🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. الدَّفْعُ عَمَّنْ قَعَدُوا عَنْ بَيْعَةِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے پیچھے رہ جانے والوں کا دفاع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4647
حدثنا أبو القاسم الحسن بن محمد السَّكُوني بالكوفة، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا شَريك، عن أُمَيٍّ الصَّيرَفي، عن أبي قَبيصة عمر بن قَبيصة، عن طارق بن شِهَاب قال: رأيتُ عَليًّا عَلَى رَحْلٍ رَثٍّ بالرَّبَذة، وهو يقول للحسن والحسين: ما لكما تَخِنّان خَنِينَ (1) الجاريةِ، والله لقد ضربتُ هذا الأمرَ ظهرًا لِبَطنٍ، فما وجدتُ بُدًّا من قِتال القوم، أو الكُفرِ بما أُنزل على محمد ﷺ (2) . فأما عبد الله بن عمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4597 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ میں نے مقامِ ربذہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک پرانے کجاوے پر دیکھا جبکہ وہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سے فرما رہے تھے: تم دونوں لڑکیوں کی طرح کیوں روتے ہو؟ اللہ کی قسم میں نے اس معاملے کے تمام پہلوؤں پر خوب غور کیا ہے، تو میں نے ان لوگوں سے قتال کرنے یا اس دین کا انکار کرنے (جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا) کے سوا کوئی تیسرا راستہ نہیں پایا۔ جہاں تک عبداللہ بن عمر کا تعلق ہے (تو ان کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ): [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4647]
تخریج الحدیث: «خبر حسن لكن بذكر الحَسن بن علي دون أخيه الحُسين، كما جاء في رواية غير المصنّف، وأبو قبيصة عمر بن قَبيصة هكذا وقع مسمَّى في هذه الرواية عمر، وإنما هو صفوان بن قَبيصة، كما في رواية جعفر بن زياد الأحمر عن أُمَيٍّ الصَّيرفي لهذا الخبر، وكذلك سمّاه كل من ترجم ...» [ترقيم الرساله 4647] [ترقيم الشركة 4623] [ترقيم العلميه 4597]

الحكم على الحديث: خبر حسن لكن بذكر الحَسن بن علي دون أخيه الحُسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79. الدَّفْعُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا دفاع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4648
فحدَّثنا بصحَّة حاله فيه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مَهدي بن رُستُم، حدثنا بِشْر بن شعيب بن أبي حمزة القرشي، حدثني أبي، عن الزُّهْري، أخبرني حمزة بن عبد الله بن عمر: أنه بينما هو جالس مع عبد الله بن عمر، إذ جاءه رجلٌ من أهل العراق، فقال: يا أبا عبد الرحمن، إني والله لقد حَرَصتُ أن اتَّسَمتُ بسَمْتِك، وأقتدي بك في أمر فُرقةِ الناس، وأعتزلُ الشرَّ ما استطعتُ، وإني أقرأ آيةً من كتاب الله مُحكَمةً قد أخَذَت بقلبي، فأخبرني عنها، أرأيتَ قولَ الله ﷿: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ [الحجرات: 9] ، أخبِرْني عن هذه الآية؟ فقال عبد الله: ما لكَ ولذلك؟ انصرِفْ عني، فانطَلَقَ حتى تَوارَى عنا سَوادُه، أقبلَ علينا عبدُ الله بن عمر، فقال: ما وجدتُ في نفسي في شيء من أمر هذه الآية، ما وجدتُ في نفسي أني لم أُقاتِل هذه الفئةَ الباغيةَ كما أمرني الله ﷿ (1) . هذا باب كبيرٌ قد رواه عن عبد الله بن عمر جماعةٌ من كبار التابعين، وإنما قدّمتُ حديثَ شُعيب بن أبي حمزة عن الزُّهْري، واقتصرتُ عليه، لأنه صحيح على شرط الشيخين. وأما ما ذُكر من إمساك أسامة بن زيد عن القتال:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4598 - على شرط البخاري ومسلم
حمزہ بن عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ عراق کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! اللہ کی قسم میں نے اس بات کی پوری کوشش کی کہ میں آپ ہی کے طریقے کو اپناؤں، لوگوں کے باہمی اختلاف میں آپ کی پیروی کروں اور جہاں تک ہو سکے شر سے دور رہوں، لیکن میں کتاب اللہ کی ایک پختہ آیت پڑھتا ہوں جس نے میرے دل کو جکڑ لیا ہے، مجھے اس کے بارے میں بتائیے، اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرواؤ، پھر اگر ان میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس (زیادتی کرنے والے) سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ لوٹ آئے تو عدل کے ساتھ ان کے درمیان صلح کرا دو اور انصاف کرو، بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے [سورة الحجرات: 9] کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارا اس سے کیا لینا دینا؟ میرے پاس سے چلے جاؤ۔ جب وہ شخص چلا گیا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: مجھے اپنے دل میں کسی بھی معاملے پر اتنی ندامت یا قلق نہیں ہوا جتنا اس بات کا ہے کہ میں نے اللہ عزوجل کے حکم کے مطابق اس سرکش گروہ (فئة باغية) کے خلاف قتال کیوں نہ کیا۔
یہ ایک وسیع باب ہے جسے کبار تابعین کی ایک جماعت نے عبد اللہ بن عمر سے روایت کیا ہے، میں نے زہری سے شعیب بن ابی حمزہ کی روایت کو اس لیے مقدم کیا اور اسی پر اکتفا کیا کیونکہ یہ امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4648]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وهو مكرر ما تقدم برقم (3764).» [ترقيم الرساله 4648] [ترقيم الشركة 4624] [ترقيم العلميه 4598]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80. الدَّفْعُ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا دفاع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4649
فحدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا حامد بن أبي حامد المقرئ، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد الدَّشْتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس الرازي، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن أبي الشَّعثاء، عن عمِّه، عن أسامة بن زيد، قال: بعثني رسولُ الله ﷺ في سَرِيّة في أُناس من أصحابه، فاستَبَقْنا أنا ورجلٌ من الأنصار إلى العدوّ، فحملتُ عليه، فلما دنوتُ منه كَبّر، فطعنتُه فقتلتُه، ورأيتُ أنه إنما فَعَل ذلك ليُحرِزَ دمَه، فلما رجعْنا سبقَني إلى النبيّ ﷺ، فقال: يا رسول الله، لا فارسَ خيرٌ من فارسِكم، إنّا استَلحَقْنا رجلًا فسبقَني إليه، فكبّر فلم يمنعه ذلك أن قَتَلَه، فقال النبي ﷺ:"يا أسامةُ، ما صنعتَ اليوم؟" فقلت: حملتُ على رجلٍ فكبّر، فرأيتُ أنه إنما فعل ليُحرِزَ دمَه فقتلتُه، فقال:"كيف بعدَ اللهُ أكبرُ، فهلّا شَقَقَتَ عن قلبِه فعَلِمت (1) ما قال؟! فلم يزَلْ يقول لي يومئذٍ، فلا أقاتلُ رجلًا يقول: اللهُ أكبرُ مما نهاني عنه، حتى ألقاُه (2) .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے چند صحابہ کے ہمراہ ایک سریہ (لشکری مہم) میں روانہ فرمایا، میں اور ایک انصاری شخص دشمن کے ایک آدمی کی طرف لپکے، میں نے اس پر حملہ کیا، جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے «الله أكبر» کہا، لیکن میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا، میرا گمان یہ تھا کہ اس نے یہ کلمہ صرف اپنی جان بچانے کے لیے کہا ہے۔ جب ہم واپس آئے تو وہ (انصاری) مجھ سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے اس شہسوار سے بہتر کوئی سوار نہیں، ہم نے ایک شخص کا پیچھا کیا، میں اس تک پہنچنے ہی والا تھا کہ اس نے «الله أكبر» کہہ دیا مگر اس (اسامہ) کو اس بات نے اسے قتل کرنے سے نہ روکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اسامہ! آج تم نے یہ کیا کیا؟ میں نے عرض کیا: میں نے ایک شخص پر حملہ کیا تو اس نے «الله أكبر» کہہ دیا، میرا خیال تھا کہ اس نے صرف اپنی جان بچانے کے لیے ایسا کیا ہے اس لیے میں نے اسے قتل کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ «الله أكبر» کہہ چکا تھا تو پھر (اللہ کے ہاں) تمہارا کیا بنے گا؟ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا تاکہ تمہیں معلوم ہو جاتا کہ اس نے (صدقِ دل سے) کیا کہا تھا؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن مسلسل مجھ سے یہی فرماتے رہے، (اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) لہذا اب میں کسی ایسے شخص سے نہیں لڑوں گا جو «الله أكبر» کہتا ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے منع فرما دیا ہے، یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4649]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لكن بذكر "لا إله إلّا الله" بدل "الله أكبر"، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عم أبي الشعثاء - واسم أبي الشعثاء سُليم بن أسود المُحاربي - وإبراهيم بن مُهاجر ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد ولكنه اختلف عليه في إسناده فروي عنه مرة بزيادة ذكر إبراهيم النخعي بينه وبين ...» [ترقيم الرساله 4649] [ترقيم الشركة 4625]

الحكم على الحديث: حديث صحيح لكن بذكر "لا إله إلّا الله" بدل "الله أكبر"
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4650
حدَّثَناهُ أبو أحمد محمد بن محمد الحافظ القاضي، حدثنا أحمد بن جعفر بن نصر، حدثنا محمد بن حُميد، حدثنا هارون بن المغيرة، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن إبراهيم بن مُهاجر، عن إبراهيم النَّخَعي، عن أبي الشَّعْثاء، عن عَمِّه، عن أسامة بن زيد. فذكر الحديثَ بنحوه (3) . وأما ما ذُكِر من اعتزال سعد بن أبي وقّاص عن القتال:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4599 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے یہی روایت اسی مفہوم کے ساتھ ایک اور سند سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4650]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه،» [ترقيم الرساله 4650] [ترقيم الشركة 4626] [ترقيم العلميه 4599]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. الدَّفْعُ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا دفاع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4651
فحدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا علي بن المُنذر، حدثنا ابن فُضيل، حدثنا مُسلم المُلائي، عن خَيثمة بن عبد الرحمن، قال: سمعت سعدَ بن مالك وقال له رجلٌ: إِنَّ عليًّا يقعُ فيك أنك تخلّفتَ عنه، فقال سعدٌ: واللهِ إنه لرأيٌ رأيتُه، وأخطأَ رأبي، إنَّ عليّ بن أبي طالب أُعطيَ ثلاثًا، لأن أكونَ أُعطيتُ إحداهُنّ أحبُّ إليَّ من الدنيا وما فيها، لقد قال له رسولُ الله ﷺ يومَ غَدير خُمٍّ بعدَ حمدِ الله والثناءِ عليه:"هل تعلمون أني أَولى بالمؤمنين من أنفُسِهم؟" قلنا: نعم، قال:"اللهم مَن كنتُ مولاهُ فعليٌّ مولاه، اللهم والِ من والاهُ، وعادِ من عاداهُ". وجيءَ به يومَ خَيبَر وهو أرمَدُ ما يُبصِرُ، فقال: يا رسول الله، إني أرمَدُ، فَتَفَلَ في عينَيه ودعا له، فلم يَرمَدْ حتى قُتِل، وفُتِحَ عليه خيبرُ. وأخرج رسول الله ﷺ عمَّه العباسَ وغيرَه من المسجد، فقال له العباسُ: تُخرِجُنا ونحن عُصْبتُك وعُمومتُك وتُسكِنُ عليًا؟ فقال:"ما أنا أخرَجَكُم وأسَكَنَه، ولكنّ الله أخرجَكُم وأسكَنَه" (1) وأما ما ذُكر من اعتزال أبي مسعود الأنصاري وأبي موسى الأشعري، فإنَّ أمير المؤمنين ﵁ وَجَّهَ إلى الكوفة لأَخْذ البيعةِ له محمدًا ابنَه ومحمدَ بن أبي بكر، وكان على الكوفة أبو موسى الأشعري وأبو مسعود، فامتنع أبو موسى أن يُبايع، فرجعا إلى أمير المؤمنين، فبعث الحسنَ ابنَه ومالكَ الأشْتَر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4601 - سكت الحاكم عن تصحيحه
خثیمہ بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا سعد بن مالک (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا جبکہ ایک شخص نے ان سے کہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ آپ ان کا ساتھ دینے سے پیچھے رہ گئے ہیں، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ ایک رائے تھی جو میں نے قائم کی تھی اور میری وہ رائے غلط ثابت ہوئی، بے شک علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو تین ایسی خصوصیات عطا کی گئی ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مجھے مل جاتی تو وہ میرے لیے دنیا اور اس کی تمام نعمتوں سے زیادہ محبوب ہوتی۔ (پہلی یہ کہ) غدیرِ خم کے دن اللہ کی حمد و ثنا کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے متعلق فرمایا تھا: کیا تم جانتے ہو کہ میں مومنوں کی جانوں پر ان سے زیادہ حق رکھتا ہوں؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» اے اللہ! جس کا میں مولا ہوں، علی اس کا مولا ہے، اے اللہ! جو اس سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ اور جو اس سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔ (دوسری یہ کہ) خیبر کے دن انہیں لایا گیا جبکہ ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اور انہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری آنکھیں دکھ رہی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور ان کے لیے دعا فرمائی، پھر شہادت تک ان کی آنکھیں کبھی نہیں دکھیں اور خیبر ان کے ہاتھوں فتح ہوا۔ (تیسری یہ کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سیدنا عباس اور دیگر لوگوں کو مسجد سے نکل جانے کا حکم دیا (ان کے دروازے بند کروا دیے)، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) آپ ہمیں نکال رہے ہیں حالانکہ ہم آپ کے قریبی رشتہ دار اور چچا ہیں اور علی کو مسجد میں رہنے کی اجازت دے رہے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں نہیں نکالا اور نہ ہی انہیں وہاں بسایا ہے، بلکہ اللہ نے تمہیں (مسجد سے) نکالنے اور انہیں وہاں ٹھہرانے کا حکم دیا ہے۔ رہی بات ابومسعود انصاری اور ابوموسیٰ اشعری کے الگ تھلگ رہنے کے متعلق، تو حقیقت یہ ہے کہ امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے بیعت لینے کے لیے اپنے صاحبزادے محمد (بن حنفیہ) اور محمد بن ابوبکر کو کوفہ روانہ کیا تھا، اس وقت کوفہ میں ابوموسیٰ اشعری اور ابومسعود موجود تھے، تو ابوموسیٰ نے بیعت سے انکار کر دیا، پھر وہ دونوں امیر المؤمنین کے پاس واپس آگئے تو آپ نے اپنے صاحبزادے سیدنا حسن اور مالک اشتر کو روانہ فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4651]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل مسلم الملائي، فإنه متروك، لكنه متابع على القصتين الأولى والثانية في هذا الخبر.» [ترقيم الرساله 4651] [ترقيم الشركة 4627] [ترقيم العلميه 4601]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل مسلم الملائي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. الدَّفْعُ عَنِ اعْتِزَالِ أَبِي مَسْعُودٍ وَأَبِي مُوسَى .
سیدنا ابو مسعود اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہما کے کنارہ کش رہنے کا دفاع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4652
فحدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المُزكِّي، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا داود بن رُشَيد، حدثنا الهيثم بن عَديّ، عن مجالدٍ وابن (1) عيّاش وإسماعيل بن أبي خالد، عن الشَّعْبي قال: لما قُتل عثمان وبُويع عليٌّ خَطَبَ أبو موسى وهو على الكوفة، فنهى الناسَ عن القتالِ والدخولِ في الفتنة، فعزلَه عليٌّ عن الكوفة من ذي قار، وبَعَثَ إليه عمارَ بن ياسر والحسنَ بن عليٍّ فعزَلاه، واستعمل قَرَظة بنَ كعب، فلم يزل عاملًا حتى قدم عليٌّ من البصرة بعد أشهُر، فعزلَه حيثُ قدم، فلما سار إلى صِفِّين استخلف عُقبة بن عمرو أبا مسعود الأنصاري حين قدم من صِفِّين (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4602 - الهيثم بن عدي متروك
عامر بن شرحبیل شعبی سے مروی ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت ہوئی، تو ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں خطاب کرتے ہوئے لوگوں کو جنگ اور فتنے میں پڑنے سے روکا، جس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ذی قار کے مقام سے انہیں معزول کر دیا اور عمار بن یاسر اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بھیجا جنہوں نے انہیں برطرف کیا اور قرظہ بن کعب کو عامل مقرر کیا، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصرہ سے واپسی تک عہدے پر رہے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے واپسی پر انہیں بھی معزول کر دیا، اور جب وہ صفین کی طرف روانہ ہوئے تو عقبہ بن عمرو ابو مسعود انصاری کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4652]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل الهيثم بن عدي، فقد جزم غير واحدٍ من أهل المعرفة بأنه كان يكذب، لكن روي نحو هذا الخبر بأسانيد أصلح من هذا من أحسنها ما أخرجه عمر بن شبّة كما في "فتح الباري" 23/ 114، وعنه الطبريُّ في "تاريخه" 4/ 499 عن أبي الحسن علي ...» [ترقيم الرساله 4652] [ترقيم الشركة 4628] [ترقيم العلميه 4602]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل الهيثم بن عدي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4653
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن مُرّة، عن أبي وائل قال: دخل أبو موسى الأشعَري وأبو مسعود البَدْري على عمّار، وهو يَستنفِرُ الناسَ، فقالا له: ما رأَينا منك أمرًا منذ أسلمتَ أكرَهَ عندنا من إسراعِك في هذا الأمر، فقال عمارٌ: ما رأيتُ منكما منذ أسلمتُما أمرًا أكرَهَ عندي من إبطائكُما عن هذا الأمر، قال: فكَساهُما عمارٌ حُلَّة حلّةً، وخرج إلى الصلاة يومَ الجُمعة (1) . وأما قصة اعتزال محمد بن مَسلَمة الأنصاري عن البَيعة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4603 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابو وائل سے مروی ہے کہ ابو موسیٰ اشعری اور ابو مسعود بدری، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم کے پاس آئے جبکہ وہ لوگوں کو (جنگ کے لیے) تیار کر رہے تھے، ان دونوں نے ان سے کہا: جب سے آپ اسلام لائے ہیں ہمیں آپ کا کوئی عمل اس سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں لگا جتنا آپ کا اس معاملے میں حد سے زیادہ جلدی کرنا ہے، عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جب سے تم دونوں اسلام لائے ہو مجھے تمہارا کوئی عمل اس سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں لگا جتنا تمہارا اس معاملے میں سستی کرنا ہے، راوی کہتے ہیں: پھر عمار رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ایک ایک جوڑا پہنایا اور جمعہ کی نماز کے لیے نکل گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4653]
تخریج الحدیث: «صحيح لكن ما وقع هنا من التصريح بأنَّ عمارًا هو الذي كسا الحُلّتين فهو وهم، فقد روى هذا الخبر عن شعبة بدلُ بنُ المحبّر عند البخاري (7102)، وحجاج بن محمد الأعور عند ابن عساكر 43/ 457، فلم يُقيِّداه بذكر عمار، وإن كانت روايتهما تُوهم أنه هو، فقد قالا في روايتهما ...» [ترقيم الرساله 4653] [ترقيم الشركة 4629] [ترقيم العلميه 4603]

الحكم على الحديث: صحيح لكن ما وقع هنا من التصريح بأنَّ عمارًا هو الذي كسا الحُلّتين فهو وهم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. الدَّفْعُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ .
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا دفاع
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4654
فحدَّثَناه عليُّ بن عيسى الحِيري، حدثنا أحمد بن نَجْدة القرشي، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن سالم بن صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن أبيه، عن محمود بن لَبيد، عن محمد بن مَسلَمة، قال: قلتُ: يا رسول الله، كيف أصنعُ إذا اختلفَ المُصلُّون؟ قال:"تَخْرُجُ بسيِفك إلى الحَرّة فتضربُها به، ثم تَدخُل بيتَك حتى تأتيَك مَنِيّةٌ - أو قال: مِيتةٌ - قاضِيةٌ، أو يدٌ خاطئةٌ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4604 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
محمد بن مسلمہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر (اہلِ قبلہ) نمازیوں میں اختلاف اور خانہ جنگی ہو جائے تو میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی تلوار لے کر حرہ (مدینہ کی پتھریلی زمین) کی طرف نکل جانا اور اسے وہاں مار کر توڑ دینا، پھر اپنے گھر میں گوشہ نشین ہو جانا یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے یا کوئی خطا کار ہاتھ تم تک پہنچ کر تمہیں قتل کر دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4654]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سالم بن صالح، فهو لا يُعرف كما قال أبو حاتم الرازي، ويحيى بن عبد الحميد - وهو الحِمّاني - فيه ضعف، لكنه متابع، وقد رُوي هذا الخبرُ من طُرق أحدها صحيح.» [ترقيم الرساله 4654] [ترقيم الشركة 4630] [ترقيم العلميه 4604]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4655
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي، حدثني إبراهيم بن جعفر الأنصاري، حدثني سليمان بن محمود، من ولد محمد بن مَسلَمة الأنصاري، عن سعد بن زيد بن سعد الأشهلي: أنه أَهدَى إلى رسولِ الله ﷺ سيفًا من نَجْران، فلما قَدِم عليه أعطاهُ محمدَ بنَ مسلمة، وقال:"جاهِدْ بهذا في سبيل الله، فإذا اختلَفتْ أعناقُ الناس فاضرِبْ به الحَجَرَ، ثم ادخُل بيتَك، وكن حِلْسًا مُلقًى، حتى تَقتُلَك يدٌ خاطئةٌ أو تأتيَك مَنيَّةٌ قاضيةٌ" (1) . قال الحاكم: فبهذِه الأسبابِ وما جانسها كان اعتزالُ من اعتزل عن القتال مع عليّ ﵁، وبضدّها كان قتالُ مَن قاتَلَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4605 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سعد بن زید بن سعد اشہلی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نجران کی ایک تلوار ہدیہ کی، جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو عطا کر دی اور فرمایا: اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، لیکن جب مسلمانوں کی گردنیں ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں (آپس میں لڑنے لگیں) تو اسے پتھر پر مار کر توڑ دینا، پھر اپنے گھر میں گوشہ نشین ہو جانا اور اس طرح پڑے رہنا جیسے ٹاٹ بچھا ہوتا ہے، یہاں تک کہ کوئی خطا کار ہاتھ تمہیں قتل کر دے یا تمہیں موت آجائے۔
امام حاکم نے کہا: پس انہی وجوہات اور ان جیسی دیگر دلیلوں کی بنا پر ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال سے کنارہ کشی اختیار کی، جبکہ اس کے برعکس اسباب کی بنیاد پر ان لوگوں نے قتال کیا جنہوں نے جنگ میں حصہ لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4655]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن إن شاء الله من أجل سليمان بن محمود - وهو سليمان بن محمد بن محمود بن محمد بن مسلمة - فقد روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "الثقات"، وبهذا الإسناد أثبت غيرُ واحدٍ من أهل النقد صحبةَ سعد بن زيد بن سعد الأشهلي، منهم أبو حاتم الرازي ...» [ترقيم الرساله 4655] [ترقيم الشركة 4631] [ترقيم العلميه 4605]

الحكم على الحديث: إسناده حسن إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4656
فحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سُفيان، حدثنا أبو موسى - يعني إسرائيل بن موسى - قال: سمعتُ الحسن يقول: جاء طلحةُ والزُّبير إلى البصرة، فقال لهم الناسُ: ما جاء بكم؟ قالوا: نَطلُب دمَ عثمان قال الحسنُ: أيا سُبحانَ الله! أفَما كان للقوم عُقولٌ فيقولون: والله ما قتلَ عثمانَ غيرُكم؟! قال: فلما جاء عليٌّ إلى الكوفة، وما كان للقوم عُقولٌ فيقولون: أيُّها الرجلُ، إنا واللهِ ما ضُمِّنّاك؟ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4606 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حسن بصری سے مروی ہے کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما بصرہ آئے تو لوگوں نے ان سے پوچھا: آپ حضرات کس مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم عثمان (رضی اللہ عنہ) کے خون کا قصاص لینے آئے ہیں، حسن بصری نے (تبصرہ کرتے ہوئے) کہا: سبحان اللہ! کیا ان لوگوں کے پاس اتنی عقل بھی نہیں تھی کہ وہ ان سے کہتے کہ اللہ کی قسم! عثمان کو تمہارے سوا کسی نے قتل نہیں کیا (یعنی تم ہی ان کے گرد جمع تھے)؟ وہ مزید کہتے ہیں: جب علی رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو کیا لوگوں کے پاس اتنی عقل نہیں تھی کہ وہ کہتے: اے شخص! اللہ کی قسم ہم نے تمہیں (ایسے معاملات کی) ضامن نہیں بنایا تھا؟ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4656]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد. الحُميدي: هو عبد الله بن الزبير الأسدي المكي، وسفيان: هو ابن عيينة، والحسن: هو البصري.» [ترقيم الرساله 4656] [ترقيم الشركة 4632] [ترقيم العلميه 4606]

الحكم على الحديث: إسناده جيد. الحُميدي: هو عبد الله بن الزبير الأسدي المكي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں