سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. بَابُ: ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین کا بیان۔
حدیث نمبر: 1632
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا نَتَّقِي الْكَلَامَ، وَالِانْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُنْزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ، فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی عورتوں سے باتیں کرنے اور ان سے بہت زیادہ بےتکلف ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ ہمارے سلسلے میں کہیں قرآن نہ اتر جائے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو ہم باتیں کرنے لگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1632]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ہم اپنی عورتوں سے بات کرتے ہوئے اور بے تکلفی کا اظہار کرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے، اس ڈر سے کہ قرآن (میں ہماری کسی غلطی پر تنبیہ والا فرمان) نازل ہو جائے گا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو ہم (ہر قسم کی) باتیں کرنے لگے۔ (اس درجے کی احتیاط نہ رہی۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 80 (5187)، (تحفة الأشراف: 7156) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1633
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ الْعِجْلِيُّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّمَا وَجْهُنَا وَاحِدٌ، فَلَمَّا قُبِضَ نَظَرْنَا هَكَذَا وَهَكَذَا".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ہم سب ایک رخ تھے، لیکن جب آپ کا انتقال ہو گیا تو پھر ہم ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1633]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہم لوگوں کی توجہ ایک ہی (آخرت کی) طرف ہوتی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو ادھر اُدھر (کوئی دنیا کو اور کوئی آخرت کو) دیکھنے لگے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11، ومصباح الزجاجة: 593) (ضعیف)» (اس کی سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز اس سند میں حسن بصری اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح إن كان الحسن سمعه من أبي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحسن البصري لم يسمع من أبي بن كعب رضي اللّٰه عنه كما في تحفة الأشراف(12/1)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
إسناده ضعيف
الحسن البصري لم يسمع من أبي بن كعب رضي اللّٰه عنه كما في تحفة الأشراف(12/1)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
حدیث نمبر: 1634
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِي مُحَمَّدُ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيُّ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا، قَالَتْ:" كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ الْمُصَلِّي يُصَلِّي، لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ قَدَمَيْهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ جَبِينِهِ، فَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ عُمَرُ، فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ الْقِبْلَةِ، وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَكَانَتِ الْفِتْنَةُ فَتَلَفَّتَ النَّاسُ يَمِينًا وَشِمَالًا".
ام المؤمنین ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب مصلی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ اس کے قدموں کی جگہ سے آگے نہ بڑھتی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، تو لوگوں کا حال یہ ہوا کہ جب کوئی ان میں سے نماز پڑھتا تو اس کی نگاہ پیشانی رکھنے کے مقام سے آگے نہ بڑھتی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں کا حال یہ تھا کہ ان میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلہ کے سوا کسی اور طرف نہ جاتی تھی، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور مسلمانوں میں فتنہ برپا ہوا تو لوگوں نے دائیں بائیں مڑنا شروع کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1634]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بنت ابی امیہ جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں لوگوں کی یہ حالت تھی کہ جب آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نظر قدموں سے آگے نہ بڑھتی تھی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو لوگوں کی یہ حالت ہو گئی کہ جب کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نظر اس کی پیشانی رکھنے کی جگہ (سجدے کی جگہ) سے آگے نہیں بڑھتی تھی، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ (خلیفہ) مقرر ہو گئے تو لوگوں کی یہ حالت ہو گئی کہ جب کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلے کی طرف سے نہیں ہٹتی تھی، پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ (خلیفہ) مقرر ہوئے تو (ان کے دورِ حکومت میں) فتنہ برپا ہوا اور (فتنے کے اس دور میں) لوگ (نماز میں) دائیں بائیں جھانکنے لگے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18213، ومصباح الزجاجة: 594) (ضعیف)» (اس کی سند میں موسیٰ بن عبداللہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن عبد اللّٰه: مجهول (تقريب: 6982)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
إسناده ضعيف
موسي بن عبد اللّٰه: مجهول (تقريب: 6982)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
حدیث نمبر: 1635
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا"، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ، فَقَالَا لَهَا:" مَا يُبْكِيكِ فَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ؟"، قَالَتْ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ، وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ، قَالَ: فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ، فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: چلئے، ہم ام ایمن (برکہ) رضی اللہ عنہا سے ملنے چلیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملنے جایا کرتے تھے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، تو وہ رونے لگیں، ان دونوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، انہوں نے کہا: میں جانتی ہوں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، لیکن میں اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ بند ہو گیا، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ام ایمن رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کو بھی رلا دیا، وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1635]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحلت فرما جانے کے بعد (ایک بار) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”چلیے ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ہاں چلیں اور ان سے ملاقات کر آئیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملاقات کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔“ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب ہم لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کر کے) اشک بار ہو گئیں۔“ دونوں حضرات نے فرمایا: ”آپ کیوں رو رہی ہیں؟ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (دنیا کی متاع اور آسائشوں سے کہیں) بہتر ہے۔“ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”یہ تو میں بھی جانتی ہوں کہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بہتر ہے لیکن میں تو اس لیے روتی ہوں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے) آسمان سے وحی آنا بند ہو گئی ہے۔“ ان کی اس بات سے شیخین رضی اللہ عنہما کو بھی رونا آ گیا اور وہ بھی رونے لگے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18302، ومصباح الزجاجة: 595) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے ذرہ برابر بھی انحراف کرنا گوارا نہ کیا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن لوگوں سے ملنے جاتے ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ان سے ملنے گئے، پس ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت گویا زمانہ نبوت کی تصویر تھی اور یہی وجہ تھی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فدک اور بنو نضیر وغیرہ سے حاصل مال کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طلب پر ان کے حوالہ نہیں کیا بلکہ جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان اموال کو خرچ کرتے تھے اسی طرح خرچ کرتے رہے، اور ذرہ برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقِ کار کو بدلنا گوارا نہ کیا، اصل بات یہ ہے، نہ وہ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے «معاذ اللہ» طمع ولالچ سے ایسا کیا، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف پہنچائی، یہ سب لغو اور بیہودہ الزام ہے، ابوبکر رضی اللہ عنہ دنیا کی ایک بڑی حکومت کے سربراہ تھے، خود انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا سارا مال نچھاور کر دیا، اور آپ کی محبت میں جان کو خطرے میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا، کیا ایسے شخص کے بارے میں یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ وہ کھجور کے چند درختوں کو ناحق لے لے گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو ناراض کرے گا؟
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1636
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ، يَعْنِي: بَلِيتَ؟، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ".
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا ہوئے، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن لوگ بیہوش ہوں گے، لہٰذا اس دن کثرت سے میرے اوپر درود (صلاۃ و سلام) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ جب کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1636]
حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کا دن تمہارے افضل ایام میں سے ہے۔ اسی میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اسی دن (قیامت کی) بے ہوشی ہوگی، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو، کیوں کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔“ ایک آدمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! جب آپ کا جسدِ اطہر خاک ہو جائے گا تب ہمارا درود کیسے آپ پر پیش کیا جائے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 207 (1047)، 361 (1531)، سنن النسائی/الجمعة 5 (1375)، (تحفة الأشراف: 1736)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/8)، سنن الدارمی/الصلاة 206 (1613) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1047،1531) نسائي (1375) وانظر الحديث السابق (1085)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1047،1531) نسائي (1375) وانظر الحديث السابق (1085)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
حدیث نمبر: 1637
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَيْمَنَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ، وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا"، قَالَ: قُلْتُ: وَبَعْدَ الْمَوْتِ، قَالَ:" وَبَعْدَ الْمَوْتِ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ، فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ يُرْزَقُ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا“ میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1637]
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعے کے دن مجھ پر درود زیادہ پڑھا کرو، اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور جو شخص بھی مجھ پر درود پڑھے گا تو اس کے فارغ ہونے تک اس کا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا رہے گا۔“ میں نے عرض کیا: ”اور وفات کے بعد بھی؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور وفات کے بعد بھی (ایسے ہی ہوگا)، اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسموں کو کھائے، چنانچہ اللہ کا نبی زندہ ہوتا ہے، اسے رزق ملتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10947، ومصباح الزجاجة: 596) (حسن)» (سند میں زید بن ایمن اور عبادہ کے درمیان نیز عبادہ اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن اکثر متن حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1/ 35، تراجع الألبانی: رقم: 560)
وضاحت: ۱؎: یعنی جنت کے کھانے ان کو کھلائے جاتے ہیں جو روحانی ہیں، یہاں زندگی سے دنیوی زندگی مراد نہیں ہے۔ اس لئے کہ دنیاوی زندگی قبر کے اندر قائم نہیں رہ سکتی، یہ برزخی زندگی ہے جس میں اور دنیاوی زندگی میں فرق ہے، مگر ہر حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر شریف کے پاس درود و سلام سنتے ہیں، بلکہ یہ برزخی زندگی بہت باتوں میں دنیاوی زندگی سے زیادہ قوی اور بہتر ہے، «صلے اللہ علیہ وسلم وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیما کثیراً»
قال الشيخ الألباني: ضعيف لكن غالبه فيما قبله
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البخاري: ’’ زيد بن أيمن عن عبادة بن نسي مرسل ‘‘ (التاريخ الكبير 387/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438
إسناده ضعيف
قال البخاري: ’’ زيد بن أيمن عن عبادة بن نسي مرسل ‘‘ (التاريخ الكبير 387/2)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 438