مسند الشافعی سے متعلقہ
1. بَابُ تَغْمِيضِ الْمَيِّتِ
میت کی آنکھیں بند کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 554
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِهَابٍ: أَنَّ قَبِيصَةَ بْنَ ذُؤَيْبٍ كَانَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغْمَضَ أَبَا سَلَمَةَ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ.
قبیصہ بن ذویب بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ (کی وفات کے بعد) آنکھیں بند کر دیں۔ [مسند الشافعی/ كتاب الجنائز /حدیث: 554]
تخریج الحدیث: «ثبت موصولا من غير هذا الطريق اخرجه مسلم، الجنائز، باب في اغماض الميت ولدعاء له، اذا حضر (920).»
2. بَابُ الْبُكَاءِ قَبْلَ الْمَوْتِ وَبَعْدَهُ وَالنَّهْيِ عَنْهُ إِذَا مَاتَ وَأَنَّ الْكَافِرَ لِيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ
موت سے پہلے اور اس کے بعد رونے، وفات کے بعد اس کی ممانعت اور کافر کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 555
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَتِيكٍ: [ ص: 77 ] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ، فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ، فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ، فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسْكِتُهُنَّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ"، قَالَ: وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:"إِذَا مَاتَ" .
عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبد اللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو انہیں بے ہوش پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زور سے آواز دی لیکن انہوں نے جواب نہ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ پڑھا اور فرمایا: ”اے ابو ربیع! تیرے معاملے میں ہم مغلوب ہیں (اللہ کا فیصلہ غالب آچکا ہے)“۔ عورتوں نے چیخ و پکار سے رونا شروع کر دیا۔ عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ ان کو خاموش کروانے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو چھوڑ دے، جب واجب ہو جائے تو پھر کوئی بھی رونے والی نہ روئے“۔ ابن عتیک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا واجب ہوا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ فوت ہو جائیں“۔ [مسند الشافعی/ كتاب الجنائز /حدیث: 555]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداود، الجنائز، باب في فضل من مات بالطاعون (3111) والنسائي، الجنائز، باب النهي عن البكاء على الميت (1847) . وصححه ابن حبان (1616)، والحاكم: 352/1، 353 ـ ووافقه الذهبي.»
حدیث نمبر: 556
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ: أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ، وَلَكِنَّهُ أَخْطَأَ أَوْ نَسِيَ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ وَهِيَ يَبْكِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا، فَقَالَ:"إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا" .
عمرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ ان سے کہا گیا کہ عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: انہوں نے جھوٹ نہیں کہا مگر ان سے بھول چوک ہوگی۔ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت کے پاس سے گزرے جبکہ اس کے گھر والے رو رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس پر رو رہے ہیں جبکہ اسے قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الجنائز /حدیث: 556]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى، الجنائز، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم يـعـذب الـميـت ببعض بكاء ..... الخ (1289) ومسلم، الجنائز، باب الميت يعذب ببكاء اهله عليه (932).»
حدیث نمبر: 557
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَكَّةَ، فَجِئْنَا نَشْهَدُهَا، وَحَضَرَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي جَالِسٌ بَيْنَهُمَا جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ [ ص: 78 ] فَجَلَسَ إِلَيَّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ: أَلَا تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ ثُمَّ حَدَّثَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ، قَالَ: فَاذْهَبْ فَانْظُرْ مَنْ هَؤُلَاءِ الرَّكْبِ؟ فَذَهَبْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ. قَالَ: ادْعُهُ فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ، فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ سَمِعْتُ صُهَيْبًا يَبْكِي وَيَقُولُ: وَا أُخَيَّاهُ وَا صَاحِبَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ الْمَيِّتَ لَيَعُذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ". قَالَ: فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ عُمَرَ، لَا وَاللَّهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِنَّ اللَّهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى [الْأَنْعَامِ: 164] . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عِنْدَ ذَلِكَ:"وَاللَّهُ أَضْحَكَ وَأَبْكَى". قَالَ: ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: فَوَاللَّهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ مِنْ شَيْءٍ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی کا مکہ میں انتقال ہوا تو ہم ان کے جنازہ میں شریک ہونے کے لیے آئے۔ ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی تشریف لائے۔ فرمایا: میں ان دونوں کے بیچ میں بیٹھا ہوا تھا۔ ہوا یوں کہ میں ایک صاحب کے پاس بیٹھ گیا تو دوسرے صاحب آئے اور وہ میرے ساتھ بیٹھ گئے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے عمرو بن عثمان سے کہا: کیا تم انہیں رونے سے منع نہیں کرتے؟ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے“۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ بھی یوں کہتے تھے کہ بعض گھر والوں کے رونے سے (یعنی تم نے بعض کا لفظ نہیں بولا) پھر حدیث بیان کی اور کہا: میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے لوٹ رہا تھا یہاں تک کہ جب ہم بیداء میں پہنچے تو وہاں چند سوار درخت کے سایہ کے نیچے دیکھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جاؤ دیکھو یہ سوار کون ہیں؟ میں نے دیکھا تو وہ صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے فرمایا: جاؤ ان کو بلا لاؤ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے کہا: چلو امیر المومنین بلاتے ہیں۔ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ کو (شہادت کے وقت) زخم لگا تو میں نے سنا وہ روتے ہوئے کہہ رہے ہیں، ہائے میرے بھائی، ہائے میرے ساتھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے صہیب! کیا آپ مجھ پر روتے ہیں؟ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ میت پر اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے“۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد میں نے اس کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے کہا: اللہ عمر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نہیں کہا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ اللہ تعالیٰ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے زیادہ کر دیتا ہے“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم کو قرآن کافی ہے کہ کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے والا نہیں۔ (فاطر: 18) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس دلیل پر فرمایا: ”اور اللہ ہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے“۔ (النجم: 43) ابن ابی ملیکہ نے کہا کہ اللہ کی قسم یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کچھ جواب نہیں دیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الجنائز /حدیث: 557]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاری، الجنائز، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم: يعذب الميت ببعض اهله...... الخ (1286)، (1287)، 1288 . ومسلم، الجنائز، باب الميت يعذب ببكاء اهله عليه (927)، (928)، (929).»
3. بَابُ غُسْلِ الْمَيِّتِ
میت کو غسل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 558
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُنَّ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ:"اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ [ ص: 79 ] خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا، أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ" .
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے وقت فرمایا:”اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ دے سکتی ہو اور غسل کے پانی میں بیری کے پتے ملا لو اور اخر میں کافور یا کچھ کافور کا استعمال کرنا۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الجنائز /حدیث: 558]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاری، الجنائز، باب غسل الميت ووضوئه بالماء والسدر (1253) ومسلم، الجنائز، باب غسل الميت (939).»
حدیث نمبر: 559
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ مِنْ أَصْحَابِنَا، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ: ضَفَرْنَا شَعَرَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهَا وَقَرْنَيْهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ فَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا.
ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے بالوں کو گوندھا، تین چوٹیاں بنائیں ایک پیشانی کی طرف کے بالوں کی اور دو ادھر ادھر کے بالوں کی اور ان کو پیچھے ڈال دیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الجنائز /حدیث: 559]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الجنائز، باب يلقى شعر المرأة خلفها (1263) . مسلم، الجنائز، باب غسل الميت (939).»
حدیث نمبر: 560
أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسِّلَ ثَلَاثًا.
ابو جعفر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین دفعہ غسل دیا گیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الجنائز /حدیث: 560]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإبهام، شيخ الشافعي، وابن جريج مدلس وعنعن ولإرساله اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (2068).»
حدیث نمبر: 561
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسِّلَ فِي قَمِيصٍ.
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص میں غسل دیا گیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الجنائز /حدیث: 561]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق: اخرجه أبو داود، الجنائز، باب في ستر الميت عند غسله (3141) . وابن ماجة، الجنائز، باب ماجاء في غسل الرجل امرأته وغسل المرأة زوجها (1464) . وصححه ابن حبان (2156)، (2157) وابن الجارود (517) . والحاكم: 59/3، 60 ووافقه الذهبي.»
حدیث نمبر: 562
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غُسِّلَ وَكُفِّنَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو غسل دیا گیا، کفن پہنایا گیا اور ان پر نماز جنازہ بھی پڑھی گئی۔ [مسند الشافعی/ كتاب الجنائز /حدیث: 562]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار، رقم: 2102 . وعبدالرزاق، رقم: 6577 . وابن ابی شيبة (11969).»
حدیث نمبر: 563
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَوِ اسْتَقْبَلْنَا مِنْ أَمْرِنَا مَا اسْتَدْبَرْنَا مَا غَسَّلَ [ ص: 81 ] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاؤُهُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، بیان فرماتی ہیں: اگر پہلے سے ہم کو یہ خیال آتا جو بعد میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپ کی عورتوں کے علاوہ اور کوئی نہ غسل دیتا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الجنائز /حدیث: 563]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق: اخرجه ابوداود، الجنائز، باب في ستر الميت عند غسله (3141) . وابن ماجة، الجنائز، باب ماجاء في غسل الرجل امرأته ..... الخ (1464) . وصححه ابن حبان (2156)، (2157) . وابن الجارود (517)، والحاكم 3 / 59، 60 . ووافقه الذهبي.»