🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
122. (بَابُ حُكْمِ مَالِ الْعَبْدِ الْمَبِيعِ)
(فروخت شدہ غلام کے مال کا حکم)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 185
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ بَاعَ عَبْدًا لَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غلام فروخت کیا اور غلام کا کچھ مال بھی تھا تو مال فروخت کرنے والے کو ملے گا الا یہ کہ خریدار شرط لگائے کہ مال میرا ہوگا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 185]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، المساقاة، باب الرجل يكون له ممرا وشرب ....... الخ، رقم: 2379، صحیح مسلم البيوع، باب من باغ نخلاً عليها ثمر، رقم: 1543 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
123. (بَابُ حُكْمِ ثَمَرِ الشَّجَرِ الْمُطَعَّمِ)
(پیوند شدہ درختوں کے پھل کا حکم)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 186
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ بَاعَ نَخْلا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کھجوروں کے درخت پیوند کاری کے بعد فروخت کئے تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کا ہے الا کہ خریدار شرط عائد کر دے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 186]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب من باع نخلا قد أبرت أو أرضا ..... الخ، رقم: 2204، صحیح مسلم البيوع، باب من باع نخلا عليها ثمر، رقم: 1543 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 187
عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَاعَ نَخْلا وَقَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے پیوند لگانے کے بعد کھجور فروخت کی تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کا ہوگا الا یہ کہ خریدار شرط لگائے (کہ پھل میرا ہوگا)۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 187]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب من باع نخلا قد أبرت أو أرضا ..... الخ، رقم: 2204، صحیح مسلم، البيوع، باب من باع نخلا عليها ثمر، رقم: 1543 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
124. (بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا)
(پھل پکنے سے پہلے بیع کی ممانعت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 188
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے پکنے کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے اس کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 188]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الزكاة، باب من باع ثمارة او نخله ..... الخ، رقم: 1486 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 189
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ".
سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کی بیع سے منع کیا حتی کہ ان کے پکنے کی صلاحیت واضح ہو جائے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 189]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم،البيوع، باب النهي عن بيع الثمار قبل يبدو صلاتها، رقم: 1534 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 190
وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَذْهَبَ الْعَاهَةُ". قَالَ عُثْمَانُ بْنُ سُرَاقَةَ: فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ: مَتَى يَكُونُ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: طُلُوعَ الثُّرَيَّا.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کی بیع سے منع کیا حتی کہ پھلوں کی بیماری کا خطرہ ٹل جائے راوی عثمان کہتے ہیں میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا بیماری کس وقت دور ہوتی ہے؟ تو سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب ثریا ستارہ طلوع ہو جائے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 190]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 119/9، رقم: 5105 وقال الارنوؤط: اسناده صحیح علی شرط البخارى، السنن الكبرى للبيهقي: 300/5 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 191
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهَا، نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِي".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کی بیع سے منع کیا حتی کہ ان کے پکنے کی صلاحیت واضح ہو جائے بائع اور مشتری دونوں کو منع فرمایا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 191]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب بيع الثمار قبل ان يبدو صلاتها، رقم: 2194 صحیح مسلم،البيوع، باب النهي عن بيع الثمار ..... الخ، رقم: 1534 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 192
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا تُزْهِي؟ قَالَ:" حَتَّى تَحْمَرَّ"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتَ إِنْ مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَ فِيمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ؟".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگے پھل کو پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تذھو سے آپ کی کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں تک کہ سرخ ہو جائے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے اگر پھل پر آفت آجائے تو اپنے مسلمان بھائی سے کس چیز کے پیسے وصول کرے گا؟ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 192]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الزكاة، باب من باع ثماره أو نخله ...... الخ، رقم: 1488، صحیح مسلم، المساقاة، باب وضع الحوائج، رقم: 1555 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 193
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَرِ النَّخْلِ أَنْ يُبَاعَ حَتَّى تُزْهَى، قَالَ: وَمَا تُزْهَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" حَتَّى يَحْمَرَّ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے پھل کو (درخت پر) پکنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا پکنے سے مراد سرخی ظاہر ہونا ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 193]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب بيع الثمار قبل ان يبدو صلاتها، رقم: 2195، صحیح مسلم المساقاة، باب وضع الحوائج، رقم: 1555 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 194
وَأَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي بِمِائَةِ وَسْقٍ إِنْ زَادَ فَلَهُمْ وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِمْ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ بِالتَّمْرِ إِلا أَنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا".
اسماعیل شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا (اگر اس طرح فروخت ہو) کہ کھجور پر لگے پھل کو میں سو وسق کے بدلے فروخت کر دوں کہ اگر کھجور پر لگا پھل سو وسق سے زیادہ ہو گیا تو تمہارا اگر کم ہو گیا تو بھی تم ذمہ دار (کیا ایسا سودا جائز ہے؟) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کے بدلے پھل فروخت کرنے سے منع فرمایا صرف عرايا نامی بیع کی اجازت دی ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 194]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 1968، رقم: 4590، وقال الارنؤوط: اسناده حسن، مسند الحمیدی: 296/2، رقم: 673 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں