🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْمَيِّتِ
باب: میت کو غسل دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1463
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مردے کو غسل دے وہ خود بھی غسل کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1463]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میت کو غسل دے وہ خود بھی غسل کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز 17 (993)، (تحفة الأشراف: 12726)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 39 (3161)، مسند احمد (2/272) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حکم مستحب ہے، کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ليس عليكم في غسل ميتكم إذا اغسلتموه أن ميتكم يموت طاهرًا، وليس بنجس فحسبكم أن يغسلوا أيديكم» جب تم لوگ اپنے میت کو غسل دو، تو تمہارے اوپر کچھ نہیں ہے، سوائے اس کہ تم اپنے ہاتھوں کو دھو لو، کیونکہ تمہارے میت پاک و صاف ہو کر وفات پائے ہیں وہ نجس نہیں ہیں نیز امام خطابی فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کسی بھی عالم نے میت کو غسل دینے سے یا اسے اٹھانے سے غسل کو واجب کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَغُسْلِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا
باب: شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو غسل دے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1464
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الذَّهَبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الأَمْرِ، مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اگر مجھے اپنی اس بات کا علم پہلے ہی ہو گیا ہوتا جو بعد میں ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی بیویاں ہی غسل دیتیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1464]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اگر مجھے پہلے وہ خیال آ جاتا جو بعد میں آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ازواج مطہرات ہی غسل دیتیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16182، ومصباح الزجاجة: 519)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز 32 (3141)، مسند احمد (6/267) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن منتقی ابن الجارو د، صحیح ابن حبان اور مستدرک الحاکم میں تحدیث کی صراحت ہے، دفاع عن الحدیث النبوی 53-54، والإرواء: 700)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ بیوی محرم راز ہوتی ہے، اور اس سے ستر بھی نہیں ہوتا، پس اس کا غسل دینا شوہر کو بہ نسبت دوسروں کے اولیٰ اور بہتر ہے، اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے غسل دیا، اور کسی صحابی نے اس پر نکیر نہیں کی، اور یہ مسئلہ اتفاقی ہے، نیز ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل نہ دے سکنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، اگر یہ جائز نہ ہوتا تو وہ افسوس کا اظہار نہ کرتیں، جیسا کہ امام بیہقی فرماتے ہیں: «فتلهفت على ذلك ولا يتلهف إلا على ما يجوز» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1465
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبَقِيعِ، فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي، وَأَنَا أَقُولُ وَا رَأْسَاهُ، فَقَالَ:" بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَا رَأْسَاهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي، فَقُمْتُ عَلَيْكِ فَغَسَّلْتُكِ، وَكَفَّنْتُكِ، وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ، وَدَفَنْتُكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے لوٹے تو مجھے اس حال میں پایا کہ میرے سر میں درد ہو رہا تھا، اور میں کہہ رہی تھی: ہائے سر!، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ اے عائشہ! میں ہائے سر کہتا ہوں ۱؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا نقصان ہو گا اگر تم مجھ سے پہلے مرو گی تو تمہارے سارے کام میں انجام دوں گا، تمہیں غسل دلاؤں گا، تمہاری تکفین کروں گا، تمہاری نماز جنازہ پڑھاؤں گا، اور تمہیں دفن کروں گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1465]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے تشریف لائے تو دیکھا کہ میرے سر میں درد ہو رہا ہے اور میں کہہ رہی ہوں: ہائے میرا سر! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ اے عائشہ! میں (کہتا ہوں): ہائے میرا سر! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا نقصان ہے اگر تمہاری وفات مجھ سے پہلے ہو گئی؟ (اس صورت میں) میں خود تمہارے لیے (کفن دفن کا) اہتمام کروں گا، تمہیں خود غسل دوں گا، خود کفن پہناؤں گا، خود تمہارا جنازہ پڑھوں گا اور خود دفن کروں گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16313، ومصباح الزجاجة: 520)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/228)، سنن الدارمی/المقدمة 14 (81) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اے عائشہ! بلکہ میرے سر میں درد ہو رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1466
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْأَزْهَرِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" لَمَّا أَخَذُوا فِي غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَادَاهُمْ مُنَادٍ مِنَ الدَّاخِلِ، لَا تَنْزِعُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینا شروع کیا ۱؎ تو کسی آواز لگانے والے نے اندر سے آواز لگائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کرتہ نہ اتارو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1466]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو (گھر کے) اندر سے ایک (نامعلوم) آواز دینے والے نے آواز دی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص نہ اتارو۔ (چنانچہ قمیص سمیت غسل دیا گیا۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1942، ومصباح الزجاجة: 521) (منکر)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ابو بردہ عمر و بن یزید التیمی ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے نکالنے کے سلسلے میں متردد ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1467
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خِذَامٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ:" لَمَّا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ يَلْتَمِسُ مِنْهُ مَا يَلْتَمِسُ مِنَ الْمَيِّتِ، فَلَمْ يَجِدْهُ، فَقَالَ بِأَبِي الطَّيِّبُ: طِبْتَ حَيًّا وَطِبْتَ مَيِّتًا".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا، تو آپ کے جسم مبارک سے وہ ڈھونڈنے لگے جو میت کے جسم میں ڈھونڈتے ہیں ۱؎ لیکن کچھ نہ پایا، تو کہا: میرے باپ آپ پر قربان ہوں، آپ پاک صاف ہیں، آپ زندگی میں بھی پاک تھے، مرنے کے بعد بھی پاک رہے ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1467]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیا تو انہوں نے وہ چیز معلوم کرنی چاہی جو میت سے ظاہر ہوا کرتی ہے لیکن ایسی کوئی چیز محسوس نہ ہوئی تو انہوں نے فرمایا: اس پاک ہستی پر میرا باپ قربان ہو! (اے نبی!) آپ زندگی میں بھی پاک تھے وفات کے بعد بھی پاک ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10115، ومصباح الزجاجة: 522) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں یحییٰ بن خذام مجہول ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے سند صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: یعنی نجاست وغیرہ۔ ۲؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج میں اللہ تعالیٰ نے نہایت نفاست، لطافت اور طہارت رکھی تھی، آپ خوشبو کا بہت استعمال کرتے تھے اور بدبو سے نہایت نفرت کرتے، آپ کے کپڑے اور بدن ہمیشہ معطر رہتے، یہاں تک کہ آپ جس کوچہ اور گلی سے چلے جاتے تو وہ معطر ہو جاتا، اور لوگ پہچان لیتے کہ آپ ادھر سے تشریف لے گئے ہیں، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد کا استعمال کیا، تو بعض ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے کہا کہ آپ کے منہ سے مغافیر (گوند) کی بو آتی ہے، آپ نے شہد کا استعمال اپنے اوپر حرام کر لیا، غرض آپ اس سے بہت بچتے تھے کہ آپ کے کپڑے یا بدن میں کسی قسم کی بو ہو جو دوسرے کو بری معلوم ہو، اور اسی وجہ سے آپ کچی پیاز یا لہسن نہیں کھاتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی ابن سلول سے ملنے گئے، جو بڑا دنیا دار اور مال دار تھا، تو وہ کہنے لگا کہ آپ اپنے گدھے کو مجھ سے ذرا دور رکھئیے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گدھے کی بو تیرے بدن کی بو سے اچھی ہے، غرض سر سے پاؤں تک آپ لطافت و طہارت اور خوشبو ہی میں ڈوبے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے وفات کے بعد بھی آپ کو پاک و صاف رکھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري عنعن في المتصل وصرح بالسماع في المرسل فالسند معلل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1468
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَنَا مُتُّ فَاغْسِلْنِي بِسَبْعِ قِرَبٍ مِنْ بِئْرِي بِئْرِ غَرْسٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں (بئر غرس) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1468]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے میرے کنویں «بِئْرِ غَرْسٍ» کے پانی کی سات مشکوں سے غسل دینا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10164، ومصباح الزجاجة: 523) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں عباد بن یعقوب متروک ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1237)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
عباد بن يعقوب الرواجني الاسدي: ثقة صدوق عند الجمهور، فھو حسن الحديث

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: مَا جَاءَ فِي كَفَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1469
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ يَمَانِيَةٍ، لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ، وَلَا عِمَامَةٌ"، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: إِنَّهُمْ كَانُوا يَزْعُمُونَ أَنَّهُ قَدْ كَانَ كُفِّنَ فِي حِبَرَةٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ:" قَدْ جَاءُوا بِبُرْدِ حِبَرَةٍ فَلَمْ يُكَفِّنُوهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنایا گیا، جس میں کرتہ اور عمامہ نہ تھا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار چادر میں کفنایا گیا تھا؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: لوگ دھاری دار چادر لائے تھے مگر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں نہیں کفنایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1469]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی کپڑوں (چادروں) میں کفن دیا گیا، ان میں نہ قمیص تھی نہ عمامہ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار چادروں میں کفن دیا گیا تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: لوگ دھاری دار چادریں لائے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان میں کفن نہیں دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجنائز 13 (941)، سنن ابی داود/الجنائز 34 (3152)، سنن الترمذی/الجنائز20 (996)، سنن النسائی/الجنائز 39 (1900)، (تحفة الأشراف: 16786)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 18 (1264)، 23 (1271)، 24 (1272)، 94 (1387)، موطا امام مالک/الجنائز 2 (5) مسند احمد (6/40، 93، 118، 132، 165) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ سفید کپڑا کفن کے لیے بہتر ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ تین کپڑوں سے زیادہ مکروہ ہے بالخصوص عمامہ جسے متاخرین حنفیہ اور مالکیہ نے رواج دیا ہے، یہ بدعت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1470
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: هَذَا مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِي مُعَيْدٍ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثِ رِيَاطٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سحول کے بنے ہوئے تین باریک سفید کپڑوں میں کفنائے گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1470]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید سحولی چادروں میں کفن دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7676، ومصباح الزجاجة: 524) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (عائشہ رضی اللہ عنہا کی سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عمرو بن ابی سلمہ ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎:سحول: یمن کے ایک گاؤں کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1471
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ، قَمِيصُهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، وَحُلَّةٌ نَجْرَانِيَّةٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین کپڑوں میں کفنائے گئے، ایک اپنی قمیص میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تھی، اور دوسرے نجرانی ۱؎ جوڑے میں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1471]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا۔ ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ قمیص جسے آپ وفات کے وقت پہنے ہوئے تھے اور نجرانی چادروں کا ایک جوڑا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏حدیث یزید بن أبي زیاد عن الحکم تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6485)، وحدث یزید بن أبي زیاد عن مقسم أخرجہ، سنن ابی داود/الجنائز 34 (3153)، (تحفة الأشراف: 6496)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/222) (ضعیف) (اس کی سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نجران: یمن سے متصل سعودی عرب کے ایک علاقہ کا نام ہے، اور نجران مشہور شہر بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3153)
وجاء في بعض نسخ سنن ابن ماجه: ’’ الحكم بن عتيبة ‘‘ بين يزيد بن أبي زياد ومقسم وھو وھم،واﷲ أعلم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 430

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الْكَفَنِ
باب: کفن کے لیے کون سا کپڑا اچھا اور مستحب ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1472
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضُ، فَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، وَالْبَسُوهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر سفید کپڑا ہے، لہٰذا تم اپنے مردوں کو اسی میں کفناؤ، اور اسی کو پہنو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1472]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بہترین کپڑے سفید ہیں، لہٰذا اپنے مردوں کو ان میں کفن دیا کرو اور خود بھی پہنو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/اللباس 16 (4061)، سنن الترمذی/الجنائز 18 (994)، (تحفة الأشراف: 5534)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/231، 247، 274، 368، 355، 363)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: (3566) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں