صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ وُجُوبِ الْحَجِّ وَفَضْلِهِ:
باب: حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q1513
وَقَوْلِ اللَّهِ: وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ سورة آل عمران آية 97.
اور اللہ پاک نے (سورۃ آل عمران میں) فرمایا لوگوں پر فرض ہے کہ اللہ کے لیے خانہ کعبہ کا حج کریں جس کو وہاں تک راہ مل سکے۔ اور جو نہ مانے (اور باوجود قدرت کے حج کو نہ جائے) تو اللہ سارے جہاں سے بےنیاز ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: Q1513]
حدیث نمبر: 1513
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" كَانَ الْفَضْلُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ، قَالَ: نَعَمْ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی انہیں ابن شہاب نے، انہیں سلیمان بن یسار نے، اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ فضل بن عباس (حجۃ الوداع میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک خوبصورت عورت آئی۔ فضل اس کو دیکھنے لگے وہ بھی انہیں دیکھ رہی تھی۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ بار بار دوسری طرف موڑ دینا چاہتے تھے۔ اس عورت نے کہا یا رسول اللہ! اللہ کا فریضہ حج میرے والد کے لیے ادا کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ لیکن وہ بہت بوڑھے ہیں اونٹنی پر بیٹھ نہیں سکتے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج (بدل) کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ یہ حجتہ الوداع کا واقعہ تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1513]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی تو حضرت فضل رضی اللہ عنہما اس کی طرف دیکھنے لگے۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل رضی اللہ عنہما کا منہ دوسری طرف پھیر دیا، چنانچہ اس عورت نے دریافت کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ کا فریضہ حج جو اس کے بندوں پر عائد ہے، اس نے میرے بوڑھے باپ کو پا لیا ہے مگر وہ سواری پر نہیں بیٹھ سکتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ یہ واقعہ حجۃ الوداع میں پیش آیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1513]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
2. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَأْتُوكَ رِجَالاً وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ}:
باب: اللہ پاک کا سورۃ الحج میں یہ ارشاد کہ لوگ پیدل چل کر تیرے پاس آئیں اور دبلے اونٹوں پر دور دراز راستوں سے اس لیے کہ دین اور دنیا کے فائدے حاصل کریں۔
حدیث نمبر: Q1514
{فِجَاجًا} الطُّرُقُ الْوَاسِعَةُ.
(امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا سورۃ نوح میں جو) «فجاجا» کا لفظ آیا ہے اس کے معنی کھلے اور کشادہ راستے کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: Q1514]
حدیث نمبر: 1514
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْكَبُ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ يُهِلُّ حَتَّى تَسْتَوِيَ بِهِ قَائِمَةً".
ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں بن شہاب نے کہ سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحلیفہ میں دیکھا کہ اپنی سواری پر چڑھ رہے ہیں۔ پھر جب وہ سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک کہا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1514]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہو جاتے اور جب وہ آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1514]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1515
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، سَمِعَ عَطَاءً يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ إِهْلَالَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ" , رَوَاهُ أَنَسٌ، وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ولید بن مسلم نے خبر دی، کہا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے سنا، وہ جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ سے احرام باندھا جب سواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔ ابراہیم بن موسیٰ کی یہ حدیث ابن عباس اور انس رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1515]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذوالحلیفہ سے تلبیہ کہنا اس وقت ہوتا جب آپ کی سواری آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1515]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
3. بَابُ الْحَجِّ عَلَى الرَّحْلِ:
باب: پالان پر سوار ہو کر حج کرنا۔
حدیث نمبر: 1516
وَقَالَ أَبَانُ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهَا أَخَاهَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمَرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ وَحَمَلَهَا عَلَى قَتَبٍ , وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: شُدُّوا الرِّحَالَ فِي الْحَجِّ فَإِنَّهُ أَحَدُ الْجِهَادَيْنِ.
اور ابان نے کہا ہم سے مالک بن دینار نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ان کے بھائی عبدالرحمٰن کو بھیجا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم سے عمرہ کرایا اور پالان کی پچھلی لکڑی پر ان کو بٹھا لیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حج کے لیے پالانیں باندھو کیونکہ یہ بھی ایک جہاد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1516]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بھائی حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ روانہ کیا تو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو مقام تنعیم سے عمرہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے کجاوے پر ہی سوار کر لیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حج کے لیے پالان باندھو کیونکہ یہ بھی ایک جہاد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1516]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1517
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ:" حَجَّ أَنَسٌ عَلَى رَحْلٍ وَلَمْ يَكُنْ شَحِيحًا، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّ عَلَى رَحْلٍ وَكَانَتْ زَامِلَتَهُ".
محمد بن ابی بکر نے بیان کیا کہ ہم سے زید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عزرہ بن ثابت نے بیان کیا، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ ایک پالان پر حج کے لیے تشریف لے گئے اور آپ بخیل نہیں تھے۔ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پالان پر حج کے لیے تشریف لے گئے تھے، اسی پر آپ کا اسباب بھی لدا ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1517]
حضرت ثمامہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے پالان پر سوار ہو کر حج کیا، حالانکہ آپ بخیل نہیں تھے، اور انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پالان پر سوار ہو کر حج کیا تھا اور اسی اونٹنی پر آپ کا ساز و سامان لدا ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1517]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1518
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْتَمَرْتُمْ وَلَمْ أَعْتَمِرْ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، اذْهَبْ بِأُخْتِكَ، فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ، فَأَحْقَبَهَا عَلَى نَاقَةٍ فَاعْتَمَرَتْ".
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایمن بن نابل نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انھوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ لوگوں نے تو عمرہ کر لیا لیکن میں نہ کر سکی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمٰن اپنی بہن کو لے جا اور انہیں تنعیم سے عمرہ کرا لا۔ چنانچہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اونٹ کے پیچھے بٹھا لیا اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ ادا کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1518]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ سب لوگوں نے عمرہ کر لیا ہے لیکن میں نہیں کر سکی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”اپنی ہمشیرہ کو لے جاؤ اور انہیں مقام تنعیم سے عمرہ کراؤ۔“ چنانچہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اونٹ کے پیچھے پالان پر بٹھا لیا اور اس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ مکمل کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1518]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
4. بَابُ فَضْلِ الْحَجِّ الْمَبْرُورِ:
باب: حج مبرور کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1519
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟، قَالَ: جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قِيلَ: ثُمَّ مَاذَا؟، قَالَ: حَجٌّ مَبْرُورٌ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ کون سا کام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ پھر پوچھا گیا کہ پھر اس کے بعد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج مبرور۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1519]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔“ عرض کیا گیا: پھر کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ پھر دریافت کیا گیا کہ اس کے بعد کون سا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج مبرور۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1519]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1520
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، أَخْبَرَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ، أَفَلَا نُجَاهِدُ؟، قَالَ: لَا، لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ".
ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں حبیب بن ابی عمرہ نے خبر دی، انہیں عائشہ بنت طلحہ نے اور انہیں ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ہم دیکھتے ہیں کہ جہاد سب نیک کاموں سے بڑھ کر ہے۔ پھر ہم بھی کیوں نہ جہاد کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ سب سے افضل جہاد حج ہے جو مبرور ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1520]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد سب نیک اعمال سے بڑھ کر ہے، تو کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نہیں) بلکہ (تمہارے لیے) عمدہ جہاد «حَجٌّ مَبْرُورٌ» ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الحج/حدیث: 1520]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة