سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب فِي خَبَرِ ابْنِ صَائِدٍ
باب: ابن صیاد کا بیان۔
حدیث نمبر: 4331
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ الدَّجَّالُ، فَقُلْتُ: تَحْلِفُ بِاللَّهِ؟ فَقَالَ:" إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے، میں نے کہا: آپ اللہ کی قسم کھا رہے ہیں؟ تو بولے: میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسم کھاتے سنا ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان پر کوئی نکیر نہیں فرمائی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4331]
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ ”ابن صیاد ہی دجال ہے۔“ میں نے کہا: ”آپ اللہ کی قسم اٹھا کر کہتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قسم اٹھاتے تھے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر انکار نہیں فرمایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4331]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاعتصام 23 (7355)، صحیح مسلم/الفتن 19 (2929)، (تحفة الأشراف: 3019) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ تمیم داری رضی اللہ عنہ والے واقعہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں آنے سے پہلے کی بات ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7355) صحيح مسلم (2929)
حدیث نمبر: 4332
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" فَقَدْنَا ابْنَ صَيَّادٍ يَوْمَ الْحَرَّةِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابن صیاد ہم کو یوم حرہ ۱؎ کو غائب ملا۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4332]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”ہم نے حرہ والے دن ابن صیاد کو گم پایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4332]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود (صحیح الإسناد) (راجع الفتح/ الاعتصام: 23، و تحفة الأحوذي: 6/426)»
وضاحت: ۱؎: حرہ وہ واقعہ ہے جو مدینہ منورہ میں یزید کے لشکر کے ہاتھوں پیش آیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
حدیث نمبر: 4333
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ دَجَّالُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس دجال ظاہر نہ ہو جائیں، وہ سب یہی کہیں گے کہ میں اللہ کا رسول ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4333]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ تیس (انتہائی جھوٹے) دجال نہ آ جائیں، ہر ایک کا دعویٰ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14069)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/450، 457) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4334
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا دَجَّالًا كُلُّهُمْ يَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ وَعَلَى رَسُولِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ تیس جھوٹے دجال ظاہر نہ ہو جائیں، اور ان میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4334]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ تیس انتہائی جھوٹے فریبی (دجال) نہ آ جائیں۔ ان میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ بولتا ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4334]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15103)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/450، 527) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 4335
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُبَيْدَةُ السَّلْمَانِيُّ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَتَرَى هَذَا مِنْهُمْ يَعْنِي الْمُخْتَارَ؟ فَقَالَ عُبَيْدَةُ: أَمَا إِنَّهُ مِنَ الرُّءُوسِ.
ابراہیم کہتے ہیں: عبیدہ سلمانی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی تو میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ اسے یعنی مختار (ابن ابی عبید ثقفی) کو بھی انہیں دجالوں میں سے ایک سمجھتے ہیں تو عبیدہ کہنے لگے: وہ تو ان کا سردار ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4335]
عبیدہ سلمانی نے یہ روایت بیان کی اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا۔ ابراہیم بن یزید نخعی کہتے ہیں کہ ”میں نے عبیدہ سے کہا: کیا بھلا آپ مختار (مختار بن ابی عبید ثقفی) کو انہی میں سے سمجھتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”یہ تو ان سب کے سرداروں میں سے ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4335]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «* تخريج:تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18999) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مغيرة بن مقسم عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
إسناده ضعيف
مغيرة بن مقسم عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
17. باب الأَمْرِ وَالنَّهْىِ
باب: امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان۔
حدیث نمبر: 4336
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ الرَّجُلُ يَلْقَى الرَّجُلَ، فَيَقُولُ: يَا هَذَا اتَّقِ اللَّهَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَكَ، ثُمَّ يَلْقَاهُ مِنَ الْغَدِ فَلَا يَمْنَعُهُ ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَقَعِيدَهُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ ضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ، ثُمَّ قَالَ: لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ إِلَى قَوْلِهِ فَاسِقُونَ سورة المائدة آية 78 ـ 81 ثُمَّ قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى يَدَيِ الظَّالِمِ وَلَتَأْطُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ قَصْرًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا تو کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو تم کر رہے ہو اس سے باز آ جاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے درست نہیں ہے، پھر دوسرے دن اس سے ملتا تو اس کے ساتھ کھانے پینے اور اس کی ہم نشینی اختیار کرنے سے یہ چیزیں (غلط کاریاں) اس کے لیے مانع نہ ہوتیں، تو جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ نے بھی بعضوں کے دل کو بعضوں کے دل کے ساتھ ملا دیا“ پھر آپ نے آیت کریمہ «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم» سے لے کر۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے قول «فاسقون» ”بنی اسرائیل کے کافروں پر داود علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی زبانی لعنت کی گئی“ (سورۃ المائدہ: ۷۸) تک کی تلاوت کی، پھر فرمایا: ”ہرگز ایسا نہیں، قسم اللہ کی! تم ضرور اچھی باتوں کا حکم دو گے، بری باتوں سے روکو گے، ظالم کے ہاتھ پکڑو گے، اور اسے حق کی طرف موڑے رکھو گے اور حق و انصاف ہی پر اسے قائم رکھو گے“ یعنی زبردستی اسے اس پر مجبور کرتے رہو گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4336]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلا پہلا نقص اور عیب جو بنو اسرائیل میں داخل ہوا یہ تھا کہ ان میں سے کوئی دوسرے سے ملتا تو اسے کہتا تھا: ”ارے! اللہ سے ڈرو اور جو کر رہے ہو اس سے باز آ جاؤ، یہ تمہارے لیے حلال نہیں۔“ پھر اگلے دن ملتا تو اس کے لیے اس کا ہم نوالہ، ہم پیالہ اور ہم مجلس ہونے میں اسے کوئی رکاوٹ نہ ہوتی تھی۔ جب ان کا یہ حال ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایک دوسرے پر دے مارا (ان کے اندر اختلاف، تنازع اور بغض و حسد پیدا ہو گیا۔ ان میں سے اتفاق و اتحاد اور الفت اٹھا لی گئی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ﴾ [سورة المائدة: 78] ”بنی اسرائیل کے کافروں پر سیدنا داود علیہ السلام اور عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کی زبانی لعنت کی گئی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ آپس میں ایک دوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے، روکتے نہ تھے۔ جو کچھ بھی وہ کرتے تھے یقیناً بہت برا تھا۔ ان میں سے اکثر کو آپ دیکھیں گے کہ وہ کافروں سے دوستیاں کرتے ہیں، بہت برا ہے وہ جو انہوں نے اپنے لیے آگے بھیج رکھا ہے کہ اللہ ان سے ناراض ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔ اگر ان کا اللہ پر، نبی پر اور اس پر جو اس کی طرف نازل کیا گیا، ایمان ہوتا تو یہ ان کافروں سے دوستیاں نہ رکھتے لیکن اکثر ان میں سے فاسق ہیں۔“ [سورة المائدة: 79-81] پھر فرمایا: ”خبردار! اللہ کی قسم! تمہیں بالضرور نیکی کا حکم کرنا ہو گا، برائی سے روکنا ہو گا، ظالم کا ہاتھ پکڑنا ہو گا اور اسے حق پر لوٹانا اور حق کا پابند کرنا ہو گا۔““ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/تفسیر القرآن 6 (3047، 3048)، سنن ابن ماجہ/الفتن 20 (4006)، (تحفة الأشراف: 9614)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/391) (ضعیف)» (ابوعبیدہ اور ان کے والد ابن مسعود کے درمیان انقطاع ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3047،3048) ابن ماجه (4006)
أبو عبيدة عن أبيه منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
إسناده ضعيف
ترمذي (3047،3048) ابن ماجه (4006)
أبو عبيدة عن أبيه منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
حدیث نمبر: 4337
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ زَادَ أَوْ لَيَضْرِبَنَّ اللَّهُ بِقُلُوبِ بَعْضِكُمْ عَلَى بَعْضٍ ثُمَّ لَيَلْعَنَنَّكُمْ كَمَا لَعَنَهُمْ: قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمٍ الْأَفْطَسِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَرَوَاهُ خَالِدٌ الطَّحَّانُ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے: ”اللہ تم میں سے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں سے ملا دے گا، پھر تم پر بھی لعنت کرے گا جیسے ان پر لعنت کی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4337]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کی مانند روایت کیا۔ اور مزید کہا: ”ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دل ایک دوسرے پر دے مارے گا (تمہارے اندر اختلاف و تفرقہ ڈال دے گا) اور پھر اسی طرح لعنت کرے گا جیسے کہ ان کو لعنت کی تھی۔“ (اپنی رحمت سے دور کرے گا)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس روایت کو محاربی نے بسند علاء بن مسیب، عبداللہ بن عمرو بن مرہ سے، انہوں نے سالم افطس سے، انہوں نے ابوعبیدہ سے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے۔ اور خالد طحان نے بواسطہ علاء، عمرو بن مرہ سے اور اس نے ابوعبیدہ سے روایت کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9614) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (4336)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (4336)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
حدیث نمبر: 4338
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ. ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ الْمَعْنَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ أَنْ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَوَاضِعِهَا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ سورة المائدة آية 105 قَالَ: عَنْ خَالِدٍ، وَإِنَّا سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الظَّالِمَ فَلَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ، وَقَالَ عَمْرٌو، عَنْ هُشَيْمٍ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي ثُمَّ يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا ثُمَّ لَا يُغَيِّرُوا إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ كَمَا قَالَ خَالِدٌ أَبُو أُسَامَةَ، وَجَمَاعَةٌ وَقَالَ شُعْبَةُ فِيهِ مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يَعْمَلُهُ.
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: لوگو! تم آیت کریمہ «عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» ”اے ایمان والو اپنی فکر کرو جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا“ (سورۃ المائدہ: ۱۰۵) پڑھتے ہو اور اسے اس کے اصل معنی سے پھیر کر دوسرے معنی پر محمول کر دیتے ہو۔ وھب کی روایت جسے انہوں نے خالد سے روایت کیا ہے، میں ہے: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: ”لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں، اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لے“۔ اور عمرو کی حدیث میں جسے انہوں نے ہشیم سے روایت کی ہے مذکور ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس قوم میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں، پھر وہ اسے روکنے پر قادر ہو اور نہ روکے تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب میں گرفتار کر لے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے ابواسامہ اور ایک جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے خالد نے کیا ہے۔ شعبہ کہتے ہیں: اس میں یہ بات بھی ہے کہ ایسی کوئی قوم نہیں جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور زیادہ تر افراد گناہ کے کام میں ملوث ہوں اور ان پر عذاب نہ آئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4338]
جناب قیس (قیس بن ابی حازم) نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (اپنے خطبے میں) اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”اے لوگو! تم یہ آیت کریمہ پڑھتے تو ہو ﴿عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] ”اے ایمان والو! اپنی فکر کرو، جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہو اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔“ مگر اس کے معنی و مفہوم غلط سمجھتے ہو۔“ خالد نے روایت کیا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”بلاشبہ لوگ جب کسی کو ظلم کرتا دیکھیں اور پھر اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہوتا ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔“ اور عمرو (عمرو بن عون) نے ہشیم سے روایت کرتے ہوئے کہا: حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس قوم میں اللہ کی نافرمانی کے کام ہوں اور وہ انہیں روکنے پر قادر ہوں مگر منع نہ کرتے ہوں تو قریب ہوتا ہے کہ اللہ اس سبب سے ان سب کو اپنے عقاب کی لپیٹ میں لے لے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کو اسی طرح جیسے کہ خالد نے روایت کیا ہے، ابواسامہ اور ایک بڑی جماعت نے بیان کیا ہے، جب کہ شعبہ نے یوں بیان کیا: ”جس کسی قوم میں نافرمانیاں ہوتی ہوں اور معاصی سے بچنے والوں کی تعداد زیادہ اور دوسروں کی کم ہو (اور پھر بھی وہ نہ روکیں) تو ان سب پر عقاب آنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 8 (2168)، تفسیر القرآن سورة المائدة 19 (3057)، سنن ابن ماجہ/الفتن 20 (4005)، (تحفة الأشراف: 6615)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/2، 5، 7،9) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (5142، 5147)
أخرجه ابن ماجه (4005 وسنده صحيح) إسماعيل بن أبي خالد صرح بالسماع عند أحمد (1/5)
مشكوة المصابيح (5142، 5147)
أخرجه ابن ماجه (4005 وسنده صحيح) إسماعيل بن أبي خالد صرح بالسماع عند أحمد (1/5)
حدیث نمبر: 4339
حَدَّثَنَا مُسَّدَدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق، أَظُنُّهُ عَنْ ابْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ فَلَا يُغَيِّرُوا إِلَّا أَصَابَهُمُ اللَّهُ بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَمُوتُوا".
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو آدمی کسی ایسی قوم میں ہو جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور وہ اسے روکنے پر قدرت رکھتا ہو اور نہ روکے تو اللہ اسے مرنے سے پہلے ضرور کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4339]
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو کوئی ایسی قوم میں ہو کہ ان میں اللہ کی نافرمانیاں کی جا رہی ہوں اور وہ لوگ ان کی اصلاح اور ان کے بدلنے پر قادر ہوں، اس کے باوجود وہ ان کی اصلاح نہ کریں اور انہیں نہ بدلیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو ان کے مرنے سے پہلے عذاب دے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3242)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الفتن 20 (4009) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (4009)
عبيد اللّٰه بن جرير مجهول الحال (وإليه أشار في التقريب : 4280) ولم يوثقه غير ابن حبان وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
إسناده ضعيف
ابن ماجه (4009)
عبيد اللّٰه بن جرير مجهول الحال (وإليه أشار في التقريب : 4280) ولم يوثقه غير ابن حبان وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
حدیث نمبر: 4340
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، وَقَطَعَ هَنَّادٌ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ وَفَّاهُ ابْنُ الْعَلَاءِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو کوئی منکر دیکھے، اور اپنے ہاتھ سے اسے روک سکتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر وہ ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اپنی زبان سے بھی نہ روک سکے تو اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4340]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اور وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دینے اور اس کی اصلاح کی طاقت رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ ہاتھ سے اس کی اصلاح کرے۔“ ہناد نے یہ حدیث یہیں تک بیان کی، جبکہ ابن علاء نے بقیہ کو یوں پورا کیا: ”اگر یہ ہمت نہ ہو تو زبان سے روکے، اگر زبان سے روکنے کی ہمت نہ ہو تو پھر اپنے دل سے برا جانے اور یہ ایمان کی سب سے کمزور کیفیت ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم:(1140)، (تحفة الأشراف: 4085) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (49)