🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ: النَّهْيِ أَنْ يُقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ
باب: یوں کہنا منع ہے ”جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2118
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَأَى فِي النَّوْمِ، أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ: فَقَالَ: نِعْمَ، الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ، تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ، وَشَاءَ مُحَمَّدٌ وَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُهَا لَكُمْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ".
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ اہل کتاب کے ایک شخص سے ملا تو اس نے کہا: تم کیا ہی اچھے لوگ ہوتے اگر شرک نہ کرتے، تم کہتے ہو: جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں، اس مسلمان نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں اس بات کو جانتا ہوں (کہ ایسا کہنے میں شرک کی بو ہے)۔ لہٰذا تم «ما شاء الله ثم شاء محمد» جو اللہ چاہے پھر محمد چاہیں کہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2118]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے خواب میں دیکھا کہ اہل کتاب کے ایک آدمی (کسی یہودی یا عیسائی) سے اس کی ملاقات ہوئی۔ اس نے کہا: تم (مسلمان) اچھے لوگ ہو، اگر شرک نہ کرو۔ تم کہتے ہو: «مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ» جو اللہ اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چاہیں۔ اس آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خواب سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی! میں بھی تمہاری یہ بات محسوس کر رہا تھا۔ تم یوں کہا کرو: «مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ» جو اللہ چاہے، پھر جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چاہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تجفة الأشراف: 3318، ومصباح الزجاجة: 747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3935) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ کے بعد محمد کو رکھو تو حرج نہیں اس لئے کہ اللہ کے برابر کوئی نہیں، سب اس کے بندے اور غلام ہیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسبت ایسا کہنے سے منع فرمایا تو اب کسی ولی، پیر و مرشد اور فقیر و درویش کی کیا بساط ہے کہ وہ کسی کام کے کرنے یا ہونے یا نہ ہونے میں اللہ کے نام کے ساتھ شریک ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
عبدالملك بن عمير عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 455

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2118M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخِي عَائِشَةَ لِأُمِّهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
اس سند سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاتی بھائی طفیل بن سخبرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی مرفوعاً روایت آئی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2118M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4992، ومصباح الزجاجة: 748)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/72، 398)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح

14. بَابُ: مَنْ وَرَّى فِي يَمِينِهِ
باب: جو کوئی قسم میں توریہ کرے اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2119
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ جَدَّتِهِ ، عَنْ أَبِيهَا سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، قَالَ: خَرَجْنَا نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، فَأَخَذَهُ عَدُوٌّ لَهُ، فَتَحَرَّجَ النَّاسُ أَنْ يَحْلِفُوا، فَحَلَفْتُ أَنَا، أَنَّهُ أَخِي فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، أَنَّ الْقَوْمَ تَحَرَّجُوا أَنْ يَحْلِفُوا وَحَلَفْتُ أَنَا، أَنَّهُ أَخِي، فَقَالَ:" صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ".
سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کے ارادے سے نکلے، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کو ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا، تو لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا، آخر میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے، تو اس نے انہیں چھوڑ دیا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور میں نے آپ کو بتایا کہ لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا، اور میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2119]
حضرت سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے۔ ہمارے ساتھ حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضرت وائل رضی اللہ عنہ کو ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا تو لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا۔ میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرے بھائی ہیں (یہ ظاہر کیا کہ یہ وائل بن حجر نہیں۔) اس نے انہیں چھوڑ دیا، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (واقعہ) عرض کیا کہ دوسرے افراد نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا اور میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرے بھائی ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا، «اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ» مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 8 (3256)، (تحفة الأشراف: 4809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/79) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (قصہ کے تذکرہ کے ساتھ یہ ضعیف ہے لیکن مرفوع حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2120
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کا اعتبار صرف قسم دلانے والے کی نیت پر ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأیمان 4 (1653)، سنن ابی داود/الأیمان 7 (3255)، سنن الترمذی/الأحکام 1 (1354)، (تحفة الأشراف: 12826)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/النذور 11 (2394) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: گو قسم کھانے والا دوسرا کچھ مطلب رکھ کر قسم کھائے یعنی توریہ کرے تو اس کا توریہ اس کو مفید نہ ہو گا بلکہ جھوٹی قسم کا وبال اس پر ہو گا، اس حدیث کا محل یہ ہے کہ جب کوئی شخص قسم کھا کر دوسرے کا حق دبانا چاہے اور اگلی حدیث کا محل یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کی ظالم کے ظلم سے جان یا عزت بچانی مقصود ہو، اور دونوں قسموں میں منافات نہ ہو گی۔ امام احمد رحمہ اللہ کا قول اس حدیث کے موافق ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2121
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری قسم اسی مطلب پر واقع ہو گی جس پر تمہارا ساتھی تمہاری تصدیق کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2121]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری قسم اس مفہوم پر واقع ہوگی جس پر تیرا ساتھی (قسم دلانے والا) تجھے سچا سمجھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏أنظر ما قبلہ (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث بھی اس مقام پر محمول ہے کہ معاملات میں آدمی قسم کھائے تو قسم دینے والے کے مطلب پر ہو گی، جیسے اگلی حدیث ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ النَّذْرِ
باب: نذر سے ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2122
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ:" إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ اللَّئِيمِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع کرتے ہوئے فرمایا: اس سے صرف بخیل کا مال نکالا جاتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2122]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا اور فرمایا: اس کے ذریعے سے کنجوس (کے ہاتھ) سے (مال) نکلوایا جاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/القدر 6 (6608)، الأیمان 26 (6693)، صحیح مسلم/النذور 2 (1639)، سنن ابی داود/الایمان 21 (3287)، سنن النسائی/الایمان 24 (3832، 3833)، (تحفة الأشراف: 7287)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/61، 86، 18)، سنن الدارمی/النذور 5 (2385) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بخیل بغیر مصیبت پڑے خرچ نہیں کرتا، جب آفت آتی ہے تو نذر مانتا ہے، اس وجہ سے نذر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکروہ جانا کیونکہ وہ بخلاء کا شعار ہے، اور سخی تو بغیر نذر کے اللہ کی راہ میں ہمیشہ خرچ کرتے ہیں، اور بعضوں نے کہا: نذر سے ممانعت اس حال میں ہے جب یہ سمجھ کر نذر کرے کہ اس کی وجہ سے تقدیر بدل جائے گی، یا مقدر میں جو آفت ہے، وہ ٹل جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ النَّذْرَ لَا يَأْتِي ابْنَ آدَمَ بِشَيْءٍ إِلَّا مَا قُدِّرَ لَهُ وَلَكِنْ يَغْلِبُهُ الْقَدَرُ مَا قُدِّرَ لَهُ، فَيُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ فَيُيَسَّرُ عَلَيْهِ مَا لَمْ يَكُنْ يُيَسَّرُ عَلَيْهِ مِنْ قَبْلِ ذَلِكَ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ: أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر سے آدمی کو کچھ نہیں ملتا مگر وہ جو اس کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے، لیکن آدمی کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ نذر پر غالب آ جاتا ہے، تو اس نذر سے بخیل کا مال نکالا جاتا ہے، اور اس پہ وہ بات آسان کر دی جاتی ہے، جو پہلے آسان نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو مال خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2123]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر آدم کے بیٹے کو اس کے سوا کچھ نہیں دلا سکتی جو اس کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے۔ تقدیر نذر پر غالب آ جاتی ہے، جو اس کی قسمت میں ہے وہ ہو جائے گا۔ لیکن نذر کے ذریعے سے بخیل سے (کچھ نہ کچھ) نکلوایا جاتا ہے۔ اس طرح اس پر وہ کام (غریب کی مدد کرنا) آسان ہو جاتا ہے جو پہلے آسان نہیں تھا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا (تجھے دنیا میں بھی دوں گا۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13670)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان 26 (6692)، صحیح مسلم/النذر 2 (1640)، سنن ابی داود/الأیمان 21 (3288)، سنن الترمذی/الأیمان 10 (1538)، سنن النسائی/الأیمان 25 (3836)، مسند احمد (2/235، 242، 301، 314، 412، 463) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: النَّذْرِ فِي الْمَعْصِيَةِ
باب: نافرمانی (گناہ) کی نذر ماننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2124
حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ، وَلَا نَذْرَ فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت (گناہ) میں نذر نہیں ہے، اور نہ اس میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2124]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ کے کام کی کوئی نذر نہیں اور جس چیز کا انسان مالک نہیں، اس کی کوئی نذر نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/النذر 3 (1641)، سنن ابی داود/الأیمان 28 (3316)، سنن النسائی/الأیمان 30 (3843)، 41 (3880)، (تحفة الأشرف: 10884، 10888)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/429، 434) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مثلاً دوسرے کے غلام آزاد کرنے کی نذر کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2125
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ أَبُو طَاهِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةٍ وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معصیت (گناہ) میں نذر نہیں ہے، اور ایسی نذر کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2125]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گناہ کے کام کی کوئی نذر نہیں اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الأیمان 22 (3290، 3291)، سنن الترمذی/الایمان 2 (1524)، سنن النسائی/الأیمان 40 (3865)، (تحفة الأشراف: 17770)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان 28 (6696)، 31 (6700)، موطا امام مالک/النذور4 (8)، مسند احمد (6/36، 41، 224)، سنن الدارمی/النذور 3 (2383) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2126
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلَا يَعْصِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانی ہو وہ اس کی اطاعت کرے، اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانی ہو تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2126]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی اطاعت کی نذر مانے، اسے چاہیے کہ اللہ کی اطاعت کرے، اور جو شخص اللہ کی نافرمانی کی نذر مانے، اسے چاہیے کہ اللہ کی نافرمانی نہ کرے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان والنذور 28 (6696)، 31 (6700)، سنن ابی داود/الإیمان والنذور 22 (3289)، سنن الترمذی/النذور الإیمان 2 (1526)، سنن النسائی/الإیمان والنذور 26 (3837)، 27 (3838، 3839)، (تحفة الأشراف: 17458)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النذور (8)، مسند احمد (6/36، 41، 224، سنن الدارمی/النذور 3 (2383) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آیت کریمہ: «يُوفُونَ بِالنَّذْرِ» (سورة الإنسان: 7) سے مراد یہی اطاعت کی نذر ہے، طبری نے باسناد صحیح قتادہ سے آیت کریمہ: «يُوفُونَ بِالنَّذْرِ» کی تفسیر نقل کی ہے کہ اگلے لوگ صوم، صلاۃ، زکاۃ، حج و عمرہ اور فرائض کی نذر کرتے تھے، تو اللہ تعالی نے ان کو «ابرار» کہا، اور احمد، ابوداود نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نذر صرف وہی ہے جس سے اللہ تعالی کی رضامندی مطلوب ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں