🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. بَابُ: الأَذَانِ لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ
باب: اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے اذان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 667
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةِ الْجَبَلِ يُؤَذِّنُ بِالصَّلَاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ يَخَافُ مِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تمہارا رب اس بکری کے چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی کے کنارے پر اذان دیتا اور نماز پڑھتا ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو یہ اذان دے رہا ہے اور نماز قائم کر رہا ہے، یہ مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے (اس) بندے کو بخش دیا، اور اسے جنت میں داخل کر دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 667]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ بکریوں کے اس چرواہے سے تعجب فرماتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا ہے اور اذان کہہ کر نماز پڑھتا ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو! یہ اذان کہتا ہے اور نماز قائم کرتا ہے، یہ مجھ سے ڈرتا ہے، یقیناً میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 272 (1203)، (تحفة الأشراف: 9919)، مسند احمد 4/145، 157، 158 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ: الإِقَامَةِ لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ
باب: اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے اقامت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 668
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ فِي صَفِّ الصَّلَاةِ الْحَدِيثَ".
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نماز کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے، آگے راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 668]
حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی صف میں بیٹھے ہوئے تھے…… الحدیث۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 148 (861)، سنن الترمذی/الصلاة 111 (302) مطولاً، (تحفة الأشراف: 3604)، مسند احمد 4/340، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 148 (857، 858، 859، 860)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 57 (460)، ویأتي عند المؤلف: 1054، 1137، 1314، 1315 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ «مسئی صلاۃ» جلدی جلدی صلاۃ پڑھنے والے شخص والی حدیث ہے جسے مصنف نے درج ذیل تین ابواب: باب «الرخصۃ فی ترک الذکر فی الرکوع، باب الرخصۃ فی الذکر فی السجوداورباب أقل ما یجزی بہ الصلاۃ» میں ذکر کیا ہے، لیکن ان تینوں جگہوں پر کسی میں بھی اقامت کا ذکر نہیں ہے، البتہ ابوداؤد اور ترمذی نے اس حدیث کی روایت کی ہے اس میں «فتوضأ کما امرک اللہ ثم تشہد فأقم» کے الفاظ وارد ہیں جس سے حدیث اور باب میں مناسبت ظاہر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. بَابُ: كَيْفَ الإِقَامَةُ
باب: اقامت کیسے کہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 669
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْجَامِعِ قال: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَذَانِ، فَقَالَ:" كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، إِلَّا أَنَّكَ إِذَا قُلْتَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَإِذَا سَمِعْنَا: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ".
جامع مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے اذان کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان دوہری اور اقامت اکہری ہوتی تھی، البتہ جب آپ «قد قامت الصلاة» کہتے تو اسے دو بار کہتے، چنانچہ جب ہم «قد قامت الصلاة» سن لیتے، تو وضو کرتے پھر ہم نماز کے لیے نکلتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 669]
جامع مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اذان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اذان دو دو کلمات تھے اور اقامت ایک ایک کلمہ، مگر جب تو «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» نماز کھڑی ہو گئی کہے تو وہ دو دو مرتبہ ہے۔ جب ہم «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» نماز کھڑی ہو گئی کے الفاظ سنتے تو وضو کرتے، پھر نماز کے لیے جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 629 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسا بعض لوگ اور کبھی کبھی کرتے تھے، پھر بھی آپ کی لمبی قراءت کے سبب جماعت پا لیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ: إِقَامَةِ كُلِّ وَاحِدٍ لِنَفْسِهِ
باب: ہر ایک کا اپنے لیے الگ الگ اقامت کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 670
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ، قال: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِصَاحِبٍ لِي:" إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذِّنَا ثُمَّ أَقِيمَا، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمَا أَحَدُكُمَا".
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اور میرے ایک ساتھی سے فرمایا: جب نماز کا وقت آ جائے تو تم دونوں اذان دو، پھر دونوں اقامت کہو، پھر تم دونوں میں سے کوئی ایک امامت کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 670]
حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور میرے ساتھی سے فرمایا: جب نماز کا وقت آئے تو تم اذان کہو، پھر اقامت کہو، پھر تم میں سے بڑا امامت کروائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 636 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ترجمہ الباب پر «ثم أقیما» سے استدلال ہے، اس سے لازم آتا ہے کہ اذان بھی ہر ایک اپنے لیے الگ الگ کہے، لیکن یہ بعید ازفہم ہے، اور اس کی توجیہ حدیث رقم: ۶۳۵ میں گزر چکی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ: فَضْلِ التَّأْذِينِ
باب: اذان دینے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 671
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الْمَرْءُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا ۱؎ پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے کہ اذان (کی آواز) نہ سنے، پھر جب اذان ہو چکتی ہے تو واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے، تو (پھر) پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، اور جب اقامت ہو چکتی ہے تو (پھر) آ جاتا ہے یہاں تک کہ آدمی اور اس کے نفس کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے (کہ) فلاں چیز یاد کر فلاں چیز یاد کر، پہلے یاد نہ تھیں یہاں تک کہ آدمی کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 671]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان ہوا چھوڑتا (پادتا) ہوا بھاگتا ہے حتیٰ کہ اذان نہیں سنتا۔ جب اذان مکمل ہو جاتی ہے تو آ جاتا ہے، پھر جب اقامت کہی جاتی ہے تو پھر بھاگ جاتا ہے، حتیٰ کہ اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، یہاں تک کہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان وسوسے ڈالتا ہے، اسے کہتا ہے: فلاں چیز یاد کر، فلاں چیز یاد کر۔ ایسی چیزیں جو پہلے اس کے ذہن میں نہیں تھیں حتیٰ کہ آدمی کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ کتنی نماز پڑھی ہے؟ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 4 (608)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/، سنن ابی داود/المساجد 31 (516)، موطا امام مالک/الالهة 1 (6)، (تحفة الأشراف: 13818)، مسند احمد 2/313، 398، 411، 460، 503، 522، 531، سنن الدارمی/الصلاة 11 (1240) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تیزی سے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے جس سے اس کے جوڑ ڈھیلے ہو جاتے ہیں اور پیچھے سے ہوا خارج ہونے لگتی ہے، یا وہ بالقصد شرارتاً گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ: الاِسْتِهَامِ عَلَى التَّأْذِينِ
باب: اذان دینے کے لیے قرعہ اندازی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 672
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ عَلِمُوا مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ جان لیں کہ اذان دینے میں اور پہلی صف میں رہنے میں کیا ثواب ہے، پھر قرعہ اندازی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ پائیں تو وہ اس کے لیے قرعہ اندازی کریں گے، نیز اگر وہ جان لیں (کہ) ظہر اول وقت پر پڑھنے کا کیا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے، اور اگر وہ اس ثواب کو جان لیں جو عشاء اور فجر میں ہے تو وہ ان دونوں صلاتوں میں ضرور آئیں گے، گو چوتڑ کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 672]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ اذان اور صفِ اول کی فضیلت کو جانتے اور پھر قرعہ اندازی کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ پاتے تو ان کے لیے ضرور قرعہ اندازی کرتے، اور اگر لوگ ظہر کی نماز جلدی (اوّل وقت میں) پڑھنے کی فضیلت جانتے تو ایک دوسرے سے آگے بھاگتے اور اگر عشاء اور فجر کی فضیلت کو جانتے تو ضرور آتے، خواہ گھسٹ کر ہی آنا پڑتا۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 672]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 541 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «حبوا» کا لفظ آیا ہے جس کے معنی ہاتھوں کے سہارے چلنے کے ہیں جیسے بچہ ابتداء میں چلتا ہے یا چوتڑوں کے بل گھسٹ کر چلنے کو «حبوا» کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ: اتِّخَاذِ الْمُؤَذِّنِ الَّذِي لاَ يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا
باب: اجرت نہ لینے والے آدمی کو مؤذن مقرر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 673
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي، فَقَالَ:" أَنْتَ إِمَامُهُمْ وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلَى أَذَانِهِ أَجْرًا".
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے میرے قبیلے کا امام بنا دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے امام ہو (لیکن) ان کے کمزور لوگوں کی اقتداء کرنا ۱؎ اور ایسے شخص کو مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 673]
حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی کہ آپ مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے امام ہو۔ نماز پڑھاتے وقت ان میں سے کمزور ترین آدمی کا لحاظ رکھنا اور ایسا مؤذن رکھنا جو اپنی اذان پر تنخواہ نہ لیتا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 673]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 40 (531)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (987)، (تحفة الأشراف: 9770)، مسند احمد 4/21 (217، 218)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الصلاة 37 (468) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان کی رعایت کرتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. بَابُ: الْقَوْلِ مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ
باب: جس طرح مؤذن کہے اسی طرح اذان سننے والا بھی کہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 674
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ، فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسا مؤذن کہتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 674]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو اسی طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 674]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 7 (611)، صحیح مسلم/الصلاة 7(383)، سنن ابی داود/الصلاة 36 (522)، سنن الترمذی/الصلاة 40 (208)، سنن ابن ماجہ/الأذان 4 (720)، (تحفة الأشراف: 4150)، موطا امام مالک/الصلاة 1 (2)، مسند احمد 3/5، 53، 78، 90، سنن الدارمی/الصلاة 10 (1237) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. بَابُ: ثَوَابِ ذَلِكَ
باب: اذان کا جواب دینے کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 675
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ خَالِدٍ الزُّرَقِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ سُفْيَانَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي، فَلَمَّا سَكَتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ مِثْلَ هَذَا يَقِينًا دَخَلَ الْجَنَّةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے، جب وہ خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یقین کے ساتھ اس طرح کہا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 675]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اذان کہنے لگے۔ جب وہ خاموش ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ان کلمات کی طرح کلمات (جواباً) کہے، وہ یقیناً جنت میں داخل ہوگا۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 675]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 14641)، مسند احمد 2/352 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. بَابُ: الْقَوْلِ مِثْلَ مَا يَتَشَهَّدُ الْمُؤَذِّنُ
باب: مؤذن کے تشہد کی طرح سننے والا بھی تشہد کہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 676
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى الْأَنْصَارِيِّ، قال: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، فَكَبَّرَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَتَشَهَّدَ اثْنَتَيْنِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَتَشَهَّدَ اثْنَتَيْنِ". ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي هَكَذَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
مجمع بن یحییٰ انصاری کہتے ہیں کہ میں ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ مؤذن اذان دینے لگا، اور اس نے کہا: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «اللہ أكبر اللہ أكبر» کہا، پھر اس نے «أشهد أن لا إله إلا اللہ» کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «أشهد أن لا إله إلا اللہ» کہا، پھر اس نے «أشهد أن محمدا رسول اللہ» کہا، تو انہوں نے بھی دو مرتبہ «أشهد أن محمدا رسول اللہ» کہا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 676]
حضرت مجمع بن یحییٰ انصاری رحمہ اللہ نے کہا: میں حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ مؤذن نے اذان شروع کر دی۔ اس نے دو بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے کہا تو آپ نے بھی دو بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے کہا۔ پھر اس نے دو بار «أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کہا تو آپ نے بھی دو بار «أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کہا۔ پھر اس نے «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ» میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں کہا تو آپ نے بھی دو مرتبہ «أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللّٰهِ» میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں کہا۔ پھر فرمایا: مجھے حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اسی طرح بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 676]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 23 (914)، (تحفة الأشراف: 11400)، وفي عمل الیوم واللیلة رقم: (350، 351)، مسند احمد 4/93، 95، 98 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں