سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ: حَضِّ الإِمَامِ فِي خُطْبَتِهِ عَلَى الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: امام کا اپنے خطبہ میں جمعہ کے دن کے غسل کی ترغیب دلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1408
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ:" مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ اللَّيْثَ عَلَى هَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ ابْنِ جُرَيْجٍ وَأَصْحَابُ الزُّهْرِيِّ , يَقُولُونَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ بَدَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے کھڑے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ وہ غسل کر لے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند پر لیث کی متابعت کی ہو سوائے ابن جریج کے، اور زہری کے دیگر تلامذہ «عن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر» کے بدلے «سالم بن عبداللہ عن أبيه» کہتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1408]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص جمعے کے دن آئے، وہ غسل کرے۔“ امام ابو عبدالرحمٰن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرت ابن جریج کے علاوہ کسی راوی نے اس سند کے بیان میں حضرت لیث کی متابعت (موافقت) کی ہو۔ امام زہری کے دوسرے شاگرد عبداللہ بن عمر کی بجائے سالم بن عبداللہ «عَنْ أَبِيهِ» ”اپنے والد سے“ کہتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة (844)، سنن الترمذی/الصلاة 238 (493)، (تحفة الأشراف: 7270)، مسند احمد 2/120، 149 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
26. بَابُ: حَثِّ الإِمَامِ عَلَى الصَّدَقَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي خُطْبَتِهِ
باب: جمعہ کے دن امام کے اپنے خطبہ میں صدقہ پر ابھارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1409
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَلَّيْتَ" , قَالَ: لَا , قَالَ:" صَلِّ رَكْعَتَيْنِ"، وَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا فَأَعْطَاهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الثَّانِيَةُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ قَالَ: فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جَاءَ هَذَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَوْا ثِيَابًا، فَأَمَرْتُ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ الْآنَ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَى أَحَدَهُمَا فَانْتَهَرَهُ , وَقَالَ: خُذْ ثَوْبَكَ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو ایک آدمی خستہ حالت میں (مسجد میں) آیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نماز پڑھی؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھ لو“، اور آپ نے (دوران خطبہ) لوگوں کو صدقہ پر ابھارا، لوگوں نے صدقہ میں کپڑے دیئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کپڑے اس شخص کو دیے، پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو وہ شخص پھر آیا، اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ نے لوگوں کو پھر صدقہ پر ابھارا، تو اس شخص نے بھی اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا ڈال دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص (پچھلے) جمعہ کو بڑی خستہ حالت میں آیا، تو میں نے لوگوں کو صدقے پر ابھارا، تو انہوں نے صدقے میں کپڑے دیئے، میں نے اس میں سے دو کپڑے اس شخص کو دینے کا حکم دیا، اب وہ پھر آیا تو میں نے پھر لوگوں کو صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا“، پھر آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ”اپنا کپڑا اٹھا لو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1409]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جمعے کے دن ایک آدمی فقیرانہ حالت میں آیا جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تو نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو رکعتیں پڑھ۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی رغبت دلائی۔ لوگوں نے (صدقے میں) کپڑے دینے شروع کیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان میں سے دو کپڑے دیے۔ جب دوسرا جمعہ ہوا تو وہ پھر آیا، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر لوگوں کو صدقے کی طرف رغبت دلائی تو اس نے بھی اپنا ایک کپڑا اتار دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پچھلے جمعے کو پراگندہ حالت میں آیا تھا تو میں نے لوگوں کو صدقے کا حکم دیا۔ لوگوں نے اپنے (زائد) کپڑے صدقے میں دیے۔ میں نے اسے دو کپڑے دینے کا حکم دیا۔ اب یہ پھر آیا تو میں نے لوگوں کو پھر صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی انہی دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا اتار کر دے دیا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ”اٹھالے اپنا کپڑا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 250 (الجمعة 15) (511)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 87 (1113)، مسند احمد 3/25، سنن الدارمی/الصلاة 196 (1593)، (تحفة الأشراف: 4272) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا صدقہ قبول نہیں کیا کیونکہ اس کے پاس صرف دو ہی کپڑے تھے جو اس کی ضرورت سے زائد نہیں تھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
27. بَابُ: مُخَاطَبَةِ الإِمَامِ رَعِيَّتَهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ
باب: امام (حاکم) کے خطبہ جمعہ میں منبر پر رعایا سے مخاطب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1410
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّيْتَ" , قَالَ: لَا، قَالَ:" قُمْ فَارْكَعْ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا ۱؎ (اور بیٹھ گیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: ”تم نے سنت پڑھ لی؟“، اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ اور (سنت) پڑھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1410]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی آیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تو نے نماز پڑھی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھ اور (دو رکعتیں) پڑھ۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 32 (930)، صحیح مسلم/الجمعة 14 (875)، سنن ابی داود/الصلاة 237 (1115)، سنن الترمذی/الصلاة 250 (510)، (تحفة الأشراف: 2511) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ سلیک غطفانی تھے جیسا کہ ابوداؤد کی حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1411
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى إِسْرَائِيلُ بْنُ مُوسَى، قال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ، يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ مَعَهُ، وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ مَرَّةً , وَيَقُولُ:" إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، حسن رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، تو کبھی ان کی طرف، اور آپ فرما رہے تھے: ”میرا یہ بچہ سردار ہے، اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1411]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر (خطبہ دیتے) دیکھا جب کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی ان کی طرف۔ آپ فرما رہے تھے: ”یقیناً میرا یہ بیٹا سردار ہوگا، قوی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کروائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1411]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلح 9 (2704)، المناقب 25 (3629)، فضائل الصحابة 22 (3746)، الفتن 20 (7109)، سنن ابی داود/السنة 13 (4662)، سنن الترمذی/المناقب 31 (3773)، (تحفة الأشراف: 11658)، مسند احمد 5/37، 44، 49، 51 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: الحمدللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی اور امت مسلمہ کے دو گروہ باہم متفق ہو گئے ہوا یہ کہ حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سے دستبرداری فرمائی اور ساری امت معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت پر متفق ہو گئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
28. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الْخُطْبَةِ
باب: خطبہ جمعہ میں قرآن پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1412
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنَةِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ:" حَفِظْتُ ق وَالْقُرْءَانِ الْمَجِيدِ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ".
حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی (ام ہشام) کہتی ہیں کہ میں نے «ق والقرآن المجيد» کو جمعہ کے دن منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سن سن کر یاد کیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1412]
حضرت ام ہشام رضی اللہ عنہا بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورہ ﴿قٓ ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ [سورة ق: 1] جمعے کے دن منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن سن کر یاد کی۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1412]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 13 (873)، سنن ابی داود/الصلاة 229 (1100، 1102، 1103)، مسند احمد 6/435، 463، (تحفة الأشراف: 18363) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے خطبے میں پوری سورۃ ق پابندی سے پڑھا کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
29. بَابُ: الإِشَارَةِ فِي الْخُطْبَةِ
باب: خطبہ جمعہ میں اشارہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1413
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُصَيْنٍ، أَنَّ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَسَبَّهُ عُمَارَةُ بْنُ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيُّ، وَقال:" مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ".
حصین سے روایت ہے کہ بشر بن مروان نے جمعہ کے دن منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے) اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، تو اس پر عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں برا بھلا کہا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زیادہ نہیں کیا، اور انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1413]
حضرت حصین سے روایت ہے کہ بشر بن مروان نے جمعے کے دن منبر پر (جوش خطابت میں) دونوں ہاتھ اٹھائے تو حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زائد اشارہ نہیں کرتے تھے“، پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگشتِ شہادت سے اشارہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 13 (874)، سنن ابی داود/الصلاة 230 (1104)، سنن الترمذی/الصلاة 254 (الجمعة 19) (515)، (تحفة الأشراف: 10377)، مسند احمد 4/135، 136، 261، سنن الدارمی/الصلاة 201 (1601، 1602) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
30. بَابُ: نُزُولِ الإِمَامِ عَنِ الْمِنْبَرِ، قَبْلَ فَرَاغِهِ مِنَ الْخُطْبَةِ وَقَطْعِهِ كَلاَمَهُ وَرُجُوعِهِ إِلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن خطبہ کے خاتمہ سے پہلے امام کے منبر سے اترنے اور خطبہ سے رک جانے پھر دوبارہ منبر کی طرف لوٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1414
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ فِيهِمَا، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ كَلَامَهُ , فَحَمَلَهُمَا ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ قَالَ:" صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 , رَأَيْتُ هَذَيْنِ يَعْثُرَانِ فِي قَمِيصَيْهِمَا، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ كَلَامِي فَحَمَلْتُهُمَا".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے اتنے میں حسن اور حسین رضی اللہ عنہم لال رنگ کی قمیص پہنے گرتے پڑتے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر سے) اتر پڑے، اور اپنی بات بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا، پھر منبر پر واپس آ گئے، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ”تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں“ میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو اٹھا لیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1414]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (بروز جمعہ) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما آگئے، انہوں نے سرخ رنگ کی (لمبی) قمیصیں پہن رکھی تھیں، وہ ان میں لڑکھڑا رہے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خطبہ روک دیا اور منبر سے نیچے اتر کر ان دونوں کو اٹھایا، پھر منبر پر تشریف فرما ہو گئے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے: ﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ [سورة التغابن: 15] ”بلاشبہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں۔“ میں نے انہیں دیکھا کہ قمیصوں میں لڑکھڑاتے (گرتے پڑتے) آ رہے ہیں، میں صبر نہ کر سکا حتیٰ کہ میں نے خطبہ روکا اور انہیں اٹھایا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 233 (1109)، سنن الترمذی/المناقب 31 (3774)، سنن ابن ماجہ/اللباس 20 (3600)، (تحفة الأشراف: 1958)، مسند احمد 5/354، ویأتی عند المؤلف برقم: 1586 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
31. بَابُ: مَا يُسْتَحَبُّ مِنْ تَقْصِيرِ الْخُطْبَةِ
باب: خطبہ مختصر دینے کے استحباب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1415
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ غَزْوَانَ، قال: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُقَيْلٍ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ وَيُقِلُّ اللَّغْوَ وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ وَيُقَصِّرُ الْخُطْبَةَ، وَلَا يَأْنَفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُ الْحَاجَةَ".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذکرو اذکار زیادہ کرتے، لایعنی باتوں سے گریز کرتے، نماز لمبی پڑھتے، اور خطبہ مختصر دیتے تھے، اور بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ جانے میں کہ ان کی ضرورت پوری کریں، عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1415]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ذکر کرتے تھے اور ضرورت سے زائد کلام کم ہی کرتے تھے، نماز لمبی پڑھتے تھے اور خطبہ مختصر رکھتے تھے اور اس بات میں کوئی بے عزتی محسوس نہ فرماتے تھے کہ کسی بے سہارا اور بیوہ خاتون اور مسکین شخص کے ساتھ جاکر اس کا کام کر دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1415]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 5183)، سنن الدارمی/المقدمة 13 (75) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
32. بَابُ: كَمْ يَخْطُبُ
باب: جمعہ کے دن کتنے خطبے دے؟
حدیث نمبر: 1416
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال:" جَالَسْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُهُ يَخْطُبُ إِلَّا قَائِمًا وَيَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ الْخُطْبَةَ الْآخِرَةَ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم نشینی کی، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے دیکھا، آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1416]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھتا رہا ہوں، میں نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے نہیں دیکھا مگر کھڑے ہو کر ہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیان میں بیٹھتے، پھر دوبارہ کھڑے ہوتے اور دوسرا خطبہ ارشاد فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2177)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 10 (762)، سنن ابی داود/الصلاة 228 (1093)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 85 (1105)، مسند احمد 5/87، 88، 89، 90، 91، 92، 93، 94، 95، 97، 98، 99، 100، 101، 102، 107، سنن الدارمی/الصلاة 199 (1598) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
33. بَابُ: الْفَصْلِ بَيْنَ الْخُطْبَتَيْنِ بِالْجُلُوسِ
باب: دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھ کر فصل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1417
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ الْخُطْبَتَيْنِ وَهُوَ قَائِمٌ وَكَانَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجُلُوسٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو خطبے دیتے تھے، ان دونوں کے بیچ میں بیٹھ کر فصل کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1417]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوکر دو خطبے ارشاد فرماتے تھے اور درمیان میں بیٹھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 30 (928)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 10 (861)، سنن الترمذی/الصلاة 246 (506)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 85 (1103)، (تحفة الأشراف: 7812)، مسند احمد 2/98 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه