سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ
باب: امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4341
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ثَعْلَبَةَ كَيْفَ تَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ سورة المائدة آية 105، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ، فَعَلَيْكَ يَعْنِي بِنَفْسِكَ وَدَعْ عَنْكَ الْعَوَامَّ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ الصَّبْرُ فِيهِ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِمْ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ وَزَادَنِي غَيْرُهُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ قَالَ: أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ".
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ابوثعلبہ! آپ آیت کریمہ «عليكم أنفسكم» کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! تم نے اس کے متعلق ایک جانکار شخص سے سوال کیا ہے، میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (کہ کیا اس آیت کی رو سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت باقی نہیں رہی؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے روکو، یہاں تک کہ تم یہ نہ دیکھ لو کہ بخیلی کی تابعداری ہو رہی ہو اور خواہش نفس کی پیروی کی جاتی ہو اور دنیا کو ترجیح دیا جاتا ہو اور ہر صاحب رائے کا اپنی رائے میں مگن ہونا دیکھ لو، تو اس وقت تم اپنی ذات کو لازم پکڑنا اور عوام کو چھوڑ دینا کیونکہ اس کے بعد صبر کے دن ہوں گے ان میں صبر کرنا ایسے ہی ہو گا جیسے چنگاری ہاتھ میں لینا، ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر جو اسی جیسا عمل کرتے ہوں ثواب ملے گا“ اور ان کے علاوہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ ثواب ایسے پچاس شخصوں کا ہو گا جو انہیں میں سے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ تم میں سے پچاس شخصوں کا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4341]
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”اے ابوثعلبہ! آپ اس آیت کریمہ ﴿عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] کے سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! تم نے اس کے متعلق فی الواقع صاحب علم و خبر سے پوچھا ہے۔ میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”بلکہ تمہیں چاہیے کہ نیکی کا حکم دیے جاؤ اور برائی سے روکتے رہو حتیٰ کہ جب دیکھو کہ حرص اور بخیلی کی اتباع ہونے لگی ہے، لوگ خواہشات نفسانی کے درپے ہو گئے ہیں اور دنیا ہی کو ترجیح دینے لگے ہیں (آخرت کو بھول گئے ہیں) اور ہر رائے والا اپنی رائے اور بات ہی کو ترجیح دیتا ہے (اس پر خوش اور اصرار کرتا ہے) تو پھر اپنے آپ کو لازم پکڑ لو اور عوام کی فکر چھوڑ دو (دوسروں کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں دے گی)۔ بلاشبہ تمہارے بعد صبر کے دن آنے والے ہیں، ان میں (دین و شریعت پر) صبر کرنا (اس پر ثابت قدم رہنا) ایسے ہوگا جیسے آگ کا انگارہ پکڑنا۔ ان لوگوں میں (دین کے تقاضوں پر) عمل کرنے والے کو اس جیسے پچاس عاملوں کا ثواب ملے گا۔““ (عبداللہ بن مبارک نے کہا کہ عتبہ کے علاوہ) مجھے دوسرے نے بتایا کہ سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ان لوگوں میں سے پچاس عاملوں کے برابر ثواب ملے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پچاس عاملوں کے برابر۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن سورة المائدة 18 (3058)، سنن ابن ماجہ/الفتن 21 (4014)، (تحفة الأشراف: 11881) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن فقرة أيام الصبر ثابتة
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (3058 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (4014 وسنده حسن)
أخرجه الترمذي (3058 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (4014 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4342
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَيْفَ بِكُمْ وَبِزَمَانٍ أَوْ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ زَمَانٌ يُغَرْبَلُ النَّاسُ فِيهِ غَرْبَلَةً تَبْقَى حُثَالَةٌ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ وَاخْتَلَفُوا، فَكَانُوا هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، فَقَالُوا: وَكَيْفَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ وَتَذَرُونَ مَا تُنْكِرُونَ وَتُقْبِلُونَ عَلَى أَمْرِ خَاصَّتِكُمْ وَتَذَرُونَ أَمْرَ عَامَّتِكُمْ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا؟“ یا آپ نے یوں فرمایا: ”عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ چھن اٹھیں گے، اچھے لوگ سب مر جائیں گے، اور کوڑا کرکٹ یعنی برے لوگ باقی رہ جائیں گے، ان کے عہد و پیمان اور ان کی امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا (یعنی لوگ بدعہدی اور امانتوں میں خیانت کریں گے) آپس میں اختلاف کریں گے اور اس طرح ہو جائیں گے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا، تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت ہم کیا کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بات تمہیں بھلی لگے اسے اختیار کرو، اور جو بری لگے اسے چھوڑ دو، اور خاص کر اپنی فکر کرو، عام لوگوں کی فکر چھوڑ دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اس سند کے علاوہ سے بھی مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4342]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس زمانے میں کیا حال ہو گا؟“ یا فرمایا: ”عنقریب ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ لوگوں کو خوب چھان لیا جائے گا (اہل ایمان اور اچھے آدمی اٹھا لیے جائیں گے) اور چھان بورا باقی رہ جائے گا (بےدین اور رذیل لوگ باقی رہ جائیں گے) جن کے عہد و مواعید میں بے وفائی اور امانتوں میں خیانت ہو گی اور ان میں اس طرح سے اختلاف ہو جائے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری کے اندر ڈال کر دکھایا۔ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! تو ہم کیا کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نیکی ہو اس پر عمل پیرا ہونا اور جو برائی ہو اس سے دور رہنا اور خاص اپنی اصلاح کی فکر کرنا اور اپنے عام لوگوں کو چھوڑ دینا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی سندوں سے وارد ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الفتن 10 (3957)، (تحفة الأشراف: 8893)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 88 (480)، مسند احمد (2/212) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (3957 وسنده حسن)
أخرجه ابن ماجه (3957 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4343
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ أَبِي الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ،حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ ذَكَرَ الْفِتْنَةَ، فَقَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ النَّاسَ قَدْ مَرِجَتْ عُهُودُهُمْ وَخَفَّتْ أَمَانَاتُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: كَيْفَ أَفْعَلُ عِنْدَ ذَلِكَ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ؟ قَالَ: الْزَمْ بَيْتَكَ وَامْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَخُذْ بِمَا تَعْرِفُ وَدَعْ مَا تُنْكِرُ وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَامَّةِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فتنہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم لوگوں کو دیکھو کہ ان کے عہد فاسد ہو گئے ہوں، اور ان سے امانتداریاں کم ہو گئیں ہوں“ اور آپ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا کہ ان کا حال اس طرح ہو گیا ہو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: یہ سن کر میں آپ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا، اور میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر قربان فرمائے! ایسے وقت میں میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر کو لازم پکڑنا، اور اپنی زبان پر قابو رکھنا، اور جو چیز بھلی لگے اسے اختیار کرنا، اور جو بری ہو اسے چھوڑ دینا، اور صرف اپنی فکر کرنا عام لوگوں کی فکر چھوڑ دینا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4343]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم دیکھو کہ لوگ اپنے عہد و مواعید میں بے وفائی کرنے لگے ہیں، امانتوں کا معاملہ انتہائی خفیف اور ضعیف ہو گیا ہے (لوگ خائن بن گئے ہیں) اور ان کی آپس کی حالت اس طرح ہو گئی ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر ڈال کر دکھایا (اختلافات بہت بڑھ گئے ہیں)۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہو گیا اور عرض کیا: ”اللہ مجھے آپ پر فدا ہونے والا بنائے! میں ان حالات میں کیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر کو لازم پکڑنا، اپنی زبان کا مالک بن جانا (خاموش رہنا) اور نیکی پر عمل کرنا اور برائی سے بچنا اور اپنی ذات کی فکر کرنا اور عام لوگوں کی فکر چھوڑ دینا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8892)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/212) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 4344
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ أَوْ أَمِيرٍ جَائِرٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ یا ظالم حاکم کے پاس انصاف کی بات کہنی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4344]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ انسان جابر حاکم یا ظالم امیر کے سامنے حق و انصاف کا کلمہ کہہ گزرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 12 (2174)، سنن ابن ماجہ/الفتن 20 (4011)، (تحفة الأشراف: 4234) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3705)
وللحديث شواھد عند ابن ماجه (4012 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3705)
وللحديث شواھد عند ابن ماجه (4012 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الْمُوصِلِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ الْعُرْسِ ابْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الْأَرْضِ كَانَ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا، وَقَالَ: مَرَّةً أَنْكَرَهَا كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا".
عرس بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمین پر گناہ کے کام کئے جاتے ہوں تو جو شخص وہاں حاضر رہا اور اسے ناپسند کیا یا برا جانا اس کی مثال اس شخص کے مانند ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہ ہو، اور جو شخص وہاں حاضر نہ تھا لیکن اسے پسند کیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو وہاں حاضر تھا“ (یعنی اسے بھی گناہ سے رضا مندی کے باعث گناہ ملے گا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4345]
جناب عرس بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زمین میں کوئی خطا اور نافرمانی کی جائے تو اس میں حاضر اور موجود شخص نے اس کو برا جانا اور اس کا انکار کیا، تو وہ ایسے ہوگا جیسے اس معصیت سے غائب اور دور رہا، لیکن جو غائب اور دور تھا مگر اس نافرمانی کو اس نے پسند کیا، تو وہ ایسے ہوگا جیسے کہ اس میں حاضر اور موجود تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9894) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5141)
مشكوة المصابيح (5141)
حدیث نمبر: 4346
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ مُغِيرَةَ ابْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، قَالَ: مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا.
عدی بن عدی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے اس کو دیکھا اور ناپسند کیا وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4346]
سیدنا عدی بن عدی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا۔ کہا: ”جو اس میں حاضر تھا مگر اس نے اسے مکروہ اور ناپسند جانا تو وہ ایسے ہوا جیسے کہ اس سے غائب اور دور رہا ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9894، 19006) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (4345) والآتي (4347)
انظر الحديث السابق (4345) والآتي (4347)
حدیث نمبر: 4347
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ وَقَالَ سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَنْ يَهْلَكَ النَّاسُ حَتَّى يَعْذِرُوا أَوْ يُعْذِرُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ".
ابوالبختری کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے، اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اس وقت تک ہلاک نہیں ہوں گے جب تک ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے یا وہ خود اپنا عذر زائل نہ کر لیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4347]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صحابی نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ اس وقت تک ہرگز ہلاک نہیں ہوں گے جب تک کہ ان کے گناہوں اور عیبوں کی کثرت نہ ہو جائے یا ان کا کوئی عذر باقی نہ رہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15580)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/260، 5/293) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5146)
مشكوة المصابيح (5146)
18. باب قِيَامِ السَّاعَةِ
باب: قیامت آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4348
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ، أن عبد الله بن عمر، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ، فَقَالَ:" أَرَأَيْتُكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ عَنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يُرِيدُ بِأَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری عمر میں ایک رات ہمیں عشاء پڑھائی، پھر جب سلام پھیرا تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”تمہیں پتا ہے، آج کی رات کے سو سال بعد اس وقت جتنے آدمی اس روئے زمین پر ہیں ان میں سے کوئی بھی (زندہ) باقی نہیں رہے گا“ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سو سال کے بعد کے متعلق احادیث بیان کرنے میں غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ سو برس بعد قیامت آ جائے گی، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ آج روئے زمین پر جتنے لوگ زندہ ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہ رہے گا مطلب یہ تھا کہ یہ نسل ختم ہو جائے گی، اور دوسری نسل آ جائے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4348]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری ایام میں ہمیں ایک دن عشاء کی نماز پڑھائی۔ جب سلام پھیرا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ”دیکھو کہ تمہاری اس رات میں اب جو کوئی روئے زمین پر موجود ہے، سو سال کے بعد ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔“ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بارے میں وہم میں پڑ گئے ہیں۔ یعنی یہ احادیث جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سو سال کے بارے میں روایت کرتے ہیں (کہ شاید سو سال بعد قیامت ہی آ جائے گی انہوں نے کہا) حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف یہ فرمایا تھا کہ ”آج جو روئے زمین پر موجود ہے، وہ باقی نہیں رہے گا۔“ مقصد یہ تھا کہ یہ صدی ختم ہو جائے گی۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4348]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/فضائل الصحابة 53 (2537)، سنن الترمذی/الفتن 64 (2251)، (تحفة الأشراف: 6934)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 41 (116)، مواقیت الصلاة 20 (601) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2537)
حدیث نمبر: 4349
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخَشَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلًّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَنْ يُعْجِزَ اللهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ".
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس امت کو قیامت کے دن کے آدھے دن سے کم باقی نہیں رکھے گا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4349]
سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس امت کو آدھے دن کی مہلت سے عاجز نہیں رکھے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4349]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11864)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/193) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ امت کم سے کم پانچ سو سال تک باقی رہے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4350
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّهَا أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفُ ذَلِكَ الْيَوْمِ؟ قَالَ: خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہو گی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے“۔ سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4350]
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ میری امت اپنے رب کے ہاں اس بات سے عاجز نہ ہو گی کہ وہ اسے آدھے دن تک مؤخر فرما دے۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ”آدھے دن کی مدت کس قدر ہے؟“ انہوں نے کہا: ”پانچ سو سال۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: 3864)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/170) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند منقطع
شريح بن عبيد لم يدرك سعدًا انظر تھذيب الكمال للمزي (3/ 380 تحقيق بشار عواد معروف)
وله شاھد ضعيف منقطع عند أحمد (170/1ح 1464)
وحديث أبي داود (4349 سنده صحيح) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
إسناده ضعيف
السند منقطع
شريح بن عبيد لم يدرك سعدًا انظر تھذيب الكمال للمزي (3/ 380 تحقيق بشار عواد معروف)
وله شاھد ضعيف منقطع عند أحمد (170/1ح 1464)
وحديث أبي داود (4349 سنده صحيح) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154