ابن نَجْدة.» [ترقيم الرساله 4423] [ترقيم الشركة 4400] [ترقيم العلميه 4375]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح الحكم هو ابن عتيبة
حدیث نمبر: 4424
حدَّثَناه أبو بكر أحمد بن إسحاق وعلي بن حَمْشَاذ، قالا: أخبرنا بِشْر بن موسى، حدَّثنا الحُميدي، حدَّثنا سفيان، حدّثني أبو إسحاق الهَمْداني، عن زيد بن يُثَيع، قال: سألْنا عليًّا: بأي شيء بُعثتَ في الحَجَّةِ؟ قال: بُعثتُ بأربعٍ: لا يَدخُلُ الجنةَ إِلَّا نفسٌ مُؤمنةٌ، ولا يَطُوفُ بالبيت عُرْيانٌ، ولا يَجتمعُ مؤمنٌ وكافرٌ في المسجدِ الحَرام بعد عامِهم هذا، ومن كان بينَه وبين النبي ﷺ عهدٌ فعهدُه إلى مُدّتِه، ومن لم يكن له عهدٌ فأجلُه أربعةُ أشهرٍ (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4376 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4376 - على شرط البخاري ومسلم
زید بن یثیع سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو اس حج میں کس بات کے ساتھ بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: مجھے چار باتوں کے ساتھ بھیجا گیا تھا: یہ کہ جنت میں صرف مؤمن ہی داخل ہوگا، کوئی برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا، اس سال کے بعد مؤمن اور کافر مسجد حرام میں جمع نہیں ہوں گے، اور جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی عہد ہے تو وہ اس کی مدت تک برقرار رہے گا اور جس کا کوئی عہد نہیں اس کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4424]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4424]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن إن شاء الله، زيد بن يُثيع - ويقال في اسمه: يزيد، وفي اسم أبيه: أُثيع - تفرد بالرواية عنه أبو إسحاق السَّبيعي، وحسّن حديثه الترمذيُّ وصحّحه ابن حبان، ووثقه ابن حبان والعجلي وابن خَلْفون وابن حجر، وهذا التوثيق فيه نوع من التساهل، وزيدٌ قد توبع ...» [ترقيم الرساله 4424] [ترقيم الشركة 4401] [ترقيم العلميه 4376]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
38. النَّهْيُ عَنْ قَتْلِ الرُّسُلِ
رسولوں کو قتل کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 4425
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: فحدثني سعْد بن طارق، عن سلمة بن نُعيم بن مسعود، عن أبيه قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول حين جاءه رسولُ مُسيلِمةَ الكذاب بكتابه، ورسول الله ﷺ يقول لهما:"وأنتما تقولانِ بمِثْل ما يقول؟ قالا:: نعم، فقال رسول الله ﷺ:"والله لولا أنَّ الرُّسُلَ لا تُقتَلُ، لضربتُ أعناقكما" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4377 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4377 - على شرط مسلم
سیدنا سلمہ بن نعیم بن مسعود اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت فرماتے سنا جب مسلیمہ کذاب کا قاصد اس کا خط لے کر حاضر ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں قاصدوں سے پوچھا: ”کیا تم دونوں بھی وہی کہتے ہو جو یہ (مسلیمہ) کہتا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4425]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4425]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، وقد تقدم برقم (2664) من طريق سلمة بن الفضل عن محمد بن إسحاق، ويشهد له حديث ابن مسعود الذي بعده.» [ترقيم الرساله 4425] [ترقيم الشركة 4402] [ترقيم العلميه 4377]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
39. ذِكْرُ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ وَادِّعَائِهِ النُّبُوَّةَ
مسیلمہ کذاب اور اس کے جھوٹے دعوائے نبوت کا ذکر
حدیث نمبر: 4426
حدَّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدَّثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، حدَّثنا عبد الرحمن بن عبد الله المسعُودي، عن القاسم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، قال: جاء رجلٌ إلى عبد الله بن مسعود فقال: يا أبا عبد الرحمن، إنَّ هاهنا قومًا يقرؤون على قِراءة مُسيلِمة، فقال عبد الله: أكتابٌ غيرُ كتابِ الله، أو رسولٌ غيرُ رسولِ الله بعد فُشُوِّ الإسلام؟ فردّه فجاء إليه بعدُ، فقال: يا عبدَ الله والذي لا إله غيرُه إنهم في الدار ليقرؤون على قراءة مُسيلِمة، وإنَّ معهم لمُصحفًا فيه قراءة مُسيلِمة، وذلك في زمان عثمان، فقال عبدُ الله لقَرَظةَ - وكان صاحبَ خَيلٍ -: انطلِقْ حتى تُحيطَ بالدارِ فتأخذَ مَن فيها، ففعل، فأتاه بثمانين رجلًا، فقال لهم عبدُ الله: ويَحَكم أكتابٌ غير كتابِ الله، أو رسولٌ غيرُ رسولِ الله؟ فقالوا: نتوبُ إلى الله، فإنا قد ظَلَمْنا، فتركَهُم عبدُ الله لم يُقاتِلْهم، وسَيَّرهم إلى الشام، غير رئيسِهم ابن النَّوّاحة أبَى أن يتُوب، فقال عبدُ الله لقَرَظة: اذهبْ فاضرِبْ عُنقه، واطرَحْ رأسَه في حِجْر أمّه، فإني أُراها قد عَلِمَتْ فعلَه، ففعل. ثم أنشأ عبدُ الله يُحدّثُ، فقال: إنَّ هذا جاء هو وابنُ أُثال رسولَين من عند مُسيلِمة، إلى رسول الله ﷺ، فقال له رسولُ الله ﷺ:"تشهدُ أني رسولُ الله؟" فقال لرسول الله ﷺ: تشهدُ أن مُسيلِمةَ رسولُ الله؟ فقال رسول الله ﷺ:"لولا أنك رسولٌ لَقتلتُك"، فجرَتِ السنّةَ يومئذٍ أن لا يُقتل رسولٌ (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4378 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4378 - صحيح
قاسم بن عبدالرحمن اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کی: اے ابوعبدالرحمن! یہاں کچھ لوگ مسلیمہ (کذاب) کی قرأت کے مطابق تلاوت کر رہے ہیں، عبداللہ نے فرمایا: کیا اسلام کے پھیل جانے کے بعد بھی اللہ کی کتاب کے سوا کوئی اور کتاب یا رسول اللہ کے سوا کوئی اور رسول ہو سکتا ہے؟ انہوں نے اسے واپس بھیج دیا، وہ شخص پھر آیا اور کہا: اے عبداللہ! اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اس گھر میں مسلیمہ کی قرأت پڑھ رہے ہیں اور ان کے پاس ایک مصحف بھی ہے جس میں مسلیمہ کا کلام لکھا ہوا ہے، یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت تھا، عبداللہ نے قرظہ سے کہا جو گھڑ سواروں کے سربراہ تھے: جاؤ اور اس گھر کا محاصرہ کر کے وہاں موجود لوگوں کو پکڑ لاؤ، انہوں نے ایسا ہی کیا اور اسی (80) آدمیوں کو لے کر آئے، عبداللہ نے ان سے کہا: تم پر افسوس ہے! کیا اللہ کی کتاب کے سوا کوئی اور کتاب یا رسول اللہ کے سوا کوئی اور رسول ہے؟ انہوں نے عرض کی: ہم اللہ سے توبہ کرتے ہیں، ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا، چنانچہ عبداللہ نے انہیں چھوڑ دیا اور ان سے قتال نہیں کیا بلکہ انہیں شام کی طرف جلاوطن کر دیا، سوائے ان کے سرغنہ ابن نواحہ کے جس نے توبہ کرنے سے انکار کر دیا، تب عبداللہ نے قرظہ سے کہا: جاؤ اس کی گردن اڑا دو اور اس کا سر اس کی ماں کی گود میں ڈال دو کیونکہ میرا خیال ہے کہ اس کی ماں اس کے اس کرتوت سے واقف تھی، پس انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر عبداللہ نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: یہ شخص (ابن نواحہ) اور ابن اثال، مسلیمہ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بن کر آئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تھا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے پلٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ مسلیمہ اللہ کا رسول ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر تم قاصد نہ ہوتے تو میں تمہیں قتل کر دیتا“، پس اسی دن سے یہ سنت جاری ہو گئی کہ قاصد کو قتل نہیں کیا جاتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4426]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4426]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، والمسعُودي - وإن كان اختلط - سماعُ جعفر بن عون منه قبل اختلاطه، واختُلِف في سماع عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود من أبيه، والراجح سماعُه منه.» [ترقيم الرساله 4426] [ترقيم الشركة 4403] [ترقيم العلميه 4378]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 4427
حدَّثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدَّثنا محمد بن حَيّان الأنصاري، حدَّثنا شَيْبان بن فَرُّوخَ، حدَّثنا مُبارك بن فَضَالة، حدَّثنا الحسن، عن أنس، قال: لقي رسولُ الله ﷺ مُسيلِمةَ، فقال له مُسيلِمة: تشهدُ أني رسولُ الله؟ فقال رسول الله ﷺ: آمنت بالله وبِرسُلِه" ثم قال رسول الله ﷺ:"إنَّ هذا رجلٌ أُخِّرَ لِهَلَكَةِ قَومِه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4379 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4379 - صحيح
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات مسلیمہ (کذاب) سے ہوئی تو مسلیمہ نے آپ سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہ شخص ہے جو اپنی قوم کی ہلاکت کے لیے پیچھے چھوڑا گیا ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4427]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4427]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل مُبارك بن فَضَالة. وأخرجه دون ذكر مخاطبته للنبي ﷺ عمرُ بن شَبّة في "تاريخ المدينة" 2/ 577 عن الحجاج بن نُصير، عن قرة بن خالد، عن الحسن، عن أنس. والحجّاج بن نُصير ضعيف الحديث وكان يُلقَّن.» [ترقيم الرساله 4427] [ترقيم الشركة 4404] [ترقيم العلميه 4379]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
40. حِكَايَةُ قُدُومِ ضِمَامِ بْنِ ثَعْلَبَةَ عِنْدَ النَّبِيِّ وَإِسْلَامِهِ
ضمام بن ثعلبہ کا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آنا اور اسلام قبول کرنا
حدیث نمبر: 4428
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني محمد بن الوليد، عن كُريب مولى ابن عبّاس، عن ابن عبّاس قال: بَعَثَت بنو سعد بن بكر ضِمَامَ بن ثَعْلبة إلى رسول الله ﷺ، فقَدِمَ علينا، فأناخَ بعيرَه على باب المسجد فعقَلَه، ثم دخل على رسول الله ﷺ وهو في المسجد جالسٌ مع أصحابه، فقال: أيُّكم ابن عبد المطَّلِب؟ فقال رسولُ الله ﷺ:"أنا ابن عبد المطَّلب" فقال: محمدٌّ؟ قال:"نعم" قال: يا محمدُ، إني سائِلُك ومُغلِظٌ عليك في المَسألة، فلا تَجِدنَّ عليَّ في نفسِك، فإني لا أجِدُ في نفسي، قال:"سَلْ عمَّا بَدا لكَ" قال: أنشُدُك الله إلهَكَ وإلهَ مَن قبلَك وإلهَ مَن هو كائنٌ بعدَك، آللهُ بعثَك إلينا رسولًا؟ فقال:"اللهمَّ نعم" قال: أنشُدُك الله إلهَك وإلهَ مَن قبلَك وإلهَ مَن هو كائنٌ بعدَك، آللهُ أمرك أن نَعْبُدَه لا نشركَ به شيئًا، وأن نَخْلعَ هذه الأوثانَ والأنداد التي كان آباؤنا يَعبُدون؟ فقال ﷺ:"اللهمَّ نَعَم"، ثم جعل يَذكُر فرائضَ الإسلامِ فَريضةً فَريضةً: الصلاةَ والزكاةَ والصيامَ والحجَّ وفرائضَ الإسلام كلَّها، يَنشُدُه عند كُلِّ فَريضةٍ كما أَنشَدَه (1) في التي كان قبلها، حتى إذا فَرَغَ قال: فإني أشهد أن لا إله إلا الله وأنك عبده ورسوله، وسأؤدي هذه الفرائضَ، واجتنب ما نهيتني عنه، لا أزيد ولا أَنقُصُ، ثم انصرف راجعًا إلى بعيره، فقال رسول الله ﷺ حين ولى:"إن يَصدُقْ ذو العَقِيصتَين يَدخُلِ الجنة"، وكان ضمامٌ رِجلًا جَلْدًا أَشْعَرَ ذَا غَدِيرتَين. ثم أتى بَعِيرَه، فأطلقَ عِقالَه حتى قدم على قومِه، فاجتمعوا إليه، فكان أولُ ما تَكلَّم به وهو يَسُبُّ اللاتَ والعُزّى، فقالوا: مَهْ يا ضِمامُ اتَّقِ البَرَصَ والجُذَامَ والجُنون، فقال: وَيْلَكُم، إنهما واللهِ ما يَضُرَّانِ ولا ينفعانِ، إن الله قد بعث رسولًا وأنزل عليه كتابًا استنقذكُم به مما كنتُم فيه، وإني أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وأنَّ محمدًا عبدُه ورسولُه، وإني قد جئتُكم من عنده بما أمَرَكُم به ونَهاكُم عنه، فواللهِ ما أمسَى ذلك اليومَ من حاضِرَتِه رجلٌ ولا امرأةٌ إلَّا مسلمًا (2) . قال ابن عبّاس: فما سَمِعْنا بوافدِ قومٍ كان أفضلَ من ضِمَام بن ثَعْلبة (3) . قد اتفق الشيخان على إخراج وُرُود ضِمامٍ المدينةَ (1) ، ولم يسُق واحدٌ منهما الحديثَ بطُولِه، وهذا صحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4380 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4380 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، وہ ہمارے پاس آئے اور اپنی اونٹنی مسجد کے دروازے پر بٹھا کر اسے باندھ دیا، پھر مسجد میں داخل ہوئے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، انہوں نے پوچھا: تم میں سے ابن عبدالمطلب کون ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ابن عبدالمطلب ہوں“، انہوں نے پوچھا: محمد؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“، انہوں نے کہا: اے محمد! میں آپ سے سوال کرنے والا ہوں اور سوال میں ذرا سختی کروں گا تو آپ اپنے دل میں مجھ سے ناراض نہ ہوئیے گا کیونکہ میں ذاتی طور پر اپنے دل میں کوئی برائی نہیں رکھتا، آپ نے فرمایا: ”جو تمہارے دل میں ہے پوچھو“، انہوں نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جو آپ کا الٰہ ہے، آپ سے پہلے والوں کا الٰہ ہے اور آپ کے بعد آنے والوں کا الٰہ ہے، کیا اللہ ہی نے آپ کو ہماری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہاں“، انہوں نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں جو آپ کا الٰہ ہے، آپ سے پہلے والوں کا الٰہ ہے اور آپ کے بعد آنے والوں کا الٰہ ہے، کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ ہم صرف اسی کی عبادت کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ان بتوں اور شریکوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے آباؤ اجداد عبادت کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہاں“، پھر انہوں نے اسلام کے فرائض کا ایک ایک کر کے ذکر کیا جن میں نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج شامل تھے، وہ ہر فریضے کے متعلق اسی طرح اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتے جیسے پہلے پوچھا تھا، یہاں تک کہ جب وہ فارغ ہوئے تو کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اس کے بندے اور رسول ہیں، میں ان فرائض کو ادا کروں گا اور جن باتوں سے آپ نے مجھے روکا ہے ان سے بچوں گا، نہ ان میں اضافہ کروں گا اور نہ کمی، پھر وہ اپنی اونٹنی کی طرف واپس پلٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیٹھ پھیرتے ہی فرمایا: ”اگر اس دو چوٹیوں والے شخص نے سچ کہا ہے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا“، ضمام ایک مضبوط جسم والے اور گھنی داڑھی و دو چوٹیوں والے شخص تھے، پھر وہ اپنی اونٹنی کے پاس آئے، اس کی رسی کھولی اور اپنی قوم کے پاس پہنچ گئے، لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے تو سب سے پہلے انہوں نے لات اور عزیٰ بتوں کو برا بھلا کہنا شروع کیا، لوگوں نے کہا: اے ضمام! رک جاؤ، ان کی بددعا سے، برص، جذام اور جنون سے ڈرو، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے! اللہ کی قسم یہ بت نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ نفع، اللہ نے ایک رسول بھیجا ہے اور ان پر کتاب نازل کی ہے جس کے ذریعے اس نے تمہیں ان خرافات سے نجات دی ہے جن میں تم مبتلا تھے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں تمہارے پاس ان کی طرف سے وہ احکامات لایا ہوں جن کا انہوں نے حکم دیا ہے اور وہ باتیں جن سے انہوں نے منع فرمایا ہے، پس اللہ کی قسم! اس دن شام ہونے سے پہلے ان کی بستی کا کوئی بھی مرد یا عورت ایسی نہ تھی جو مسلمان نہ ہو گئی ہو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے ضمام بن ثعلبہ سے بہتر اپنی قوم کی طرف جانے والا کوئی وفد نہیں سنا۔
شیخین نے مدینہ میں ضمام کی آمد کی روایت پر اتفاق کیا ہے لیکن ان میں سے کسی نے بھی اس حدیث کو اتنی تفصیل سے بیان نہیں کیا، اور یہ حدیث صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4428]
شیخین نے مدینہ میں ضمام کی آمد کی روایت پر اتفاق کیا ہے لیکن ان میں سے کسی نے بھی اس حدیث کو اتنی تفصیل سے بیان نہیں کیا، اور یہ حدیث صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4428]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن محمد بن الوليد - وهو ابن نُويفع - روى عنه ابن إسحاق - وهو محمد - وأبو مَعشَر نَجِيح بن عبد الله السندي المدني، غير أنَّ هذا الثاني سماه محمد بن نويفع، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال الدارقطني: يُعتبر به، وقد تابعه سلمةُ بن كهيل في بعض ...» [ترقيم الرساله 4428] [ترقيم الشركة 4405] [ترقيم العلميه 4380]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
41. ذِكْرُ حَجَّاتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْرِ بُدْنِهِ بِيَدِهِ
نبی کریم ﷺ کے حج کا ذکر اور اپنے ہاتھ سے قربانی کے جانور ذبح کرنا
حدیث نمبر: 4429
حدّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حدَّثنا أبو موسى إسحاق بن موسى الأنصاري، حدَّثنا عبد الله بن نافع، حدَّثنا عبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ حجَّ سنة عشرٍ من مَقدَمِه المدينةَ، فأفردَ الحَجَّ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4381 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4381 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف لانے کے دسویں سال حج کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجِ افراد ادا فرمایا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4429]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن عمر» [ترقيم الرساله 4429] [ترقيم الشركة 4406] [ترقيم العلميه 4381]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 4430
أخبرني أبو بكر بن أبي دارِمٍ، الحافظ، حدَّثنا أبو العباس أحمد بن عبد الله بن شُجاع البغدادي، حدَّثنا قاسم بن محمد بن عبّاد بن عبّاد المُهلَّبي، حدَّثنا عبد الله ابن داود الخُرَيبي، عن سفيانَ، قال: حَجَّ النبيُّ ﷺ قبل أن يُهاجرَ حِجَجًا، وحجّ بعدما هاجَرَ الوداعَ، وكان جميعُ ما جاء به مئةَ بَدَنة، فيها جَمَلٌ كان في أنفه بُرَةٌ مِن فِضَّةٍ، نَحَرَ النبي ﷺ بيده ثلاثًا وستين، ونَحَرَ عليٌّ ما غَبَرَ. فقيل للثَّوريّ: مَن ذكرَه؟ فقال: جعفرُ بن محمد عن أبيه عن جابر، وابنُ أبي لَيلَى [عن الحَكَم] (1) عن مِقسَمٍ عن ابن عبّاس (2) . قال الحاكم: أما الأحاديثُ المأثورة المفسرة في حَجّة الوداع فقد اتفق الشيخانِ على إخراجها بأسانيدَ صحيحةٍ على شرطهما، وأصحُّها وأتمُّها حديث جعفر بن محمد الصادق، عن أبيه، عن جابر، الذي تفرّد بإخراجه مسلمُ بن الحجَّاج (1) . وقد انتهينا بمشيئة الله تعالى وعَونِه إلى ابتداء مَرضِ رسولِ الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4382 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4382 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سفیان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے پہلے کئی بار حج کیے اور ہجرت کے بعد صرف حجۃ الوداع ادا فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے جانوروں کی کل تعداد سو اونٹ تھی جن میں ایک ایسا اونٹ بھی شامل تھا جس کی ناک میں چاندی کا چھلا پڑا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے تریسٹھ اونٹ ذبح کیے اور باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ذبح کیے۔ ثوری سے پوچھا گیا کہ یہ کس کی روایت ہے؟ انہوں نے کہا: جعفر بن محمد اپنے والد سے اور وہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے، اور ابن ابی لیلیٰ، حکم سے، وہ مقسم سے اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں: جہاں تک حجۃ الوداع کی تفسیر میں منقول احادیث کا تعلق ہے تو شیخین نے انہیں ان کی شرائط پر صحیح اسناد کے ساتھ روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور ان میں سب سے زیادہ صحیح اور مکمل جعفر بن محمد صادق کی اپنے والد کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے جسے امام مسلم نے انفرادی طور پر روایت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیئت اور اس کی مدد سے اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وصال کی ابتدا کے ذکر تک پہنچ چکے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4430]
امام حاکم فرماتے ہیں: جہاں تک حجۃ الوداع کی تفسیر میں منقول احادیث کا تعلق ہے تو شیخین نے انہیں ان کی شرائط پر صحیح اسناد کے ساتھ روایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور ان میں سب سے زیادہ صحیح اور مکمل جعفر بن محمد صادق کی اپنے والد کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے جسے امام مسلم نے انفرادی طور پر روایت کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیئت اور اس کی مدد سے اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرضِ وصال کی ابتدا کے ذکر تک پہنچ چکے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4430]
تخریج الحدیث: «صحيح من طريق سفيان - وهو الثوري - عن جعفر - وهو ابن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب وأبو بكر بن أبي دارِم - وإن كان فيه مقال قد تُوبع، لكن الصحيح في لفظه: حجَّ رسولُ الله ثلاثَ حجات: حجّتين قبل أن يُهاجر، وحَجَّة بعدما هاجر من المدينة.» [ترقيم الرساله 4430] [ترقيم الشركة 4407] [ترقيم العلميه 4382]
الحكم على الحديث: صحيح من طريق سفيان - وهو الثوري -