صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالإِهْلاَلِ:
باب: لبیک بلند آواز سے کہنا۔
حدیث نمبر: 1548
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالمدينة الظُّهْرَ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، وَسَمِعْتُهُمْ يَصْرُخُونَ بِهِمَا جَمِيعًا".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر مدینہ منورہ میں چار رکعت پڑھی۔ لیکن نماز عصر ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھی۔ میں نے خود سنا کہ لوگ بلند آواز سے حج اور عمرہ دونوں کے لیے لبیک کہہ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1548]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں نماز ظہر کی چار رکعات اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعت پڑھیں اور میں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حج اور عمرہ دونوں کا بآواز بلند تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1548]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
26. بَابُ التَّلْبِيَةِ:
باب: تلبیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1549
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ تَلْبِيَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا «لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك، لا شريك لك» ”حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں میں، تیرا کوئی شریک نہیں۔ حاضر ہوں، تمام حمد تیرے ہی لیے ہے اور تمام نعمتیں تیری ہی طرف سے ہیں، بادشاہت تیری ہی ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1549]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح تلبیہ کہتے تھے: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيْكَ لَكَ» ”میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ پھر حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں۔ تیرے ہی لیے تعریف ہے۔ تو ہی جملہ نعمتوں اور بادشاہت کا مالک ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1549]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1550
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي، لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ" تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَقَالَ شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے اعمش سے بیان کیا، ان سے عمارہ نے ان سے ابوعطیہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں جانتی ہوں کہ کس طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ کہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ یوں کہتے تھے «لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك» (ترجمہ گزر چکا ہے) اس کی متابعت سفیان ثوری کی طرح ابومعاویہ نے اعمش سے بھی کی ہے۔ اور شعبہ نے کہا کہ مجھ کو سلیمان اعمش نے خبر دی کہ میں نے خیثمہ سے سنا اور انہوں نے ابوعطیہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1550]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح تلبیہ کہا کرتے تھے (وہ اس طرح ہے): «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ» ”میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ پھر حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ تیرے ہی لیے ہر قسم کی تعریف ہے اور تو ہی تمام نعمتوں کا مالک ہے۔“ ابو معاویہ نے اعمش سے روایت کرنے میں سفیان ثوری کی متابعت کی ہے۔ شعبہ نے ایک روایت بیان کی ہے جس میں ابو عطیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
27. بَابُ التَّحْمِيدِ وَالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ قَبْلَ الإِهْلاَلِ عِنْدَ الرُّكُوبِ عَلَى الدَّابَّةِ:
باب: احرام باندھتے وقت جب جانور پر سوار ہونے لگے تو لبیک سے پہلے الحمداللہ، سبحان اللہ اللہ اکبر کہنا۔
حدیث نمبر: 1551
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ مَعَهُ بالمدينة الظُّهْرَ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ بَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ , حَمِدَ اللَّهَ , وَسَبَّحَ , وَكَبَّرَ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهِمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَ النَّاسَ فَحَلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ , قَالَ: وَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا، وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالمدينة كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ بَعْضُهُمْ: هَذَا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَنَسٍ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، مدینہ میں ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو وہیں رہے۔ صبح ہوئی تو مقام بیداء سے سواری پر بیٹھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کی تسبیح اور تکبیر کہی۔ پھر حج اور عمرہ کے لیے ایک ساتھ احرام باندھا اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا (یعنی قران کیا) جب ہم مکہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے (جن لوگوں نے حج تمتع کا احرام باندھا تھا ان) سب نے احرام کھول دیا۔ پھر آٹھویں تاریخ میں سب نے حج کا احرام باندھا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کھڑے ہو کر بہت سے اونٹ نحر کئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (عید الاضحی کے دن) مدینہ میں بھی دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کئے تھے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ بعض لوگ اس حدیث کو یوں روایت کرتے ہیں ایوب سے، انہوں نے ایک شخص سے، انہوں نے انس سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1551]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعات پڑھیں جبکہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پھر ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعات پڑھ کر رات وہیں قیام فرمایا۔ صبح کے وقت وہیں سے سوار ہوئے، جب سواری میدانِ بیداء میں پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ اور «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے ”لبیک“ کہا اور لوگوں نے بھی حج اور عمرہ دونوں کے لیے ”لبیک“ کہا۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو (عمرے سے فراغت کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو (احرام کھولنے کا) حکم دیا تو انہوں نے احرام کھول ڈالا یہاں تک کہ آٹھویں ذوالحجہ کا دن آ گیا، پھر انہوں نے حج کا احرام باندھا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر کئی اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر کیے اور مدینہ منورہ میں (عید الاضحیٰ کے موقع پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے دو خوبصورت مینڈھے قربان کیے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ بعض نے اس حدیث کو ایوب سے، انہوں نے کسی آدمی سے، اس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1551]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
28. بَابُ مَنْ أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ:
باب: جب سواری سیدھی لے کر کھڑی ہو اس وقت لبیک پکارنا۔
حدیث نمبر: 1552
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً".
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے صالح بن کیسان نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پوری طرح کھڑی ہو گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت لبیک پکارا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1552]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہنا شروع کیا جب آپ کی سواری سیدھی کھڑی ہوگئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1552]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
29. بَابُ الإِهْلاَلِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ:
باب: قبلہ رخ ہو کر احرام باندھتے ہوئے لبیک پکارنا۔
حدیث نمبر: 1553
وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا صَلَّى بِالْغَدَاةِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ , ثُمَّ رَكِبَ فَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ قَائِمًا , ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى يَبْلُغَ الْحَرَمَ , ثُمَّ يُمْ سِكُ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذَا طُوًى بَاتَ بِهِ حَتَّى يُصْبِحَ , فَإِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ اغْتَسَلَ , وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ , عَنْ أَيُّوبَ فِي الْغَسْلِ.
اور ابومعمر نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے نافع سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ میں صبح کی نماز پڑھ چکے تو اپنی اونٹنی پر پالان لگانے کا حکم فرمایا، سواری لائی گئی تو آپ اس پر سوار ہوئے اور جب وہ آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی تو آپ کھڑے ہو کر قبلہ رو ہو گئے اور پھر لبیک کہنا شروع کیا تاآنکہ حرم میں داخل ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے لبیک کہنا بند کر دیا۔ پھر ذی طویٰ میں تشریف لا کر رات وہیں گزارتے صبح ہوتی تو نماز پڑھتے اور غسل کرتے (پھر مکہ میں داخل ہوتے) آپ یقین کے ساتھ یہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ عبدالوارث کی طرح اس حدیث کو اسماعیل نے بھی ایوب سے روایت کیا۔ اس میں غسل کا ذکر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1553]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما ذوالحلیفہ میں صبح کی نماز پڑھ لیتے تو اپنی سواری تیار کرنے کا حکم دیتے، چنانچہ وہ تیار کر دی جاتی تو اس پر سوار ہوتے۔ جب وہ سیدھی کھڑی ہو جاتی تو قبلہ رو ہو کر تلبیہ کہتے حتیٰ کہ حرم پہنچ جاتے۔ پھر تلبیہ موقوف کر دیتے۔ پھر جب مقام ذی طویٰ پہنچتے تو وہاں رات بسر کرتے حتیٰ کہ صبح ہو جاتی۔ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو وہیں غسل کرتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے۔ اسماعیل نے ایوب سے غسل کی روایت کرنے میں عبدالوارث کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1553]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1554
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ نَافِعٍ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَى مَكَّةَ ادَّهَنَ بِدُهْنٍ لَيْسَ لَهُ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ، ثُمَّ يَأْتِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ فَيُصَلِّي، ثُمَّ يَرْكَبُ , وَإِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً أَحْرَمَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
ہم سے ابوالربیع سلیمان بن داود نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ جانے کا ارادہ کرتے تھے پہلے خوشبو کے بغیر تیل استعمال کرتے۔ اس کے بعد مسجد ذوالحلیفہ میں تشریف لاتے یہاں صبح کی نماز پڑھتے، پھر سوار ہوتے، جب اونٹنی آپ کو لے کر پوری طرح کھڑی ہو جاتی تو احرام باندھتے۔ پھر فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1554]
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ کرتے تو ایسا تیل استعمال کرتے جس میں خوشبو نہ ہوتی۔ پھر مسجد ذوالحلیفہ میں آتے اور وہاں نماز پڑھتے، پھر سوار ہو جاتے۔ جب سواری سیدھی کھڑی ہو جاتی تو (تلبیہ سے) احرام کی نیت کرتے، اس کے بعد فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1554]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
30. بَابُ التَّلْبِيَةِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي:
باب: نالے میں اترتے وقت لبیک کہے۔
حدیث نمبر: 1555
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَذَكَرُوا الدَّجَّالَ، أَنَّهُ قَالَ: مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ أَسْمَعْهُ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: أَمَّا مُوسَى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذْ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے ان سے مجاہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھے۔ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں نے تو یہ نہیں سنا۔ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ جب آپ نالے میں اترے تو لبیک کہہ رہے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1555]
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے تو لوگوں نے دجال کا ذکر کیا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا: ”گویا میں اس وقت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ «لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں“ کہتے ہوئے وادی کے نشیب میں اتر رہے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1555]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
31. بَابُ كَيْفَ تُهِلُّ الْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ:
باب: حیض والی اور نفاس والی عورتیں کس طرح احرام باندھیں۔
حدیث نمبر: Q1556
أَهَلَّ تَكَلَّمَ بِهِ , وَاسْتَهْلَلْنَا , وَأَهْلَلْنَا الْهِلَالَ كُلُّهُ مِنَ الظُّهُورِ وَاسْتَهَلَّ الْمَطَرُ خَرَجَ مِنَ السَّحَابِ , وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَهُوَ مِنَ اسْتِهْلَالِ الصَّبِيِّ.
عرب لوگ کہتے ہیں «أهل» یعنی بات منہ سے نکال دی «واستهللنا وأهللنا الهلال» ان سب سے لفظوں کا معنی ظاہر ہونا ہے اور «واستهل المطر» معنی پانی ابر میں سے نکلا۔ اور قرآن شریف (سورۃ المائدہ) میں جو «وما أهل لغير الله به» ہے اس کے معنی جس جانور پر اللہ کے سوا دوسرے کا نام پکارا جائے اور بچہ کے «استهلال» سے نکلا ہے۔ یعنی پیدا ہوتے وقت اس کا آواز کرنا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: Q1556]
حدیث نمبر: 1556
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ، فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ، قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى، وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا".
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے ابن شہاب سے خبر دی، انہیں عروہ بن زبیر نے، ان سے نبی کریم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم حجتہ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ پہلے ہم نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی ہو تو اسے عمرہ کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھ لینا چاہئے۔ ایسا شخص درمیان میں حلال نہیں ہو سکتا بلکہ حج اور عمرہ دونوں سے ایک ساتھ حلال ہو گا۔ میں بھی مکہ آئی تھی اس وقت میں حائضہ ہو گئی، اس لیے نہ بیت اللہ کا طواف کر سکی اور نہ صفا اور مروہ کی سعی۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا سر کھول ڈال، کنگھا کر اور عمرہ چھوڑ کر حج کا احرام باندھ لے۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا پھر جب ہم حج سے فارغ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم بھیجا۔ میں نے وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا (اور عمرہ ادا کیا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تمہارے اس عمرہ کے بدلے میں ہے۔ (جسے تم نے چھوڑ دیا تھا) عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جن لوگوں نے (حجۃ الوداع میں) صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف صفا اور مروہ کی سعی کر کے حلال ہو گئے۔ پھر منیٰ سے واپس ہونے پر دوسرا طواف (یعنی طواف الزیارۃ) کیا لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا، انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا یعنی طواف الزیارۃ کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1556]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے، پہلے ہم نے عمرے کا احرام باندھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس قربانی ہے اسے عمرے کے ساتھ حج کا بھی احرام باندھ لینا چاہیے، پھر ایسا شخص حج اور عمرہ دونوں سے فراغت کے بعد ہی حلال ہوگا۔“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب میں مکہ مکرمہ آئی تو بحالت حیض تھی، اس لیے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی نہ کر سکی۔ میں نے اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سر کے بال کھول کر ان میں کنگھی کر لو اور عمرے کو چھوڑ کر صرف حج کی نیت کر لو۔“ میں نے تعمیلِ حکم کی۔ پھر جب ہم حج سے فارغ ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تنعیم بھیجا تو میں نے وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہارے اس ترک کردہ عمرے کے بدلے میں ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جن لوگوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر کے حلال ہو گئے، پھر منیٰ سے واپسی کے بعد انہوں نے دوسرا طواف (زیارت) کیا۔ لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھا تھا انہوں نے صرف ایک ہی طواف کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1556]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة