السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
425. (بَابُ الْمُؤَاخَاةِ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ)
(مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات)
حدیث نمبر: 622
حَدَّثَنَا سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِنَا، فَقِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا حِلْفَ فِي الإِسْلامِ"؟ فَقَالَ: حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِنَا. قَالَ سُفْيَانُ: فَسَّرَتْهُ الْعُلَمَاءُ: آخَى بَيْنَهُمْ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین و انصار کے درمیان عہد و پیماں کروایا تو اُن سے کہا گیا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نہیں فرمایا کہ ”اسلام میں کوئی تحالف نہیں ہے؟“ تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں مہاجرین وانصار کے درمیان تحالف کرایا۔ امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں علماء نے اس تحالف کی تفسیر مواخات کی ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الجهاد/حدیث: 622]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد، الفرائض، باب في الحلف، رقم: 2926 وقال الالباني: صحیح، مسند احمد: 96/20، رقم: 12658 وقال الارنوؤط حديث صحيح.»
426. (بَابُ مُقْتَضَيَاتِ الْبَيْعَةِ وَكَفَّارَةِ الذُّنُوبِ)
(بیعت کے تقاضے اور گناہوں کا کفارہ)
حدیث نمبر: 623
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ لَنَا:" بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا" وَقَرَأَ عَلَيْهِمُ الآيَةَ..... فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ , وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ذرہ برابر بھی شرک نہیں کرو گے...“ پھر مذکورہ پوری آیت تلاوت کی۔ (پھر فرمایا) ”تم میں سے جو شخص اس شرط کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ پر ہے اور جو کوئی اس شرط کو توڑے اور اسے سزا مل جائے تو سزا اس کے لیے کفارہ بن جائے گی اور جو مذکورہ جرائم میں ملوث ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے جرم پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے چاہے تو معاف کر دے چاہے تو عذاب دے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الجهاد/حدیث: 623]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، التفسیر باب سورہ الممتحنہ الخ، رقم: 4894، صحیح مسلم، الحدود، باب الحدود کفارات لاھلھا رقم: 1709.»
427. (بَابُ اشْتِرَاطِ الِاسْتِطَاعَةِ فِي الْبَيْعَةِ)
(بیعت میں استطاعت کی شرط)
حدیث نمبر: 624
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا إِذَا بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، يَقُولُ لَنَا:" فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ".
سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ہم جب سمع و طاعت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے کہتے: ”کہو اپنی استطاعت کے مطابق سمع وطاعت کریں گے“۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الجهاد/حدیث: 624]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الاحکام، باب کیف یبایع الامام الناس، رقم: 7202، صحیح مسلم، الامارہ، باب البیعہ علی السمع والطاعہ فیما استطاع، رقم: 2940.»
428. (بَابُ أَحْكَامِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ وَالْبَيْعَةِ)
(حکمرانوں کی اطاعت اور بیعت کے احکام)
حدیث نمبر: 625
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ:" بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لا نُنَازِعَ الأَمْرَ أَهْلَهُ وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالْحَقِّ لا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لائِمٍ".
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات سننے اور ماننے پر بیعت کی تنگی ہو یا آسانی پسند ہو یا ناپسند اور یہ کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں (اس وقت تک) جھگڑا نہ کریں (جب تک انہیں اعلانیہ کفر کرتا نہ دیکھ لیں) اور ہمیشہ حق کا ساتھ دیں، اللہ کے لیے کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کریں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الجهاد/حدیث: 625]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الاحکام، باب کیف یبایع الامام الناس، رقم: 7199، صحیح مسلم، الامارہ، باب وجوب طاعہ الامراء فی غیر معصیہ، رقم: 1709.»
429. (بَابُ أَهَمِّ أَرْكَانِ الْبَيْعَةِ وَأَحْكَامِهَا)
(بیعت کے اہم ارکان اور احکامات)
حدیث نمبر: 626
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتًّا كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ:" أنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلا تَسْرِقُوا، وَلا تَزْنُوا، وَلا تَقْتُلُوا أَوْلادَكُمْ، وَلا يَعْضَهَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَأَنْ لا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةً فعُجِّلَتْ عُقُوبَتُهُ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ وَمَنْ أُخِّرَتْ عُقُوبَتُهُ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ". حَدَّثَنَا الطَّحَاوِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَقُولُ: مَنْ كَذَبَ عَلَى أَخِيهِ فَقَدْ عَضَهَهُ.
سید نا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے چھ باتوں کا عہد لیا جیسا کہ عورتوں سے بھی لیا: ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ ذرہ برابر بھی شرک نہیں کرنا، چوری نہیں کرنی، زنا نہیں کرنا، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرنا، ایک دوسرے پر تہمت نہ لگائیں گے، جس بھلائی کا میں حکم دوں میری نافرمانی نہیں کرنی“ تو جو مذکورہ جرائم میں سے کسی کا ارتکاب کر لے اسے دنیا میں سزا مل گئی تو یہ اس کے جرم کا کفارہ ہو جائے گا اور جس کی سزا مؤخر ہوئی اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے چاہے تو عذاب کرے چاہے تو معاف کر دے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس نے آدمی پر ایسی بات کہی جو اس میں نہیں تھی تو اس نے اس پر تہمت باندھی (ایک نسخے میں ہے جس نے اپنے بھائی پر جھوٹ باندھا اس نے اسے دانتوں سے کانا / غیبت / تہمت سب معانی اس میں آتے ہیں)۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الجهاد/حدیث: 626]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ الحدود، باب الحد کفارہ، رقم: 2603 وقال الالبانی صحیح، مسند احمد: 341/37، رقم: 22669 وقال الارنوؤط اسنادہ صحیح علی شرط مسلم.»
430. (بَابُ السِّنِّ الشَّرْعِيَّةِ لِلْمُشَارَكَةِ فِي الْجِهَادِ)
(جہاد میں شرکت کی شرعی عمر)
حدیث نمبر: 627
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَلَمْ يُجِزْنِي، وَعُرِضْتُ عَلَيْهِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں جنگ احد میں میری شرکت کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش ہوا میری عمر چودہ سال تھی تو مجھے اجازت نہ ملی اور جنگ خندق میں میری عمر پندرہ سال تھی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکت کی اجازت دے دی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الجهاد/حدیث: 627]
تخریج الحدیث: «سنن ترمذی، الاحکام، باب ماجاء فی حد بلوغ الرجل والمرأة، رقم: 1361 وقال حسن صحیح وقال الالبانی صحیح.»
حدیث نمبر: 628
أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ایک دوسری سند یحیی بن سلیم رحمہ اللہ عن عبید اللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح کی حدیث وارد ہوئی ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الجهاد/حدیث: 628]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبلہ، برقم: 627.»
431. (بَابُ التَّنْفِيلِ فِي الْغَنِيمَةِ)
(غنیمت میں اضافی انعام کا بیان)
حدیث نمبر: 629
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا فِي سَرِيَّةٍ إِلَى نَجْدٍ فَأَصَابَ سَهْمُ كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک فوجی دستہ میں نجد کی جانب روانہ کیا تو ہر آدمی کو مال غنیمت میں بارہ بارہ اونٹ ملے اور ایک ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور انعام عطاء کیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الجهاد/حدیث: 629]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، المغازی، باب السریہ التی قبل نجد، رقم: 4338، صحیح مسلم، الجہاد والسیر، باب الانفال، رقم: 1750,1749.»
حدیث نمبر: 630
أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلا كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا ثُمَّ نُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک فوجی دستہ کاروائی کے لیے بھیجا جن میں میں بھی شامل تھا تو غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے ہر ایک کے حصے میں بارہ بارہ اونٹ آئے یا گیارہ گیارہ آئے پھر ایک ایک اونٹ بطور انعام ملا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الجهاد/حدیث: 630]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، فرض الخمس، باب ومن الدلیل علی ان الخمس لنوائب ....... الخ، رقم: 3134، صحیح مسلم، الجہاد والسیر، باب الانفال، رقم: 1749.»
432. (بَابُ مُفَادَاةِ أَسْرَى الْمُسْلِمِينَ بِالْمُشْرِكِينَ)
(مشرکین سے مسلمان قیدیوں کا تبادلہ)
حدیث نمبر: 631
أَنْبَأَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي غَزَاةٍ أَمَّرَهُ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَّسْنَا فَأَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَشَنَنَّا الْغَارَةَ عَلَى الْعَدُوِّ صَلاةَ الصُّبْحِ، فَأَتَيْنَاهُ بِسَبْيٍ، فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنَ السَّبْيِ جَارِيَةً حَسْنَاءَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، فَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ، فَقَالَ:" هَبْ لِيَ الْجَارِيَةَ" فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، قَالَ: فَسَكَتَ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ اللَّيْلِ بَاتَتْ عِنْدِي فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ، فَقَالَ:" هَبْ لِيَ الْجَارِيَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ!" فَقُلْتُ: هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا، فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ فَفَادَى بِهَا أُسَارَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا فِي أَيْدِي الْمُشْرِكِينَ.
سیدنا ایاس بن سلمہ اپنے باپ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں ایک غزوہ میں ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں گئے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائد مقرر کیا ہم نے پڑاؤ ڈالا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا کہ دشمن پر نماز فجر کے وقت حملہ کرنا ہے ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لونڈی لائے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہ مجھے انعام دی اور وہ سب سے زیادہ حسینہ تھی، میں نے اس کا کپڑا تک نہ اٹھایا حتی کہ مدینہ آ گئے میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ کے بازار میں ملاقات ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لونڈی مجھے ہبہ کر دو۔“ میں نے عرض کی وہ مجھے اچھی لگتی ہے میں نے ابھی تک اس کے کپڑے بھی نہیں اتارے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے جب رات آئی تو لونڈی نے میرے پاس رات گزاری لیکن میں نے اس کے کپڑے نہ اتارے دوسرے دن پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بازار میں ملاقات ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لونڈی ہبہ کر دو اللہ تیرے باپ کو برکت دے“ میں نے عرض کی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ ہوئی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ابھی تک اس کا کپڑا نہیں اتارا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی کو مکہ کے مشرکین کو دے کر چند مسلمان قیدی چھڑائے۔ ابو جعفر رحمہ اللہ کہتے ہیں امام مزنی رحمہ اللہ نے یہ روایت ایاس بن سلمہ رحمہ اللہ سے بیان کی ہے میرا خیال ہے روایت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ ان کے والد سے ہے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب الجهاد/حدیث: 631]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم الجہاد والسیر باب التفضیل وفداء المسلمین بالاساری، رقم: 1755.»