السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
316. (بَابُ سَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْإِفَاضَةِ مِنْ عَرَفَاتٍ)
(عرفات سے واپسی کی نبوی رفتار)
حدیث نمبر: 474
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ: كَيْفَ كَانَ سَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ الْعَنَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ. قَالَ هِشَامٌ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَقَدْ دَلَّ مَا ذَكَرْنَاهُ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ هَذَا: سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ , أَنَّهُ مِنْ كَلامِ عُرْوَةَ عَلَى مَا ظَنَنَّا مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ عَنْ هِشَامٍ الَّذِي قَبْلَ هَذَا.
ہشام رحمہ اللہ سے روایت ہے ان کو اُن کے والد عروہ رحمہ اللہ نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا (جب میں بھی اُن کے ساتھ تھا، اسامہ رضی اللہ عنہ عرفہ سے مزدلفہ کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح چل کر تشریف لائے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیز چلتے آئے جب خالی جگہ ملتی تو اور تیز ہو جاتے۔“ ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں نص، عنق سے زیادہ تیز چال کو کہتے ہیں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 474]
تخریج الحدیث: «مسند الحمیدی: 248/1، 249، رقم: 543 وصححہ ابن خزیمہ: 266/4، رقم: 2845.»
317. (بَابُ بِنَاءِ الْكَعْبَةِ وَقَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ)
(تعمیر کعبہ اور بنیاد ابراہیم)
حدیث نمبر: 475
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوَا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَرَدَدْتُهَا عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ". قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحَجَرَ إِلا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوج نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے معلوم ہے جب تیری قوم نے کعبہ کی تعمیر کی تو بنیاد ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ دیا تھا؟“ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ بنیادِ ابراہیم علیہ السلام پر کعبہ کیوں نہیں بنا دیتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیری قوم کا زمانہ کفر تازہ تازہ نہ ہوتا تو میں ایسا کر دیتا۔“ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اگر یہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا نے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ حطیم کی طرف سے دو کونوں کا استلام چھوڑنا اسی بناء پر ہو گا کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں بنایا گیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 475]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحج، باب فضل مکۃ وبنیانھا، رقم: 1583، صحیح مسلم، الحج، باب نقض الکعبۃ وبنائھا، رقم: 1333.»
318. (بَابُ اتِّبَاعِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لِلسُّنَّةِ)
(سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا کی اتباعِ سنت)
حدیث نمبر: 476
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: هَكَذَا حَدَّثَنَا الْمُزَنِيُّ، وَإِنَّمَا هُوَ عُبَيْدُ بْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا، قَالَ: مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ لا تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلا الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلالَ وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ:" أَمَّا الأَرْكَانُ: فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلا الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ: فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا: وَأَمَّا الإِهْلالُ: فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَبْعَثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ".
عبید بن جریج رحمہ اللہ نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا اے ابو عبدالرحمن! میں آپ کو چار ایسے کام کرتے دیکھتا ہوں جو آپ کے ساتھیوں میں سے کوئی نہیں کرتا، انہوں نے پوچھا: اے ابن جریج رحمہ اللہ وہ کون سے ہیں؟ تو ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا میں (دوران طواف) دیکھتا ہوں کہ آپ دو یمانی رکنوں کے علاوہ کسی رکن کو نہیں چھوتے، اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ سبتی جوتے پہنتے ہیں، اور آپ زرد رنگ استعمال کرتے ہیں اور میں نے دیکھا کہ آپ جب مکہ میں تھے لوگوں نے ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی لبیک پکارا اور آپ نے آٹھویں تاریخ تک احرام نہیں باندھا یا تلبیہ بلند نہیں کیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا جو مسئلہ ارکان سے متعلق ہے تو میں نے صرف دو یمنی ارکان کو ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوتے ہوئے دیکھا ہے، اور جہاں تک جوتوں کا تعلق تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جوتے پہنتے دیکھا ہے جس پر بال نہیں تھے ان ہی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضوء فرما لیتے تھے تو مجھے بھی ایسے ہی جوتے پہننا پسند ہیں، جہاں تک زرد رنگ کا تعلق ہے تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس رنگ سے رنگتے تھے تو میں بھی اسی رنگ سے (بال یا کپڑا بطور خوشبو) رنگنا پسند کرتا ہوں، رہا مسئلہ احرام باندھنے کا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت تک احرام باندھتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ کو لے کر نہ (منی کی جانب) چل پڑتی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 476]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الوضوء، باب غسل الرجلین فی النعلین ولا یمسح الخ، رقم: 166، صحیح مسلم، الحج، باب الاہلال من حیث تنبعث بہ راحلتہ، رقم: 1187.»
319. (بَابُ ثُبُوتِ حَجِّ التَّمَتُّعِ وَجَوَازِهِ)
(حج تمتع کا ثبوت اور جواز)
حدیث نمبر: 477
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ، عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ: لا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ سَعْدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي، فَقَالَ الضَّحَّاكُ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ سَعْدٌ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ:" قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ".
محمد بن عبد الرحمن رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے (جس سال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا) سنا سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ حج تمتع کے مسئلہ پر گفتگو کر رہے تھے تو سیدنا ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا تمتع وہی کرتا ہے جس کو شریعت سے آگاہی نہیں تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے بہت بری بات ہے جو تم نے کہی ہے“ انہوں نے کہا بے شک سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کیا ہے۔ تو سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حج تمتع تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور ہم نے آپ کے ساتھ حج تمتع کیا۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 477]
تخریج الحدیث: «سنن ترمذی، الحج، باب ماجاء فی التمتع، رقم: 823، سنن نسائی، المناسک، باب التمتع، رقم: 2734 وقال الالبانی: ضعیف الاسناد.»
320. (بَابُ الرُّكُوبِ عَلَى الْهَدْيِ)
(قربانی کے جانور پر سواری)
حدیث نمبر: 478
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ لَهُ:" ارْكَبْهَا"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ، فَقَالَ:" ارْكَبْهَا وَيْلَكَ"، فِي الثَّانِيَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو قربانی کا اونٹ پیدل لے جاتے دیکھا تو فرمایا: ”اس پر سوار ہو جا“ تو وہ کہنے لگا اے اللہ کے رسول! یہ تو قربانی کا جانور ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”اس پر سوار ہو جا“ (پھر نہیں ہوا تو) دوسری یا تیسری دفعہ فرمایا: ”افسوس تجھ پر سوار ہو جا۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 478]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحج، باب رکوب البدن، رقم: 1689، صحیح مسلم، الحج، باب جواز رکوب البدنۃ ..... الخ، رقم: 1322.»
321. (بَابُ الطَّوَافِ عَلَى الرَّاحِلَةِ لِلْعُذْرِ)
(عذر کی بنا پر سواری پر طواف)
حدیث نمبر: 479
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ:" طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ"، قَالَتْ: فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ وَالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں (پیدل طواف مشکل ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں سے ہٹ کر سواری پر سوار ہو کر طواف کر لیں“ (تاکہ سواری کی لوگوں کو تکلیف نہ ہو) کہتی ہیں میں نے سواری پر طواف کیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور سورۃ طور کی تلاوت فرما رہے تھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 479]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الصلاۃ، باب ادخال البعیر فی المسجد للعلۃ، رقم: 464، صحیح مسلم، الحج، باب جواز الطواف علی بعیر وغیرہ، رقم: 1276.»
322. (بَابُ الصَّلَاةِ فِي بَطْحَاءِ ذِي الْحُلَيْفَةِ)
(وادی بطحاء ذی الحلیفہ میں نماز)
حدیث نمبر: 480
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا". قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحلیفہ کی وادی بطحاء میں اونٹنی بٹھائی اور نماز پڑھائی۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہی عمل (اسی مقام پر) کرتے تھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 480]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحج، رقم: 1532، صحیح مسلم، الحج، باب التعریس بذی الحلیفۃ ..... الخ، رقم: 1257.»
323. (بَابُ ذَبْحِ الْأَضَاحِيِّ بِنَفْسِهِ)
(قربانی کے جانور خود ذبح کرنا)
حدیث نمبر: 481
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ بَعْضَ هَدْيِهِ بِيَدِهِ وَنَحَرَ بَعْضَهُ غَيْرُهُ".
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ قربانی کے جانور اپنے ہاتھ سے نحر کیے اور کچھ کسی اور نے نحر کیے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 481]
تخریج الحدیث: «سنن نسائی، الضحایا، باب ذبح الرجل غیر اضحیتہ، رقم: 4419 وقال الالبانی: صحیح، مسند احمد: 360/23، رقم: 15173 وقال الارنوؤط: اسناده صحیح على شرط مسلم.»
324. (بَابُ فَضْلِ حَلْقِ الرَّأْسِ فِي الْحَجِّ)
(حج میں سر منڈوانے کی فضیلت)
حدیث نمبر: 482
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" اللَّهُمَّ ارْحَمِ الْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَالْمُقَصِّرِينَ".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج کے موقع پر) فرمایا: ”اے اللہ! حلق کرانے والوں پر رحم فرما“ تو جنہوں نے بال کٹوائے تھے انہوں نے عرض کی بال کٹوانے والوں پر بھی رحم کی دعا فرمائیں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر حلق (ٹنڈ) کرانے والوں کے لیے دعا کی، پھر انہوں نے درخواست دُہرائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تیسری دفعہ) فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں پر بھی۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 482]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحج، باب الحلق والتقصیر عند الاحلال، رقم: 1727، صحیح مسلم، الحج، باب تفضیل الحلق علی التقصیر، رقم: 1301.»
325. (بَابُ آدَابِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ)
(حجر اسود کے استلام کے آداب)
حدیث نمبر: 483
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلا مِنْ خُزَاعَةَ حِينَ قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى مَكَّةَ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" يَا أَبَا حَفْصٍ، إِنَّكَ رَجُلٌ قَوِيٌّ فَلا تُزَاحِمْ عَلَى الرُّكْنِ فَإِنَّكَ تُؤْذِي الضَّعِيفَ وَلَكِنْ إِنْ وَجَدْتَ خَلْوَةً فَاسْتَلِمْ وَإِلا فَكَبِّرْ وَامْضِ". قَالَ سُفْيَانُ: هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ كَانَ الْحَجَّاجُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَيْهَا مُنْصَرَفَهُ مِنْهَا حِينَ قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ.
ابو یعفور رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے خزاعہ قبیلہ کے ایک شخص کو جو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مکہ کا امیر تھا کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے ابو حفص! تو طاقتور ہے حجر اسود پر زور نہ دینا تو ضعیف کو تکلیف دے گا ہاں جب موقع مل جائے استلام کر لے اگر نہیں تو تکبیر کہہ کر گزر جانا۔“ راوی سفیان بن عینہ اللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ خزاعی عبدالرحمن بن نافع بن عبد الحارث رحمہ اللہ تھا حجاج رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اسے ذمہ داری سونپ گیا تھا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 483]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 321/1، رقم: 190 وقال الارنوؤط: حديث حسن، رجله ثقات، السنن الكبرى للبيهقي: 70/5 وقال الهيثمى رواة احمد وفيه راو لم يسم مجمع الزوائد: 241/3 .»