🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. بَابُ: الأَذَانِ لِمَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِ الأُولَى مِنْهُمَا
باب: نماز میں جمع تاخیر کے لیے پہلی نماز کے ختم ہو جانے کے بعد کی اذان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (عرفہ سے) لوٹے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 657]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (واپسی کے دوران میں) چلے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ وہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اذان اور دو اقامتوں سے پڑھیں اور ان کے درمیان نوافل نہیں پڑھے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 657]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2630) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 658
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال:" كُنَّا مَعَهُ بِجَمْعٍ فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ"، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: هَكَذَا صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں تھے، تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی، اور ہمیں مغرب پڑھائی، پھر کہا: عشاء بھی پڑھ لی جائے، پھر انہوں نے عشاء دو رکعت پڑھائی، میں نے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جگہ ایسی ہی نماز پڑھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 658]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم مزدلفہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے۔ آپ نے اذان کہی، پھر اقامت کہی اور ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: نماز کے لیے اٹھو، چنانچہ آپ نے ہمیں عشاء کی نماز دو رکعت پڑھائی۔ میں نے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ فرمانے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جگہ ایسے ہی نماز پڑھی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث حدیث رقم: 482 (صحیح) (لیکن ’’ثم قال: الصلاة‘‘ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، اس کی جگہ ’’ثم أقام الصلاة‘‘ صحیح ہے، جیسا کہ رقم: 82 میں گزرا)۔»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ثم قال الصلاة والمحفوظ ثم أقام
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: الإِقَامَةِ لِمَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ
باب: جو شخص جمع بین الصلاتین کرے وہ اقامت ایک بار کہے یا دو بار کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 659
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ" صَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ". ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَحَدَّثَ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ.
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء ایک اقامت سے پڑھی، پھر ابن عمر رضی اللہ عنہم نے (بھی) ایسے ہی کیا تھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 659]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انہوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک اقامت سے پڑھیں، پھر انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ انہوں نے ایسے ہی کیا تھا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے ہی کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 482 (شاذ) (لیکن ’’بإقامة واحدة‘‘ (ایک اقامت سے) کا ٹکڑا شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ ’’دو اقامت سے پڑھی‘‘ جیسا کہ رقم: 482 میں گزرا)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 660
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ" صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ میں ایک اقامت سے نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 660]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ میں (مغرب اور عشاء کی) نمازیں ایک اقامت کے ساتھ پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 660]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 482 (شاذ) (ایک اقامت سے دونوں نمازیں پڑھنے کی بات شاذ ہے، صحیح بات یہ ہے کہ ہر ایک الگ الگ اقامت سے پڑھے)»
قال الشيخ الألباني: شاذ م ولفظ البخاري كل واحدة منهما بإقامة وهو المحفوظ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 661
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ وَكِيعٍ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَمَعَ بَيْنَهُمَا بِالْمُزْدَلِفَةِ، صَلَّى كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ وَلَمْ يَتَطَوَّعْ قَبْلَ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا وَلَا بَعْدُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں دو نمازیں جمع کیں (اور) ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک اقامت سے پڑھا ۱؎ اور ان دونوں (نمازوں) سے پہلے اور بعد میں کوئی نفل نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 661]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ہر نماز الگ اقامت سے پڑھی اور ان میں کسی نماز سے بھی آگے یا پیچھے نفل نہیں پڑھے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 661]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 96 (1673)، سنن ابی داود/المناسک 65 (1927، 1928)، مسند احمد 2/56، 157، سنن الدارمی/المناسک 52 (1926)، ویأتي عند المؤلف: 3031) (تحفة الأشراف: 6923) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر نماز کے لیے الگ الگ اقامت کہی، اور اس سے پہلے جو روایتیں گزری ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ دونوں کے لیے ایک ہی اقامت کہی، دونوں کے لیے الگ الگ اقامت کہنے کی تائید جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مسلم میں آئی ہے، اور جس میں «بأذان واحد وإقامتین» کے الفاظ آئے ہیں، نیز اسامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے «اقیمت الصلوۃ فصلی المغرب، ثم أناخ کل إنسان بعیرہ فی منزلہ، ثم أقیمت العشاء فصلاہا» لہذا مثبت کی روایت کو منفی روایت پر ترجیح دی جائے گی، یا ایک اقامت والی حدیث کی تاویل یہ کی جائے کہ ہر نماز کے لیے اقامت کہی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: الأَذَانِ لِلْفَائِتِ مِنَ الصَّلَوَاتِ
باب: فوت شدہ نمازوں کے لیے اذان کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 662
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: شَغَلَنَا الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ سورة الأحزاب آية 25،" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا، فَأَقَامَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا، ثُمَّ أَقَامَ لِلْعَصْرِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا، ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا لِوَقْتِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین نے غزوہ خندق (غزوہ احزاب) کے دن ہمیں ظہر سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، (یہ (واقعہ) قتال کے سلسلہ میں جو (آیتیں) اتری ہیں ان کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے) چنانچہ اللہ عزوجل نے «وكفى اللہ المؤمنين القتال» اور اس جنگ میں اللہ تعالیٰ خود ہی مؤمنوں کو کافی ہو گیا (الاحزاب: ۲۵) نازل فرمائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی تو آپ نے اسے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے عصر کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسے ہی ادا کیا جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے، پھر انہوں نے مغرب کی اذان دی تو آپ نے ویسے ہی ادا کیا، جیسے آپ اسے اس کے وقت پر پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 662]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں مشرکوں نے جنگ خندق کے دن ظہر کی نماز سے مصروف رکھا حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا، لڑائی (کی نماز) کے بارے میں جو کچھ نازل ہوا (یعنی صلاۃِ خوف کا طریقہ) یہ اس سے پہلے کی بات ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: ﴿وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ﴾ [سورة الأحزاب: 25] اللہ تعالیٰ مومنوں کو لڑائی سے کافی ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح نماز پڑھی جس طرح وقت میں پڑھا کرتے تھے، پھر عصر کی اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نماز بھی اسی طرح پڑھی جس طرح وقت میں پڑھا کرتے تھے، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے مغرب کی اذان کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے وقت میں پڑھا۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4126)، مسند احمد 3/25، 49، 67، سنن الدارمی/الصلاة 186 (1565) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: الاِجْتِزَاءِ لِذَلِكَ كُلِّهِ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَالإِقَامَةِ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا
باب: ساری فوت شدہ نمازوں کے لیے ایک اذان کے کافی ہونے اور ہر ایک کے لیے الگ الگ اقامت کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 663
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قال: قال عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَأَمَرَ بِلَالًا" فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنگ خندق (احزاب) کے دن مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار نمازوں سے روکے رکھا، چنانچہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے عشاء پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 663]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تحقیق مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگِ خندق میں ایک دن چار نمازوں سے روکے رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی، پھر اقامت کہی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 623 (صحیح) (پچھلی روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ابو عبیدہ‘‘ کا اپنے والد ابن مسعود سے سماع نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (623). والحديث السابق (662) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: الاِكْتِفَاءِ بِالإِقَامَةِ لِكُلِّ صَلاَةٍ
باب: ہر نماز کے لیے صرف اقامت پر اکتفاء کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 664
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزْوَةٍ فَحَبَسَنَا الْمُشْرِكُونَ عَنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَأَقَامَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَصَلَّيْنَا، وَأَقَامَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَصَلَّيْنَا. ثُمَّ طَافَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" مَا عَلَى الْأَرْضِ عِصَابَةٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَيْرُكُمْ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، تو مشرکوں نے ہمیں ظہر عصر، مغرب اور عشاء سے روکے رکھا، تو جب مشرکین بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے نماز ظہر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے ظہر پڑھی (پھر) اس نے عصر کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عصر پڑھی، (پھر) اس نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو ہم لوگوں نے مغرب پڑھی، پھر اس نے عشاء کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عشاء پڑھی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف گھومے (اور) فرمایا: روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت نہیں جو اللہ عزوجل کو یاد کر رہی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 664]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک جنگ میں تھے تو مشرکوں نے ہمیں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں سے روکے رکھا۔ جب مشرکین پیچھے ہٹ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا۔ اس نے ظہر کی نماز کے لیے اقامت کہی تو ہم نے نماز پڑھی، پھر اس نے عصر کی نماز کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عصر پڑھی، پھر اس نے مغرب کی نماز کے لیے اقامت کہی تو ہم نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر اس نے عشاء کی نماز کے لیے اقامت کہی تو ہم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: روئے زمین پر تمہارے علاوہ کوئی جماعت (اس وقت) اللہ عزوجل کا ذکر نہیں کر رہی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 623 (صحیح) (اس کے راوی ’’ابو الزبیر‘‘ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، اور ’’ابو عبیدہ‘‘ اور ان کے والد ’’ابن مسعود‘‘ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، مگر شواہد سے تقویت پا کر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (623). والحديث السابق (662) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 325

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: الإِقَامَةِ لِمَنْ نَسِيَ رَكْعَةً مَنْ صَلاَةٍ
باب: ایک رکعت بھول جانے کے بعد اسے پڑھنے کے لیے اقامت کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 665
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا فَسَلَّمَ وَقَدْ بَقِيَتْ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةٌ، فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ:" نَسِيتَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ رَكْعَةً". فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَقَالُوا لِي: أَتَعْرِفُ الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: لَا، إِلَّا أَنْ أَرَاهُ، فَمَرَّ بِي، فَقُلْتُ: هَذَا هُوَ، قَالُوا: هَذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ.
معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی، اور ابھی نماز کی ایک رکعت باقی ہی رہ گئی تھی کہ آپ نے سلام پھیر دیا، ایک شخص آپ کی طرف بڑھا، اور اس نے عرض کیا کہ آپ ایک رکعت نماز بھول گئے ہیں، تو آپ مسجد کے اندر آئے اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک رکعت نماز پڑھائی، میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے مجھ سے کہا: کیا تم اس شخص کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، لیکن میں اسے دیکھ لوں (تو پہچان لوں گا) کہ یکایک وہ میرے قریب سے گزرا تو میں نے کہا: یہ ہے وہ شخص، تو لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبیداللہ (رضی اللہ عنہ) ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 665]
حضرت معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھی اور سلام پھیر دیا (اور مسجد سے باہر چلے گئے) حالانکہ ایک رکعت باقی تھی۔ ایک آدمی پیچھے سے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا اور بتایا کہ آپ ایک رکعت بھول گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسجد میں داخل ہوئے اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ انہوں نے اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو فوت شدہ رکعت پڑھائی۔ میں نے یہ بات جا کر دوسرے لوگوں کو بتلائی تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تم اس آدمی کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، مگر یہ کہ میں انہیں دوبارہ دیکھوں۔ اتفاقاً وہ میرے پاس سے گزرے تو میں نے کہا: یہ ہیں وہ۔ لوگوں نے کہا: یہ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 196 (1023)، (تحفة الأشراف: 11376)، مسند احمد 6/401 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
25. بَابُ: أَذَانِ الرَّاعِي
باب: چرواہے کی اذان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 666
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رُبَيِّعَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ صَوْتَ رَجُلٍ يُؤَذِّنُ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذَا لَرَاعِي غَنَمٍ أَوْ عَازِبٌ عَنْ أَهْلِهِ، فَنَظَرُوا، فَإِذَا هُوَ رَاعِي غَنَمٍ".
عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اذان دے رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح کہا جیسے اس نے کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کوئی بکریوں کا چرواہا ہے، یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے، لوگوں نے دیکھا تو وہ (واقعی) بکریوں کا چرواہا نکلا۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 666]
حضرت عبداللہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ نے ایک آدمی کی آواز سنی جو اذان کہہ رہا تھا۔ آپ اس کی اذان کا جواب دینے لگے۔ جب وہ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ» تک پہنچا تو آپ نے فرمایا: تحقیق یہ شخص بکریوں کا چرواہا ہے یا اپنے گھر والوں سے بچھڑا ہوا ہے۔ پھر آپ اس وادی میں اترے تو پتہ چلا کہ وہ بکریوں کا چرواہا ہے۔ آپ ایک مری ہوئی بکری کے پاس سے گزرے۔ آپ نے فرمایا: تمہیں یقین ہے کہ یہ بکری اپنے گھر والوں کے نزدیک بے قدر ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہاں۔ آپ نے فرمایا: دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس (بکری) سے بھی بڑھ کر ذلیل ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5251)، مسند احمد 4/336، وفي الیوم واللیلة 18 (38) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں