🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ: آخِرِ وَقْتِ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب کے اخیر وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 524
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ، قال: إِمْلَاءً عَلَيَّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قال: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا،" فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ بِالْفَجْرِ حِينَ انْشَقَّ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: انْتَصَفَ النَّهَارُ وَهُوَ أَعْلَمُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعِشَاءِ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حِينَ انْصَرَفَ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: طَلَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ، وَالْقَائِلُ يَقُولُ: احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ:" الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا وہ آپ سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جس وقت فجر کی پو پھٹ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی جب سورج ڈھل گیا، اور کہنے والے نے کہا: کیا دوپہر ہو گئی؟ حالانکہ وہ خوب جانتا ہوتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی جبکہ سورج بلند تھا، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی تکبیر کہی جب سورج ڈوب گیا، پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جب شفق غائب ہو گئی، پھر دوسرے دن آپ نے فجر کو مؤخر کیا جس وقت پڑھ کر لوٹے تو کہنے والے نے کہا کہ سورج نکل آیا، پھر ظہر کو کل کے عصر کی وقت کے قریب وقت تک مؤخر کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کو دیر سے پڑھی یہاں تک کہ پڑھ کر لوٹے تو کہنے والے نے کہا سورج سرخ ہو گیا ہے، پھر آپ نے مغرب دیر سے پڑھی یہاں تک کہ شفق کے ڈوبنے کا وقت ہو گیا، پھر عشاء کو آپ نے تہائی رات تک مؤخر کیا، پھر فرمایا: نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 524]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جو آپ سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کر رہا تھا۔ آپ نے اسے کچھ جواب نہ دیا (بلکہ) جونہی فجر (پو) پھٹی، آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے صبح کی اقامت کہی۔ پھر جب سورج ڈھلا تو آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی اور کہنے والا کہتا تھا کہ دن نصف ہو گیا ہے جب کہ آپ خوب جانتے تھے۔ پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی جب کہ سورج کافی بلند تھا۔ پھر آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، جونہی سورج غروب ہوا۔ پھر آپ نے انہیں دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جب سرخی غائب ہوئی۔ پھر آپ نے اگلے دن فجر (کی اقامت) کا حکم دیا۔ جب (نماز سے) فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا کہ سورج طلوع ہو گیا۔ پھر ظہر کی نماز کو گزشتہ کل کی عصر کے وقت کے قریب تک مؤخر کیا۔ پھر عصر کو مؤخر کیا حتیٰ کہ جب فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا: سورج سرخ ہو گیا۔ پھر مغرب کو مؤخر کیا حتیٰ کہ سرخی غائب ہونے کو تھی۔ پھر عشاء کو تہائی رات تک مؤخر کیا۔ پھر فرمایا: نمازوں کے اوقات ان دو دنوں کی نمازوں کے درمیان ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 31 (614)، سنن ابی داود/الصلاة 2 (395)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 9137)، مسند احمد 4/416، 5/349 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 525
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قال: حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ بَشِيرِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: دَخَلْتُ أَنَا وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقُلْنَا لَهُ: أَخْبِرْنَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاكَ زَمَنَ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الْفَيْءُ قَدْرَ الشِّرَاكِ وَظِلِّ الرَّجُلِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْغَدِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ طُولَ الرَّجُلِ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ قَدْرَ مَا يَسِيرُ الرَّاكِبُ سَيْرَ الْعَنَقِ إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِ اللَّيْلِ شَكَّ زَيْدٌ، ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ".
بشیر بن سلام کہتے ہیں کہ میں اور محمد بن علی دونوں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہم کے پاس آئے اور ان سے ہم نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بتائیے (یہ حجاج بن یوسف کا عہد تھا) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ نے ظہر پڑھائی جس وقت سورج ڈھل گیا، اور «فىء» (زوال کے بعد کا سایہ) تسمے کے برابر ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی جس وقت «فىء» تسمے کے اور آدمی کے سایہ کے برابر ہو گیا، پھر آپ نے مغرب پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی جس وقت فجر طلوع ہو گئی، پھر دوسرے دن آپ نے ظہر پڑھائی جب سایہ آدمی کی لمبائی کے برابر ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھائی جب آدمی کا سایہ اس کے دوگنا ہو گیا، اور اس قدر دن تھا جس میں سوار متوسط رفتار میں ذوالحلیفہ تک جا سکتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھائی جس وقت سورج ڈوب گیا، پھر تہائی رات یا آدھی رات کو عشاء پڑھائی (یہ شک زید کو ہوا ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی تو آپ نے خوب اجالا کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 525]
بشیر بن سلام رحمہ اللہ نے کہا کہ میں اور حضرت محمد بن علی (باقر) رحمہ اللہ، حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے، اور یہ حجاج بن یوسف کا دور تھا۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی جب سورج ڈھل گیا اور ابھی سایہ تسمے کے برابر تھا۔ پھر عصر کی نماز پڑھی جبکہ سایہ آدمی کے قد اور ایک تسمے کے برابر تھا (ایک مثل سے ایک تسمے کی مقدار کے برابر بڑا تھا)۔ پھر مغرب کی نماز پڑھی جب سورج غروب ہو گیا۔ پھر عشاء کی نماز پڑھی جب سرخی غائب ہو گئی۔ پھر فجر کی نماز پڑھی جب فجر طلوع ہوئی۔ پھر اگلے دن ظہر کی نماز پڑھی جب سایہ آدمی کے قد کے برابر تھا۔ پھر عصر کی نماز پڑھی جب آدمی کا سایہ دگنا ہو گیا اور اتنا وقت باقی تھا کہ ایک اونٹ سوار درمیانی تیز چال سے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا، پھر مغرب کی نماز پڑھی جب سورج ڈوب چکا تھا، پھر عشاء کی نماز تہائی یا نصف رات کے وقت پڑھی، پھر فجر کی نماز خوب روشنی میں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2217) (صحیح) بما تقدم برقم: 505 وما یأتی بأرقام 527، 528 (اس کے راوی ’’حسین‘‘ لین الحدیث ہیں، لیکن متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الحسين بن بشير بن سلام الأنصاري مجهول الحال،ذكره ابن حبان وحده فى الثقات (6/ 206) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 324

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: كَرَاهِيَةِ النَّوْمِ بَعْدَ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب کے بعد سونا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 526
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، قال: حَدَّثَنِي سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ، قال: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَرْزَةَ فَسَأَلَهُ أَبِي: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ؟ قَالَ: كَانَ" يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ حِينَ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ".
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میرے والد نے ان سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے (یعنی کب) پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا، اور عصر پڑھتے جب ہم میں سے مدینہ کے آخری کونے پر رہنے والا آدمی اپنے گھر لوٹ کر آتا، تو سورج تیز اور بلند ہوتا، مغرب کے سلسلہ میں جو انہوں نے کہا میں اسے بھول گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کو جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہو مؤخر کرنا پسند کرتے تھے، اور اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد گفتگو کرنا ناپسند فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، اور آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 526]
سیار بن سلامہ بیان کرتے ہیں کہ میں (اپنے والد کے ساتھ) ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میرے والد محترم نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کیسے پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز، جسے تم «الْأُولَىٰ» (پیشین) کہتے ہو، اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھلتا تھا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ (نماز کے بعد) ہم میں سے کوئی شخص مدینے کی انتہائی دور والی مضافاتی بستی میں اپنے گھر واپس پہنچ جاتا تھا جبکہ سورج ابھی زندہ ہوتا تھا، اور میں بھول گیا کہ مغرب کے بارے میں انہوں نے کیا فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اچھا سمجھتے تھے کہ عشاء کی نماز کو، جسے تم «الْعَتَمَةِ» (اندھیری) کہتے ہو، دیر سے پڑھیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز سے پہلے سونے اور بعد میں باتیں کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تھے تو آدمی اپنے ہم نشین کو پہچان سکتا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ساٹھ سے سو آیات تک (نماز فجر میں) تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 526]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 496 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: أَوَّلِ وَقْتِ الْعِشَاءِ
باب: عشاء کے اول وقت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 527
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، قال: أَخْبَرَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، قال: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الظُّهْرَ حِينَ مَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ جَاءَهُ لِلْعَصْرِ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ الْعَصْرَ، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ جَاءَهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْمَغْرِبَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ سَوَاءً، ثُمَّ مَكَثَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ الشَّفَقُ جَاءَهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ فَقَامَ فَصَلَّاهَا، ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ سَطَعَ الْفَجْرُ فِي الصُّبْحِ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَقَامَ فَصَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الْغَدِ حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَهُ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام حِينَ كَانَ فَيْءُ الرَّجُلِ مِثْلَيْهِ، فَقَالَ: قُمْ يَا مُحَمَّدُ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْمَغْرِبِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَقْتًا وَاحِدًا لَمْ يَزُلْ عَنْهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلْعِشَاءِ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَهُ لِلصُّبْحِ حِينَ أَسْفَرَ جِدًّا، فَقَالَ: قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّى الصُّبْحَ، فَقَالَ:" مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ كُلُّهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈھل گیا، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور جا کر جس وقت سورج ڈھل جائے ظہر پڑھیں، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب آدمی کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، تو وہ آپ کے پاس عصر کے لیے آئے اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور عصر پڑھیں، پھر وہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب سورج ڈوب گیا، تو پھر آپ کے پاس آئے اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور مغرب پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر جس وقت سورج اچھی طرح ڈوب گیا مغرب پڑھی، پھر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ جب شفق ختم ہو گئی تو جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: اٹھیں اور عشاء پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر عشاء کی نماز پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس صبح میں آئے جس وقت فجر روشن ہو گئی، اور کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور نماز پڑھیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا فرمائی، پھر وہ آپ کے پاس دوسرے دن اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر آپ کے پاس اس وقت آئے جس وقت آدمی کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، اور کہنے لگے: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور نماز پڑھیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مغرب کے لیے اس وقت آئے جس وقت سورج ڈوب گیا جس وقت پہلے روز آئے تھے، اور کہا: محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس عشاء کے لیے آئے جس وقت رات کا پہلا تہائی حصہ ختم ہو گیا، اور کہا: اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی، پھر وہ آپ کے پاس آئے جس وقت خوب اجالا ہو گیا، اور کہا: اٹھیں اور نماز ادا کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر ادا کی، پھر انہوں نے کہا: ان دونوں کے بیچ میں پورا وقت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 527]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام زوالِ شمس کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور ظہر کی نماز پڑھیے، جب سورج ڈھل گیا۔ پھر ٹھہرے حتیٰ کہ جب آدمی کا سایہ اس کے برابر ہو گیا تو وہ عصر کی نماز کے لیے آپ کے پاس آئے اور کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور عصر کی نماز پڑھیے۔ پھر کچھ دیر ٹھہرے حتیٰ کہ جب سورج غروب ہو گیا تو پھر آئے اور کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور مغرب کی نماز پڑھیے۔ آپ اٹھے اور مغرب کی نماز پڑھی جب سورج پورا ڈوب گیا۔ پھر ٹھہرے حتیٰ کہ جب سرخی غائب ہو گئی تو پھر آپ کے پاس آئے اور کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اٹھیے اور عشاء کی نماز پڑھیے۔ آپ اٹھے اور آپ نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر آپ کے پاس آئے جب صبح کو فجر کی روشنی چمک اٹھی اور کہا: اٹھیے اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور نماز پڑھیے۔ آپ اٹھے اور صبح کی نماز پڑھی۔ پھر اگلے دن آپ کے پاس آئے جب ہر آدمی کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور کہا: اٹھیے اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اور نماز پڑھیے تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر آپ کے پاس جبریل علیہ السلام آئے جب آدمی کا سایہ دگنا ہو گیا اور کہا: اٹھیے اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! اور نماز پڑھیے، تو آپ نے عصر کی نماز پڑھی، پھر وہ مغرب کی نماز کے لیے آپ کے پاس آئے جب سورج غروب ہوا، کل والے وقت پر ہی اور کہا: اٹھیے اور نماز پڑھیے تو آپ نے مغرب کی نماز پڑھی۔ پھر وہ عشاء کی نماز کے لیے آپ کے پاس آئے جب رات کا پہلا تہائی حصہ گزر چکا تھا اور کہا: اٹھیے اور نماز پڑھیے تو آپ نے عشاء کی نماز پڑھی۔ پھر وہ صبح کی نماز کے لیے آپ کے پاس آئے اور جب خوب روشنی ہو چکی تھی اور کہا: اٹھیے اور نماز پڑھیے تو آپ نے صبح کی نماز پڑھی۔ پھر جبریل علیہ السلام کہنے لگے: تمام نمازوں کا وقت ان دو دنوں کی نمازوں کے درمیان ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 1 (150) نحوہ، (تحفة الأشراف: 3128)، مسند احمد 3/330، 331 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: تَعْجِيلِ الْعِشَاءِ
باب: عشاء جلدی پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 528
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ، قال: قَدِمَ الْحَجَّاجُ، فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَإِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ".
محمد بن عمرو بن حسن کہتے ہیں کہ حجاج آئے تو ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر دوپہر میں (سورج ڈھلتے ہی) پڑھتے تھے، اور عصر اس وقت پڑھتے جب سورج سفید اور صاف ہوتا، اور مغرب اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا، اور عشاء جب آپ دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے، اور جب دیکھتے کہ لوگ دیر کر رہے ہیں تو مؤخر کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 528]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھتے تھے، اور عصر کی نماز پڑھتے تو سورج (زردی سے) صاف اور سفید ہوتا تھا، اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا، اور عشاء کی نماز (مختلف اوقات میں پڑھتے)؛ جب دیکھتے کہ سب جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھ لیتے اور جب دیکھتے کہ انہوں نے تاخیر کی ہے تو دیر سے پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 18 (560)، 21 (565)، صحیح مسلم/المساجد 40 (646)، سنن ابی داود/الصلاة 3 (397)، (تحفة الأشراف: 2644)، مسند احمد 3/369، 370، سنن الدارمی/الصلاة 2 (1222) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: الشَّفَقِ
باب: شفق کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 529
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ رَقَبَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِمِيقَاتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ عِشَاءِ الْآخِرَةِ،" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اس نماز یعنی عشاء آخرہ کا وقت لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 529]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: میں سب لوگوں سے زیادہ اس نماز، یعنی عشاء کے وقت کو جانتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز تیسری رات کا چاند غروب ہونے پر پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 7 (419)، سنن الترمذی/الصلاة 9 (166)، مسند احمد 4/ 270، 272، 274، سنن الدارمی/الصلاة 18 (1247)، (تحفة الأشراف: 11614) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تیسری رات کا چاند دو گھنٹے تک رہتا ہے لہٰذا اگر چھ بجے سورج ڈوبے تو آٹھ بجے عشاء پڑھنی چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 530
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قال: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ،" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! میں اس نماز یعنی عشاء کا وقت لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 530]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! بلاشبہ میں اس نماز، یعنی عشاءِ آخرہ کے وقت کو سب لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز تیسری رات کا چاند غروب ہونے پر پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: باب سے حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ عشاء کا وقت شفق کے غائب ہونے پر ہی شروع ہوتا ہے، گویا شفق تیسرے دن کے چاند کے غائب ہونے تک رہتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَأْخِيرِ الْعِشَاءِ
باب: عشاء کو تاخیر سے پڑھنے کے استحباب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 531
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ، قال: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبِي أَخْبِرْنَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ، قَالَ: كَانَ" يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ، وَكَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، قَالَ: وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، قَالَ: وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ تُؤَخَّرَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ، قَالَ: وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ".
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد دونوں ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو میرے والد نے ان سے پوچھا: ہمیں بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے (یعنی کب) پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر جسے تم لوگ پہلی نماز کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے پھر ہم میں سے ایک آدمی (نماز پڑھ کر) مدینہ کے آخری کونے پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا، اور سورج تیز اور بلند ہوتا، اور انہوں نے مغرب کے بارے میں جو کہا میں (اسے) بھول گیا، اور کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جسے تم لوگ عتمہ کہتے ہوتا خیر سے پڑھنے کو پسند کرتے تھے، اور اس سے قبل سونے اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے اس وقت فارغ ہوتے جب آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 531]
حضرت سیار بن سلامہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد محترم، حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ میرے والد محترم نے ان سے کہا: بتائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کیسے پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کی نماز (ظہر)، جسے تم «الْأُولَى» اولیٰ (پیشین) کہتے ہو، اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھتے کہ ہم میں سے کوئی شخص (آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کے بعد) مدینے کی انتہائی دور والی مضافاتی بستی میں اپنے گھر کو جاتا تھا تو اس وقت بھی سورج زندہ ہوتا تھا اور میں بھول گیا کہ مغرب کے بارے میں آپ نے کیا فرمایا؟ اور آپ عشاء کی نماز، جسے تم «الْعَتَمَةَ» عتمہ کہتے ہو، دیر سے پڑھنا اچھا سمجھتے تھے اور عشاء کی نماز سے پہلے سونا اور بعد میں باتیں کرنا ناپسند فرماتے تھے اور صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو آدمی اپنے ہم نشیں کو پہچان سکتا تھا اور آپ ساٹھ سے سو آیات تک نماز میں تلاوت فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 496 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 532
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَتَمَةَ إِمَامًا أَوْ خِلْوًا؟ قال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا. فَقَامَ عُمَرُ، فَقَالَ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ، قَالَ: وَأَشَارَ، فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، فَأَوْمَأَ إِلَيَّ، كَمَا أَشَارَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ بِشَيْءٍ مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَهَا فَانْتَهَى أَطْرَافُ أَصَابِعِهِ إِلَى مُقَدَّمِ الرَّأْسِ، ثُمَّ ضَمَّهَا يَمُرُّ بِهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامَاهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ الْجَبِينِ لَا يُقَصِّرُ وَلَا يَبْطُشُ شَيْئًا إِلَّا كَذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ لَا يُصَلُّوهَا إِلَّا هَكَذَا".
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا: عشاء کی امامت کرنے یا تنہا پڑھنے کے لیے کون سا وقت آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم کو کہتے سنا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء مؤخر کی یہاں تک کہ لوگ سو گئے، (پھر) بیدار ہوئے (پھر) سو گئے، (پھر) بیدار ہوئے، تو عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہنے لگے: صلاۃ! صلاۃ! تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔ گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ اپنا ہاتھ سر کے ایک حصہ پر رکھے ہوئے تھے۔ راوی (ابن جریج) کہتے ہیں: میں نے عطاء سے جاننا چاہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر کیسے رکھا؟ تو انہوں نے مجھے اشارہ کے ذریعہ بتایا جیسا کہ ابن عباس نے انہیں اشارہ سے بتایا تھا، عطاء نے اپنی انگلیوں کے درمیان تھوڑا فاصلہ کیا، پھر اسے رکھا یہاں تک کہ ان کی انگلیوں کے سرے سر کے اگلے حصہ تک پہنچ گئے، پھر انہیں ملا کر سر پر اس طرح گزارتے رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھے کان کے کناروں کو جو چہرہ سے ملا ہوتا ہے چھو لیتے، پھر کنپٹی اور پیشانی کے کناروں پر پھیرتے، نہ دیر کرتے نہ جلدی سوائے اتنی تاخیر کے - پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اپنی امت کے لیے دشوار نہیں سمجھتا تو انہیں حکم دیتا کہ وہ اسی قدر تاخیر سے عشاء پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 532]
جناب ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا: کون سا وقت آپ زیادہ مناسب سمجھتے ہیں کہ میں اس میں عشاء کی نماز پڑھوں، خواہ امام ہوں یا اکیلا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کو مؤخر کیا حتیٰ کہ لوگ سوگئے، پھر جاگے (مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تشریف نہ لائے تھے، لہٰذا) پھر سوگئے، پھر جاگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر پکارا: (اے اللہ کے رسول!) نماز! نماز! (نماز کے لیے تشریف لائیے!) عطاء رحمہ اللہ نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ سر کی ایک جانب رکھا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا۔ (ابن جریج نے کہا:) میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک کس طرح سر پر رکھا ہوا تھا؟ عطاء رحمہ اللہ نے میرے سامنے اس طرح اشارہ کیا جس طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کیا تھا۔ عطاء رحمہ اللہ نے اپنی انگلیاں کچھ کھولیں، پھر انہیں سر پر رکھا کہ آپ کی انگلیوں کے کنارے سر کے اگلے حصے تک پہنچتے تھے، پھر انہوں نے اپنی انگلیاں ملالیں اور انہیں اس طرح سر پر سے گزارا کہ آپ کے انگوٹھے کان کے اس کنارے کو لگے جو چہرے کی جانب ہے، پھر کنپٹی اور ماتھے کے کنارے کو لگے۔ وہ ذرہ بھر بھی کمی بیشی نہ کرتے تھے بلکہ بالکل اسی طرح، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں حکم دیتا کہ وہ ضرور اسی وقت نماز پڑھا کریں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 24 (571)، والتمنی 9 (7239)، صحیح مسلم/المساجد 39 (642)، (تحفة الأشراف: 5915)، مسند احمد 1/221، 366، سنن الدارمی/الصلاة 19 (1251) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 533
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَكِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: أَخَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَامَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَادَى: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَاءُ يَقْطُرُ مِنْ رَأْسِهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" إِنَّهُ الْوَقْتُ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ رات کا (ایک حصہ) گزر گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اور آواز دی: اللہ کے رسول! صلاۃ! عورتیں اور بچے سو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ فرما رہے تھے: یہی (مناسب اور پسندیدہ) وقت ہے، اگر میں اپنی امت پر شاق نہ سمجھتا (تو اسے انہیں اسی وقت پڑھنے کا حکم دیتا)۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 533]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز مؤخر کی حتیٰ کہ رات کا کافی حصہ گزر گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے پکارا: اے اللہ کے رسول! نماز کے لیے تشریف لائیے۔ عورتیں اور بچے سو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو پانی کے قطرے آپ کے سر سے گر رہے تھے اور آپ فرما رہے تھے: یہ ہے عشاء کی نماز کا اصل وقت، اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خطرہ نہ ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں