🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
341. (بَابُ ثَوَابِ الصَّدَقَةِ عَنِ الْمَيِّتِ)
(فوت شدہ کی طرف سے صدقہ کا ثواب)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 504
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، وَحَضَرَتْ أُمَّهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ، فَقِيلَ لَهَا: أَوْصِي، فَقَالَتْ: فِيمَ أُوصِي؟ إِنَّ الْمَالَ مَالُ سَعْدٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ، ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَلْ يَنْفَعُهَا أَنْ أتَصَدَّقَ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ"، فَقَالَ سَعْدٌ: حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا لِحَائِطٍ سَمَّاهُ.
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ پر گئے ہوئے تھے، مدینہ میں ان کی والدہ کی وفات کا وقت آ گیا تو لوگوں نے اسے کہا: اپنے مال کی وصیت کر دیں تو وہ کہنے لگی میں کس چیز کی وصیت کروں؟ مال تو سعد کا ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی واپسی سے قبل ہی وہ وفات پا گئیں، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ جب واپس آئے تو انہیں ماجرہ بتایا گیا تو سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اگر میں والدہ کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا اس کا فائدہ والدہ کو ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تو سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: فلاں فلاں باغ میری ماں کی طرف سے صدقہ ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 504]
تخریج الحدیث: «سنن نسائی، الوصايا، باب اذا مات الفجأة هل يستحب لأهله ان يتصدقوا عنه، رقم: 3650 وقال الالباني: حسن صحيح»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 505
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي افْتَلَتَتْ نَفْسَهَا وَأَرَاهَا لَوْ تَكَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ، أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ". فَتَصَدَّقَ عَنْهَا.
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: میری ماں اچانک فوت ہو گئی ہے میرا خیال ہے اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا انہیں ثواب ملے گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ملے گا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 505]
تخریج الحدیث: «صحیح بخارى، الوصايا، باب ما يستحب لمن يتوفى فجأة ان يتصدقوا عنه، رقم: 2760، صحيح مسلم، الزكاة، باب وصول ثواب الصدقة عن الميت اليه، رقم: 1004»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
342. (بَابُ كَيْفِيَّةِ وَقْفِ الْأَرْضِ)
(زمین وقف کرنے کا شرعی طریقہ)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 506
عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ اشْتَرَاهَا فَاسْتَجْمَعَهَا، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنِّي أَصَبْتُ مَالا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ:" احْبِسِ الأَصْلَ، وَسَبِّلِ الثَّمَرَةَ". قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: هَذَا يَدُلُّ عَلَى إِجَازَةِ حَبْسِ الْمُشَاعِ كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَلَوْ لَمْ يَجُزْ لَنَا هَذَا لَدَّلَّنَا عَلَيْهِ حَدِيثُ ابْنِ عَوْنٍ , عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرِهِ عُمَرَ أَنْ يَحْبِسَ مَالَهُ مِنْ خَيْبَرَ عَلَى مَا أَمَرَهُ أَنْ يَحْبِسَهُ عَلَيْهِ لَمَّا سَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ؛ لأَنَّ خَيْبَرَ لَمْ تُقْسَمْ إِلا فِي زَمَنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَمَّا مَا كَانَ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَإِنَّمَا هُوَ قِسْمَةُ جَمْعٍ ؛ لأَنَّهُ جَعَلَ كُلَّ مِائَةِ سَهْمٍ كَسَهْمٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ جَزَّأَ غَلاتِهَا عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَقْسِمِ الأَرْضَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ خیبر میں (100) حصے کے مالک بنے جنہیں انہوں نے خریدا نشاندہی کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول مجھے ایسا مال حاصل ہوا ہے جو اس سے قبل کبھی نہیں ملا، میرا ارادہ ہے کہ اُسے صدقہ کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کروں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اصل زمین روک لو اس کا پھل صدقہ کر دو۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 506]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجه الصدقات، باب من وقف، رقم: 2397، سنن نسائی، الاحباس، باب حبس المشاع، رقم: 3603 وقال الالباني: صحيح»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
343. (بَابُ حَقِّ النَّفَقَةِ وَحُكْمِ الْبُخْلِ)
(حقِ نفقہ اور بخل کا حکم)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 507
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هِنْدًا أُمَّ مُعَاوِيَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ، وَلَيْسَ لِي مِنْهُ إِلا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ".
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند ام معاویہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں اے اللہ کے رسول! سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ بخیل آدمی ہیں اتنا خرچہ نہیں دیتے جو میری اولاد کو کافی ہو اور میرے پاس وہی ہوتا ہے جو میں ان کی اجازت کے بغیر لے لوں۔ کیا مجھ پر اس کا گناہ ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اتنا دستور کے مطابق اس کے مال سے لے لیا کرو جو تجھے اور تیری اولاد کو کافی ہو۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 507]
تخریج الحدیث: «صحیح بخارى، البيوع، باب من أجرى امر الأمصار .... الخ، رقم: 2211، صحیح مسلم، الاقضية باب قضية هند، رقم: 1714»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
344. (بَابُ حَقِّ نَفَقَةِ الزَّوْجَةِ وَالْأَوْلَادِ)
(بیوی اور بچوں کا حقِ نفقہ)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 508
عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّ هِنْدَ أُمَّ مُعَاوِيَةَ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَإِنَّهُ لا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَوَلَدِي إِلا مَا أَخَذْتُ مِنْهُ سِرًّا وَهُوَ لا يَعْلَمُ فَهَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ہند ام معاویہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو کہنے لگیں ابوسفیان رضی اللہ عنہ بخیل آدمی ہیں وہ بقدر ضرورت خرچہ نہیں دیتے مگر پوشیدہ طور پر اس کا مال لینا پڑتا ہے جو وہ نہیں جانتا تو اس بارے کیا کوئی گناہ ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معروف طریقے سے اتنا لے لو جتنا تجھے اور تیرے بیٹے کے لیے کافی ہو۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 508]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، النفقات، باب اذا لم ينفق الرجل فالمرأة أن تأخذ بغير علمه، رقم: 5364، صحیح مسلم، الاقضية، باب قضية هند، رقم: 1714»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
345. (بَابُ حَدِّ الثُّلُثِ فِي الْوَصِيَّةِ)
(وصیت میں ایک تہائی مال کی حد)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 509
عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: مَرِضْتُ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِيَ مَالا كَثِيرًا وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلا ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ:" لا"، قُلْتُ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ:" لا"، قُلْتُ: فَالثُّلُثُ؟ قَالَ:" الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتَرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، إِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ عَنْ هِجْرَتِي؟ قَالَ:" إِنَّكَ إِنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ فيَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ". يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ.
عامر بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے اُن کے والد نے بتایا کہ وہ فتح مکہ کے موقع پر بیمار پڑ گئے اور موت کے قریب پہنچ گئے میری عیادت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرا بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف ایک بیٹی ہے تو کیا میں اپنے مال کا دو ثلث صدقہ کر دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے کہا نصف؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں تو میں نے کہا: ایک ثلث؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثلث بہت ہے، اگر تم ورثاء کو اغنیاء چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ اُن کو تنگ دست چھوڑ کر جاؤ اور وہ لوگوں کے آگے ہاتھ دراز کریں تم جو بھی خرچ کرو گے اس پر تم کو ثواب ملے گا حتی کہ جو لقمہ بیوی کے منہ میں رکھو اس پر بھی اجر ہے میں نے عرض کی: کہ (مکہ میں فوت ہو کر) کیا اللہ کے رسول میں اپنی ہجرت سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے بعد تم زندہ رہے تو جو بھی عمل رضا الہی کے لیے کرو گے ان کے ذریعہ آپ کا درجہ و مرتبہ بلند ہوگا اور امید ہے تم میرے بعد زندہ رہو گے تم سے ایک قوم کو نفع دوسری کو نقصان ہو گا اے اللہ میرے صحابہ کی ہجرت برقرار رکھ اور ایڑیوں کے بل انہیں نہ لوٹا دینا قابل افسوس سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے اس لیے افسوس کا اظہار کیا کہ (ہجرت کے بعد اتفاق سے) ان کی وفات مکہ مکرمہ میں ہی ہوئی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 509]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الفرائض، باب ميراث البنات، رقم: 6733، صحيح مسلم الوصية، باب الوصية بالثلث، رقم: 1628»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 510
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الْوَجَعِ مَا تَرَى وَأَنَا ذُو مَالٍ وَلا يَرِثُنِي إِلا ابْنَةٌ لِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ فَقَالَ:" لا"، فَقُلْتُ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ:" لا"، ثُمَّ قُلْتُ: فَالثُّلُثُ؟ قَالَ:" الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ أَوْ كَبِيرٌ إِنَّكَ أَنْ تَدَعَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلا أُجِرْتَ بِهَا حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي امْرَأَتِكَ"، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي؟ قَالَ:" إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلا صَالِحًا إِلا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ". لَكِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے مجھے سخت تکالیف تھی میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! میری بیماری آپ دیکھ رہے ہیں، میں صاحب مال ہوں، میری وارث میری ایک بیٹی ہے تو کیا میں اپنے مال کا دو تہائی صدقہ کر دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں میں نے عرض کیا: نصف؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، پھر میں نے کہا: ایک تہائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تہائی ٹھیک ہے البتہ یہ بھی بہت زیادہ۔ اگر تو ورثا کو اغنیاء چھوڑ کر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اُن کو کنگال چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں سے مانگتے پھریں بے شک تو جو بھی رضا الہی کے لیے خرچ کرے گا اس کا اجر پائے گا حتی کہ اس لقمہ پر بھی جو تو بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ہرگز پیچھے نہیں رہے گا تو جو بھی صالح عمل کرے گا اس پر تیرا رتبہ، درجہ بلند ہو گا امید ہے تو زندہ رہے حتی کہ تجھ سے کچھ لوگ فائدہ حاصل کریں اور بعض کو نقصان ہو۔ (پھر دعا فرمائی) اے اللہ! میرے ساتھیوں کی ہجرت برقرار رکھ ایڑیوں کے بل انہیں نہ لوٹا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ پر افسوس کیا جو مکہ میں فوت ہوئے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 510]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الجنائز، باب رثى النبي سعد بن خولة، رقم: 1295»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
346. (بَابُ أَهَمِّيَّةِ كِتَابَةِ الْوَصِيَّةِ وَالتَّأْكِيدِ عَلَيْهَا)
(وصیت لکھنے کی اہمیت و تاکید)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 511
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَقُّ امْرِئٍ يُؤْمِنُ بِالْوَصِيَّةِ وَلَهُ مَالٌ يُوصِي فِيهِ يَأْتِي عَلَيْهِ لَيْلَتَانِ إِلا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو وصیت کو حق جانتا ہے اس کے لیے درست نہیں کہ اس کے پاس قابل وصیت مال ہو کہ وہ دو راتیں بھی گزارے مگر اس کے پاس وصیت لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 511]
تخریج الحدیث: «سنن ترمذی، الوصايا، باب ماجاء في الحث على الوصية، رقم: 2118 حسن صحيح، وقال الالبانی: صحيح، مسند احمد: 184/8، رقم: 4578 وقال الارنوؤط: حديث صحيح»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 512
عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وصیت کے قابل مال ہو کہ دو راتیں بھی گزارے مگر وصیت لکھ کر رکھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 512]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الوصايا، باب الوصايا، رقم: 2738»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
347. (بَابُ قَضَاءِ الدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ)
(وصیت سے پہلے قرض کی ادائیگی)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 513
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" يَقْرَءُونَ الْوَصِيَّةَ قَبْلَ الدَّيْنِ، وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے قرآن کریم میں وصیت کا ذکر قرض سے پہلے پڑھتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض کی ادائیگی کا فیصلہ فرمایا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 513]
تخریج الحدیث: «سنن ترمذی، الفرائض، باب ماجاء في ميراث الاخوة من الاب والأم، رقم: 2094، وقال الالبانی: حسن، سنن ابن ماجه، الوصايا، باب الدين قبل الوصية، رقم: 2715»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں