سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ: مَا يَدْعُو بِهِ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ
باب: بستر پر لیٹتے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3876
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِرَجُلٍ:" إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ , أَوْ أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ , فَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ , وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ , وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ , رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ , لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ , آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ , وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ , فَإِنْ مِتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ , مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ , وَإِنْ أَصْبَحْتَ , أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا كَثِيرًا".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”جب تم سونے لگو یا اپنے بستر پر جاؤ تو یہ دعا پڑھا کرو: «اللهم أسلمت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ (یعنی نفس) تجھ کو سونپ دیا، اپنی پیٹھ تیرے سہارے پر لگا دی، اور اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، امیدی ناامیدی کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، سوائے تیرے سوا کہیں اور کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں، میں تیری کتاب پر جسے تو نے نازل کیا، اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا ایمان لایا، پھر اگر تمہارا اس رات انتقال ہو گیا تو دین اسلام پر مرو گے، اور اگر تم نے صبح کی تو تم خیر کثیر کے ساتھ صبح کرو گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3876]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے فرمایا: ”جب تو سونے لگے یا فرمایا: جب تو اپنے بستر پر جائے تو کہہ: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ”اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے تابع کر دیا، اور اپنی پشت تیری طرف جھکائی، اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، ثواب میں رغبت کرتے ہوئے اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہوئے۔ تیری بارگاہ کے سوا کوئی ٹھکانہ اور جائے پناہ نہیں۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی، اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا۔“ پھر اگر تو اس رات میں فوت ہو گیا تو تیری موت فطرت (دین اسلام) پر ہو گی، اور اگر تجھے (خیریت سے) صبح ہو گئی تو تیری یہ صبح اس حال میں ہو گی کہ تو بہت بھلائی حاصل کر چکا ہو گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3876]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1852)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 75 (247)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2710)، سنن الترمذی/الدعوات 16 (3394)، مسند احمد (4/ 289، 298، 303)، سنن الدارمی/ الاستئذان 51 (2725) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3877
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ , إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ , وَضَعَ يَدَهُ يَعْنِي: الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ , ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار مبارک کے نیچے رکھتے، پھر (یہ دعا) پڑھتے: «اللهم قني عذابك يوم تبعث (أو تجمع) عبادك» ”اے اللہ! مجھ کو تو اپنے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3877]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر تشریف لے جاتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھ کر فرماتے: «اَللّٰهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ» یا فرماتے: «يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ» ”اے اللہ! مجھے (اس دن) اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا، یا اپنے بندوں کو جمع کرے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3877]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9617، ومصباح الزجاجة: 1358)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/394، 400، 414، 443) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
16. بَابُ: مَا يَدْعُو بِهِ إِذَا انْتَبَهَ مِنَ اللَّيْلِ
باب: رات میں آنکھ کھل جائے تو کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3878
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ , حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ , فَقَالَ حِينَ يَسْتَيْقِظُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ , وَلَهُ الْحَمْدُ , وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , سُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ , وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ , ثُمَّ دَعَا رَبِّ اغْفِرْ لِي , غُفِرَ لَهُ" , قَالَ الْوَلِيدُ: أَوْ قَالَ: دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ , فَإِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رات میں بیدار ہو اور آنکھ کھلتے ہی یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا ہے، وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اللہ ہی سب سے بڑا ہے، طاقت و قوت اللہ بلند و برتر کی توفیق ہی سے ہے“ پھر یہ دعا پڑھے: «رب اغفر لي» ”اے رب مجھ کو بخش دے“، تو وہ بخش دیا جائے گا، ولید کہتے ہیں: یا یوں کہا: اگر وہ دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہو گی، اور اگر اٹھ کر وضو کرے، پھر نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول ہو گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3878]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کی رات کو آنکھ کھل گئی اور اس نے جاگ کر یوں کہا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ» ”اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے، اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔ اللہ پاک ہے اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ اور بلندیوں اور عظمتوں والے اللہ کی مدد کے بغیر نہ برائی سے بچاؤ ممکن ہے نہ نیکی کی طاقت۔“ پھر اس کے بعد اس نے یہ دعا کی: «رَبِّ اغْفِرْ لِي» ”اے میرے رب! مجھے بخش دے۔“ تو اس کی بخشش ہو جائے گی۔“ (راوی حدیث) ولید بن مسلم بیان کرتے ہیں کہ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا: ”پھر دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہو جاتی ہے۔ اگر اٹھ کر وضو کرتا ہے، پھر نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز قبول ہوتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3878]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التہجد 21 (1154)، سنن ابی داود/الأدب 108 (5060)، سنن الترمذی/الدعوات 26 (3414)، (تحفة الأشراف: 5074)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الاستئذان 53 (2729) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3879
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيَّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ كَانَ يَبِيتُ عِنْدَ بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ يَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُول مِنَ اللَّيْلِ:" سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" الْهَوِيَّ , ثُمَّ يَقُولُ:" سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ".
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتے تھے اور رات کو بڑی دیر تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنتے: «سبحان الله رب العالمين» پھر فرماتے: «سبحان الله وبحمده» ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3879]
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے قریب رات گزارتے تھے۔ وہ رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کافی دیر تک یہ پڑھتے ہوئے سنتے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ”تمام جہانوں کا مالک اللہ پاک ہے۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» ”پاک ہے اللہ اپنی خوبیوں اور تعریفوں سمیت۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 43 (489)، سنن ابی داود/الصلاة 312 (1320)، سنن الترمذی/الدعوات 7 (3416)، سنن النسائی/التطبیق 79 (1139)، (تحفة الأشراف: 3603)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/49، 57) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رات کو جب نیند سے بیدار ہو تو جہاں تک ہو سکے کلمہ پڑھ کر دعا کرے، اور استغفار پڑھے، اور تسبیح یا تہلیل میں مشغول رہے، تو اس کو قیام اللیل کا ثواب مل جائے گا، لیکن افضل یہ ہے کہ بستر سے اٹھے اور وضو کر کے تہجد پڑھے، اگر کسی سے تہجد ادا نہ ہو سکے تو کم سے کم یہ ضروری ہے کہ بچھونے پر ہی رہ کر یہ کلمہ جتنی بار ہو سکے پڑھے اور استغفار کرے، اور دعا کرے، قیام اللیل اس قدر بھی ادا ہو جائے گا، اور جان لینا چاہیے کہ سلف صالحین نے قیام اللیل کبھی ترک نہیں کیا، اور وہ ضروری ہے اگرچہ تھوڑا سا ہی ہو یعنی ایک بار یہ کلمہ پڑھ کر دعا کر لے جیسا اس حدیث میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3880
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْتَبَهَ مِنَ اللَّيْلِ , قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے: «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ”تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہم کو (نیند کی صورت میں) موت طاری کرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا، اور اسی کی طرف اٹھ کر جا نا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3880]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو جاگتے تو فرماتے: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيٓ اَحْيَانَا بَعْدَ مَآ اَمَاتَنَا وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ» ”اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں موت دینے کے بعد زندگی بخش دی اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3880]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 7 (6312)، التوحید 13 (7394)، سنن ابی داود/الأدب 107 (5049)، سنن الترمذی/الدعوات 28 (3417)، (تحفة الأشراف: 3308)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/154، 385، 387، 397، 399، 407)، سنن الدارمی/الاستئذان 53 (2728) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صبح نیند سے بیدار ہونے کے بعد یہ دعا پڑھنی چاہیے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3881
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النُّجُودِ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ عَبْدٍ بَاتَ عَلَى طُهُورٍ , ثُمَّ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ , فَسَأَلَ اللَّهَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا , أَوْ مِنْ أَمْرِ الْآخِرَةِ , إِلَّا أَعْطَاهُ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی بندہ رات کو باوضو سوئے، اور پھر رات میں اٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی کسی چیز کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دیتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3881]
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ باوضو سوتا ہے، پھر رات کو اس کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ اللہ سے دنیا کے معاملات میں سے یا آخرت کے معاملات میں سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو اللہ اسے وہ چیز دے دیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 105 (5042)، (تحفة الأشراف: 11371)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/ 234، 235، 244) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
17. بَابُ: الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ
باب: مصیبت کے وقت دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3882
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ جَمِيعًا , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , حَدَّثَنِي هِلَالٌ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ , عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ ابْنَةِ عُمَيْسٍ , قَالَتْ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ:" اللَّهُ , اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا".
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے کہ میں سخت تکلیف کے وقت پڑھا کروں، (وہ کلمات یہ ہیں) «الله الله ربي لا أشرك به شيئا» ”اللہ، اللہ ہی میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3882]
حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ عنہ اپنی والدہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پریشانی کے موقع پر پڑھنے کے لیے مجھے یہ الفاظ سکھائے: «اللَّهُ، اللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا» ”اللہ، صرف اللہ میرا رب ہے۔ میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3882]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 361 (1525)، (تحفة الأشراف: 15757)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/36) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3883
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ , سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ , سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ" , قَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فِيهَا كُلِّهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سخت تکلیف کے وقت یہ (دعا) پڑھتے تھے: «لا إله إلا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الكريم» ”اللہ حلیم (برد بار) و کریم (کرم والے) کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، پاکی بیان کرتا ہوں عرش عظیم کے رب اللہ کی، پاکی بیان کرتا ہوں ساتوں آسمان اور عرش کریم کے رب اللہ کی“۔ وکیع کی ایک روایت میں ہے کہ ہر فقرے کے شروع میں ایک ایک بار «لا إله إلا الله» ہے۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3883]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو نہایت بردبار اور بہت زیادہ سخی ہے، اللہ پاک ہے جو عرشِ عظیم کا مالک ہے، اور اللہ پاک ہے جو سات آسمانوں کا مالک اور عزت والے عرش کا مالک ہے۔“ (راویِ حدیث) وکیع نے ایک مرتبہ (آخری دو جملوں میں «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کی بجائے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» بیان کیے ہیں جیسا کہ پہلے جملے میں ہیں، یعنی انہوں نے) ہر جملے کے ساتھ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 27 (645، 6346)، صحیح مسلم/الذکروالدعاء 21 (2730)، سنن الترمذی/الدعوات 40، (3435)، (تحفة الأشراف: 5420)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/228، 254، 258، 259، 268، 280، 284، 339، 256) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی «لا إله إلا الله الحليم الكريم لا إله إلا الله سبحان الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الكريم» غرض یہ دعا سختی اور مصیبت کے وقت مفید اور مجرب ہے جیسے کوئی ڈر لاحق ہو یا آگ لگ جائے یا پانی میں ڈوبنے لگے یا کسی اور مصیبت میں پھنس جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
18. بَابُ: مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ
باب: گھر سے نکلتے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 3884
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ , قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أَزِلَّ , أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ , أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أزل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل علي» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں راہ بھٹک جاؤں یا پھسل جاؤں، یا کسی پر ظلم کروں، یا کوئی مجھ پر ظلم کرے، یا میں جہالت کروں، یا کوئی مجھ سے جہالت کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3884]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ، أَوْ أَزِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» ”یا اللہ! میں (اس بات سے) تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا میں لغزش کا شکار ہو جاؤں، یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر کوئی ظلم کرے، یا میں کسی سے بدتمیزی کروں یا کوئی مجھ سے بدتمیزی سے پیش آئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 112 (5094)، سنن الترمذی/الدعوات 35 (3427)، سنن النسائی/الاستعاذة 29 (5488)، 64 (5541)، (تحفة الأشراف: 18168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/306، 318، 322) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 136)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (5094) ترمذي (3427) نسائي (5488)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (5094) ترمذي (3427) نسائي (5488)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
حدیث نمبر: 3885
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ , حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ , قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ , لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ , التُّكْلَانُ عَلَى اللَّهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله لا حول ولا قوة إلا بالله التكلان على الله» ”اللہ کے نام سے (میں نکل رہا ہوں) گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت، اللہ تعالیٰ کی مدد اور قوت کے بغیر ممکن نہیں، اللہ ہی پر بھروسہ ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3885]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو فرماتے: «بِسْمِ اللّٰهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، التُّكْلَانُ عَلَى اللّٰهِ» ”(میں اس گھر سے) اللہ کے نام کے ساتھ (نکل رہا ہوں)، اللہ کی توفیق کے بغیر نہ برائی سے بچاؤ ممکن ہے نہ نیکی کی طاقت، اللہ ہی پر بھروسہ ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12689، ومصباح الزجاجة: 1359) (ضعیف)» (عبد اللہ بن حسین بن عطاء ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبداﷲ بن حسين بن عطاء: ضعيف (تقريب: 3275) وضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 243/4)
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515
إسناده ضعيف
عبداﷲ بن حسين بن عطاء: ضعيف (تقريب: 3275) وضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 243/4)
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 515