سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُؤْمِنِ يُؤْجَرُ فِي النَّزْعِ
باب: مومن کو موت کی سختی پر اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1453
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ كَرْدَمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَتَى تَنْقَطِعُ مَعْرِفَةُ الْعَبْدِ مِنَ النَّاسِ؟، قَالَ: إِذَا عَايَنَ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: بندے سے لوگوں کی پہچان کب ختم ہو جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ (موت کے فرشتوں کو) دیکھ لیتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1453]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: ”بندہ لوگوں کو پہچاننا کب چھوڑ دیتا ہے؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ (آخرت کی چیزوں یا موت کے فرشتوں) کا مشاہدہ کر لیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9130، ومصباح الزجاجة: 515) (ضعیف جدًا)» (اس میں نصر بن حماد ہے، جس پر حدیث گھڑنے کی تہمت ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
قال البو صيري: ’’ في إسناده: نصر بن حماد،كذبه يحيي بن معين وغيره ‘‘ وھو: متروك متھم (تحفة الأقوياء في تحقيق كتاب الضعفاء ص 127 رقم: 441) وقال يحيي بن معين: نصر بن حماد: كذاب (كتاب الضعفاء للعقيلي 301/4 وسنده صحيح) وشيخه موسي بن كردم: مجهول (تقريب: 7005)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
إسناده ضعيف جدًا
قال البو صيري: ’’ في إسناده: نصر بن حماد،كذبه يحيي بن معين وغيره ‘‘ وھو: متروك متھم (تحفة الأقوياء في تحقيق كتاب الضعفاء ص 127 رقم: 441) وقال يحيي بن معين: نصر بن حماد: كذاب (كتاب الضعفاء للعقيلي 301/4 وسنده صحيح) وشيخه موسي بن كردم: مجهول (تقريب: 7005)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
6. بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَغْمِيضِ الْمَيِّتِ
باب: (روح قبض ہو جانے کے بعد) میت کی آنکھیں بند کر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1454
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ، وَقَدْ شَقَّ بَصَرُهُ، فَأَغْمَضَهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الرُّوحَ إِذَا قُبِضَ تَبِعَهُ الْبَصَرُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ان کی آنکھ کھلی ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بند کر دیا، پھر فرمایا: ”جب روح قبض کی جاتی ہے، تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1454]
حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو سلمہ رضی اللہ عنہ (کی میت) کے پاس آئے تو ان کی آنکھیں کھلی تھیں۔ آپ نے ان کی آنکھیں بند کر دیں اور فرمایا: ”جب روح قبض کی جاتی ہے تو نظر اس کا تعاقب کرتی ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1454]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 4 (920)، سنن ابی داود/الجنائز 21 (3118)، (تحفة الأشراف: 18205)، مسند احمد (6/297) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مردے کی آنکھ اس واسطے کھلی رہ جاتی ہے کہ روح کو جاتے وقت وہ دیکھتا ہے، پھر آنکھ بند کرنے کی طاقت نہیں رہتی اس لئے آنکھ کھلی رہ جاتی ہے، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1455
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَضَرْتُمْ مَوْتَاكُمْ فَأَغْمِضُوا الْبَصَرَ، فَإِنَّ الْبَصَرَ يَتْبَعُ الرُّوحَ، وَقُولُوا خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ عَلَى مَا قَالَ أَهْلُ الْبَيْتِ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو، اس لیے کہ آنکھ روح کا پیچھا کرتی ہے، اور (میت کے پاس) اچھی بات کہو، کیونکہ فرشتے گھر والوں کی بات پر آمین کہتے ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1455]
حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے فوت ہونے والوں کے پاس موجود ہو تو (ان کی) آنکھیں بند کر دیا کرو کیونکہ نظر بھی روح کے پیچھے پیچھے جاتی ہے اور اچھی بات کہو کیونکہ (اس وقت) گھر والے جو کچھ کہتے ہیں فرشتے اس پر آمین کہتے ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1455]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4828، ومصباح الزجاجة: 516)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/125) (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1092)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قزعة بن سويد: ضعيف (تقريب: 5546) وقال الھيثمي: و ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 6/ 245)
والحديث السابق (الأصل: 1454) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
إسناده ضعيف
قزعة بن سويد: ضعيف (تقريب: 5546) وقال الھيثمي: و ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 6/ 245)
والحديث السابق (الأصل: 1454) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
7. بَابُ: مَا جَاءَ فِي تَقْبِيلِ الْمَيِّتِ
باب: میت کے بوسہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1456
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" قَبَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى دُمُوعِهِ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ۱؎ کا بوسہ لیا، اور وہ مردہ تھے، گویا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسوؤں کو دیکھ رہی ہوں جو آپ کے رخسار مبارک پہ بہہ رہے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1456]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو ان کی وفات کے بعد بوسہ دیا، گویا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رخساروں پر آنسو بہتے دیکھ رہی ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 40 (3163)، سنن الترمذی/الجنائز 14 (989)، (تحفة الأشراف: 17459)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 55، 2067) (صحیح) (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف ہیں، تراجع الألبانی، رقم: 495)»
وضاحت: ۱؎: عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے، اور دونوں ہجرتوں میں شریک تھے، اور بدر کی لڑائی میں حاضر تھے، اور مہاجرین میں سے مدینہ میں سب سے پہلے آپ ہی کی وفات ہوئی، شعبان کے مہینے میں ہجرت کے ڈھائی سال کے بعد، اور جب آپ دفن ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا پیش خیمہ اچھا ہے“، اور وہ بقیع میں دفن ہوئے، عابد، زاہد اور فضلائے صحابہ میں سے تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پتھر خود اٹھایا اور ان کی قبر پر رکھا، «رضی اللہ عنہ وأرضاہ» ۔ ۲؎: اس حدیث سے میت پر رونے کا جواز ثابت ہوتا ہے، رہی ممانعت والی روایت تو اسے آواز اور جزع و فزع (بے صبری) کے ساتھ رونے پر محمول کیا جائے گا، یا یہ ممانعت عورتوں کے ساتھ مخصوص ہوگی کیونکہ اکثر وہ بے صبری ہوتی ہیں، اور رونے پیٹنے لگتی ہیں، اس لئے سدباب کے طور پر انہیں اس سے منع کر دیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3163) ترمذي (989)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3163) ترمذي (989)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
حدیث نمبر: 1457
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَائِشَةَ :" أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَبَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَيِّتٌ".
عبداللہ بن عباس اور عائشہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا، اور آپ کی وفات ہو چکی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1457]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 83 (4455، 4456)، الطب 21 (5709)، سنن الترمذی/الشمائل 53 (373)، سنن النسائی/الجنائز 11 1841)، (تحفة الأشراف: 5860، 16316)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/55) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
8. بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ
باب: میت کو غسل دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1458
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نُغَسِّلُ ابْنَتَهُ أُمَّ كُلْثُومٍ، فَقَالَ:" اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي"، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ،" فَأَلْقَى إِلَيْنَا حَقْوَهُ، وَقَالَ: أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ".
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم آپ کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو غسل دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں تین بار، یا پانچ بار، یا اس سے زیادہ اگر تم مناسب سمجھو تو پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو ۱؎، اور اخیر بار کے غسل میں کافور یا کہا: تھوڑا سا کافور ملا لو، جب تم غسل سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے خبر کرو“، لہٰذا جب ہم غسل سے فارغ ہوئے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کی، آپ نے اپنا تہبند ہماری طرف پھینکا اور فرمایا: ”اسے جسم سے متصل کفن میں سب سے نیچے رکھو“ ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1458]
حضرت ام عطیہ (نسیبہ بنت کعب انصاریہ رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی ام کلثوم کو غسل دے رہی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ تین بار یا پانچ بار غسل دو، اگر ضرورت محسوس ہو تو اس سے زیادہ بار غسل دے دینا اور آخر بار غسل دیتے وقت پانی میں کافور یا فرمایا: تھوڑا سا کافور ڈال لینا اور جب تم فارغ ہو جاؤ تو اطلاع دینا۔“ ہم نے (غسل دینے سے) فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہ بند ہماری طرف پھینک دیا اور فرمایا: ”اسے اس کے جسم سے متصل پہنا دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 31 (167)، الجنائز 8 (1253)، 9 (1254)، 10 (1255)، 11 (1256)، 12 (1257)، 13 (1258)، 14 (1260)، 15 (1261)، 16 (1262)، 17 (1263)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن ابی داود/الجنائز 33 (31463142)، سنن النسائی/الجنائز 28 (1882)، 30 (1884)، 36 (1895)، (تحفة الأشراف: 18094)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 15 (990)، موطا امام مالک/الجنائز 1 (2)، مسند احمد (6/407، 408، 5/84، 85، 407) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بیری کا پتہ استعمال کرنا مستحب ہے کیونکہ وہ میل کچیل کو صاف کرتا ہے، کیڑوں کو دفع کرتا ہے، اور بدبو کو بھی ختم کرتا ہے۔ ۲؎: «شعار» یعنی (اندر کا کپڑا) عربی میں اس کو کہتے ہیں جو کپڑا جسم سے لگا رہے، بطور تبرک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو دیا، اور اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ غسل میں کافور ملانا بھی مستحب ہے، بہتر یہ ہے کہ اخیر بار جو غسل دیں اس میں کافور ملا ہوا ہو، جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1459
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مُحَمَّدٍ، وَكَانَ فِي حَدِيثِ حَفْصَةَ" اغْسِلْنَهَا وِتْرًا، وَكَانَ فِيهِ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، وَكَانَ فِيهِ ابْدَءُوا بِمَيَامِنِهَا، وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا، وَكَانَ فِيهِ أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: وَامْشِطْنَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ".
اس سند سے بھی ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے محمد بن سیرین کی سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے اور حفصہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں یہ ہے کہ: ”ان کو طاق بار غسل دو“، اور اس میں یہ بھی ہے کہ: ”انہیں تین بار یا پانچ بار غسل دو، اور دائیں طرف کے اعضاء وضو سے غسل شروع کرو“۔ اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”ہم نے ان کے بالوں میں کنگھی کر کے تین چوٹیاں کر دیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1459]
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث دوسری سند سے مروی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اسے طاق بار غسل دو۔“ اور یہ الفاظ بھی ہیں: ”اسے تین بار یا پانچ بار غسل دو۔“ اور یہ الفاظ بھی ہیں: ”اس کی دائیں جانب سے اور وضو کے اعضاء سے غسل دینا شروع کرو۔“ اور اس میں یہ بھی ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”ہم نے ان کے بالوں کو کنگھی کر کے تین لٹیں بنا دیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الجنائز 9 (1254)، 13 (1258)، صحیح مسلم/الجنائز 12 (939)، سنن النسائی/الجنائز 34 (1889)، (تحفة الأشراف: 18115) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: امام ابن القیم نے کہا کہ بالوں میں سنت یہی ہے کہ ان کی تین چوٹیاں کی جائیں، صحیحین میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے بالوں کی تین چوٹیاں کر دو، ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم نے ان کا سر گوندھا، دو حصے کر کے دونوں چھاتیوں پر ڈال دیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 1460
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُبْرِزْ فَخِذَكَ، وَلَا تَنْظُرْ إِلَى فَخِذِ حَيٍّ، وَلَا مَيِّتٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم اپنی ران نہ کھولو، اور کسی زندہ یا مردہ کی ران نہ دیکھو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1460]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اپنی ران ظاہر نہ کرو اور کسی زندہ یا مردہ کی ران کو نہ دیکھو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 32 (3140)، (تحفة الأشراف: 10133)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/146) (ضعیف جدًا) (بشربن آدم ضعیف ہیں، نیز سند میں دو جگہ انقطاع ہے، ابن جریج اور حبیب کے درمیان، اور حبیب اورعاصم کے درمیان، ملاحظہ ہو: الإرواء: 269)»
وضاحت: : ۱؎ اس حدیث کو مؤلف نے اس باب میں اس لئے ذکر کیا ہے کہ مردے کو غسل دینے میں اس کی ران نہ کھولیں اور نہ ستر بلکہ کپڑا ستر پر ڈھانپ کر غسل دیں کیونکہ ستر مردہ اور زندہ کا یکساں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
سنن أبي داود (4015،3140)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
إسناده ضعيف جدًا
سنن أبي داود (4015،3140)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
حدیث نمبر: 1461
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُغَسِّلْ مَوْتَاكُمُ الْمَأْمُونُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے مردوں کو امانت دار لوگ غسل دیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1461]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے مردوں کو وہ لوگ غسل دیں جو قابل اعتماد ہوں۔“ (تاکہ اگر میت کے بارے میں کوئی ایسی چیز معلوم ہو جس کا ظاہر کرنا مناسب نہیں تو وہ اسے راز رکھ سکیں۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6739، ومصباح الزجاجة: 517) (موضوع)» (اس کی سند میں بقیہ بن الولید مدلس ہیں، نیز ان کے شیخ مبشر بن عبید پر حدیث وضع کرنے کی تہمت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4395)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
مبشر بن عبيد: كذاب
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
إسناده موضوع
مبشر بن عبيد: كذاب
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 429
حدیث نمبر: 1462
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا وَكَفَّنَهُ وَحَنَّطَهُ وَحَمَلَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا رَأَى، خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مردے کو غسل دیا، اسے کفن پہنایا، اسے خوشبو لگائی، اور اسے کندھا دے کر قبرستان لے گیا، اس پہ نماز جنازہ پڑھی، اور اگر کوئی عیب دیکھا تو اسے پھیلایا نہیں، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو گیا جیسے وہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1462]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میت کو غسل دیا، کفن دیا، خوشبو لگائی اور اسے اٹھایا (قبرستان کو لے جاتے ہوئے اس کی چارپائی کو کندھا دیا)، اس کا جنازہ پڑھا اور اس کی جو چیز نظر آئی (جو ظاہر کرنے کے قابل نہ ہو) اسے ظاہر نہ کیا، تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہو جاتا ہے جس طرح اپنی ماں کے ہاں پیدا ہونے کے دن (گناہوں سے پاک صاف) تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10134، ومصباح الزجاجة: 518) (ضعیف جدًا)» (اس کی سند میں عباد بن کثیر ہے جن کے بارے میں امام احمد نے کہا ہے کہ غفلت کے سبب جھوٹی حدیثیں روایت کرتے ہیں، نیز اس کی سند میں عمرو بن خالد کذاب ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
عباد بن كثير: متروك وشيخه عمرو بن خالد الواسطي: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430
إسناده موضوع
عباد بن كثير: متروك وشيخه عمرو بن خالد الواسطي: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430