السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
151. (بَابُ خِيَارِ الْمَجْلِسِ فِي الْبَيْعِ)
(بیع میں خیارِ مجلس کا بیان)
حدیث نمبر: 235
عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا ابْتَاعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلا بَيْعَ الْخِيَارِ وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی خرید و فروخت کریں تو دونوں کو جدا ہونے تک بیع ختم کرنے کا اختیار ہے مگر بیع خیار (اختیار ختم کرتا ہے یا اختیار کی مدت مقرر کر دیتا ہے اس کا حکم جدائی سے متعلق نہ ہوگا) اور دونوں اکٹھے رہیں (الا یہ کہ) ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو (بوقت بیع) اختیار دے دے اگر بیع کے وقت ہی ان دونوں نے ایک دوسرے کو اختیار دے دیا تو وہ اس پر سودا کر لیں تو بیع پکی ہوگئی اور اگر سودا کرنے کے بعد وہ ایک دوسرے سے جدا ہوئے اور اس وقت تک کسی نے بیع واپس نہیں کی تو بیع پکی ہوگئی (ناقابل واپسی ہے)“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 235]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب اذا خير احدهما صاحبه بعد البيع فقد وجب البيع، رقم: 2112، صحیح مسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين، رقم: 1531»
حدیث نمبر: 236
عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلا بَيْعَ الْخِيَارِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لین دین کرنے والے جدا ہونے سے قبل قبل بیع ختم کرنے کا اختیار رکھتے ہیں بیع خیار کے علاوہ۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 236]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، رقم: 2111، صحیح مسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين، رقم: 1531»
152. (بَابُ حُكْمِ الِاخْتِلَافِ فِي الْبَيْعِ)
(بیع میں اختلاف کا شرعی حکم)
حدیث نمبر: 237
عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بائع ومشتری کا اختلاف ہو جائے تو بائع کے قول کا اعتبار ہوگا اور مشتری کو اختیار ہے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 237]
تخریج الحدیث: «سنن ترمذی، البيوع، باب ماجاء اذا اختلف البيعان، رقم: 1270، وقال الالبانی صحیح، مسند احمد: 444/7، رقم: 4444، وقال الارنوؤط حسن»
153. (بَابُ الْمَطْلِ فِي قَضَاءِ الدَّيْنِ)
(ادائیگیِ قرض میں ٹال مٹول)
حدیث نمبر: 238
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرض کی ادائیگی میں مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی قرض خواہ کو کسی مالدار شخص کے پیچھے لگایا جائے (کہ اس سے وصول کر لو) تو اس کے پیچھے لگ جانا چاہیے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 238]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحوالات، باب في الحوالة وهل يرجع في الحوالة، رقم: 2287، صحیح مسلم، المساقاة، باب تحريم مطل الغنى، رقم: 1564»
154. (بَابُ حُسْنِ قَضَاءِ الدَّيْنِ)
(قرض کی بہترین ادائیگی کا بیان)
حدیث نمبر: 239
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا، فَجَاءَتْهُ إِبِلٌ مِنَ الصَّدَقَةِ، قَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَكْرَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي لا أَجِدُ فِي الإِبِلِ إِلا جَمَلا خِيَارًا رَبَاعِيًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهِ إِيَّاهُ ؛ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً".
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض پر لیا جب صدقے کے اونٹ آئے تو سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس آدمی کا قرض اداء کر دو۔“ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی اونٹوں میں اس طرح کا کوئی (نوعمر) نہیں مگر چوگا ساتویں سال کا اچھا اونٹ ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے وہی دے دو لوگوں میں بہتر وہ ہے جو ادائیگی میں بہتر ہو۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 239]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، المساقاة، باب من استسلف شيئًا فقضى خيرا منه رقم 1600»
155. (بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَلَقِّي الرُّكْبَانِ)
(تجارتی قافلوں سے باہر ملنے کی ممانعت)
حدیث نمبر: 240
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تَلَقَّوَا الرُّكْبَانَ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجارتی قافلوں کو منڈی سے باہر جا کر نہ ملو“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 240]
تخریج الحدیث: «سنن نسائی، البيوع، باب النهي عن المصراة، رقم: 4487، وقال الالباني: صحيح، مسند الحمیدی، رقم: 1027»
156. (بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَلَقِّي الرُّكْبَانِ)
(تجارتی قافلوں کے استقبال کی ممانعت)
حدیث نمبر: 241
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا تَلَقَّوَا الرُّكْبَانَ بِالْبَيْعِ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سودے کرنے کے لیے تجارتی قافلوں کو راستے میں ہی اپروچ نہ کر لو۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 241]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب النهى للبائع ان لا يحفل ...... الخ، رقم: 2150، صحیح مسلم،البيوع، باب تحريم بيع الرجل على بيع اخيه، رقم: 1515، صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1519»
157. (بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْبَيْعِ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ)
(دوسرے کے سودے پر سودا کرنے کی ممانعت)
حدیث نمبر: 242
عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَلا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی تاجر دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 242]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب لا يبيع على بيع اخيه، رقم: 2140، صحیح مسلم، النکاح باب تحريم الخطبة على خطبة أخيه ..... الخ، رقم: 1413»
حدیث نمبر: 243
عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا کوئی شخص دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 243]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب النهى للبائع ان لا يحفل الابل، رقم: 2150 صحیح مسلم البيوع، باب تحريم بيع الرجل على بيع أخيه، رقم: 1515»
حدیث نمبر: 244
عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
محمد ابن سیرین رحمہ اللہ نے بھی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ روایت کی مانند روایت کیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب في البيوع/حدیث: 244]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد،البیوع باب التلق، رقم: 3437، وقال الالباني: حديث ابى هريرة صحيح»