سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب فِي الرَّجُلِ يَتَدَاوَى
باب: دوا علاج کرانے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3855
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرُ، فَسَلَّمْتُ ثُمَّ قَعَدْتُ، فَجَاءَ الْأَعْرَابُ مِنْ هَا هُنَا وَهَهُنَا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَدَاوَى؟، فَقَالَ: تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ الْهَرَمُ".
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ کے اصحاب اس طرح (بیٹھے) تھے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں، تو میں نے سلام کیا پھر میں بیٹھ گیا، اتنے میں ادھر ادھر سے کچھ دیہاتی آئے اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم دوا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوا کرو اس لیے کہ اللہ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی ہے جس کی دوا نہ پیدا کی ہو، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3855]
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا (تو دیکھا کہ) آپ کے صحابہ (آپ کی مجلس میں) ایسے بیٹھے تھے گویا ان کے سروں پر پرندے ہوں، (یعنی انتہائی باادب اور پرسکون تھے) چنانچہ میں نے سلام کیا اور بیٹھ گیا۔ ادھر ادھر سے بدوی لوگ آئے اور انہوں نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہم دوا دارو کر لیا کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوا کیا کرو، بلاشبہ اللہ عزوجل نے کوئی بیماری پیدا نہیں کی مگر اس کی دوا بھی پیدا کی ہے، سوائے ایک بیماری کے یعنی بڑھاپا (اس کا کوئی علاج نہیں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «* تخريج:سنن النسائی/الکبری الطب، 43 (7553)، سنن الترمذی/الطب 2 (2038)، سنن ابن ماجہ/الطب 1 (3436)، (تحفة الأشراف: 127)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/278) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4532، 5078، 5079)
رواه ابن الترمذي (2038 وسنده صحيح) وابن ماجه (3436 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (4532، 5078، 5079)
رواه ابن الترمذي (2038 وسنده صحيح) وابن ماجه (3436 وسنده صحيح)
2. باب فِي الْحِمْيَةِ
باب: کھانے میں پرہیزی اور احتیاط کا بیان۔
حدیث نمبر: 3856
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، وَأَبُو عَامِرٍ، وَهَذَا لَفْظُ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ أُمِّ الْمُنْذِرِ بِنْتِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ رَضَي اللهُ عَنْهُ، وَعَلِيٌّ نَاقِهٌ وَلَنَا دَوَالِي مُعَلَّقَةٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مِنْهَا، وَقَامَ عَلِيٌّ لِيَأْكُلَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ: مَهْ إِنَّكَ نَاقِهٌ، حَتَّى كَفَّ عَلِيٌّ رَضَي اللهُ عَنْهُ، قَالَتْ: وَصَنَعْتُ شَعِيرًا وَسِلْقًا، فَجِئْتُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَلِيُّ أَصِبْ مِنْ هَذَا فَهُوَ أَنْفَعُ لَكَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ هَارُونُ الْعَدَوِيَّةَ.
ام منذر بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ کے ساتھ علی رضی اللہ عنہ تھے، ان پر کمزوری طاری تھی ہمارے پاس کھجور کے خوشے لٹک رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر انہیں کھانے لگے، علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”ٹھہرو (تم نہ کھاؤ) کیونکہ تم ابھی کمزور ہو“ یہاں تک کہ علی رضی اللہ عنہ رک گئے، میں نے جو اور چقندر پکایا تھا تو اسے لے کر میں آپ کے پاس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علی! اس میں سے کھاؤ یہ تمہارے لیے مفید ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہارون کی روایت میں «انصاریہ» کے بجائے «عدویہ» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3856]
سیدہ ام منذر (ام منذر سلمیٰ بنت قیس انصاریہ) بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے جو بیماری سے اٹھے تھے اور کمزور تھے۔ ہمارے ہاں کھجوروں کے خوشے لٹک رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ان سے کھانے لگے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی کھانے کے لیے اٹھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: «مَهْ مَهْ يَا عَلِيُّ، فَإِنَّكَ نَاقِهٌ» ”رک جاؤ! تم ابھی کمزور ہو۔“ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ (کھانے سے) رکے رہے۔ ام منذر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے جَو اور چقندر پکائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «يَا عَلِيُّ، مِنْ هَذَا فَأَصِبْ، فَإِنَّهُ أَوْفَقُ لَكَ» ”علی! لو یہ تمہارے لیے مفید ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: (میرے شیخ) ہارون (ہارون بن عبداللہ) نے (اپنے شیخ) ابوداود سے ام منذر کے بارے میں نقل کیا کہ یہ ”عدویہ“ (بنو عدی کی خاتون) ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/ الطب 1 (3037)، سنن ابن ماجہ/الطب 3 (3442)، (تحفة الأشراف: 18362)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/363، 364) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (2037 وسنده حسن) وابن ماجه (3442 وسنده حسن)
أخرجه الترمذي (2037 وسنده حسن) وابن ماجه (3442 وسنده حسن)
3. باب فِي الْحِجَامَةِ
باب: سینگی (پچھنا) لگوانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3857
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جن دواؤں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی میں خیر (بھلائی) ہے تو وہ سینگی (پچھنے) لگوانا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3857]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری دواؤں میں جن سے تم علاج کرتے ہو، اگر کوئی بہتر دوا ہے تو (ان میں سے ایک) سینگی لگوانا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 1(2037)، سنن ابن ماجہ/الطب 20 (3476)، (تحفة الأشراف: 15011)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/342، 423) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (3476 وسنده حسن)
أخرجه ابن ماجه (3476 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3858
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي، حَدَّثَنَا فَائِدٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ مَوْلَاهُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" مَا كَانَ أَحَدٌ يَشْتَكِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا فِي رَأْسِهِ إِلَّا قَالَ: احْتَجِمْ، وَلَا وَجَعًا فِي رِجْلَيْهِ إِلَّا قَالَ: اخْضِبْهُمَا".
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ سلمی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جو شخص بھی اپنے سر درد کی شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا آپ اسے فرماتے: ”سینگی لگواؤ“ اور جو شخص اپنے پیروں میں درد کی شکایت لے کر آتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے: ”ان میں خضاب (مہندی) لگاؤ“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3858]
سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا (زوجہ ابورافع رضی اللہ عنہ) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں، بیان کرتی ہیں کہ جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سر درد کی شکایت لے کر آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے فرماتے: ”سینگی لگواؤ“ اور جو کوئی پاؤں کے درد کی تکلیف بتاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”مہندی لگاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 13 (2054)، سنن ابن ماجہ/الطب 29 (3502)، (تحفة الأشراف: 15893)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/462) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2054) ابن ماجه (3502)
عبيد اللّٰه بن علي : لين الحديث (تق: 4322)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137
إسناده ضعيف
ترمذي (2054) ابن ماجه (3502)
عبيد اللّٰه بن علي : لين الحديث (تق: 4322)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137
4. باب فِي مَوْضِعِ الْحِجَامَةِ
باب: سینگی (پچھنا) لگانے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3859
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، قَالَ كَثِيرٌ إِنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَحْتَجِمُ عَلَى هَامَتِهِ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: مَنْ أَهْرَاقَ مِنْ هَذِهِ الدِّمَاءِ فَلَا يَضُرُّهُ أَنْ لَا يَتَدَاوَى بِشَيْءٍ لِشَيْءٍ".
ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر اور اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان سینگی (پچھنے) لگواتے اور فرماتے: ”جو ان جگہوں کا خون نکلوالے تو اسے کسی بیماری کی کوئی دوا نہ کرنے سے کوئی نقصان نہ ہو گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3859]
سیدنا ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے بالائی حصے اور دونوں کندھوں کے درمیان سینگی لگوایا کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”جس کسی نے ان مقامات سے خون کے کچھ حصے بہا دیے تو وہ کسی بیماری کے لیے کوئی اور دوا نہ بھی لے تو اسے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطب 21 (3484)، (تحفة الأشراف: 12143) (ضعیف) (الضعیفة: 1867، وتراجع الألباني: 194)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3484)
الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3484)
الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 137
حدیث نمبر: 3860
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ ثَلَاثًا فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ"، قَالَ مُعَمَّرٌ: احْتَجَمْتُ فَذَهَبَ عَقْلِي حَتَّى كُنْتُ أُلَقَّنُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي صَلَاتِي وَكَانَ احْتَجَمَ عَلَى هَامَتِهِ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کے دونوں پٹھوں میں اور دونوں کندھوں کے بیچ میں تین پچھنے لگوائے۔ ایک بوڑھے کا بیان ہے: میں نے پچھنا لگوائے تو میری عقل جاتی رہی یہاں تک کہ میں نماز میں سورۃ فاتحہ لوگوں کے بتانے سے پڑھتا، بوڑھے نے پچھنا اپنے سر پر لگوایا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3860]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”تین مرتبہ سینگی لگوائی گردن کی دونوں جانب کی رگوں پر اور کندھوں کے درمیان (کمر کے اوپر شروع میں)۔“ معمر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے سینگی لگوا لی تو میرا حافظہ جاتا رہا حتیٰ کہ مجھے نماز میں فاتحہ پڑھنے میں بھی لقمہ دیا جاتا تھا۔“ انہوں نے اپنی کھوپڑی پر (غلط جگہ پر) سینگی لگوائی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطب 12 (2051)، سنن ابن ماجہ/الطب 21 (3483)، (تحفة الأشراف: 1147)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 192) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2051) ابن ماجه (3483)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
إسناده ضعيف
ترمذي (2051) ابن ماجه (3483)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
5. باب مَتَى تُسْتَحَبُّ الْحِجَامَةُ
باب: کب پچھنا لگوانا مستحب ہے؟
حدیث نمبر: 3861
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ احْتَجَمَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ، وَتِسْعَ عَشْرَةَ، وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ، كَانَ شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سترہویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو پچھنا لگوائے تو اسے ہر بیماری سے شفاء ہو گی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3861]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سترہ، انیس اور اکیس تاریخ (قمری) کو سینگی لگوائے اسے ہر بیماری سے شفا ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12658) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4548)
مشكوة المصابيح (4548)
حدیث نمبر: 3862
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَخْبَرَتْنِي عَمَّتِي كَبْشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ، وَقَالَ غَيْرُ مُوسَى: كَيِّسَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ أَبَاهَا كَانَ" يَنْهَى أَهْلَهُ عَنِ الْحِجَامَةِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ، وَيَزْعُمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ يَوْمُ الدَّمِ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَرْقَأُ".
کبشہ بنت ابی بکرہ نے خبر دی ہے ۱؎ کہ ان کے والد اپنے گھر والوں کو منگل کے دن پچھنا لگوانے سے منع کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے: ”منگل کا دن خون کا دن ہے اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون بہنا بند نہیں ہوتا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3862]
سیدہ کیسہ بنت ابی بکرہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ منگل کے روز سینگی لگوانے سے منع کیا کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”منگل کا دن خون کا دن ہے، اس میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ اس میں خون نہیں رکتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11707) (ضعیف)» (کبشہ یا کیسہ مجہول ہے)
وضاحت: ۱؎: اور موسی کے علاوہ دوسرے لوگوں کی روایت میں «کبشہ» کے بجائے «کیّسہ» ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
كيسة عمة بكار : لا يعرف حالھا (تق : 8675) والحديث ضعفه البيهقي (340/9)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
إسناده ضعيف
كيسة عمة بكار : لا يعرف حالھا (تق : 8675) والحديث ضعفه البيهقي (340/9)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
6. باب فِي قَطْعِ الْعِرْقِ وَمَوْضِعِ الْحَجْمِ
باب: رگ کاٹنے (فصد کھولنے) اور پچھنا لگانے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3863
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ عَلَى وِرْكِهِ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنی سرین پر پچھنے لگوائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3863]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درد کی وجہ سے اپنی سرین پر سینگی لگوائی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2978)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب 21 (3485)، مسند احمد (3053، 357، 382) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2851) ابن ماجه (3082)
أبو الزبير عنعن
والحديث السابق (الأصل : 1836) يغني عنه
وانظر الحديث السابق (1837)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
إسناده ضعيف
نسائي (2851) ابن ماجه (3082)
أبو الزبير عنعن
والحديث السابق (الأصل : 1836) يغني عنه
وانظر الحديث السابق (1837)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 138
حدیث نمبر: 3864
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُبَيٍّ طَبِيبًا فَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک طبیب بھیجا تو اس نے ان کی ایک رگ کاٹ دی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3864]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف ایک معالج بھیجا جس نے ان کی رگ کاٹی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/السلام 26 (2207)، سنن ابن ماجہ/الطب 24 (3493)، (تحفة الأشراف: 2296)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/303، 304، 315، 371) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی طبیب کو اختیار ہے کہ اپنے تجربہ سے جہاں بہتر سمجھے وہاں کی رگ کاٹے، تو اس طبیب نے ان کی بابت یہی بہتر سمجھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2207)