مسند الشافعی سے متعلقہ
1. بَابُ لَا يُتَجَافَى لِذِي الْهَيْئَةِ عَنْ حَدٍّ
معزز شخص سے حد کو معاف نہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1556
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"تَجَافَوْا لِذَوِي الْهَيْئَاتِ عَنْ عَثَرَاتِهِمْ".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزت دار لوگوں کی غلطیوں کو معاف کر دیا کرو۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1556]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق: اخرجه ابو داود، الحدود، باب في الحد يشفع فيه (4375). واحمد: 6/ 181 - والنسائى فى الكبرى (7294) والبخاري في الادب المفرد (465) وصححه ابن حبان.»
حدیث نمبر: 1557
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ: سَمِعْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِمَّنْ يَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ يَقُولُ: يُتَجَافَى لِلرَّجُلِ ذِي الْهَيْئَةِ مِنْ عَثْرَتِهِ مَا لَمْ يَكُنْ حَدًّا.
محمد بن ادریس نے بیان کیا کہ میں نے ان اہل علم سے سنا جو اس حدیث کو جانتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ عزت دار آدمی کی غلطی سے اس وقت تک درگزر کی جائے گی جب تک کہ اس کی غلطی حد تک نہ پہنچے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1557]
تخریج الحدیث: «اخرجه البيهقي في المعرفة بعد الحديث (5265).»
حدیث نمبر: 1558
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنْ يُجْلَدْ قُدَامَةُ الْيَوْمَ فَلَنْ يُتْرَكَ أَحَدٌ بَعْدَهُ، وَكَانَ قُدَامَةُ بَدْرِيًّا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ.
ابوجعفر سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر آج قدامہ کو کوڑے لگا دیے گئے تو ان کے بعد آئندہ کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا“، اور قدامہ رضی اللہ عنہ بدری صحابی تھے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1558]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه فان ابا جعفر محمد بن علی بن الحسين لم يدرك عمر بن الخطاب: اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (5217).»
2. بَابُ الْحُدُودِ كَفَّارَةُ الذُّنُوبِ
حدود کے گناہوں کا کفارہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1559
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ:"بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا". وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الْآيَةَ، وَقَالَ:"فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ". أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجلس میں تشریف فرما تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھ سے اس بات کا عہد کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے۔“ اور ان پر آیت تلاوت کی پھر فرمایا: ”جو شخص عہد کو پورا کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جس نے اس میں سے کسی کا ارتکاب کیا اور اسے سزا دے دی گئی تو وہ (سزا) اس کے لیے کفارہ ہوگی اور جس نے اس کا ارتکاب کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے اگر چاہے تو اسے بخش دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1559]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، التفسير، باب اذا جاءك المومنت يبايعنك (4894)، ومسلم، الحدود، باب الحدود كفارات لأهلها (1709).»
3. بَابُ تَكْرَارِ الْحَدِّ بِتَكْرَارِ الشُّرْبِ
بار بار پینے پر بار بار حد لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 1560
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِنْ شَرِبَ فَاقْتُلُوهُ" لَا يَدْرِي الزُّهْرِيُّ بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ. فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فَجَلَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ قَدْ شَرِبَ فَجَلَدَهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِهِ قَدْ شَرِبَ فَجَلَدَهُ، وَوَضَعَ الْقَتْلَ وَصَارَتْ رُخْصَةً. قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ لِمَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ وَمُخَوَّلٍ: كُونَا وَافِدَيِ الْعِرَاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر شراب پئے تو اسے کوڑے لگاؤ، اگر پھر شراب پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر پھر شراب پئے تو پھر کوڑے لگاؤ، اگر پھر بھی پئے تو اس کو قتل کر دو۔“ زہری رحمہ اللہ کو یہ علم نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کا حکم تیسری مرتبہ کے بعد دیا یا چوتھی مرتبہ کے بعد۔ پھر ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوڑے لگوائے، پھر وہی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر کوڑے لگوائے، پھر اسے لایا گیا کہ اس نے شراب پی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر کوڑے لگوائے اور قتل نہ کیا، اور یہ (قتل سے) رخصت ٹھہری۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1560]
تخریج الحدیث: «صحیح اخرجه ابوداود، الحدود، باب اذا تتابع في شرب الخمر (4485) والترمذی، الحدود، باب ماجاء من شرب الخمر فاجلدوه ومن عاد في الرابعة فاقتلوه بعد الحديث (1444).»
حدیث نمبر: 1561
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ". [ ص: 264 ] أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ شراب پئے تو اس کو کوڑے لگاؤ۔“ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1561]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1560).»
4. بَابُ مِقْدَارِ الْحَدِّ
حد کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 1562
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ يَسْأَلُ عَنْ رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَجَرَيْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ أَسْأَلُ عَنْ رَحْلِ خَالِدٍ، حَتَّى أَتَاهُ جَرِيحًا. وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَارِبٍ، فَقَالَ:"اضْرِبُوهُ"، فَضَرَبُوهُ بِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ وَأَطْرَافِ الثِّيَابِ وَحَثَوْا عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"بَكِّتُوهُ"، فَبَكَّتُوهُ، ثُمَّ أَرْسَلَهُ. قَالَ: فَلَمَّا كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلَ مَنْ حَضَرَ ذَلِكَ الْمَضْرُوبَ، فَقَوَّمَهُ أَرْبَعِينَ، فَضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ حَيَاتَهُ، ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ، حَتَّى تَتَابَعَ النَّاسُ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ، فَاسْتَشَارَ فَضَرَبَهُ ثَمَانِينَ.
عبد الرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے حنین والے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے کوچ کے متعلق دریافت کر رہے ہیں، تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے خالد رضی اللہ عنہ کے کجاوے سے متعلق پوچھتا ہوا چل پڑا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے اور وہ زخمی حالت میں تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو مارو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے ہاتھوں، جوتیوں، اور کپڑوں کے کناروں سے مارا اور اس پر مٹی پھینکی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو ملامت کرو (برا بھلا کہو)۔“ تو صحابہ نے اسے ملامت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھوڑ دیا۔ عبد الرحمن بن ازہر نے کہا: پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو انہوں نے ان لوگوں سے پوچھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مارنے والوں میں شامل تھے، تو انہوں نے چالیس ضربوں کا بتایا، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں شراب پینے پر چالیس کوڑے لگائے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس ہی رکھے یہاں تک کہ جب لوگ بکثرت شراب پینے لگے تو انہوں نے مشورہ سے اسی (80) کوڑے لگائے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1562]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق: اخرجه ابو داود، الحدود، باب اذا تتابع في شرب الخمر (4487)، (4488)، (4489) واحمد: 4 / 88 والنسائي في الكبرى (5283)، (5281) - وصححه الحاكم: (4/ 374، 375).»
حدیث نمبر: 1563
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَشَارَ فِي الْخَمْرِ يَشْرَبُهَا الرَّجُلُ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَرَى فِيهَا أَنْ يُجْلَدَ [ ص: 265 ] ثَمَانِينَ؛ فَإِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ، وَإِذَا سَكِرَ هَذَى، وَإِذَا هَذَى افْتَرَى، أَوْ كَمَا قَالَ: فَجَلَدَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَمَانِينَ فِي الْخَمْرِ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ.
ثور بن زید الدیلمی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شراب پینے والے کے متعلق مشورہ طلب کیا تو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم سمجھتے ہیں کہ شرابی کو اسی (80) کوڑے لگائے جائیں، کیونکہ جب وہ شراب پیتا ہے تو اسے نشہ آتا ہے، اور جب نشہ آتا ہے تو وہ ہذیان بکتا ہے (بہکی بہکی باتیں کرتا ہے)، اور جب ہذیان بکتا ہے تو بہتان (افتراء) باندھتا ہے۔“ یا جس طرح انہوں نے فرمایا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے شراب پینے والے کو اسی (80) کوڑے لگائے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1563]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف، فان ثورا لم يلق عمر اخرجه البيهقي: 320، 321 و في المعرفة السنن والآثار له (5246) - وعبدالرزاق (13542) والنسائي في الكبرى (5289) . ومالك في الموطا، الاشربة، باب ماجاء في حد الخمر.»
5. بَابُ الْجَلْدِ بِسَوْطٍ لَهُ طَرَفَانِ
دو سروں والے کوڑے سے کوڑے مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1564
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَلَدَ الْوَلِيدَ بِسَوْطٍ لَهُ طَرَفَانِ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ.
ابو جعفر محمد بن علی سے روایت ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ولید کو دو اطراف والے کوڑے سے مارا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1564]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه فان ابا جعفر لم يدرك على بن ابى طالب اخرجه البيهقي: 321/8- وفي المعرفة السنن والآثار له (5252) - وعبد الرزاق (13544).»
6. بَابُ الْحَدِّ فِي رِيحِ الشَّرَابِ الْمُسْكِرِ
نشہ آور مشروب کی بو پر حد کا بیان
حدیث نمبر: 1565
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ مَعَ فُلَانٍ رِيحَ شَرَابٍ، فَزَعَمَ أَنَّهُ شَرِبَ الطِّلَاءَ وَأَنَا سَائِلٌ عَمَّا شَرِبَ، فَإِنْ كَانَ مُسْكِرًا جَلَدْتُهُ، [ ص: 266 ] فَجَلَدَهُ عُمَرُ الْحَدَّ تَامًّا.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کی طرف نکلے اور فرمایا: ”میں نے فلاں شخص سے شراب کی بو پائی ہے اور وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے طلاء (گاڑھا شیرہ) پیا ہے، میں تحقیق کروں گا کہ اس نے کیا پیا ہے، اگر وہ نشہ آور ہوا تو میں اسے کوڑے لگاؤں گا۔“ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر مکمل حد کا نفاذ کیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الحدود /حدیث: 1565]
تخریج الحدیث: «صحيح: اخرجه النسائي، الاشربة، ذكر الاخبار التي اعتل بها من أباح شراب المسكر (5711) . والطحاوى في شرح معاني الآثار، 4 / 222 - والدارقطني: 4 / 248- والبيهقي: (8/ 295).»