🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب كَيْفَ الرُّقَى
باب: جھاڑ پھونک کیسے ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3895
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لِلإِنْسَانِ إِذَا اشْتَكَى يَقُولُ بِرِيقِهِ، ثُمَّ قَالَ بِهِ فِي التُّرَابِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی اپنی بیماری کی شکایت کرتا تو آپ اپنا لعاب مبارک لیتے پھر اسے مٹی میں لگا کر فرماتے: «تربة أرضنا بريقة بعضنا يشفى سقيمنا بإذن ربنا» یہ ہماری زمین کی خاک ہے ہم میں سے بعض کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا بیمار ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3895]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب کوئی شخص بیمار ہو جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا لعاب لیتے پھر اسے مٹی لگاتے اور یوں فرماتے: «تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا» مٹی ہماری زمین کی، ہمارے ایک کے لعاب کے ساتھ، شفا پائے ہمارا مریض، ہمارے رب کے حکم سے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الطب 38 (5745)، صحیح مسلم/السلام 21 (2194)، سنن ابن ماجہ/الطب 36 (3521)، (تحفة الأشراف: 17906)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/93) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5745) صحيح مسلم (2194)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3896
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ،" أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَاجِعًا مِنْ عِنْدِهِ فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ عِنْدَهُمْ رَجُلٌ مَجْنُونٌ مُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ أَهْلُهُ: إِنَّا حُدِّثْنَا أَنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ فَهَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تُدَاوِيهِ، فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ فَأَعْطَوْنِي مِائَةَ شَاةٍ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: هَلْ إِلَّا هَذَا"، وَقَالَ مُسَدَّدٌ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: هَلْ قُلْتَ غَيْرَ هَذَا؟، قُلْتُ: لَا، قَالَ: خُذْهَا فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ، لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ.
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، پھر لوٹ کر جب آپ کے پاس سے جانے لگے تو ایک قوم پر سے گزرے جن میں ایک شخص دیوانہ تھا زنجیر سے بندھا ہوا تھا تو اس کے گھر والے کہنے لگے کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ کے یہ ساتھی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) خیر و بھلائی لے کر آئے ہیں تو کیا آپ کے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس شخص کا علاج کریں؟ میں نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کر دیا تو وہ اچھا ہو گیا، تو ان لوگوں نے مجھے سو بکریاں دیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے صرف یہی سورت پڑھی ہے؟۔ (مسدد کی ایک دوسری روایت میں: «هل إلا هذا» کے بجائے: «هل قلت غير هذا» ہے یعنی کیا تو نے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں پڑھا؟) میں نے عرض کیا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے لو، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو ناجائز جھاڑ پھونک کی روٹی کھاتے ہیں اور تم نے تو جائز جھاڑ پھونک پر کھایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3896]
جناب خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا (علاقہ بن صحار سلیطی التمیمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسلام قبول کیا۔ پھر واپس لوٹے تو ایک قوم کے پاس سے گزرے، ان کے ہاں ایک مجنون آدمی تھا جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کے گھر والوں نے ان سے کہا: تحقیق ہمیں خبر ملی ہے کہ تمہارا یہ صاحب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) خیر کے ساتھ آیا ہے۔ تو کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس کا علاج کر دو؟ چنانچہ میں نے اس کو سورۂ فاتحہ سے دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا۔ پھر انہوں نے مجھے سو بکریاں دیں تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا بس یہی؟ مسدد نے دوسرے موقع پر کہا: کیا تم نے اس کے علاوہ بھی کچھ پڑھا تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لے لو۔ قسم میری عمر کی! لوگ باطل دم جھاڑ سے کھاتے ہیں، جبکہ تم ایسے دم سے کھا رہے ہو جو حق ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم:(3420)، (تحفة الأشراف: 11011) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3897
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ مَرَّ قَالَ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ، ثُمَّ تَفَلَ فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطَوْهُ شَيْئًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُسَدَّدٍ.
خارجہ بن صلت سے روایت ہے، وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (کچھ لوگوں پر سے) گزرے (ان میں ایک دیوانہ شخص تھا) جس پر وہ صبح و شام فاتحہ پڑھ کر تین دن تک دم کرتے رہے، جب سورۃ فاتحہ پڑھ چکتے تو اپنا تھوک جمع کر کے اس پر تھو تھو کر دیتے، پھر وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی رسیوں میں جکڑا ہوا کھل جائے، تو ان لوگوں نے ایک چیز دی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے وہی بات ذکر کی جو مسدد کی حدیث میں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3897]
جناب خارجہ بن صلت اپنے چچا (سیدنا علاقہ بن صحار سلیطی التمیمی رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایک قوم کے پاس سے گزرے (اور ایک مریض کو) تین دن تک صبح و شام سورۃ فاتحہ سے دم کرتے رہے۔ جب وہ اسے پوری پڑھ لیتے تو اپنا لعاب جمع کر کے مریض پر پھونک دیتے۔ اس سے وہ گویا اپنے بندھن سے کھل گیا۔ اس پر ان لوگوں نے ان کو کچھ مال دیا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر مذکورہ بالا حدیث مسدد کی مانند روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3420)، (تحفة الأشراف: 11011) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3420)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3898
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مَنْ أَسْلَمَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لُدِغْتُ اللَّيْلَةَ فَلَمْ أَنَمْ حَتَّى أَصْبَحْتُ، قَالَ:" مَاذَا؟" قَالَ: عَقْرَبٌ، قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ تَضُرَّكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ".
ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص سے سنا: اس نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آج رات مجھے کسی چیز نے کاٹ لیا تو رات بھر نہیں سویا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے؟ اس نے عرض کیا: بچھو نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اگر تم شام کو یہ دعا پڑھ لیتے: «أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق» میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے تو ان شاءاللہ (اللہ چاہتا تو) وہ تم کو نقصان نہ پہنچاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3898]
جناب سہیل بن ابوصالح رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے قبیلہ اسلم کے ایک شخص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی آئے اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج رات ڈنک لگنے کی وجہ سے میں صبح تک سو نہیں سکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ بچھو تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم شام کے وقت یہ دعا پڑھ لیتے: «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» میں اللہ کے کامل کلمات کے ساتھ پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی ہے۔ تو تمہیں ان شاء اللہ کوئی ضرر نہ پہنچتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3898]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15564)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/448، 5/430) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3899
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَارِقٍ يَعْنِي ابْنَ مَخَاشِنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَدِيغٍ لَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ، قَالَ: فَقَالَ:" لَوْ قَالَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يُلْدَغْ أَوْ لَمْ يَضُرَّهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جسے بچھو نے کاٹ لیا تھا تو آپ نے فرمایا: اگر وہ یہ دعا پڑھ لیتا: «أعوذ بكلمات الله التامة من شر ما خلق» میں اللہ کے کامل کلمات کی پناہ چاہتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کی برائی سے تو وہ نہ کاٹتا یا اسے نقصان نہ پہنچاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3899]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جسے بچھو نے ڈنک مارا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے «أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ» میں اللہ کے کامل کلمات کے ساتھ پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا فرمائی ہے۔ کے کلمات پڑھے ہوتے تو اسے ڈنک نہ لگتا۔ یا فرمایا: اسے دکھ نہ پہنچتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13516)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب 35 (3518)، مسند احمد (2/375) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی طارق لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الزھري صرح بالسماع عند النسائي في الكبريٰ (10434) وعمل اليوم والليلة (598)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3900
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،" أَنَّ رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا، فَنَزَلُوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَيْءٌ يَنْفَعُ صَاحِبَنَا؟، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: نَعَمْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْقِي وَلَكِنِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا مَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّى تَجْعَلُوا لِي جُعْلًا فَجَعَلُوا لَهُ قَطِيعًا مِنَ الشَّاءِ، فَأَتَاهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ أُمَّ الْكِتَابِ وَيَتْفُلُ حَتَّى بَرَأَ كَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ، قَالَ: فَأَوْفَاهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ، فَقَالُوا: اقْتَسِمُوا، فَقَالَ: الَّذِي رَقَى لَا تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَسْتَأْمِرَهُ فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَيْنَ عَلِمْتُمْ أَنَّهَا رُقْيَةٌ أَحْسَنْتُمُ اقْتَسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور وہ عرب کے قبیلوں میں سے ایک قبیلہ میں اتری، ان میں سے بعض نے آ کر کہا: ہمارے سردار کو بچھو یا سانپ نے کاٹ لیا ہے، کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو انہیں فائدہ دے؟ تو ہم میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں قسم اللہ کی میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں لیکن ہم نے تم سے ضیافت کے لیے کہا تو تم نے ہماری ضیافت سے انکار کیا، اس لیے اب میں اس وقت تک جھاڑ پھونک نہیں کر سکتا جب تک تم مجھے اس کی اجرت نہیں دو گے، تو انہوں نے ان کے لیے بکریوں کا ایک ریوڑ اجرت ٹھہرائی، چنانچہ وہ آئے اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر اس پر دم کرنے لگے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو گیا گویا وہ رسی سے بندھا ہوا تھا چھوٹ گیا، پھر ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی پوری ادا کر دی، لوگوں نے کہا: اسے آپس میں تقسیم کر لو، تو جس نے جھاڑ پھونک کیا تھا وہ بولا: اس وقت تک ایسا نہ کرو جب تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے اجازت نہ لے لیں، چنانچہ وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کہاں سے معلوم ہوا کہ یہ منتر ہے؟ تم نے بہت اچھا کیا، تم اسے آپس میں تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا بھی ایک حصہ لگانا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3900]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: مت کرو حتیٰ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچیں گے اور آپ سے مشورہ کریں گے۔ چنانچہ وہ اگلی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور سارا قصہ بیان کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کہاں سے خبر ملی تھی کہ یہ دم ہے؟ تم نے خوب کیا، انہیں آپس میں تقسیم کر لو اور میرا حصہ بھی رکھو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإجارة 16 (2276)، الطب 33 (5736)، صحیح مسلم/السلام 23 (2201)، سنن الترمذی/الطب20 (2063)، سنن ابن ماجہ/التجارات 7 (2156)، (تحفة الأشراف: 4249، 4307)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/44) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2276) صحيح مسلم (2201)
وانظر الحديث السابق (3418)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3901
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ:" أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا عَلَى حَيٍّ مِنْ الْعَرَبِ، فَقَالُوا: إِنَّا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ، فَهَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ دَوَاءٍ أَوْ رُقْيَةٍ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُودِ؟، قَالَ: فَقُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: فَجَاءُوا بِمَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمْتُهَا أَجْمَعُ بُزَاقِي، ثُمَّ أَتْفُلُ فَكَأَنَّمَا نَشَطَ مِنْ عِقَالٍ، قَالَ: فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا، فَقُلْتُ: لَا حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُلْ فَلَعَمْرِي مَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ".
خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے اور عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے تو وہ لوگ کہنے لگے: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اس شخص کے پاس سے آ رہے ہیں جو خیر و بھلائی لے کر آیا ہے تو کیا آپ کے پاس کوئی دوا یا منتر ہے؟ کیونکہ ہمارے پاس ایک دیوانہ ہے جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، ہم نے کہا: ہاں، تو وہ اس پاگل کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا لے کر آئے، میں اس پر تین دن تک سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرتا رہا، وہ اچھا ہو گیا جیسے کوئی قید سے چھوٹ گیا ہو، پھر انہوں نے مجھے اس کی اجرت دی، میں نے کہا: میں نہیں لوں گا جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: کھاؤ، قسم ہے میری عمر کی لوگ تو جھوٹا منتر کر کے کھاتے ہیں تم نے تو جائز منتر کر کے کھایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3901]
جناب خارجہ بن صلت تمیمی اپنے چچا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے روانہ ہوئے اور ایک عرب قبیلہ کے ہاں پڑاؤ کیا۔ انہوں نے کہا: تحقیق ہمیں خبر ملی ہے کہ تم اس آدمی کے پاس سے کوئی خیر لے کر آئے ہو، تو کیا تمہارے پاس کوئی دوا یا دم ہے کہ ہمارے ہاں ایک مجنون ہے جو زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے؟ ہم نے کہا: ہاں۔ چنانچہ وہ اس مجنون کو، جو زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، لے آئے۔ میں اس پر تین روز تک صبح شام سورۃ فاتحہ پڑھتا رہا۔ جب میں سورت مکمل کرتا، تو اپنا لعاب جمع کرتا اور اس پر پھونک دیتا تھا۔ اس نے کہا: پھر گویا کہ وہ اپنے بندھن سے کھل گیا۔ اور انہوں نے مجھے اس کا عوضانہ دیا۔ میں نے کہا: نہیں، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھا لو۔ میری عمر کی قسم! لوگ تو باطل دموں کا عوض کھاتے ہیں اور تم حق دم کا بدل کھا رہے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم:(3420)، (تحفة الأشراف: 11011) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3420)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3902
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا اشْتَكَى: يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَيَنْفُثُ، فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَأَمْسَحُ عَلَيْهِ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو آپ اپنے اوپر معوذات پڑھ کر دم فرماتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف بڑھ گئی تو میں اسے آپ پر پڑھ کر دم کرتی اور برکت کی امید سے آپ کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3902]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہو جاتے تو معوذات « ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] ، ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] ، ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] » پڑھ کر اپنے اوپر پھونک لیتے تھے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف بڑھ گئی تو میں انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑھتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر آپ کے جسم پر پھیرتی اس امید سے کہ ان میں برکت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3902]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/فضائل القرآن 14 (5016)، صحیح مسلم/السلام 20 (2192)، سنن ابن ماجہ/الطب 38 (3529)، (تحفة الأشراف: 16589)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 4 (10)، مسند احمد (6/104، 181، 256، 263) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5016) صحيح مسلم (2192)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. باب فِي السُّمْنَةِ
باب: کسی نحیف کو موٹا کرنے کی تدبیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3903
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَيَّارٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" أَرَادَتْ أُمِّي أَنْ تُسَمِّنَنِي لِدُخُولِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَقْبَلْ عَلَيْهَا بِشَيْءٍ مِمَّا تُرِيدُ حَتَّى أَطْعَمَتْنِي الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ فَسَمِنْتُ عَلَيْهِ كَأَحْسَنِ السَّمَنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میری والدہ نے چاہا کہ میں قدرے موٹی ہو جاؤں تاکہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بھیجا جا سکے۔ مگر مجھے ان کی حسب منشا کسی چیز سے فائدہ نہ ہوا حتیٰ کہ انہوں نے مجھے ککڑی اور کھجور ملا کر کھلائی تو اس سے میں خوب موٹی ہو گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3903]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میری والدہ نے چاہا کہ میں قدرے موٹی ہو جاؤں تاکہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بھیجا جا سکے۔ مگر مجھے ان کی حسب منشا کسی چیز سے فائدہ نہ ہوا حتیٰ کہ انہوں نے مجھے ککڑی اور کھجور ملا کر کھلائی تو اس سے میں خوب موٹی تازی ہو گئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17182)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الاطعمة 37 (3324)، سنن النسائی/الکبری (6725) (صحيح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه ابن ماجه (3324 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں