سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: فَضْلِ النِّسَاءِ
باب: بہترین عورت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1855
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّمَا الدُّنْيَا مَتَاعٌ، وَلَيْسَ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا شَيْءٌ أَفْضَلَ مِنَ الْمَرْأَةِ الصَّالِحَةِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا متاع (سامان) ہے، اور دنیا کے سامانوں میں سے کوئی بھی چیز نیک اور صالح عورت سے بہتر نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1855]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا (عارضی) فائدے کی چیز ہے اور دنیا کے سازوسامان میں نیک عورت سے بہتر کوئی چیز نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 17 (1467)، سنن النسائی/النکاح 15 (3234)، (تحفة الأشراف: 8849)، مسند احمد (2/168) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن زياد بن أنعم الإفريقي ضعيف
و روي مسلم (1467): ((الدنيا متاع و خير متاع الدنيا المرأة الصالحة)) و ھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن زياد بن أنعم الإفريقي ضعيف
و روي مسلم (1467): ((الدنيا متاع و خير متاع الدنيا المرأة الصالحة)) و ھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
حدیث نمبر: 1856
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سَمُرَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ فِي الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ مَا نَزَلَ، قَالُوا: فَأَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ؟، قَالَ عُمَرُ: فَأَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ، فَأَوْضَعَ عَلَى بَعِيرِهِ، فَأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا فِي أَثَرِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَّ الْمَالِ نَتَّخِذُ؟، فَقَالَ:" لِيَتَّخِذْ أَحَدُكُمْ قَلْبًا شَاكِرًا، وَلِسَانًا ذَاكِرًا، وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُ أَحَدَكُمْ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ".
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سونے اور چاندی کے بارے میں آیت اتری تو لوگ کہنے لگے کہ اب کون سا مال ہم اپنے لیے رکھیں؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اسے تمہارے لیے معلوم کر کے کر آتا ہوں، اور اپنے اونٹ پر سوار ہو کر اسے تیز دوڑایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، میں بھی آپ کے پیچھے تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کون سا مال رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں ہر کوئی شکر کرنے والا دل، ذکر کرنے والی زبان، اور ایمان والی بیوی رکھے جو اس کی آخرت کے کاموں میں مدد کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1856]
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب سونے چاندی کے بارے میں حکم نازل ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے (آپس میں) کہا: ”ہم کون سا مال حاصل کریں؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہیں یہ (مسئلہ) معلوم کر کے بتاتا ہوں۔“ انہوں نے اپنے اونٹ کو تیز چلایا، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئے۔ (ثوبان فرماتے ہیں:) میں بھی ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کون سا مال حاصل (کرنے کی کوشش) کریں؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں چاہیے کہ شکر کرنے والا دل حاصل کرو اور ذکر کرنے والی زبان، اور مومن بیوی جو آخرت کے معاملات میں مرد کی مدد کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2084، ومصباح الزجاجة: 658)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیرالقرآن 10 (3094)، مسند احمد (5/278، 282) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عورت کی مدد آخرت کے کام میں یہ ہے کی آدمی اس کی وجہ سے گناہوں اور بدنظری سے بچتا ہے، اور گھر کے تمام کام عورت کر لیتی ہے مرد کو عبادت کی فرصت ملتی ہے، اگر عورت نہ ہو اور یہ کام خود کرے تو عبادت کی فرصت مشکل سے ملے گی، بعض عورتیں خود نیک اور دیندار ہوتی ہیں، ان کی صحبت کے اثر سے مرد بھی زاہد اور عابد ہو جاتا ہے، بعض عورتیں اپنے شوہر کو تہجد کی نماز کے لئے جگاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3094)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
إسناده ضعيف
ترمذي (3094)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
حدیث نمبر: 1857
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَى اللَّهِ خَيْرًا لَهُ مِنْ زَوْجَةٍ صَالِحَةٍ، إِنْ أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِنْ نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ، وَإِنْ أَقْسَمَ عَلَيْهَا أَبَرَّتْهُ، وَإِنْ غَابَ عَنْهَا نَصَحَتْهُ فِي نَفْسِهَا، وَمَالِهِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”تقویٰ کے بعد مومن نے جو سب سے اچھی چیز حاصل کی وہ ایسی نیک بیوی ہے کہ اگر شوہر اسے حکم دے تو اسے مانے، اور اگر اس کی جانب دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے، اور اگر وہ اس (کے بھروسے) پر قسم کھا لے تو اسے سچا کر دکھائے، اور اگر وہ موجود نہ ہو تو عورت اپنی ذات اور اس کے مال میں اس کی خیر خواہی کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1857]
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”مومن کو اللہ کے تقوے کے بعد نیک بیوی سے بہتر کوئی چیز نہیں مل سکتی۔ (ایسی بیوی کہ) جب وہ اسے کوئی حکم دے تو وہ اس کی تعمیل کرے، جب اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے تو اسے خوش کر دے، اگر اسے کوئی قسم دے تو وہ قسم پوری کر دے، اگر وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہو (سفر وغیرہ میں چلا جائے) تو اپنی ذات کے بارے میں اور اس کے مال کے بارے میں اس سے مخلص رہے (خیانت نہ کرے)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4919، ومصباح الزجاجة: 659) (ضعیف)» (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن يزيد وعثمان بن أبي العاتكة: ضعيفان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
إسناده ضعيف
علي بن يزيد وعثمان بن أبي العاتكة: ضعيفان
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
6. بَابُ: تَزْوِيجِ ذَوَاتِ الدِّينِ
باب: نیک اور دیندار عورت سے شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1858
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے چار چیزوں کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے، ان کے مال و دولت کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کے حسن و جمال اور خوبصورتی کی وجہ سے، اور ان کی دین داری کی وجہ سے، لہٰذا تم دیندار عورت کا انتخاب کر کے کامیاب بنو، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1858]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے چار چیزوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: (کسی سے) اس کے مال کی وجہ سے، (کسی سے) اس کے حسب و نسب کی وجہ سے، (کسی سے) اس کے حسن و جمال کی وجہ سے، (کسی سے) اس کی دین داری (اور نیکی) کی وجہ سے۔ تو دین دار عورت (کے حصول میں) کامیاب ہو جا، «تَرِبَتْ يَدَاكَ» ”تیرا بھلا ہو۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 15 (5090)، صحیح مسلم/الرضاع 15 (1466)، سنن ابی داود/النکاح 2 (2047)، سنن النسائی/النکاح 13 (3232)، (تحفة الأشراف: 13305)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/428)، سنن الدارمی/النکاح 4 (2216) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1859
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبيُّ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الْإِفْرِيقِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَزَوَّجُوا النِّسَاءَ لِحُسْنِهِنَّ، فَعَسَى حُسْنُهُنَّ أَنْ يُرْدِيَهُنَّ، وَلَا تَزَوَّجُوهُنَّ لِأَمْوَالِهِنَّ، فَعَسَى أَمْوَالُهُنَّ أَنْ تُطْغِيَهُنَّ، وَلَكِنْ تَزَوَّجُوهُنَّ عَلَى الدِّينِ، وَلَأَمَةٌ خَرْمَاءُ سَوْدَاءُ ذَاتُ دِينٍ أَفْضَلُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے صرف ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر شادی نہ کرو، ہو سکتا ہے حسن و جمال ہی ان کو تباہ و برباد کر دے، اور عورتوں سے ان کے مال و دولت کو دیکھ کر شادی نہ کرو، ہو سکتا ہے ان کے مال ان کو سرکش بنا دیں، بلکہ ان کی دین داری کی وجہ سے ان سے شادی کرو، ایک کان کٹی کالی لونڈی جو دیندار ہو زیادہ بہتر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1859]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں سے ان کے حسن کی وجہ سے نکاح نہ کرو، ممکن ہے ان کا حسن انہیں (تکبر میں مبتلا کر کے) تباہ کر دے، ان سے ان کے مال کی وجہ سے نکاح نہ کرو، ممکن ہے ان کا مال انہیں سرکش بنا (کر گناہوں میں مبتلا کر) دے، البتہ ان کے دین کو پیش نظر رکھتے ہوئے نکاح کیا کرو۔ ایک سیاہ فام، ناک کٹی، دین دار لونڈی (خوبصورت، بے دین آزاد عورت سے) افضل ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8868، ومصباح الزجاجة: 660) (ضعیف جدا)» (سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم افریقی ضعیف ہیں، نیزملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1060)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الإفريقي: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
إسناده ضعيف
الإفريقي: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 446
7. بَابُ: تَزْوِيجِ الأَبْكَارِ
باب: کنواری لڑکیوں سے شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1860
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَبِكْرًا، أَوْ ثَيِّبًا؟"، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا"، قُلْتُ: كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ، فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ، قَالَ:" فَذَاكَ إِذًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم نے شادی کر لی“؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کنواری سے یا غیر کنواری سے“؟ میں نے کہا: غیر کنواری سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شادی کنواری سے کیوں نہیں کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے کودتے“؟ میں نے کہا: میری کچھ بہنیں ہیں، تو میں ڈرا کہ کہیں کنواری لڑکی آ کر ان میں اور مجھ میں دوری کا سبب نہ بن جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1860]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں، میں نے ایک خاتون سے نکاح کیا۔ (اس کے بعد جب) میری ملاقات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا آپ نے شادی کر لی؟“ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: بیوہ سے۔ فرمایا: ”کنواری سے کیوں نہ کی جس سے تم دل بہلاتے؟“ میں نے کہا: میری کئی بہنیں تھیں۔ مجھے ڈر محسوس ہوا کہ وہ میرے اور ان کے درمیان حائل نہ ہو جائے۔ آپ نے فرمایا: ”تب یہ بات (درست ہے۔)““ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 16 (715)، سنن النسائی/النکاح 6 (3221)، 10 (3236)، (تحفة الأشراف: 2436)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 34 (2097)، الوکالة 8 (2409)، الجہاد 113 (2967)، المغازي 18 (4052)، النکاح 10 (5079)، 121 (5245)، 122 (5247)، النفقات 12 (5367)، الدعوات 53 (6387)، سنن ابی داود/النکاح 3 (2048)، سنن الترمذی/النکاح 13 (1100)، مسند احمد (3/294، 302، 308، 314، 362، 369، 374، 376)، سنن الدارمی/النکاح 32 (2262) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1861
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالْأَبْكَارِ، فَإِنَّهُنَّ أَعْذَبُ أَفْوَاهًا، وَأَنْتَقُ أَرْحَامًا، وَأَرْضَى بِالْيَسِيرِ".
عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواری لڑکیوں سے شادی کیا کرو، کیونکہ وہ شیریں دہن ہوتی ہیں اور زیادہ بچے جننے والی ہوتی ہیں، اور تھوڑے پہ راضی رہتی ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1861]
حضرت عتبہ بن عویم بن ساعدہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنواریوں سے نکاح کرو کیونکہ وہ شیریں دہن، زیادہ بچے پیدا کرنے والی اور تھوڑی چیز پر راضی رہنے والی ہوتی ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9756)، ومصباح الزجاجة: 661) (حسن)» (سند میں عبد الرحمن بن سالم مجہول ہے، لیکن جابر رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل (انظر السنن الكبري للبيهقي 7/ 87)
وللحديث شواهد ضعيفة،راجع التلخيص الحبير (145/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
إسناده ضعيف
السند مرسل (انظر السنن الكبري للبيهقي 7/ 87)
وللحديث شواهد ضعيفة،راجع التلخيص الحبير (145/3)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
8. بَابُ: تَزْوِيجِ الْحَرَائِرِ وَالْوَلُودِ
باب: آزاد اور جننے والی عورتوں سے شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1862
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سَوَّارٍ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَرَادَ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ طَاهِرًا مُطَهَّرًا فَلْيَتَزَوَّجِ الْحَرَائِرَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس کو اللہ تعالیٰ سے پاک صاف ہو کر ملنے کا ارادہ ہے تو چاہئیے کہ وہ آزاد عورتوں سے شادی کرے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1862]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”جو شخص پاک صاف ہو کر اللہ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ آزاد عورتوں سے نکاح کرے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 921، ومصباح الزجاجة: 662)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/225، 493) (ضعیف)» (سند میں کثیر بن سلیم اور سلام بن سوار ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: کیونکہ آزاد عورتیں بہ نسبت لونڈیوں کے زیادہ لطیف اور پاکیزہ ہوتی ہیں، اور ممکن ہے کہ مطلب یہ ہو جو کوئی آزاد عورتوں سے نکاح کرے گا، اس کی نگاہ اجنبی عورتوں کے طرف نہ اٹھے گی، پس وہ اکثر گناہوں سے بچا رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
سلام بن سوار: ضعيف (تقريب: 2704) وشيخه كثير بن سليم: ضعيف (تقريب: 5613)
وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (261/2)
وللحديث شاهد عند البخاري في التاريخ (404/8) بدون سند واﷲ أعلم بحاله
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
ضعيف
سلام بن سوار: ضعيف (تقريب: 2704) وشيخه كثير بن سليم: ضعيف (تقريب: 5613)
وأورده ابن الجوزي في الموضوعات (261/2)
وللحديث شاهد عند البخاري في التاريخ (404/8) بدون سند واﷲ أعلم بحاله
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
حدیث نمبر: 1863
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْكِحُوا فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم شادی کرو، اس لیے کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1863]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نکاح کرو، میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14181، ومصباح الزجاجة: 663) (صحیح)» (سند میں طلحہ بن عمرو مکی ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1784 وسلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 2960، صحیح أبی داود: 1789)
وضاحت: ۱؎: جب نکاح کرو گے تو اولاد ہو گی اور میری امت زیادہ ہو گی، مؤلف نے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان نہیں کی جس کو احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے کہ شوہر سے محبت کرنے والی عورت سے نکاح کرو، جو بہت جننے والی ہو اس لئے کہ میں دوسرے انبیاء پر قیامت کے دن تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
9. بَابُ: النَّظَرِ إِلَى الْمَرْأَةِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا
باب: جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1864
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، قَالَ: خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّأُ لَهَا، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهَا فِي نَخْلٍ لَهَا، فَقِيلَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا أَلْقَى اللَّهُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةَ امْرَأَةٍ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا".
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو شادی کا پیغام دیا تو میں اسے دیکھنے کے لیے چھپنے لگا، یہاں تک کہ میں نے اسے اسی کے باغ میں دیکھ لیا، لوگوں نے ان سے کہا: آپ ایسا کرتے ہیں جب کہ آپ صحابی رسول ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جب اللہ کسی مرد کے دل میں کسی عورت کو نکاح کا پیغام دینے کا خیال پیدا کرے، تو اس عورت کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1864]
حضرت محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا۔ میں اس (کو دیکھنے) کے لیے چھپ جایا کرتا تھا حتی کہ میں نے اسے کھجوروں کے باغ میں دیکھ لیا۔“ (حاضرین میں سے) کسی نے کہا: ”آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہو کر بھی ایسا کرتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ فرمان سنا ہے: ”جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کے دل میں کسی عورت سے نکاح کی خواہش ڈالے تو اسے دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11228، ومصباح الزجاجة: 664)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/493، 4/225) (صحیح)» (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 98)
وضاحت: ۱؎: کیونکہ یہ ضرورت کے وقت دیکھنا ہے، اور ضرورت کے وقت ایسا کرنا جائز ہے جیسے قاضی اور گواہ کا عورت کو دیکھنا صحیح اور جائز ہے، اسی طرح طبیب کو علاج کے لئے اس مقام کو دیکھنا درست ہے جہاں دیکھنے کی ضرورت ہو، اہل حدیث، شافعی، ابوحنیفہ، احمد اور اکثر اہل علم کا مذہب یہی ہے کہ جس عورت سے نکاح کرنا مقصود ہو اس کا دیکھنا جائز ہے، اور امام مالک کہتے ہیں کہ یہ عورت کی اجازت سے صحیح ہے، بغیر اس کی اجازت کے صحیح نہیں، اور ایک روایت ان سے یہ ہے کہ صحیح نہیں ہے، اس باب میں ایک یہ حدیث ہے، دوسری مغیرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو آگے آ رہی ہے، تیسری ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جو صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کا ارادہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کو دیکھا تھا“؟ وہ بولا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اس کو دیکھ لو، اس لئے کہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ عیب ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ویسا ہی ہوا، اور اس عورت سے خوب موافقت رہی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحجاج بن أرطاة: ضعيف
وسقط ذكره من صحيح ابن حبان (الموارد: 1235)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447
إسناده ضعيف
الحجاج بن أرطاة: ضعيف
وسقط ذكره من صحيح ابن حبان (الموارد: 1235)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 447