سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: إمَامَةِ جِبْرِيْل عَلَيْهِ السَّلامِ
باب: جبرائیل علیہ السلام کی امامت کا بیان۔
حدیث نمبر: 495
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَدْ نَزَلَ فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ".
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے عصر میں کچھ تاخیر کر دی، تو عروہ نے ان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے، اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی ۱؎ اس پر عمر بن عبدالعزیز نے کہا: عروہ! جو تم کہہ رہے ہو اسے خوب سوچ سمجھ کر کہو، تو عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے ابومسعود سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جبرائیل اترے، اور انہوں نے میری امامت کرائی، تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، آپ اپنی انگلیوں پر پانچوں نمازوں کو گن رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 495]
امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ (گورنر مدینہ) نے عصر کی نماز وقت سے کچھ مؤخر کی تو حضرت عروہ رحمہ اللہ نے ان سے فرمایا: ”حضرت جبریل علیہ السلام اترے تھے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کھڑے ہو کر آپ کو نماز پڑھائی تھی۔“ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہنے لگے: ”عروہ! دیکھو کیا کہہ رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے بشیر بن ابومسعود رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”حضرت جبریل علیہ السلام اترے اور مجھے نماز پڑھائی۔ میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی۔““ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں پر پانچوں نمازیں شمار کیں۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 1 (521)، بدء الخلق 6 (3221)، المغازي 12 (4007)، صحیح مسلم/المساجد 31 (610)، سنن ابی داود/الصلاة 2 (394)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 1 (668)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (1)، (تحفة الأشراف: 9977)، مسند احمد 4/120، 5/274، سنن الدارمی/الصلاة 2 (1223) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے عروہ کا مقصود یہ تھا کہ نماز کے اوقات کا معاملہ کافی اہمیت کا حامل ہے، اس کے اوقات کی تحدید کے لیے جبرائیل علیہ السلام آئے، اور انہوں نے عملی طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے سکھایا، اس لیے اس سلسلہ میں کوتاہی مناسب نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
2. بَابُ: أَوَّلِ وَقْتِ الظُّهْرِ
باب: ظہر کے اول وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 496
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبِي، يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: كَمَا أَسْمَعُكَ السَّاعَةَ، فَقَالَ: أَبِي يَسْأَلُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ" لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا يَعْنِي الْعِشَاءَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا". قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ، قَالَ: كَانَ" يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ لَا أَدْرِي أَيَّ حِينٍ ذَكَرَ" ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: وَكَانَ" يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُهُ فَيَعْرِفُهُ، قَالَ: وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ".
سیار بن سلامہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا وہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کر رہے تھے، شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے (سیار بن سلامہ سے) پوچھا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: (میں نے اسی طرح سنا ہے) جس طرح میں اس وقت آپ کو سنا رہا ہوں، میں نے اپنے والد سے سنا وہ (ابوبرزہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات تک عشاء کی تاخیر کی پرواہ نہیں کرتے تھے، اور اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں پھر سیار سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے جس وقت سورج ڈھل جاتا، اور عصر اس وقت پڑھتے کہ آدمی (عصر پڑھ کر) مدینہ کے آخری کنارہ تک جاتا، اور سورج زندہ رہتا ۱؎ اور مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے مغرب کا کون سا وقت ذکر کیا، اس کے بعد میں پھر ان سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھتے تو آدمی پڑھ کر پلٹتا اور اپنے ساتھی کا جسے وہ پہچانتا ہو چہرہ دیکھتا تو پہچان لیتا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں کے درمیان پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 496]
سیار بن سلامہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے اپنے والد محترم کو حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کرتے سنا۔“ (سیار کے شاگرد شعبہ کہتے ہیں کہ) میں نے (سیار سے) کہا: ”کیا آپ نے ان (اپنے باپ) سے سنا ہے؟“ انھوں (سیار) نے کہا: ”(میں نے اسی طرح سنا ہے) جس طرح میں اس وقت تم سے سن رہا ہوں۔“ کہا: ”میں نے اپنے والد سے سنا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کر رہے تھے تو حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کو نصف رات تک مؤخر کرنے میں کوئی پروا نہیں کرتے تھے۔ آپ عشاء کی نماز سے پہلے سونے اور نماز کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔“ شعبہ کہتے ہیں: بعد ازاں میں ان (سیار) سے ملا تو میں نے (بطور وثوق حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بارے میں) پھر سوال کیا تو انھوں (حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ) نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھتے کہ (آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والا) آدمی مدینہ منورہ کی دور دراز بستی تک پہنچ جاتا تھا جب کہ ابھی سورج تیز ہوتا تھا۔“ اور مغرب کے بارے میں مجھے علم نہیں کہ انھوں نے کون سا وقت ذکر کیا۔ پھر میں اس کے بعد انھیں ملا تو ان سے پوچھا، فرمانے لگے: ”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز اس وقت پڑھتے کہ نمازی سلام پھیر کر اپنے ہم نشین جسے وہ پہلے سے پہچانتا تھا، کے چہرے کو دیکھتا تو اسے پہچان لیتا تھا اور آپ صبح کی نماز میں ساٹھ (60) سے سو (100) تک آیات تلاوت فرماتے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 496]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 11 (541)، 13 (547)، 23 (568)، 38 (599)، الأذان 104 (771)، صحیح مسلم/المساجد 40 (647)، سنن ابی داود/الصلاة 3 (398)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصلاة 3 (674) مختصراً، (تحفة الأشراف: 11605)، مسند احمد 4/420، 421، 423، 424، 425، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1338)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 526، 531 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی زرد نہیں پڑتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 497
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد نکلے اور آپ نے انہیں ظہر پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 497]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے وقت (اپنے حجرۂ مبارکہ سے) نکلے اور انہیں نمازِ ظہر پڑھائی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 497]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 1535)، وقد أخرجہ عن طریق شعیب عن الزہری عن أنس بن مالک: صحیح البخاری/المواقیت 11 مطولاً(540)، صحیح مسلم/الفضائل 37 (2359)، سنن الدارمی/الصلاة 13 (1242)، (تحفة الأشراف: 1493) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 498
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قال:" شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّ الرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا". قِيلَ لِأَبِي إِسْحَاقَ: فِي تَعْجِيلِهَا؟ قَالَ: نَعَمْ.
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (تیز دھوپ سے) زمین جلنے کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کا ازالہ نہیں کیا ۱؎، راوی ابواسحاق سے پوچھا گیا: (یہ شکایت) اسے جلدی پڑھنے کے سلسلہ میں تھی؟ انہوں نے کہا ہاں، (اسی سلسلہ میں تھی)۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 498]
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین کے گرم ہونے کا شکوہ کیا لیکن آپ نے ہماری شکایت دور نہ کی۔“ ابواسحاق سے کہا گیا: ”(صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا شکوہ) نماز جلدی پڑھنے کے بارے میں تھا؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 498]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 33 (619)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 3513)، مسند احمد 5/108، 110 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ظہر تاخیر سے پڑھنے کی اجازت نہیں دی، جیسا کہ مسلم کی روایت میں صراحت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
3. بَابُ: تَعْجِيلِ الظُّهْرِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں ظہر جلدی پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 499
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ.
حمزہ عائذی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ظہر سے پہلے) جب کسی جگہ اترتے ۱؎ تو جب تک ظہر نہ پڑھ لیتے وہاں سے کوچ نہیں کرتے، اس پر ایک آدمی نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی؟ انہوں نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 499]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی منزل میں اترتے تھے تو ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے وہاں سے کوچ نہ فرماتے تھے۔ ایک آدمی نے کہا: ”اگرچہ سورج سر پر ہوتا؟“ فرمایا: ”اگرچہ سورج سر پر ہوتا۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 499]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 273 (1205)، (تحفة الأشراف: 555)، مسند احمد 3/120، 129 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی زوال (سورج ڈھلنے) سے پہلے اترتے، جیسا کہ دیگر روایات میں ہے۔ ۲؎: مراد زوال کے فوراً بعد ہے، کیونکہ ظہر کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
4. بَابُ: تَعْجِيلِ الظُّهْرِ فِي الْبَرْدِ
باب: جاڑے میں ظہر جلدی پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 500
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو خَلْدَةَ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب گرمی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ۱؎ ٹھنڈی کر کے پڑھتے ۲؎ اور جب جاڑا ہوتا تو جلدی پڑھتے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 500]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”جب گرمی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ ظہر کو ٹھنڈی کر کے پڑھتے تھے اور جب سردی ہوتی تو جلدی پڑھتے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 17 (906)، وفیہ ’’یعنی الجمعة‘‘، (تحفة الأشراف: 823) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صحیح بخاری کی روایت میں کسی راوی نے «صلاة» کی تفسیر ”جمعہ“ سے کی ہے، کیونکہ اسی حدیث کی ایک روایت میں ہے کہ کسی سائل نے انس رضی اللہ عنہ سے جمعہ ہی کے بارے میں پوچھا تھا (فتح الباری) مؤلف نے اس کے مطلق لفظ «الصلاة» سے استدلال کیا ہے، نیز یہ کہ جمعہ اور ظہر کا وقت معتاد ایک ہی ہے۔ ۲؎: یعنی گرمی کی شدت کے سبب اس کے معتاد وقت سے اسے اتنا مؤخر کرتے کہ دیواروں کا اتنا سایہ ہو جاتا کہ اس میں چل کر لوگ مسجد آ سکیں، اور گرمی کی شدت کم ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
5. بَابُ: الإِبْرَادِ بِالظُّهْرِ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ
باب: سخت گرمی میں ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 501
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 501]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈی کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کا جوش ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 501]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 32 (615)، سنن ابی داود/الصلاة 4 (402)، سنن الترمذی/الصلاة 5 (157)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 4 (677)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 7 (28)، (تحفة الأشراف: 13226)، مسند احمد 2/229، 238، 256، 266، 348، 377، 393، 400، 411، 462، سنن الدارمی/الصلاة 14 (1243)، والرقاق 119 (2887)، وعن طریق أبی سلمة بن عبدالرحمن عن أبی ہریرة، (تحفة الأشراف: 15237) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جمہور علماء نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے یہ بطور تشبیہ و تقریب کہا گیا ہے، یعنی یہ گویا جہنم کی آگ کی طرح ہے اس لیے اس کی ضرر رسانیوں سے بچو اور احتیاط کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 502
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَأَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، يَرْفَعُهُ، قال:" أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ فَإِنَّ الَّذِي تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھو، کیونکہ جو گرمی تم محسوس کر رہے ہو یہ جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 502]
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظہر کی نماز (کچھ) ٹھنڈک میں پڑھو، کیونکہ جو گرمی تم محسوس کرتے ہو، وہ جہنم کا جوش ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 502]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8983) (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ثابت بن قیس نخعی‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، يزيد بن أوس تابعه أبو زرعة بن عمرو بن جرير عند تمام الرازي (الفوائد: 455) والسند إليه صحيح ولكن ثابت ابن قيس النخعي الكوفي مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده وللحديث شواهد دون قوله: ’’الذي تجدون‘‘ وللحديث لون الآخر فى جزء على بن محمد الحميري (بتحقيقي: 12) وسنده ضعيف،. وحديث البخاري (537) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 324
6. بَابُ: آخِرِ وَقْتِ الظُّهْرِ
باب: ظہر کے اخیر وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 503
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قال: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام جَاءَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ، فَصَلَّى الصُّبْحَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ وَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ رَأَى الظِّلَّ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ شَفَقُ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَهُ الْغَدَ فَصَلَّى بِهِ الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَ قَلِيلًا، ثُمَّ صَلَّى بِهِ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ الظِّلُّ مِثْلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ بِوَقْتٍ وَاحِدٍ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَحَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةُ مَا بَيْنَ صَلَاتِكَ أَمْسِ وَصَلَاتِكَ الْيَوْمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے ہیں، تو انہوں نے نماز فجر اس وقت پڑھائی جب فجر طلوع ہوئی، اور ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، پھر عصر اس وقت پڑھائی جب انہوں نے سایہ کو اپنے مثل دیکھ لیا، پھر مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور روزے دار کے لیے افطار جائز ہو گیا، پھر عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق یعنی رات کی سرخی ختم ہو گئی، پھر وہ آپ کے پاس دوسرے دن آئے، اور آپ کو فجر اس وقت پڑھائی جب تھوڑی روشنی ہو گئی، پھر ظہر اس وقت پڑھائی جب سایہ ایک مثل ہو گیا، پھر عصر اس وقت پڑھائی جب سایہ دو مثل ہو گیا، پھر مغرب (دونوں دن) ایک ہی وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور روزے دار کے لیے افطار جائز ہو گیا، پھر عشاء اس وقت پڑھائی جب رات کا ایک حصہ گزر گیا، پھر کہا: نمازوں کا وقت یہی ہے تمہارے آج کی اور کل کی نمازوں کے بیچ میں“۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 503]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جبریل علیہ السلام ہیں جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے ہیں، پھر جونہی فجر طلوع ہوئی انہوں نے صبح کی نماز اور جب سورج ڈھل گیا تو ظہر کی نماز پڑھائی، پھر عصر کی نماز پڑھائی جب انہوں نے ہر چیز کا سایہ اس کے برابر (زوال کے سائے کے علاوہ) دیکھ لیا، پھر مغرب کی نماز پڑھائی جونہی سورج غروب ہوا اور روزے دار کے لیے روزہ کھولنا حلال ہوا، پھر عشاء کی نماز پڑھائی جب رات کی سرخی غائب ہوگئی۔ پھر اگلے دن وہ (جبرئیل علیہ السلام) دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو صبح کی نماز پڑھائی جب تھوڑی سی روشنی پھیل گئی تھی، پھر آپ کو ظہر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا، پھر عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دگنا ہوگیا، پھر مغرب کی نماز کل والے وقت ہی پر پڑھائی، یعنی جب سورج غروب ہوگیا اور روزے دار کے لیے روزہ کھولنا حلال ہوگیا، پھر عشاء کی نماز پڑھائی جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا، پھر فرمایا: ہر نماز کا وقت تمہاری کل اور آج کی نماز کا درمیانی وقت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15085) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 504
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَذْرَمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قال: كَانَ" قَدْرُ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي الصَّيْفِ ثَلَاثَةَ أَقْدَامٍ إِلَى خَمْسَةِ أَقْدَامٍ، وَفِي الشِّتَاءِ خَمْسَةَ أَقْدَامٍ إِلَى سَبْعَةِ أَقْدَامٍ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گرمی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظہر کا اندازہ تین قدم سے پانچ قدم کے درمیان، اور جاڑے میں پانچ قدم سے سات قدم کے درمیان ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 504]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظہر کی نماز گرمیوں میں تین سے پانچ قدم کے بقدر (سائے میں) اور سردیوں میں پانچ سے سات قدم کے بقدر (سائے میں) ہوتی تھی۔“ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 504]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 4 (400)، (تحفة الأشراف: 9186) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح