🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. النَّهْيُ عَنِ السَّوْمِ بِالسِّلْعَةِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ .
سورج طلوع ہونے سے پہلے سامانِ تجارت کا بھاؤ کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7770
أخبرنا أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهان الجزّار بمكة على الصَّفَا، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن حُميد، عن أبي المتوكِّل، عن جابر: أنَّ النبيَّ ﷺ وأصحابه مرُّوا بامرأةٍ، فذبحت لهم شاةً، واتَّخَذَتْ لهم طعامًا، فلما رجع قالت: يا رسول الله، إِنَّا اتَّخَذْنا لكم طعامًا، فادخُلوا فكُلوا، فدخلَ النبيُّ ﷺ وأصحابُه، وكانوا لا يَبدَؤون حتى يبدأَ النبيُّ ﷺ، فأخذ النبيُّ ﷺ (1) لُقمةً فلم يستطع أن يُسِيغَها، فقال النبيُّ ﷺ:"هذه شاةٌ ذُبِحَتْ بغير إذن أهلِها"، فقالت المرأةُ (2) : يا نبيَّ الله، إنَّا لا نَحتشِمُ من آل مُعاذ ولا يَحتشِمون منَّا، أنْ نأخذَ منهم، ويأخذون منّا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7579 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا گزر ایک خاتون کے پاس سے ہوا، اس نے ان کے لیے ایک بکری ذبح کی اور کھانا تیار کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا ہے، تشریف لائیے اور تناول فرمائیے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ داخل ہوئے، اور صحابہ اس وقت تک (کھانا) شروع نہیں کرتے تھے جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابتدا نہ فرمائیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لقمہ لیا لیکن آپ اسے حلق سے نیچے نہ اتار سکے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسی بکری ہے جو اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے، اس خاتون نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم آلِ معاذ سے جھجک محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی وہ ہم سے جھجکتے ہیں کہ ہم ان کی چیز لے لیں یا وہ ہماری لے لیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7770]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7770] [ترقيم الشركة 7678] [ترقيم العلميه 7579]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7771
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا محمد ابن مَسْلَمة الواسطي، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمّاد بن سَلَمَة، عن أبي الزُّبير وعمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله: أنهم ذَبَحوا يومَ خيبر الحُمُر والبِغالَ والخيلَ، فنهاهم النبيُّ ﷺ عن الحُمُرِ والبِغال، ولم يَنهَهُم عن الخيل (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7580 - على شرط مسلم
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے خیبر کے دن (ضرورت کے تحت) گھریلو گدھوں، خچروں اور گھوڑوں کو ذبح کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گدھوں اور خچروں (کے گوشت) سے منع فرما دیا، جبکہ گھوڑوں سے منع نہیں فرمایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7771]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،من جهة أبي الزبير» [ترقيم الرساله 7771] [ترقيم الشركة 7679] [ترقيم العلميه 7580]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. حُكْمُ ذَبِيحَةٍ ذُبِحَتْ بِمَرْوَةٍ .
تیز دھار پتھر سے ذبح کیے گئے جانور کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7772
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا داود بن أبي هِند، عن الشَّعْبي، عن محمد بن صفوان أنه أصابَ أرنبَينِ فلم يجدْ حديدةً يُذكِّيهما، فذبحهما (1) بمَرُوةٍ، فأتى النبيَّ ﷺ فقال: يا رسولَ الله، إنِّي اصطدتُ أرنَبينِ فلم أجدْ حديدةً أُذكِّيهما، فذكَّيتُهما بمَرُوةٍ، أفآكلُ؟ قال:"نَعَمْ كُلْ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم مع الاختلاف فيه على الشعبيِّ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7581 - على شرط مسلم
محمد بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دو خرگوش پکڑے لیکن انہیں ذبح کرنے کے لیے کوئی چھری یا لوہے کا آلہ نہ ملا، تو انہوں نے ایک تیز دھار پتھر سے انہیں ذبح کر دیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے دو خرگوش شکار کیے تھے مگر مجھے ذبح کے لیے لوہا نہ ملا تو میں نے انہیں «مَرُوة» (تیز پتھر) سے ذبح کر دیا، کیا میں انہیں کھا سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، انہیں کھاؤ۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے اگرچہ امام شعبی سے اس کی روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7772]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وعبد الوهاب بن عطاء» [ترقيم الرساله 7772] [ترقيم الشركة 7680] [ترقيم العلميه 7581]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ .
اسلام میں "فرع" اور "عتیرہ" (دورِ جاہلیت کی مخصوص قربانیاں) کی کوئی حقیقت نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7773
أخبرنا الحسن بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب، أخبرنا خالد، عن أبي المليح، عن نُبَيشةَ قال: سأل رجلٌ النبيَّ ﷺ فقال: يا رسولَ الله، إِنَّا كُنَّا نَعتِرُ عَتِيرةً في الجاهلية في رجبٍ، فما تأمرُنا؟ فقال رسول الله ﷺ:"اذْبَحُوا للهِ في أيِّ شهرٍ ما كان، وبَرُّوا اللهَ وأطعِمُوا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7582 - صحيح
سیدنا نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم دورِ جاہلیت میں ماہِ رجب میں «عَتِيرة» (ایک مخصوص قربانی) کیا کرتے تھے، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کے لیے کسی بھی مہینے میں ذبح (قربانی) کرو، اور اللہ کے لیے نیکی کرو اور (لوگوں کو) کھانا کھلاؤ۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7773]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي كسابقه» [ترقيم الرساله 7773] [ترقيم الشركة 7681] [ترقيم العلميه 7582]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7774
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا محمد بن الفَرَج، حدثنا حجَّاج بن محمد، حدثنا ابن جُرَيج، عن ابن خُثَيم، عن يوسف بن ماهَكَ، عن حَفْصة بنت عبد الرحمن، عن عائشة: أنَّ النبي ﷺ أمرَ في الفَرَع في كلِّ خمسةٍ واحدةً (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7583 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «فَرَع» (اونٹنی کے پہلے بچے کی قربانی) کے بارے میں حکم دیا کہ ہر پانچ (اونٹوں) میں سے ایک کی قربانی کی جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7774]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 7774] [ترقيم الشركة 7682] [ترقيم العلميه 7583]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7775
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا أبو بكر بن شَيْبة الحِزَامي، حدثنا داود بن قيس الفرَّاء، قال: سمعتُ عمرو بن شعيب يُحدِّث عن أبيه، عن جدِّه عبد الله بن عمرو قال: سُئِلَ رسولُ الله ﷺ عن الفَرَع، فقال:"الفَرَعُ حقٌّ، وأن تتركَه حتى يكونَ ابنَ مَخَاضٍ أو ابنَ لَبُونٍ يُتَحمَّلُ عليه في سبيل الله، أو تُعطيَه أرملةً، خيرٌ من أن تذبحَه يَلصَقُ لحمُه بوَبَرِه وتُولِّهَ ناقتَك" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7584 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «فَرَع» کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فَرَع» (کرنا) حق ہے، لیکن اسے اس وقت تک چھوڑ دینا یہاں تک کہ وہ «ابن مَخَاضٍ» (ایک سال کا) یا «ابن لَبُونٍ» (دو سال کا) ہو جائے اور اسے اللہ کی راہ میں سواری کے لیے استعمال کیا جائے، یا وہ کسی بیوہ کو دے دیا جائے، یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ تم اسے (بچپن ہی میں) ذبح کر دو کہ اس کا گوشت اس کی کھال سے چمٹا ہوا ہو (یعنی وہ بالکل دبلا ہو) اور تم اپنی اونٹنی کو (بچے کی جدائی کے صدمے میں) تڑپاؤ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7775]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن» [ترقيم الرساله 7775] [ترقيم الشركة 7683] [ترقيم العلميه 7584]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7776
وأخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُريج، أخبرني عمرو بن دينار، أنَّ ابنَ أبي عمَّار أخبره عن أبي هريرة، قال في الفَرَعة: هي حقٌّ، ولا تَذبَحْها وهي غَرَاةٌ من الغِرَاء (2) تَلصَقُ في يدك، ولكن أَمكِنْها من اللَّبن حتى إذا كانت من خِيَار المالِ فاذبَحْها (3) .
هذا حديث صحيح بهذا الإسناد، والحديث المُسنَد قبل هذا صحيحٌ على ما اشترطتُ لهذا الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7585 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے «فَرَع» کے بارے میں فرمایا: یہ حق ہے، لیکن تم اسے اس وقت ذبح نہ کرو جب وہ «غَرَاة» (یعنی بالکل دبلا پتلا اور ناتواں) ہو کہ اس کا لیس دار مادہ تمہارے ہاتھوں سے چپک جائے، بلکہ اسے (ماں کا) دودھ پینے کا موقع دو یہاں تک کہ جب وہ بہترین مال بن جائے تو اسے ذبح کرو۔
یہ حدیث اس سند کے ساتھ صحیح ہے، اور اس سے پہلے والی مسند حدیث بھی میری ان شرائط پر صحیح ہے جو میں نے اس کتاب کے لیے مقرر کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7776]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن أبي عمار: هو عمار المكي» [ترقيم الرساله 7776] [ترقيم الشركة 7684] [ترقيم العلميه 7585]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7777
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي وإسحاق بن الحسن (1) الحَرْبي، قالا: حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا يحيى ابن زُرَارة بن كَريم السَّهْمي، حدثني أبي، عن جدِّه الحارث بن عمرو السَّهْمي قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ فقلتُ: استغفِرْ لي، فقال:"غَفَرَ اللهُ لكم". قلتُ له ذلك مرةً أو مرتين، فقال رجلٌ: يا رسولَ الله، ما تَرَى في العَتائرِ والفَرائع؟ فقال رسول الله ﷺ:"مَن شَاء عَتَرَ ومَن شاء لم يَعتِرْ، ومَن شاء فَرَّعَ ومَن شاء لم يُفرِّعْ، وفي الشاة أُضحيَّتُها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ الحارث بن عمرو السَّهمي صحابي مشهور، وولدُه بالبصرة مشهورون. وقد حدَّث عبد الرحمن بن مَهدي وسَلْم بن قُتيبة وغيرهم عن يحيى بن زُرَارة، وقد اتفق الشيخانِ ﵄ على الزُّهْري (3) عن سعيد بن المسيّب عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا فَرَعَ ولا عَتِيرةَ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7586 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حارث بن عمرو سہمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میں نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !) میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تمہاری مغفرت فرمائے۔ میں نے ایک یا دو بار یہی عرض کیا، پھر ایک شخص نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ «عَتائر» اور «فَرائع» کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہے عتیرہ کرے اور جو چاہے نہ کرے، اور جو چاہے فرع کی قربانی کرے اور جو چاہے نہ کرے، اور بکری (کی قربانی) ہی کافی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے کیونکہ حارث بن عمرو سہمی مشہور صحابی ہیں اور ان کی اولاد بصرہ میں معروف ہے، جبکہ شیخین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ کوئی فرع ہے اور نہ عتیرہ (یعنی اسلام میں ان کی وہ حیثیت نہیں رہی جو جاہلیت میں تھی)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7777]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، يحيى بن زرارة بن كريم روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد توبع، وأبوه زرارة روى عنه جمع أيضًا، وذكره ابن حبان في "الثقات"» [ترقيم الرساله 7777] [ترقيم الشركة 7685] [ترقيم العلميه 7586]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ .
بچہ اپنے عقیقے کے عوض گروی ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7778
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جُندُب أنَّ رسول الله ﷺ قال:"الغلامُ مُرتَهَنٌ بعَقِيقتِه تُذبَحُ عنه يومَ سابعِه، ويُحلَقُ رأسُه، ويُسمَّى" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وقد رواه مَطَر بن طَهْمان عن الحسن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7587 - صحيح
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکا اپنے عقیقے کے بدلے گروی ہوتا ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن (جانور) ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈوایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7778]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وعبد الوهاب بن عطاء» [ترقيم الرساله 7778] [ترقيم الشركة 7686] [ترقيم العلميه 7587]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. عَقَّ النَّبِيُّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ يَوْمَ السَّابِعِ .
نبی کریم ﷺ نے ساتویں دن سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے عقیقہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7779
أخبرَناه أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبَة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهْري، حدثنا قَبيصة بن عُقبة، حدثنا إبراهيم بن طَهْمان، عن مَطَر الورِّاق، عن الحسن، عن سمرة بن جُندُب، قال: قال رسول الله ﷺ:"كُلُّ مولودٍ مُرتَهَنٌ بعَقِيقتِه، يُسمَّى يومَ السابع، ويُحلَقُ" (1) .
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ اپنے عقیقے کے بدلے گروی ہے، ساتویں دن اس کا نام رکھا جائے اور اس کا سر منڈوایا جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الذبائح/حدیث: 7779]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل مطر الوراق» [ترقيم الرساله 7779]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں