🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب فِي النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ وَالتَّنَفُّسِ فِيهِ
باب: پانی کے برتن میں پھونک مارنا اور سانس لینا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3729
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ مَنْ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَ:" جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَذَكَرَ حَيْسًا أَتَاهُ بِهِ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ فَنَاوَلَ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ، وَأَكَلَ تَمْرًا، فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةُ وَالْوُسْطَى، فَلَمَّا قَامَ قَامَ أَبِي فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ".
عبداللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر انہوں نے حیس ۱؎ کا ذکر کیا جسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر پھینکنے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا: میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم» اے اللہ جو روزی تو نے انہیں دی ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے، اور ان پر رحم فرما۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3729]
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ جو قبیلہ بنی سلیم سے ہیں ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہاں تشریف لائے اور کچھ دیر ٹھہرے۔ میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا پیش کیا۔ انہوں نے ذکر کیا کہ وہ کھانا حیس (ایک خاص قسم کا کھانا جو کھجور، پنیر، گھی اور آٹے وغیرہ کا مرکب ہوتا ہے) تھا جو لایا گیا۔ پھر وہ مشروب لائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا، پھر اپنے دائیں طرف والے کو دے دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور گٹھلیاں اپنی انگشت شہادت اور ساتھ والی انگلی کی پشت پر رکھتے گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھے تو میرے والد نے اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام تھام لی اور عرض کیا کہ میرے لیے اللہ سے دعا فرمائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ» اے اللہ! جو تو نے انہیں عنایت فرمایا ہے اس میں انہیں برکت دے، ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحمت نازل کر۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 22 (2042)، سنن الترمذی/الدعوات 118 (3576)، (تحفة الأشراف: 5205)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/188، 190)، سنن الدارمی/الأطعمة 2 (2065) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایک کھانے کا نام ہے جو کھجور وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2042)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب مَا يَقُولُ إِذَا شَرِبَ اللَّبَنَ
باب: دودھ پی کر کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3730
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَجَاءُوا بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ عَلَى ثُمَامَتَيْنِ، فَتَبَزَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ خَالِدٌ: إِخَالُكَ تَقْذُرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: أَجَلْ، ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ، وَإِذَا سُقِيَ لَبَنًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَنُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لَفْظُ مُسَدَّدٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے، لوگ دو بھنی ہوئی گوہ دو لکڑیوں پر رکھ کر لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر تھوکا، تو خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے اس سے آپ کو گھن (کراہت) ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہئیے «اللهم بارك لنا فيه وأطعمنا خيرا منه» اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے بہتر کھانا کھلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور جب اسے کوئی دودھ پلائے تو اسے چاہیئے کہ یہ دعا پڑھے «اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه» اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور اسے ہمیں اور دے کیونکہ دودھ کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے اور پینے دونوں سے کفایت کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3730]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں (اپنی خالہ) ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ کے ساتھ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ گھر والوں نے دو سانڈھے بھنے ہوئے پیش کیے جو دو لکڑیوں پر رکھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں دیکھ کر) تھوک دیا تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خیال ہے آپ اسے ناپسند کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرما لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو یوں دعا کیا کرے «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ» اے اللہ! ہمیں اس میں برکت دے اور اس سے عمدہ عطا فرما۔ اور جب اسے دودھ پلایا جائے تو یوں کہے «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ» اے اللہ! ہمیں اس میں برکت دے اور مزید عنایت فرما۔ دودھ کے سوا اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کھانے اور پینے دونوں سے کفایت کرے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ جناب مسدد کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 55 (3455)، (تحفة الأشراف: 6298)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأطعمة 35 (3322)، مسند احمد (1/225)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (286) (حسن)» ‏‏‏‏ (علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ 2320)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3455)
علي بن زيد بن جدعان : ضعيف وعمر بن حرملة :مجهول (تق : 4875)
وللحديث شاهد ضعيف في الصحيحة للألباني (2320) !
وانظر ضعيف سنن ابن ماجه : 3322
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. باب فِي إِيكَاءِ الآنِيَةِ
باب: برتن ڈھک کر رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3731
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَغْلِقْ بَابَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَأَطْفِ مِصْبَاحَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ وَلَوْ بِعُودٍ تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا نام لے کر اپنے دروازے بند کرو کیونکہ شیطان بند دروازوں کو نہیں کھولتا، اللہ کا نام لے کر اپنے چراغ بجھاؤ، اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھانپو خواہ کسی لکڑی ہی سے ہو جسے تم اس پر چوڑائی میں رکھ دو، اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ باندھو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3731]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا دروازہ بند کر اور اللہ کا نام لے، بلاشبہ شیطان بند دروازہ نہیں کھول سکتا۔ اپنا چراغ بجھا اور اللہ کا نام لے۔ اپنا برتن ڈھانپ کر رکھ خواہ اس میں کوئی لکڑی آڑے طور پر رکھ دے اور اللہ کا نام لے۔ اور اپنے مشکیزے کا تسمہ باندھ کر رکھ اور اللہ کا نام لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأشربة 22 (5623)، صحیح مسلم/الأشربة 12 (2012)، (تحفة الأشراف: 2446)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأدب 74 (2857)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 16 (3410)، والأدب 46 (3771)، مسند احمد (3/355) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5623) صحيح مسلم (2012)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3732
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ، قَالَ: فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا غَلَقًا، وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ أَوْ بُيُوتَهُمْ.
اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن یہ پوری نہیں ہے، اس میں ہے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا، نہ کسی بندھن کو کھولتا ہے اور نہ کسی برتن کے ڈھکنے کو، اور چوہیا لوگوں کا گھر جلا دیتی ہے، یا کہا ان کے گھروں کو جلا دیتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3732]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی، (عبداللہ بن مسلمہ کی) یہ روایت مکمل نہیں ہے، فرمایا: شیطان بند دروازہ نہیں کھول سکتا، نہ تسمہ اور بندھنا ہی کھول سکتا ہے اور نہ ڈھانپے ہوئے برتن کو ننگا کر سکتا ہے، (چراغ بجھا کر نہ سویا جائے تو اس کا نقصان یہ ہے کہ) چوہیا لوگوں کے گھروں کو جلا ڈالتی ہے۔ (بتی کو گھسیٹ لے جاتی ہے اور اس طرح گھر میں آگ لگ جاتی ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ الأشربة 12 (2012)، سنن الترمذی/ الأطعمة 15 (1812)، (تحفة الأشراف: 2934) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2012)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3733
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَفُضَيْلُ بْنُ عَبْدُ الْوَهَّابِ السُّكَّرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ شِنْظِيرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَفَعَهُ، قَالَ:" وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْعِشَاءِ"، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِنَّ لِلْجِنِّ انْتِشَارًا وَخَطْفَةً.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عشاء کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس ہی رکھو (اور مسدد کی روایت میں ہے: شام کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھو) کیونکہ یہ جنوں کے پھیلنے اور (بچوں کو) اچک لینے کا وقت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3733]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مرفوعاً بیان کیا کہ عشاء کے وقت، اور جناب مسدد نے روایت کیا کہ شام کے وقت اپنے بچوں کو (گھروں میں) روک کر رکھا کرو۔ اس وقت جن (زمین میں) پھیل جاتے ہیں اور (بچوں کو) اچک لیتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ بدء الخلق 16 (3316)، الاستئذان 49 (6295)، سنن الترمذی/ الأدب 74 (2857)، (تحفة الأشراف: 2476)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/388) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3316) صحيح مسلم (2012)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3734
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَلَا نَسْقِيكَ نَبِيذًا؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَشْتَدُّ، فَجَاءَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أَنْ تَعْرِضَ عَلَيْهِ عُودًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: تَعْرِضُهُ عَلَيْهِ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے پانی طلب کیا تو قوم میں سے ایک شخص نے عرض کیا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں (کوئی مضائقہ نہیں) تو وہ نکلا اور دوڑ کر ایک پیالہ نبیذ لے آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اسے ڈھک کیوں نہیں لیا؟ ایک لکڑی ہی سے سہی جو اس کے عرض (چوڑان) میں رکھ لیتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اصمعی نے کہا: «تعرضه عليه» یعنی تو اسے اس پر چوڑان میں رکھ لیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3734]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (ایک بار) ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا، ایک شخص نے کہا: کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پیش کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں۔ چنانچہ وہ بھاگتا بھاگتا گیا اور ایک پیالہ لے آیا، اس میں نبیذ تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں؟ اس پر کوئی لکڑی ہی رکھ لیتا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (امام لغت اصمعی) اصمعی نے اس لفظ کو «تَعْرُضُهُ عَلَيْهِ» پڑھا ہے (راء کے پیش کے ساتھ جبکہ دوسرے زیر سے پڑھتے ہیں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الأشرابة 12 (5606)، صحیح مسلم/ الأشربة 12 (2011)، (تحفة الأشراف: 2233) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5605) صحيح مسلم (2011)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3735
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَقُتَيْبَةُ بْنَ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسِلَّمَ كَانَ" يُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنْ بُيُوتِ السُّقْيَا"، قِالَ قُتَيْبَةُ: عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سقیا کے گھروں سے میٹھا پانی لایا جاتا۔ قتیبہ کہتے ہیں: سقیا ایک چشمہ ہے جس کی مسافت مدینہ سے دو دن کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3735]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے میٹھا پانی سقیا کے گھروں سے لایا جاتا تھا۔ قتیبہ نے کہا: سقیا ایک چشمے کا نام تھا جو مدینہ سے دو دن کی مسافت پر تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17038)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/100، 108) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4284)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں