🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. ذِكْرُ أَسْمَاءِ قَاتِلِي عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتلوں کے ناموں کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4617
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُراساني، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَوْح المَدَائني، حَدَّثَنَا شَبَابة بن سَوّار، حَدَّثَنَا محمد بن طلحة، حَدَّثَنَا كِنانة العَدَوي (1) ، قال: كنتُ فيمن حاصَرَ عثمانَ، قال: قلت: محمدُ بن أبي بكر قتلَه؟ قال: لا، قتلَه جَبَلة بن الأَيْهَم رجلٌ من أهل مِصر (2) . قال: وقيل: قتله قُتَيرة (3) السَّكُوني، فقُتل في الوقت، وقيل: قتلَه كِنانةُ بن بِشْر التُّجِيبي، ولعلهم اشتركُوا في قتله لعنهم الله. وقال الوليد بن عُقبة: ألا إنَّ خيرَ الناسِ بعدَ نبيِّهِ … قَتِيلُ التُّجِيبيّ الذي جاء مِن مصرِ يعني بالتُّجيبي قاتلَ عثمان.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4568 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
کنانہ عدوی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا محمد بن ابی بکر نے انہیں قتل کیا؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ اہل مصر کے ایک شخص جبلہ بن ایہم نے انہیں قتل کیا، راوی کہتے ہیں: اور ایک قول یہ ہے کہ انہیں قتیرہ سکونی نے قتل کیا جو اسی وقت مارا گیا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں کنانہ بن بشر تجیبی نے قتل کیا، اور شاید ان سب نے مل کر ان کے قتل میں شرکت کی تھی، اللہ ان پر لعنت کرے، اور ولید بن عقبہ نے (اس پر) یہ اشعار کہے: خبردار! اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جسے مصر سے آنے والے اس تجیبی نے شہید کر دیا، یہاں تجیبی سے مراد عثمان رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4617]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن كسابقه، وكنانة: هو مولى صفية، ومحمد بن طلحة: هو ابن مُصرِّف.» [ترقيم الرساله 4617] [ترقيم الشركة 4594] [ترقيم العلميه 4568]

الحكم على الحديث: إسناده حسن كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4618
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهْران الأصبهاني، حَدَّثَنَا عبيد الله بن موسى، حدثني أبو سِيْدان عُبيد (1) بن طُفيل: حدثني رِبْعيّ بن حِراش، عن عُثمان بن عفّان: أنه خَطَبَ إلى عمرَ ابنتَه، فردَّه، فبلغ ذلك النَّبِيّ ﷺ، فلما أن راحَ إليه عمرُ قال:"يا عُمرُ، أدلُّك على خَتَنٍ خيرٍ لك من عُثمان، وأدلُّ عُثمانَ على خَتَنٍ (2) خيرٍ له مِنكَ" قال: نعم يا رسول الله، قال:"زَوِّجْني ابنتَك، وأُزوِّجُ عثمانَ ابنتي" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کا رشتہ مانگا لیکن انہوں نے انکار کر دیا، یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی، تو جب عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! کیا میں تمہیں ایسا داماد نہ بتاؤں جو تمہارے لیے عثمان سے بہتر ہو، اور عثمان کو ایسا سسر نہ بتاؤں جو ان کے لیے تم سے بہتر ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی صاحبزادی کا نکاح مجھ سے کر دو، اور میں اپنی صاحبزادی کا نکاح عثمان سے کر دوں گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4618]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أحمد بن مهران الأصبهاني وأبي سيدان عُبيد بن طُفيل، فهما صدوقان حسنا الحديث. وقد صحَّح هذا الخبر الطبريُّ فيما نقله عنه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 15/ 351، وقال الضياء المقدسي في "الأحاديث المختارة" 1/ (337): إسناده لا بأس به.» [ترقيم الرساله 4618] [ترقيم الشركة 4595]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل أحمد بن مهران الأصبهاني وأبي سيدان عُبيد بن طُفيل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. اشْتَرَى عُثْمَانُ الْجَنَّةَ مَرَّتَيْنِ .
سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو مرتبہ جنت خریدی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4619
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ، حَدَّثَنَا محمد بن مَنْدهْ الأصبهانيُّ، حَدَّثَنَا بكر بن بكّار، حَدَّثَنَا عيسى بن المسيّب البَجَلي، حَدَّثَنَا أبو زُرعة، عن أبي هريرة، قال: اشترى عثمانُ بن عفّان الجنةَ من النَّبِيّ ﷺ مرتَين بيع الخَلَقِ (1) : حيث حَفَر النَّبِيُّ ﷺ بئرَ مَعُونة (2) ، وحيث جهَّز جيشَ العُسْرة (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4570 - عيسى بن المسيب ضعفه أبو داود وغيره
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو مرتبہ جنت خریدی: ایک اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بئر معونہ (کا کنواں خریدنے کی ترغیب دی) اور دوسرا اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیشِ عسرت (تنگی کے لشکر) کی تیاری فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4619]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، قال ابن أبي حاتم: محمد بن مَنْده الأصبهاني لم يكن عندي بصدوق … أخرج عن بكر بن بكار والحسين بن حفص، ولم يكن سنُّه سِنَّ من يلحقهما قلنا: غير أنه لم ينفرد به، فقد تابعه جمع من الثقات، لكن بكر بن بكار وعيسى بن المسيب البجلي مختلف فيهما، ...» [ترقيم الرساله 4619] [ترقيم الشركة 4596] [ترقيم العلميه 4570]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4620
حَدَّثَنَا أبو العباس، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا عبد الله بن إدريس، عن الحسن بن فُرات القَزّاز، عن أبيه، عن عُمير بن سعيد، قال: أراد عليّ أن يَسيرَ إلى الشام إلى صِفِّين، اجتمعتِ النَّخَعُ حتَّى دخَلُوا على الأشتَر بيتَه، فقال: هل في البيت إلَّا نَخَعيٌّ؟ قالوا: لا، قال: إِنَّ هذه الأمةَ عَمَدَت إلى خيرِ أهلِها فقتَلُوه - يعني عثمانَ - وإنَّا قاتلْنا أهلَ البصرةِ ببيعةٍ تأوّلْنا عَينَه (1) ، وإنكم تَسِيرون إلى قومٍ ليس لنا عليهم بيعةٌ، فلينظُر امرؤٌ أين يضعُ سيفَه (2) .
هذا حديثٌ وإن لم يكن له سندٌ فإنه مَعقِدٌ، صحيح الإسناد، في هذا المَوضِع. ومن مناقب أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ﵁ ممّا لم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4571 - على شرط مسلم
عمیر بن سعید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے شام میں (جنگ) صفین کی طرف جانے کا ارادہ کیا، تو قبیلہ نخع کے لوگ جمع ہو کر مالک اشتر کے گھر پہنچے، اشتر نے پوچھا: کیا گھر میں کوئی غیر نخعی بھی ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، تو انہوں نے کہا: اس امت نے اپنے بہترین شخص (عثمان رضی اللہ عنہ) کا قصد کیا اور انہیں قتل کر دیا، اور ہم نے اہل بصرہ سے اس بیعت کی بنا پر جنگ کی جس کی ہم نے اپنی سمجھ کے مطابق تاویل کی تھی، اور اب تم ایسے لوگوں کی طرف جا رہے ہو جن کی بیعت ہماری گردن پر نہیں ہے، لہذا ہر شخص کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ اپنی تلوار کہاں رکھے گا۔
یہ حدیث اگرچہ (بظاہر) بغیر سند کے ہے مگر اس مقام پر اس کی سند صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4620]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4620] [ترقيم الشركة 4597] [ترقيم العلميه 4571]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. مَنَاقِبُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِمَّا لَمْ يُخْرِجَاهُ - فَضَائِلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مناقب جو ان دونوں (شیخین) نے روایت نہیں کیے — سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4621
سمعت القاضيَ أبا الحسن علي بن الحسن الجَرَّاحي وأبا الحسين محمد بن المُظفَّر الحافظ، يقولان: سمعنا أبا حامد محمد بن هارون الحَضْرمي يقول: سمعت محمد بن منصور الطُّوسِي يقول: سمعت أحمدَ بن حنبل يقول: ما جاء لأحدٍ من أصحاب رسول الله ﷺ من الفضائل ما جاء لِعليّ بن أبي طالب ﵁ (1) .
احمد بن حنبل نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کے لیے اتنے فضائل اور مناقب مروی نہیں ہوئے جتنے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے حق میں بیان ہوئے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4621]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار» [ترقيم الرساله 4621] [ترقيم الشركة 4598]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4622
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العباس بن محمد الدُّوري يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول: اسمُ أبي طالب عبدُ مناف (2) . قال الحاكم: وهكذا ذكره زيادٌ عن (3) محمد بن إسحاق، وقد تواترت الأخبار بأنَّ أبا طالب كنيته اسمه، والله أعلم (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4572 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
یحییٰ بن معین نے کہا: ابوطالب کا نام عبد مناف تھا۔
امام حاکم نے کہا: اسی طرح اسے زیاد نے محمد بن اسحاق سے نقل کیا ہے، جبکہ ایسی خبریں تواتر کے ساتھ منقول ہیں کہ ابوطالب کی کنیت ہی درحقیقت ان کا نام ہے، اور اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4622]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4622] [ترقيم الشركة 4599] [ترقيم العلميه 4572]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4623
سمعت أبا العباس يقول: سمعت العباس بن محمد يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول: أمُّ علي بن أبي طالب فاطمةُ بنتُ أسَد بن هاشم (5) .
یحییٰ بن معین نے کہا: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4623]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4623] [ترقيم الشركة 4599/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4624
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: كانت فاطمةُ بنت أسَد بن هاشم أولَ هاشمية وَلَدَت من هاشمي، وكانت بمحلٍّ عظيمٍ من الإيمان في عهدِ رسول الله ﷺ، وتُوفِّيت في حياة رسول الله ﷺ، وصلّى عليها، وكان اسمَ عليٍّ أسدٌ، ولذلك يقول: أنا الذي سَمَّتْني أمي حَيدَرهْ (1)
مصعب بن عبد اللہ الزبیری سے روایت ہے کہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم پہلی ہاشمی خاتون تھیں جنہوں نے ہاشمی مرد (ابوطالب) کے بطن سے اولاد کو جنم دیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ایمان کے بلند ترین مقام پر فائز تھیں، ان کی وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات میں ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام (شروع میں) اسد رکھا گیا تھا، اسی مناسبت سے وہ (غزوہ خیبر کے موقع پر) یہ رجز پڑھا کرتے تھے: «أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ» میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدر (شیر) رکھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4624]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 4624] [ترقيم الشركة 4600]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. ذِكْرُ فَضِيلَةِ أُمِّ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - .
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4625
حدثني بُكير بن محمد الحَدّاد الصُّوفي بمكة، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن شَبيب المَعمَري، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن عمرو بن جَبَلة الباهلي، حَدَّثَنَا أبي، عن الزُّبير بن سعيد القرشي، قال: كنا جلوسًا عند سعيد بن المسيّب، فمرَّ بنا علي بن الحُسين، ولم أرَ هاشِميًّا قط كان أعبدَ للهِ منه، فقام إليه سعيدُ بن المسيّب وقُمنا معه، فسلَّمْنا عليه، فردّ علينا، فقال له سعيد: يا أبا محمد، أخبرنا عن فاطمةَ بنت أسد بن هاشم أمِّ علي بن أبي طالب قال: نعم، حدثني أبي، قال: سمعتُ أمير المؤمنين علي بن أبي طالب يقول: لما ماتت فاطمةُ بنت أسد بن هاشم كفّنها رسولُ الله ﷺ في قميصِه، وصلَّى عليها، وكبَّر عليها سبعين تكبيرةً، ونزل في قبرها، فجعل يُومِي في نواحي القبر كأنه يُوسعُه ويُسوِّي عليها، وخرج من قبرها وعيناهُ تَذرِفان، وحَثَا في قبرها، فلما ذهب قال له عمرُ بن الخطّاب: يا رسول الله، رأيتُك فعلتَ على هذه المرأة شيئًا لم تفعلْه على أحدٍ، فقال:"يا عمرُ، إِنَّ هذه المرأةَ كانت أمّي بعد أُمّي التي وَلَدَتني، إنَّ أبا طالبٍ كان يصنع الصَّنيعَ، وتكون له المأدُبةُ، وكان يَجْمَعُنا على طعامِه، فكانت هذه المرأةُ تَفصِلُ منه كلَّه نَصِيبَنا فأعودُ فيه، وإنَّ جبريل ﵇ أخبرني عن ربِّي ﷿ أنها من أهل الجنة، وأخبرني جبريلُ ﵇: أنَّ الله ﵎ أمَرَ سبعين ألفًا من الملائكة يُصلُّون عليها" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4574 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب (میری والدہ) فاطمہ بنت اسد بن ہاشم کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی قمیص مبارک کا کفن پہنایا، ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اس دوران ستر مرتبہ «الله أكبر» کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کی قبر میں اترے اور اس کے اطراف میں اشارے کرنے لگے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے وسیع اور ہموار فرما رہے ہوں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر سے باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں اشکبار تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قبر پر مٹی ڈالی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے دیکھا کہ آپ نے اس خاتون کے ساتھ وہ شفقت فرمائی جو اس سے پہلے کسی اور کے ساتھ نہیں فرمائی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! یہ خاتون میری اس ماں کے بعد جس نے مجھے جنم دیا میری ماں کی مانند تھیں، ابوطالب جب کھانا تیار کرتے اور ضیافت کا اہتمام کرتے تو ہمیں بھی اپنے دسترخوان پر جمع فرما لیتے تھے، پس یہ خاتون اس سارے کھانے میں سے ہمارا حصہ الگ کر کے رکھ دیتی تھیں تاکہ میں بعد میں اسے تناول کر سکوں، اور بے شک جبریل علیہ السلام نے مجھے میرے رب عزوجل کی جانب سے یہ خوشخبری دی ہے کہ وہ جنتی خاتون ہیں، نیز جبریل علیہ السلام نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ستر ہزار فرشتوں کو ان کی نمازِ جنازہ پڑھنے کا حکم دیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4625]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف، عبد الرحمن بن عمرو بن جَبَلة كذّبه أبو حاتم الرازي والدارقطني، وأبوه مجهول لا يُعرف. وقد رُوي نحو قصة وفاة فاطمة بنت أسد والصلاة عليها وتكفينها ودفنها من حديث أنس بن مالك عند الطبراني في "الكبير" 24/ (871)، و "الأوسط" (189)، وأبي نعيم في "حلية الأولياء" 3/ 121، ...» [ترقيم الرساله 4625] [ترقيم الشركة 4601] [ترقيم العلميه 4574]

الحكم على الحديث: إسناده تالف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. ذِكْرُ بَعْضِ فَضَائِلِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4626
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن سِنان القَزّاز، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن عبد المجيد الحَنَفي. وأخبرني أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا أبو بكر الحَنَفي، حَدَّثَنَا بُكير بن مِسمار قال: سمعت عامر بن سعد يقول: قال معاوية لسعد بن أبي وقّاص: ما يَمنعُك أن تَسُبَّ ابن أبي طالب؟ قال: فقال: لا أسبُّه ما ذكرتُ ثلاثًا قالهن له رسولُ الله ﷺ، لأن تكونَ لى واحدةٌ منهن أحبُّ إليَّ من حُمْر النَّعَم، قال له معاوية: ما هُنّ يا أبا إسحاق، قال: لا أسبُّه ما ذكرتُ حين نزل عليه الوحيُ فأخذ عليًّا وابنَيه وفاطمةَ فأدخلَهم تحت ثوبِه، ثم قال:"ربِّ إِنَّ هؤلاء أهلُ بيتي"، ولا أسبُّه حين خَلَّفه في غزوة تَبوك، غزاها رسولُ الله ﷺ، فقال له عليٌّ: خَلَّفْتَني مع الصبيان والنساء، قال:"ألا تَرضَى أن تكون مني بمَنزلةِ هارونَ من موسى، إلَّا أنه لا نُبوّةَ بعدي"، ولا أسبُّه ما ذكرتُ يومَ خيبر، قال رسول الله ﷺ:"لأُعطِيَنَّ هذه الرايةَ رجلًا يحبُّ الله ورسولَه، ويفتحُ الله على يديه"، فتطاوَلْنا لرسولِ الله ﷺ، فقال:"أين عليٌّ؟" فقالوا: هو أرمَدُ، فقال:"ادعُوه" فدعَوه، فَبَصَقَ في عَينيه (1) ، ثم أعطاه الرايةَ، ففتحَ الله عليه. قال: فلا واللهِ ما ذَكَره معاويةُ بحرفٍ حتَّى خرجَ من المدينة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، وقد اتفقا جميعًا على إخراج حديثِ المؤاخاة (1) ، وحديث الراية (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4575 - على شرط مسلم فقط
عامر بن سعد سے مروی ہے کہ سیدنا معاويہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کو اس بات سے کیا چیز روکتی ہے کہ آپ ابن ابی طالب (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) پر سب و شتم کریں؟ تو انہوں نے جواب دیا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں فرمائی تھیں، میں ان پر ہرگز سب و شتم نہیں کروں گا، ان (فضائل) میں سے کوئی ایک بھی میرے لیے سرخ اونٹوں کی دولت سے زیادہ محبوب ہے۔ سیدنا معاويہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے ابواسحاق! وہ کیا باتیں ہیں؟ انہوں نے کہا: میں انہیں برا نہیں کہوں گا جب تک مجھے وہ وقت یاد ہے جب وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی، ان کے دونوں صاحبزادوں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہم کو اپنی چادر کے نیچے ڈھانپ لیا اور پھر دعا فرمائی: «رَبِّ إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي» اے میرے رب! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ اسی طرح میں انہیں تب تک برا نہیں کہوں گا جب تک مجھے غزوہ تبوک کا وہ موقع یاد ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (مدینہ میں) پیچھے چھوڑا تھا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) کیا آپ نے مجھے بچوں اور عورتوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہارا میرے ساتھ وہی مقام ہو جو ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھا، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے۔ اور میں انہیں برا نہیں کہوں گا جب تک مجھے خیبر کا وہ دن یاد ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اس کے ہاتھوں فتح عطا فرمائے گا۔ چنانچہ ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ پانے کی امید کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: علی کہاں ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا: ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں (آشوبِ چشم ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں بلاؤ۔ جب انہیں بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن ان کی آنکھوں میں لگایا اور جھنڈا انہیں عطا فرما دیا، پھر اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔ راوی کہتے ہیں: پس اللہ کی قسم! سیدنا معاويہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے روانہ ہونے تک ایک لفظ بھی ان کے بارے میں نہ کہا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق (الفاظ کی ترتیب) کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، جبکہ شیخین نے حدیثِ مواخات اور حدیثِ رایت (جھنڈے والی حدیث) کی تخریج پر اتفاق کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4626]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، من جهة أبي بكر الحنفي - واسمه عبد الكبير بن عبد المجيد، وهو أخو عبيد الله - وذلك من أجل بُكير بن مسمار فهو صدوق لا بأس به. ومحمد بن سنان القَزَّاز في الإسناد الآخَر - وإن تُكلِّم فيه - متابع. وقد رُوي نحوه من ...» [ترقيم الرساله 4626] [ترقيم الشركة 4602] [ترقيم العلميه 4575]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں