🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. قِصَّةُ إِسْلَامِ أَبِي قُحَافَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حضرت ابو قحافہؓ کے اسلام لانے کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4411
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدَّثنا يحيى بن عَبّاد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه عَبّاد بن عبد الله، عن أسماء بنت أبي بكر الصِّدِّيق، قالت: لما كان عامُ الفَتحِ ونزلَ رسولُ الله ﷺ ذا طُوى، قال أبو قُحافةَ لابنةٍ له - وكانت أصغرَ ولدِه -: أي بُنيّةُ، أَشْرفي بي على أبي قُبَيس - وقد كُفَّ بصرُه - فأشرفَتْ به عليه، فقال: أي بُنيّةُ، ماذا تَرَين؟ قالت: أرى سَوادًا مجتمِعًا، وأَرى رجلًا يشتدُّ (3) بين ذلك السَّواد مُقبِلًا [ومُدبِرًا] (1) ، فقال: تلك الخَيلُ يا بُنيّة، ثم قال: ماذا تَرَين؟ فقالت: أرى السَّواد قد انتشَرَ، فقال: إذًا واللهِ دُفِعَتِ الخَيلُ، فأسرِعى بي يا بُنيّةُ إلى بيتي، فَخَرجَتْ سريعًا حتى إذا هَبَطَتْ به إلى الأبْطَحِ؛ وكان في عنقها طَوقٌ لها من وَرِق، فاقتطعه إنسانٌ من عُنُقِها، فلما دخل رسولُ الله ﷺ المسجدَ خرجَ أبو بكر حتى جاءَ بأبيهِ يَقُودُه، فلما رآه ﷺ قال:"هَلَا تَركْتَ الشيخَ في بَيتِه حتى أَجِيئَه" فقال: يَمْشي هو إليكَ يا رسول الله أحقُّ مِن أن تمشيَ إليه، فأجلَسَه بين يَدَيه، ثم مَسَحَ رسولُ الله ﷺ صَدْرَه، وقال:"أسلِمْ تَسلَمْ" فأسلَمَ، ثم قامَ أبو بكر فأخذَ بيدِ أُختِه، فقال: أَنشُدُ باللهِ والإسلامِ طَوقَ أُختي، فواللهِ ما جاء به أحدٌ، ثم قال الثانيةَ: أنشُدُ باللهِ والإسلامِ طَوقَ أُختي، فما جاء به أحدٌ، فقال: يا أُخيّةُ، احتَسِبي طَوقَكِ، فواللهِ إِنَّ الأمانةَ في الناس لَقليلٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4363 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب فتح مکہ کا سال تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ ذی طویٰ پر اترے، تو (ان کے والد) ابوقحافہ نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی سے کہا: اے پیاری بیٹی! مجھے جبلِ ابوقبیس پر لے چلو (اور وہ نابینا ہو چکے تھے)، وہ انہیں وہاں لے گئی، انہوں نے پوچھا: اے بیٹی! تمہیں کیا نظر آ رہا ہے؟ اس نے کہا: مجھے ایک سیاہ مجمع نظر آ رہا ہے، اور میں ایک شخص کو دیکھ رہی ہوں جو اس مجمع کے درمیان ادھر ادھر تیزی سے دوڑ رہا ہے، انہوں نے کہا: اے بیٹی! وہ گھڑ سوار دستے ہیں، پھر انہوں نے پوچھا: اب کیا نظر آ رہا ہے؟ اس نے کہا: وہ سیاہ مجمع اب پھیل چکا ہے، انہوں نے کہا: تب تو اللہ کی قسم! گھڑ سوار دستے آگے بڑھ چکے ہیں، اے بیٹی! اب مجھے جلدی سے میرے گھر لے چلو، وہ انہیں لے کر تیزی سے نکلی یہاں تک کہ جب وہ وادی ابطح میں اتری، تو اس کے گلے میں چاندی کا ایک ہار تھا جسے ایک شخص نے اس کے گلے سے جھپٹ لیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کا ہاتھ پکڑ کر لائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: تم نے اس بوڑھے کو ان کے گھر پر ہی کیوں نہ رہنے دیا کہ میں خود ان کے پاس چلا جاتا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ان کا آپ کے پاس چل کر آنا زیادہ حق ہے بنسبت اس کے کہ آپ ان کے پاس تشریف لے جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے سامنے بٹھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اسلام قبول کر لو، سلامت رہو گے، پس وہ اسلام لے آئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر پکارا: میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر اپنی بہن کا ہار مانگتا ہوں، مگر اللہ کی قسم! کوئی بھی اسے لے کر نہ آیا، انہوں نے دوسری بار پکارا: میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر اپنی بہن کا ہار مانگتا ہوں، مگر پھر بھی کوئی نہ آیا، تو انہوں نے (اپنی بہن سے) فرمایا: اے میری پیاری بہن! اپنے ہار کے ضائع ہونے پر ثواب کی نیت کر لو، کیونکہ اللہ کی قسم! آج کل لوگوں میں امانت بہت ہی کم رہ گئی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4411]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق.» [ترقيم الرساله 4411] [ترقيم الشركة 4388] [ترقيم العلميه 4363]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. دُخُولُ النَّاسِ فِي الْإِسْلَامِ أَفْوَاجًا بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ
فتح مکہ کے بعد لوگوں کا جوق در جوق اسلام میں داخل ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4412
حدَّثنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب الطُّوسي، حدَّثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدَّثنا سليمان بن حَرْب، حدَّثنا حماد بن زيد، حدَّثنا أيوب، حدَّثنا أبو قِلابة، عن عَمرو بن سَلِمةَ، ثم قال: هو حيٌّ، ألا تَلْقاهُ فتسمعَ منه، فلقيتُ عَمرًا، فحدّثني بالحديث، قال: كنا بممرِّ الناسِ فتُحدِّثُنا الرُّكبانُ، فنسألُهم ما هذا الأمرُ، وما لِلناس؟ فيقولون: نبيٌّ زَعَمَ أَنَّ الله تعالى أرسلَه، وأنَّ الله أوحَى إليه كذا وكذا، وكانت العربُ تَلَوَّمُ بإسلامها الفتحَ، ويقولون: انظُروه، فإن ظهرَ فهو نبيٌّ فصَدِّقُوه، فلما كانَ وقعةُ الفتحِ بادَرَ كلُّ قومٍ بإسلامهم، فانطَلقَ أبي بإسلامهم إلى رسول الله ﷺ، فقَدِم فأقامَ عنده كذا وكذا، ثم جاء مِن عنده فتلقَّيناهُ، فقال: جئتُكم من عند رسول الله حَقًّا، وإنه يأمرُكم بكذا وكذا، فإذا حَضَرتِ الصلاةُ فليُؤذِّنْ أحدُكم وليَؤمَّكُم أكثرُكم قرآنًا، فنَظَروا فلم يَجِدُوا أكثرَ قُرآنًا مني، فقدَّموني، وأنا ابن سبعِ سنين أو ستِّ سنين، فكنتُ أصلِّي فإذا سجدتُ تَقلّصتْ بُردةٌ عليَّ، قال: تقولُ امرأَةٌ من الحيّ: غَطُّوا عنّا اسْتَ قارِئِكم، قال: فكُسِيتُ مُعَقَّدَةً من مُعَقَّد البَحرَينِ (1) بستةِ دراهمِ أو سبعةٍ، فما فَرِحتُ بشيءٍ كَفَرَحي بذلك (2) . قد روى البخاريّ هذا الحديث عن سليمان بن حَرْبٍ مختصرًا فأخرجتُه بطوله!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4364 - أخرج البخاري بعضه
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم اس مقام پر رہتے تھے جہاں سے عام لوگوں کا گزر ہوتا تھا، پس گزرنے والے قافلے ہمیں خبریں سناتے تھے اور ہم ان سے دریافت کرتے تھے کہ یہ نبوت کا کیا معاملہ ہے اور لوگوں کی کیا صورتحال ہے؟ وہ بتاتے تھے کہ ایک شخص ہے جس کا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ اس پر فلاں فلاں وحی نازل کرتا ہے، جبکہ دیگر عرب قبائل اپنے اسلام لانے کو فتحِ مکہ سے مشروط کیے ہوئے تھے اور کہتے تھے کہ انہیں ان کی قوم کے حال پر چھوڑ دو، اگر وہ ان پر غالب آ گئے تو وہ سچے نبی ہیں پس ان کی تصدیق کر لینا، چنانچہ جب فتحِ مکہ کا واقعہ رونما ہوا تو ہر قوم نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی، میرے والد بھی اپنی قوم کے اسلام کا پیغام لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، وہاں کچھ عرصہ قیام کے بعد جب وہ واپس آئے تو ہم ان سے ملنے گئے، انہوں نے بتایا: میں تمہارے پاس اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ان ان باتوں کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے: جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے اور تمہاری امامت وہ شخص کرے جسے قرآن سب سے زیادہ یاد ہو۔ لوگوں نے جب غور کیا تو مجھ سے بڑھ کر کسی کو قرآن کا حافظ نہ پایا، چنانچہ انہوں نے مجھے امامت کے لیے آگے کر دیا جبکہ میری عمر صرف چھ یا سات سال تھی، میں انہیں نماز پڑھاتا تھا اور جب میں سجدے میں جاتا تو میری چھوٹی سی چادر اوپر کی طرف سمٹ جاتی تھی، اس پر قبیلے کی ایک خاتون نے کہا: اپنے قاری کی پشت تو ہم سے چھپاؤ۔ راوی کہتے ہیں: پھر مجھے بحرین کا بنا ہوا ایک لباس چھ یا سات درہم میں خرید کر پہنایا گیا، مجھے اپنی زندگی میں کسی چیز سے اتنی خوشی نہیں ہوئی تھی جتنی اس لباس کے ملنے پر ہوئی۔
امام بخاری نے اس حدیث کو سلیمان بن حرب سے اختصار کے ساتھ روایت کیا ہے جبکہ میں نے اسے یہاں مکمل تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4412]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أيوب: هو ابن أبي تميمة السختياني، وأبو قِلابة: هو عبد الله بن زيد الجَرْمي.» [ترقيم الرساله 4412] [ترقيم الشركة 4389] [ترقيم العلميه 4364]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4413
أخبرني دَعلَج بن أحمد السِّجْزي، حدَّثنا أحمد بن علي الأبّار، حدَّثنا عبد الله بن أبي بكر المُقدَّمي، حدَّثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن أنس، قال: دخلَ رسولُ الله ﷺ مكةَ يومَ الفتحِ وذَقَنُه على رَحْلِه مُتخشِّعًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4365 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے دن مکہ مکرمہ میں اس شان سے داخل ہوئے کہ عاجزی و انکساری کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹھوڑی مبارک کجاوے کے ساتھ مس ہو رہی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4413]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن أبي بكر المُقدَّمي، وقد تفرد به عن جعفر بن سليمان ذلك صححه الذهبي في "تاريخ الإسلام" 1/ 370 مع أنه أورده في "الميزان" في منكرات عبد الله بن أبي بكر المقدّمي، وقد قال ابن عدي في "الكامل" بعد أن أورده في ...» [ترقيم الرساله 4413] [ترقيم الشركة 4390] [ترقيم العلميه 4365]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4414
حدَّثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا أبو العباس أحمد بن محمد بن صاعِد، حدَّثنا إسماعيل بن أبي الحارث، حدَّثنا جعفر بن عَوْن، حدَّثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس، عن أبي مسعودٍ: أَنَّ رجلًا كَلَّم النبيّ ﷺ يومَ الفتح، فأخذَتْه الرِّعْدةُ، فقال النبي ﷺ: هَوِّنْ عليكَ، فإنما أنا ابن امرأةٍ من قُريش كانت تأكُلُ القَدِيدَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4366 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت سے) اس پر کپکپی طاری ہو گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (نہایت شفقت سے) فرمایا: اپنے آپ پر نرمی کرو، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں بلکہ میں تو قریش کی ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا ہوا گوشت (قدید) کھایا کرتی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4414]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد اختُلف في وصله وإرساله كما قدَّمنا بيانه برقم (3775)، وأحمد بن محمد بن صاعد متابَع.» [ترقيم الرساله 4414] [ترقيم الشركة 4391] [ترقيم العلميه 4366]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. ذِكْرُ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ وَاجْتِمَاعِ الْأَنْصَارِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
غزوۂ حنین کا ذکر اور انصار کا رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4415
حدَّثنا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدَّثنا الحسن بن مُكْرَم، حدَّثنا عثمان بن عمر، حدَّثنا عبد الله بن عامر الأَسلَمي، عن محمد بن المُنكَدِر، عن جابر، قال: نَدَبَ رسولُ الله ﷺ يوم حُنين الأنصارَ، فقال:"يا معشرَ الأنصار" فأجابُوه: لبَّيك بأبينا أنت وأُمّنا يا رسول الله، قال:"أقبِلُوا بوجُوهِكم إلى الله وإلى رسوله يُدخلْكم جناتٍ تجري من تحتِها الأنهارُ" فأقبَلُوا ولهم حَنِينٌ حتى أحدَقُوا به كَبْكبةً تَحَاكُّ مَناكِبُهم، يُقاتِلون حتى هزمَ اللهُ المشركين (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده حديث المباركَ بن فَضَالة الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4367 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو پکارا اور فرمایا: اے گروہِ انصار! انہوں نے عرض کیا: لبیک (ہم حاضر ہیں)، ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے چہروں کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی طرف متوجہ ہو جاؤ، وہ تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، پس وہ ایک جوش کے ساتھ متوجہ ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسے لشکر نے گھیرے میں لے لیا جن کے کندھے (ازدحام کی وجہ سے) ایک دوسرے سے رگڑ کھا رہے تھے، وہ پامردی سے لڑتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے مشرکین کو شکست دے دی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور مبارک بن فضالہ کی روایت اس کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4415]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: "أقبِلُوا بوجوهكم إلى الله وإلى رسوله يدخلكم جنات تجري من تحتها الأنهار"، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن عامر الأسلمي، وقد جاء عند جابر من وجه آخر بإسناد حسن دون الحرف المشار إليه، وله ما يشهد له.» [ترقيم الرساله 4415] [ترقيم الشركة 4392] [ترقيم العلميه 4367]

الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قوله: "أقبِلُوا بوجوهكم إلى الله ۔۔۔۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4416
حدثناه أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدَّثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدَّثنا سليمان بن حَرْب، حدَّثنا مُبارك بن فَضَالة، حدَّثنا الحسن، عن أنس بن مالك، قال: الْتَقى يومَ حُنين أهلُ مكة وأهلُ المدينة، واشتدَّ القتالُ، فولَّوا مُدبِرين، فندَبَ رسول الله ﷺ الأنصارَ، فقال:"يا معشرَ المسلمين، أنا رسولُ الله" فقالوا: إليك والله جئنا، فنكَّسُوا رُؤوسهم، ثم قاتَلوا حتى فتحَ الله عليهم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4368 - صحيح
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوہ حنین کے دن اہل مکہ اور اہل مدینہ کا دشمن سے سامنا ہوا اور قتال میں شدت آ گئی تو مسلمان (شروع میں) پیٹھ پھیر کر مڑے، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو پکار کر فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ! میں اللہ کا رسول ہوں، انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ہم آپ ہی کی طرف آئے ہیں، پس انہوں نے سر جھکا کر ایسی جنگ کی یہاں تک کہ اللہ نے انہیں فتح عطا فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4416]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل مبارك بن فَضالة» [ترقيم الرساله 4416] [ترقيم الشركة 4393] [ترقيم العلميه 4368]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4417
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني عاصم بن عُمر بن قَتَادة، عن عبد الرحمن بن جابر، عن أبيه جابر بن عبد الله: أنَّ رسول الله ﷺ سارَ إلى حُنين لما فرَغ من فتح مكة، جمعَ مالك بن عوف النَّصْري من بني نَصْرٍ وجُشَم، ومن سعْد بن بكر وأوزاعًا من بني هِلال، وناسًا من بني عمرو بن عاصم بن عوف بن عامر، وأوعبَتْ (2) معَهم ثقيفٌ الأحلافُ، وبنو مالك، ثم سار بهم إلى رسول الله ﷺ وسار مع الأموال والنساءِ والأبناءِ، فلما سمع بهم رسولُ الله ﷺ بعث عبد الرحمن بن أبي حَدْرَد الأسلَمي، فقال:"اذهب فادخُل بالقومِ حتى تعلَمَ لنا من عِلْمِهِم"، فدخل، فمَكَثَ فيهم يومًا أو يومَين، [ثم أقبلَ فأخبرَه الخبرَ] (3) ثم قال رسولُ الله ﷺ لعمر بن الخطّاب:"ألا تسمع ما يقول ابن أبي حَدْرَدٍ؟ فقال عمرُ: كذبَ ابن أَبي حَدْرَد، فقال ابن أبي حَدْرد: إن كذَّبتني فربما كذَّبْتَ من هو خيرٌ مني، فقال عمرُ: يا رسول الله، ألا تسمعُ ما يقولُ ابن أبي حَدْرد؟ فقال رسولُ الله ﷺ:"قد كنتَ يا عمرُ ضالًّا فهَداك اللهُ ﷿" (1) ، ثم بعث رسول الله ﷺ إلى صفوان ابن أُمية، فسأله أدراعًا مئةَ دِرْعٍ وما يُصلِحُها مِن عُدّتِها، فقال: أغصْبًا يا محمدُ؟ قال: بل عارِيَّةً مضمونةً، حتى نُؤدِّيَها لك"، ثم خرجَ رسولُ الله ﷺ سائرًا (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4369 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا رخ فرمایا، ادھر مالک بن عوف نصری نے بنو نصر، جشم، سعد بن بکر، بنو ہلال کے کچھ گروہوں اور بنو عمرو بن عاصم بن عوف کے لوگوں کو جمع کر لیا تھا، اور ان کے ساتھ قبیلہ ثقیف کے حلیف اور بنو مالک بھی پوری قوت کے ساتھ شامل ہو گئے تھے، پھر وہ اپنے اموال، عورتوں اور بچوں کو ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے کے لیے نکلا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے متعلق اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبد الرحمن بن ابی حدرید اسلمی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور فرمایا: جاؤ اور ان لوگوں میں گھل مل جاؤ یہاں تک کہ ہمارے لیے ان کی یقینی خبر لے آؤ، وہ گئے اور وہاں ایک یا دو دن قیام کیا، پھر واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صورتحال بتائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عمر! کیا تم سن رہے ہو جو ابن ابی حدرید کہہ رہا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (حیرت سے) کہا: ابن ابی حدرید نے جھوٹ کہا ہے، اس پر ابن ابی حدرید رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ مجھے جھٹلا رہے ہیں تو بسا اوقات آپ نے اس ہستی (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بھی جھٹلایا ہے جو مجھ سے بہتر ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ سن رہے ہیں کہ ابن ابی حدرید کیا کہہ رہا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم پہلے «ضال» تھے پھر اللہ عزوجل نے تمہیں ہدایت عطا فرمائی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے سو زرہیں اور ان کے ساتھ کا ضروری جنگی سامان طلب فرمایا، انہوں نے پوچھا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا یہ زبردستی لے رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ واپسی کی ضمانت کے ساتھ عاریت «عارِيَّةً مَضْمُونَةً» (ادھار) ہے، یہاں تک کہ ہم اسے تمہیں واپس کر دیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (لشکر لے کر) روانہ ہوئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4417]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق.» [ترقيم الرساله 4417] [ترقيم الشركة 4394] [ترقيم العلميه 4369]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. ذِكْرُ الْأَنْفَالِ وَالْغَنَائِمِ
مالِ غنیمت اور انفال کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4418
حدَّثنا دَعْلَج بن أحمد السِّجْزِي، حدَّثنا عبد العزيز بن معاوية، حدَّثنا محمد بن جَهْضَم، حدَّثنا إسماعيل بن جعفر، حدّثني عبد الرحمن بن الحارث، عن سُليمان بن موسى الأشْدَق، عن مكحُول، عن أبي سَلّام، عن أبي أمامة الباهلي صاحبِ رسول الله ﷺ، عن عُبادة بن الصامِت قال: أخذَ رسولُ الله ﷺ يومَ حُنين وَبَرَة من جَنْبِ بَعير، ثم قال:"يا أيُّها الناسُ، إنه لا يَحِلُّ لي مما أفاءَ اللهُ عليكم قَدرُ هذه إِلَّا الخُمسَ، والخُمْسُ مَردُودٌ عليكم، فأدُّوا الخَيطُ والمِخْيَطَ، وإياكُم والغُلولَ، فإنه عارٌ على أهلِه يومَ القيامة، وعليكُم بالجهاد في سبيل الله فإنه بابٌ من أبواب الجنة، يُذهِبُ اللهُ به الهَمَّ والغَمَّ". قال: وكان رسولُ الله ﷺ يكرهُ الأنفالَ، ويقول:"لِيرُدَّ قويُّ المؤمنين على ضَعِيفهم" (1)
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک اونٹ کے پہلو سے ایک بال پکڑا، پھر فرمایا: اے لوگو! اللہ نے جو مالِ غنیمت تمہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے اس بال کے برابر بھی میرے لیے حلال نہیں ہے سوائے پانچویں حصے (خمس) کے، اور وہ پانچواں حصہ بھی (مصارفِ خمس کے بعد) تمہیں ہی لوٹا دیا جاتا ہے، لہٰذا تم دھاگا اور سوئی تک (مالِ غنیمت کا) ادا کر دیا کرو، اور خیانت سے بچو کیونکہ یہ قیامت کے دن خیانت کرنے والے کے لیے باعثِ ننگ و عار ہوگی، اور اللہ کی راہ میں جہاد کو لازم پکڑو کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ فکر اور غم کو دور فرما دیتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زائد اموال (نفلی غنیمت) کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے: تاکہ مؤمنین میں سے قوی لوگ اپنے کمزوروں پر وہ مال لوٹا دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4418]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون ذكر كراهة النبي ﷺ الأنفال، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الرحمن بن الحارث. وهو ابن عبد الله بن عيّاش المخزومي - وقد اختُلف في إسناد هذا الخبر عن أبي سلام وهو ممطور الحبشي - فبعضهم يرويه عنه عن أبي أمامة عن عبادة كما ...» [ترقيم الرساله 4418] [ترقيم الشركة 4395]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره دون ذكر كراهة النبي ﷺ الأنفال
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. فَضِيلَةُ الْعِتَاقِ
غلام آزاد کرنے کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4419
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله الزاهد ببغداد، حدَّثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور، حدَّثنا معاذ بن هشام، حدّثني أبي، عن قتادة، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن معدان بن أبي طلحة، عن أبي نجيح السُّلَمي، قال: حاصَرْنا مع رسول الله ﷺ قَصْرَ الطائف، فسمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"من بَلَغَ بسهمٍ، فلَه درجةٌ في الجنّة"، فبلَّغتُ يومئذٍ ستةَ عشرَ سهمًا. وسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن رَمَى بسهمٍ في سبيل الله فهو عَدْلُ مُحرَّرٍ، ومن شابَ شَيْبةً في الإسلام كانت له نُورًا يومَ القيامة، وأيُّما رجلٍ أعتقَ رجلًا مُسلمًا، فإنَّ الله [جاعلٌ كلَّ عَظمٍ من عِظامِه] (1) وقاءً كلَّ عَظمٍ بعَظمٍ، وأيُّما امرأةٍ مسلمةٍ أعتقتْ امرأةً مسلمةً، فإنَّ الله جاعِلٌ كلَّ عظمٍ من عِظامِها وِقاءَ كلِّ عظمٍ من عظامِ مُحرَّرِها مِن النار" (2) . صحيحُ عالٍ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4371 - صحيح
ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ طائف کے قلعے کا محاصرہ کیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے (دشمن پر) ایک تیر چلایا تو اس کے لیے جنت میں ایک درجہ ہے، تو اس دن میں نے سولہ تیر چلائے۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیر چلایا وہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے، اور جس شخص کے بال حالتِ اسلام میں سفید ہوئے وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوں گے، اور جس کسی مرد نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس (آزاد کردہ غلام) کی ہر ہڈی کے بدلے اس (آزاد کرنے والے) کی ہر ہڈی کو آگ سے بچانے کا ذریعہ بنا دے گا، اور جس کسی مسلمان عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس (آزاد کردہ) کی ہر ہڈی کو اس (آزاد کرنے والی) کی ہر ہڈی کے لیے آگ سے بچاؤ کا ذریعہ بنا دے گا۔
یہ حدیث صحیح اور عالی سند والی ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4419]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الرحمن بن محمد بن منصور» [ترقيم الرساله 4419] [ترقيم الشركة 4396] [ترقيم العلميه 4371]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. ذِكْرُ أَرْبَعِ عُمَرَاتِهِ
نبی کریم ﷺ کے چار عمروں کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4420
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدَّثنا مُسلم ابن إبراهيم، حدَّثنا داود بن عبد الرحمن قال: سمعت عَمرو بن دِينار يحدّث عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ اعتَمَر أربعَ عُمَرٍ: عُمرَةَ الحُدَيبِيَّة، وعُمرةَ القَضاء من قابِلٍ، والثالثةَ من الجِعْرانة، والرابعةَ التي مع حَجّتِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4372 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے ادا فرمائے: عمرہ حدیبیہ، اگلے سال والا عمرہ قضا، تیسرا جعرانہ سے اور چوتھا وہ عمرہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے ساتھ ادا فرمایا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4420]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه اختُلف في وصله وإرساله، فوصله داود بن عبد الرحمن - وهو العطار - وخالفه سفيان بن عُيينة فأرسله فلم يذكر فيه ابن عبّاس، وقد صحَّ من حديث أنس بن مالك، فهو صحيح بلا ريب.» [ترقيم الرساله 4420] [ترقيم الشركة 4397] [ترقيم العلميه 4372]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں