🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (648)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
326. (بَابُ التَّقْدِيمِ وَالتَّأْخِيرِ فِي مَنَاسِكِ الْحَجِّ)
(مناسک حج میں تقدیم و تاخیر)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 484
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أذْبَحْ، فَقَالَ:" اذْبَحْ وَلا حَرَجَ"، فَجَاءَهُ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ فَقَالَ:" ارْمِ وَلا حَرَجَ"، قَالَ: فَمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلا أُخِّرَ إِلا قَالَ:" افْعَلْ وَلا حَرَجَ".
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منی میں حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کے لیے رکے تاکہ سوال کر لیں تو ایک آدمی آیا کہنے لگا پتہ نہیں چلا میں نے سر قربانی کرنے سے پہلے مونڈ لیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں قربانی کر لے ایک دوسرا آدمی آیا کہنے لگا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پتہ نہیں چلا کنکریاں مارنے سے پہلے میں نے قربانی کر ڈالی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں کنکریاں اب مار لے راوی کہتے ہیں کہ جو بھی تقدیم و تاخیر کا سوال (دس ذوالحجہ کو) ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «افعل ولا حرج» (اب کر لے کوئی حرج نہیں)۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، العلم، باب الفتیا وهو واقف علی الدابۃ، رقم: 83، صحیح مسلم، الحج، باب من حلق قبل النحر او نحر قبل الرمی رقم: 1306.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
327. (بَابُ أَلْفَاظِ التَّلْبِيَةِ الْمَسْنُونَةِ)
(مسنون تلبیہ کے الفاظ)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 485
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لا شَرِيكَ لَكَ". قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالرَّغْبَى إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا: «لبيك اللہم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» اے اللہ میں حاضر ہو، حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں، بے شک تعریف نعمت اور بادشاہی تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مزید یہ الفاظ بھی کہتے تھے: «لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير فى يديك والرغبٰي اليك والعمل» میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرے سامنے ہی بغرض سعادت حاضر ہوں تیرے دونوں ہاتھوں میں بھلائی ہی بھلائی ہے، تیری ہی طرف لگن اور عمل ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 485]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الحج، باب التلبیہ رقم: 1549، صحیح مسلم، الحج، باب التلبیہ وصفتھا ووقتھا، رقم: 1184.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
328. (بَابُ الرَّمَلِ فِي ثَلَاثَةِ أَشْوَاطٍ مِنَ الطَّوَافِ)
(طواف کے تین چکروں میں رمل)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 486
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُلُ مِنَ الْحَجَرِ الأَسْوَدِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهِ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ".
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود سے رمل کرتے دیکھا حتیٰ کہ تین چکر رمل (دوڑ کر) کرتے تھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 486]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، الحج، باب استحباب الرمل فی الطواف، رقم: 1263.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
329. (بَابُ إِحْرَامِ النُّفَسَاءِ)
(نفاس والی عورت کا احرام)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 487
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ بِالْبَيْدَاءِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُهِلَّ".
قاسم رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے مقام بیداء پر محمد بن سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جنا تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں حکم دو غسل کریں پھر احرام باندھیں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 487]
تخریج الحدیث: «سنن نسائی، الحج، باب الغسل للاهلال، رقم: 2663، وقال الالبانی صحیح، مسند احمد: 22/45، رقم: 27084 وقال الارنوؤط: حديث صحيح.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
330. (بَابُ غُسْلِ النُّفَسَاءِ وَإِحْرَامِهَا)
(نفاس والی عورت کا غسل اور احرام)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 488
عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: فَلَمَّا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ، أَوْ قَالَ مُرُوهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُهِلَّ". الشَّكُّ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ہم بیداء مقام پر پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں محمد بن ابی بکر کی پیدائش ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو غسل کرے پھر احرام باندھ لے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 488]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، الحج، باب احرام النفساء رقم: 1210.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
331. (بَابُ الْقَضَاءِ فِي نَسَبِ الْوَلَدِ)
(بچے کے نسب کا شرعی فیصلہ)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 489
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ مِنْ أَهْلِ دَارِنَا فَذَهَبْتُ مَعَ الشَّيْخِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْحِجْرِ فَسَأَلَهُ عَنْ وِلادٍ مِنْ وِلادٍ مِنْ قَالَ: وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا طَلَّقَهَا زَوْجُهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا نَكَحَتْ بِغَيْرِ عِدَّةٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَمَّا النُّطْفَةُ فَمِنْ فُلانٍ وَأَمَّا الْوَلَدُ فَهُوَ عَلَى فِرَاشِ فُلانٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَدَقْتَ وَلَكِنْ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بِالْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ".
عبید اللہ بن ابو یزید رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بنو زہرہ کے ہمارے ایک بزرگ کو بلایا تو میں اس بزرگ کے ساتھ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حجر البیت میں تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بوڑھے سے جاہلیت کی ولادت کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کو طلاق ہو جاتی یا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ بغیر عدت گزارے آگے شادی کر لیتی تو آدمی کہتا نطفہ تو فلاں کا ہے اور بچہ فلاں کے بستر پر پیدا ہوا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو نے سچ کہا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 489]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ النکاح باب الولد للفراش وللعاهر الحجر، رقم: 2005 وقال الالبانی: صحیح، مسند الحميدي: 15/1، رقم: 24، السنن الكبرى للبيهقي: 403/7.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
332. (بَابُ إِثْبَاتِ النَّسَبِ وَحَدِّ الزَّانِي)
(ثبوتِ نسب اور زانی کی سزا)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 490
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ اس کا تصور ہوگا جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے جبکہ زانی کے لیے (مقدمہ ثابت ہونے پر) پتھر ہیں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 490]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، الرضاع، باب الولد للفراش، رقم: 1458.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
333. (بَابُ: الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ)
(بچہ صاحبِ بستر کا ہونے کا حکم)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 491
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ، وَسَعْدًا اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ فَإِنَّهُ ابْنِي، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ". قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ أَبَا الرَّدَّادِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ السَّلامِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ هِشَامٍ النَّحْوِيَّ يَقُولُ: هُوَ زَمْعَةُ يَعْنِي بِالْفَتْحِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عبد بن زمعہ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنا کیس زمعہ کی لونڈی کے بچہ کا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) دائر کیا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے میرے بھائی نے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کا بچہ لے لوں وہ میرا بیٹا ہے۔ عبد بن زمعہ نے کہا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے، جو میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو سعد رضی اللہ عنہ کے بھائی عتبہ سے واضح طور پر ہم شکل پایا لیکن فرمایا: یہ بچہ عبد بن زمعہ کو ملے گا کیونکہ (اسلامی لاء یہ ہے کہ) بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے اور ام المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو اس سے پردے کا حکم دیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 491]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الخصومات، باب دعوى الوصی للمیت، رقم: 2421، صحیح مسلم، الرضاع، باب الولد للفراش... الخ، رقم: 1457.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 492
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَقَالَ: ابنُ أَخِيَ قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي ابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَتَسَاوَقَاهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ: إِنَّ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ" لَمَّا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ.
سیدہ عائشہ زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرے نطفے سے ہے اسے لے لینا، جب مکہ فتح ہوا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا اور کہنے لگے یہ (میرے بھائی کا بیٹا ہے) بھائی نے اس کے بارے وصیت کی تھی، عبد بن زمعہ کہنے لگے میرا بھائی ہے، یہ میرے باپ کی لونڈی سے اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ اس کا ہو گا جس کے بستر پر پیدا ہوا جبکہ زانی کے لیے سنگساری ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ابن زمعہ سے پردہ کر کیونکہ ابن زمعہ شکل میں عقبہ سے مشابہت رکھتا تھا پھر سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے وفات تک ابن زمعہ کو نہ دیکھا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 492]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الفرائض، باب الولد للفراش حرة كانت أو امة، رقم: 6749، صحیح مسلم، الرضاع، باب الولد للفراش... الخ، رقم: 1457.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
334. (بَابُ أَحْكَامِ اللُّقَطَةِ)
(لقطہ (گری پڑی چیز) کے احکام)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 493
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ:" اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلا فَشَأْنُكَ بِهَا"، قَالَ: فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ:" لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ" قَالَ: فَضَالَّةُ الإِبِلِ؟ قَالَ:" مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا".
سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور سوال کیا کہ گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور بندھن پہچان لے پھر سال بھر اس کی شناخت کراؤ اگر اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کرو اگر نہیں تو فائدہ اٹھا لو آدمی نے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے آدمی نے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ اور پاؤں ہے پانی تک جا سکتا ہے، درخت کھا سکتا ہے حتی کہ اس کو مالک مل جائے گا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب ما جاء في فدية الأذى/حدیث: 493]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، اللقطة، باب اذا لم یوجد صاحب اللقطة بعد سنة فهی لمن وجدها، رقم: 2429، صحیح مسلم، اللقطة، رقم: 1722.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں