سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب مَا يُذْكَرُ فِي قَرْنِ الْمِائَةِ
باب: صدی پوری ہونے پر مجدد کے پیدا ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4291
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ شَرَاحِيلَ بْنِ يَزِيدَ الْمُعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ لَمْ يَجُزْ بِهِ شَرَاحِيلَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس امت کے لیے ہر صدی کی ابتداء میں ایک ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4291]
جناب ابوعلقمہ نے کہا کہ میرے علم و یقین کے مطابق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ ذوالجلال ہر سو سال کے شروع میں یا آخر میں اس امت کے اندر ایک آدمی پیدا کرتا رہے گا جو اس کے دین کو ازسر نو قائم اور مضبوط کرتا رہے گا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اس روایت کو عبدالرحمٰن بن شریح اسکندرانی نے ( «مُعْضَل») بیان کیا ہے، وہ شراحیل سے آگے نہیں بڑھا۔ (اس نے بعد والے راویوں کا ذکر چھوڑ دیا ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15451) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (247)
مشكوة المصابيح (247)
2. باب مَا يُذْكَرُ مِنْ مَلاَحِمِ الرُّومِ
باب: رومیوں سے ہونے والی لڑائیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4292
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ: مَالَ مَكْحُولٌ، وابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمِلْتُ مَعَهُمْ فَحَدَّثَنَا، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ الْهُدْنَةِ، قَالَ: قَالَ جُبَيْرٌ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ذِي مِخْبَرٍ ٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلَهُ جُبَيْرٌ عَنِ الْهُدْنَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا فَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِكُمْ فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ ثُمَّ تَرْجِعُونَ، حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّصْرَانِيَّةِ الصَّلِيبَ فَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيَدُقُّهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَتَجْمَعُ لِلْمَلْحَمَةِ".
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا: خالد بن معدان کی طرف چلے، میں بھی ان کے ساتھ چلا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے صلح کے متعلق بیان کیا، جبیر نے کہا: ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ذی مخبر نامی ایک شخص کے پاس چلو چنانچہ ہم ان کے پاس آئے، جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”عنقریب تم رومیوں سے ایک پر امن صلح کرو گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک ایسے دشمن سے لڑو گے جو تمہارے پیچھے ہے، اس پر فتح پاؤ گے، اور غنیمت کا مال لے کر صحیح سالم واپس ہو گے یہاں تک کہ ایک میدان میں اترو گے جو ٹیلوں والا ہو گا، پھر نصرانیوں میں سے ایک شخص صلیب اٹھائے گا اور کہے گا: صلیب غالب آئی، یہ سن کر مسلمانوں میں سے ایک شخص غصہ میں آئے گا اور اس کو مارے گا، اس وقت اہل روم عہد شکنی کریں گے اور لڑائی کے لیے اپنے لوگوں کو جمع کریں گے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4292]
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابوزکریا، خالد بن معدان کی طرف روانہ ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چل دیا، تو خالد نے جبیر بن نفیر سے ایک حدیث روایت کی جو «هُدْنَة» (مصالحت) کے متعلق تھی۔ پھر جبیر نے کہا: ”چلیں سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ کے ہاں چلتے ہیں جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے۔“ ہم ان کے پاس پہنچے تو جبیر نے ان سے «هُدْنَة» (مصالحت) کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم لوگ رومیوں سے ایک پُرامن مصالحت کرو گے، اور پھر ان کے ساتھ مل کر اپنے پیچھے ایک دشمن سے جنگ کرو گے، ان پر غالب رہو گے، غنیمت پاؤ گے اور صحیح سلامت رہو گے، پھر وہاں سے واپس لوٹو گے اور ایک میدان میں اترو گے جس میں ٹیلے بھی ہوں گے۔ تو عیسائیوں میں سے ایک آدمی صلیب بلند کرے گا اور کہے گا: ”صلیب غالب آ گئی“، تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کو غصہ آئے گا اور وہ اسے قتل کر ڈالے گا، تو اس موقع پر رومی دھوکا کریں گے اور جنگ کے لیے جمع ہو جائیں گے۔“” [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2767)، (تحفة الأشراف: 3547) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (5428)
أخرجه ابن ماجه (4089 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (2767)
مشكوة المصابيح (5428)
أخرجه ابن ماجه (4089 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (2767)
حدیث نمبر: 4293
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَزَادَ فِيهِ وَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى أَسْلِحَتِهِمْ، فَيَقْتَتِلُونَ، فَيُكْرِمُ اللَّهُ تِلْكَ الْعِصَابَةَ بِالشَّهَادَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِلَّا أَنَّ الْوَلِيدَ جَعَلَ الْحَدِيثَ عَنْ جُبَيْرٍ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ رَوْحٌ، وَيَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، كَمَا قَالَ عِيسَى.
اس سند سے بھی حسان بن عطیہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے: ”پھر جلدی سے مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف بڑھیں گے، اور لڑنے لگیں گے، تو اللہ تعالیٰ اس جماعت کو شہادت سے نوازے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4293]
حسان بن عطیہ رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی اور مزید کہا: ”مسلمان جلدی سے اپنے اسلحے کی طرف اٹھیں گے اور ان سے قتال کریں گے اور اللہ انہیں شہادت سے سرفراز فرمائے گا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اس سند میں ولید نے بواسطہ جبیر، سیدنا ذی مخبر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: ”روح، یحییٰ بن حمزہ اور بشر بن بکر نے اوزاعی سے روایت کیا جیسے کہ عیسیٰ نے کہا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2767)، (تحفة الأشراف: 3547) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (5428)
انظر الحديث السابق (4292)
مشكوة المصابيح (5428)
انظر الحديث السابق (4292)
3. باب فِي أَمَارَاتِ الْمَلاَحِمِ
باب: لڑائیوں اور فتنوں کی نشانیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4294
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ، وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ، وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ، وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدَّجَّالِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ الَّذِي حَدَّثَ أَوْ مَنْكِبِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا لَحَقٌّ كَمَا أَنَّكَ هَاهُنَا أَوْ كَمَا أَنَّكَ قَاعِدٌ يَعْنِي مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی ویرانی ہو گی، مدینہ کی ویرانی لڑائیوں اور فتنوں کا ظہور ہو گا، فتنوں کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہو گی، اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا ظہور ہو گا“ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس شخص یعنی معاذ بن جبل کی ران یا مونڈھے پر مارا جن سے آپ یہ بیان فرما رہے تھے، پھر فرمایا: ”یہ ایسے ہی یقینی ہے جیسے تمہارا یہاں ہونا یا بیٹھنا یقینی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4294]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیت المقدس کی آبادی یثرب (مدینے) کی بے آبادی کا پیش خیمہ ہو گی۔ اور یثرب کی بے آبادی کے نتیجے میں بڑی جنگ ہو گی اور اس جنگ کا ظہور قسطنطینیہ کی فتح ہو گا۔ اور قسطنطینیہ کی فتح کے بعد دجال آئے گا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس حدیث کے بیان کرنے والے (سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ) کی ران یا کندھے پر مارا، پھر فرمایا: ”بلاشبہ یہ واقعہ اس طرح حق ہے جیسے کہ تم یہاں ہو یا بیٹھے ہوئے ہو۔“ مراد سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4294]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11361)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفتن 58 (2239)، مسند احمد (5/232، 245) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5424)
أخرجه أحمد (5/245 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (5424)
أخرجه أحمد (5/245 وسنده حسن)
4. باب فِي تَوَاتُرِ الْمَلاَحِمِ
باب: لڑائی پر لڑائی ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4295
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ سُفْيَانَ الْغَسَّانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُتَيْبٍ السَّكُونِيِّ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمَلْحَمَةُ الْكُبْرَى وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑی جنگ، قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا نکلنا تینوں چیزیں سات مہینے کے اندر ہوں گی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4295]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگ عظیم، فتح قسطنطینیہ اور دجال کی آمد سات مہینوں میں ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4295]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الفتن 58 (2238)، سنن ابن ماجہ/الفتن 35 (4092)، (تحفة الأشراف: 11328)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/234) (ضعیف)» (ابوبکر بن ابی مریم اور ولید بن سفیان ضعیف اور یزید سکونی لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (2238) ابن ماجه (4092)
أبو بكر بن أبي مريم : ضعيف وكان قد سرق بيته فاختلط (تقريب التهذيب: 7974) وشيخه وليد بن سفيان الغساني: مجهول (تق : 7425) و يزيد بن قطيب مقبول (تقريب التهذيب: 7764) أي مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
إسناده ضعيف
ترمذي (2238) ابن ماجه (4092)
أبو بكر بن أبي مريم : ضعيف وكان قد سرق بيته فاختلط (تقريب التهذيب: 7974) وشيخه وليد بن سفيان الغساني: مجهول (تق : 7425) و يزيد بن قطيب مقبول (تقريب التهذيب: 7764) أي مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
حدیث نمبر: 4296
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ سِتُّ سِنِينَ وَيَخْرُجُ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عِيسَى.
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑی جنگ اور فتح قسطنطنیہ کے درمیان چھ سال کی مدت ہو گی اور ساتویں سال میں مسیح دجال کا ظہور ہو گا ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عیسیٰ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4296]
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگ عظیم اور شہر (قسطنطینیہ) کی فتح چھ سال کے عرصے میں ہو گی اور مسیح دجال کا نکلنا ساتویں میں ہو گا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ روایت عیسیٰ کی (مذکورہ بالا) روایت سے صحیح تر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الفتن 35 (5194)، (تحفة الأشراف: 5194)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/189) (ضعیف)» (سند میں بقیہ بن ولید ضعیف اورابن ابی بلال لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اوپر والی حدیث کی معارض ہے، اور دونوں ضعیف ہیں، دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ بڑی جنگ کی ابتداء و انتہاء کے درمیان چھ سال کا وقفہ ہو گا، اور بڑی جنگ کا اختتام اور قسطنطنیہ کی فتح اور مسیح دجال کا ظہور یہ تینوں قریب قریب واقع ہوں گے، یعنی سات مہینے کے عرصہ میں واقع ہو جائیں گے، ایک دوسرا جواب وہ ہے جو ابوداود نے دیا ہے کہ دوسری حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے لہٰذا پہلی حدیث اس کے معارض نہیں ہو سکتی کیونکہ تعارض کے لئے یکساں وجوہ ضروری ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (4093)
عبداﷲبن أبي بلال لم يوثقه غير ابن حبان فھو : مجهول كما في التحرير (3240)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
إسناده ضعيف
ابن ماجه (4093)
عبداﷲبن أبي بلال لم يوثقه غير ابن حبان فھو : مجهول كما في التحرير (3240)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
5. باب فِي تَدَاعِي الأُمَمِ عَلَى الإِسْلاَمِ
باب: مسلمانوں پر دوسری قوموں کی مسلسل یلغار کا بیان۔
حدیث نمبر: 4297
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا، فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَيَنْزَعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهْنُ؟ قَالَ: حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں“ تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں «وہن» ڈال دے گا“ تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! «وہن» کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4297]
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا وقت آنے والا ہے کہ دوسری امتیں تمہارے خلاف ایک دوسرے کو بلائیں گی، جیسے کہ کھانے والے اپنے پیالے پر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔“ تو کہنے والے نے کہا: ”کیا یہ ہماری ان دنوں قلت اور کمی کی وجہ سے ہو گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم ان دنوں بہت زیادہ ہو گے، لیکن جھاگ ہو گے جس طرح کہ سیلاب کا جھاگ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں «الْوَهْنُ» ”وہن“ ڈال دے گا۔“ پوچھنے والے نے پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! «الْوَهْنُ» ”وہن“ سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کی محبت اور موت کی کراہت۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4297]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2091)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/278) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (5369)
وله شاھد حسن عند أحمد (5/278)
مشكوة المصابيح (5369)
وله شاھد حسن عند أحمد (5/278)
6. باب فِي الْمَعْقِلِ مِنَ الْمَلاَحِمِ
باب: معرکوں میں مسلمانوں کے جماؤ کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4298
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ بِالْغُوطَةِ إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا: دِمَشْقُ مِنْ خَيْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(دجال سے) جنگ کے روز مسلمانوں کا جماؤ غوطہٰ میں ہو گا، جو اس شہر کے ایک جانب میں ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے، جو شام کے بہترین شہروں میں سے ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4298]
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنگ کے موقع پر مسلمانوں کا خیمہ (مرکز) دمشق نامی شہر کی جانب میں واقع مقام غوطہ ہو گا اور دمشق شام کے بہترین شہروں میں سے ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4298]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 1026)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/197) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (6278، 6281)
مشكوة المصابيح (6278، 6281)
حدیث نمبر: 4299
قَالَ أَبُو دَاوُد حُدِّثْتُ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يُحَاصَرُوا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يَكُونَ أَبْعَدَ مَسَالِحِهِمْ سَلَاحِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ مسلمان مدینہ میں محصور کر دیئے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4299]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب مسلمان مدینے میں گھیر لیے جائیں گے حتیٰ کہ ان کی بعید ترین چھاؤنی اس وقت مقام سلاح ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4250)، (تحفة الأشراف: 7818) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه الطبراني في الصغير (2/113 ح873) والأوسط (6/286 ح6432) وسندھما صحيح وصححه الحاكم (4/511 ح8560 وسنده حسن)
أخرجه الطبراني في الصغير (2/113 ح873) والأوسط (6/286 ح6432) وسندھما صحيح وصححه الحاكم (4/511 ح8560 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4300
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَنْبَسَةَ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَسَلَاحِ قَرِيبٌ مِنْ خَيْبَرَ.
زہری کہتے ہیں سلاح خیبر کے قریب (ایک جگہ) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4300]
جناب زہری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”سلاح کا مقام خیبر کے قریب ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4300]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4251 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4251)
انظر الحديث السابق (4251)