🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
--. بَابُ:
باب:
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1557
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: كَانَ لِأَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَوْمَانِ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا , فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ , قَالَ:" كَانَ لَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا , وَقَدْ أَبْدَلَكُمُ اللَّهُ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جاہلیت کے لوگوں کے لیے سال میں دو دن ایسے ہوتے تھے جن میں وہ کھیل کود کیا کرتے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ سے ہجرت کر کے) مدینہ آئے تو آپ نے فرمایا: تمہارے لیے دو دن تھے جن میں تم کھیل کود کیا کرتے تھے (اب) اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلہ ان سے بہتر دو دن دے دیئے ہیں: ایک عید الفطر کا دن اور دوسرا عید الاضحی کا دن۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1557]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دورِ جاہلیت کے لوگوں کے لیے سال میں دو دن تھے جن میں وہ کھیلتے کودتے تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: تمھارے لیے دو دن تھے جن میں تم کھیلا کودا کرتے تھے۔ اب اللہ تعالیٰ نے تمھیں ان کے بجائے دو اچھے دن دے دیے ہیں: ایک عید الفطر کا دن اور ایک عید الاضحیٰ کا دن۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1557]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 593)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 245 (1134)، مسند احمد 3/103، 178، 235، 250 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: الْخُرُوجِ إِلَى الْعِيدَيْنِ مِنَ الْغَدِ
باب: عیدالفطر کی نماز کے لیے (کسی سبب سے) دوسرے دن نکلنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1558
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ، أَنَّ قَوْمًا رَأَوْا الْهِلَالَ , فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَمَرَهُمْ أَنْ يُفْطِرُوا بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ , وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى الْعِيدِ مِنَ الْغَدِ".
ابو عمیر بن انس اپنے ایک چچا سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عید کا چاند دیکھا تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (اور آپ سے اس کا ذکر کیا) آپ نے انہیں دن چڑھ آنے کے بعد حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں، اور عید کی نماز کی لیے کل نکلیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1558]
حضرت ابوعمیر بن انس رحمہ اللہ اپنے چچاؤں رضی اللہ عنہم سے بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے عید کا چاند دیکھا (مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بروقت اطلاع نہ مل سکی اور عام لوگوں نے روزہ رکھ لیا)، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے (اور اطلاع کی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دن چڑھ آنے کے بعد روزہ کھولنے کا اور اگلے دن نماز (عید) کے لیے نکلنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 255 (1157)، سنن ابن ماجہ/الصیام 6 (1653)، (تحفة الأشراف: 15603)، مسند احمد 5/57، 58 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: خُرُوجِ الْعَوَاتِقِ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فِي الْعِيدَيْنِ
باب: عیدین میں جوان لڑکیوں اور پردہ والی عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1559
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ لَا تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَّا قَالَتْ: بِأَبِي , فَقُلْتُ: أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ , بِأَبِي، قال:" لِيَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ وَيَشْهَدْنَ الْعِيدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ , وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى".
حفصہ بنت سرین کہتی ہیں کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو کہتی تھیں: میرے باپ آپ پر فدا ہوں تو میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ایسا ذکر کرتے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے فرمایا: چاہیئے کہ دوشیزائیں، پردہ والیاں، اور جو حیض سے ہوں (عید گاہ کو) نکلیں اور سب عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، البتہ جو حائضہ ہوں وہ صلاۃ گاہ سے الگ رہیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1559]
حضرت حفصہ رحمہا اللہ (بنت سیرین) سے روایت ہے کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتی تھیں تو «بِأَبِي» [بابا] میرا باپ آپ پر فدا ہو جائے ضرور کہتی تھیں۔ (ایک دفعہ) میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ایسے (یعنی عیدین میں عورتوں کے باہر جانے کے بارے میں) فرماتے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، «بِأَبِي» [بابا] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالغ اور پردہ نشین، حتیٰ کہ حیض والی عورتیں بھی باہر عید کے لیے جائیں اور نمازِ عید اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حیض والی عورتیں نماز والی جگہ سے الگ بیٹھی رہیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 390 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: اعْتِزَالِ الْحُيَّضِ مُصَلَّى النَّاسِ
باب: حائضہ عورتیں مصلیٰ (عیدگاہ) سے الگ رہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1560
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: لَقِيتُ أُمَّ عَطِيَّةَ , فَقُلْتُ لَهَا: هَلْ سَمِعْتِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَكَانَتْ إِذَا ذَكَرَتْهُ , قَالَتْ: بِأَبِي، قال:" أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَيَشْهَدْنَ الْعِيدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ , وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ مُصَلَّى النَّاسِ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (ایسا ایسا کہتے ہوئے) سنا ہے؟ اور وہ جب بھی آپ کا ذکر کرتیں تو کہتیں: میرے باپ آپ پر فدا ہوں، (انہوں نے کہا: ہاں) آپ نے فرمایا: بالغ لڑکیوں کو اور پردہ والیوں کو بھی (عید کی نماز کے لیے) نکالو تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، اور حائضہ عورتیں مصلیٰ (عید گاہ) سے الگ تھلگ رہیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1560]
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے ملا اور ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (نماز عید میں عورتوں کی شرکت کے بارے میں) کچھ سنا ہے؟ اور وہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتی تھیں تو وہ کہتی تھیں: «بِأَبِي» میرا باپ آپ پر فدا ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بالغ اور پردہ نشین عورتوں کو بھی (عید میں) ساتھ لے کر جاؤ تاکہ وہ بھی اس نیکی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حیض والی عورتیں لوگوں کی نماز والی جگہ (عید گاہ) سے الگ رہیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 15 (974)، صحیح مسلم/العیدین 1 (890)، سنن ابی داود/الصلاة 247 (1137)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 165 (1308)، (تحفة الأشراف: 18095) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: الزِّينَةِ لِلْعِيدَيْنِ
باب: عیدین کے لیے زیب و زینت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1561
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَالْوَفْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ , أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ" , فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ , ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ , فَأَقْبَلَ بِهَا حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , قُلْتَ: إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ , ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْهَا وَتُصِبْ بِهَا حَاجَتَكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں موٹے ریشمی کپڑے کا ایک جوڑا (بکتے ہوئے) پایا، تو اسے لیا، اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اسے خرید لیں، اور عید کے لیے اور وفود سے ملتے وقت اسے پہنیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو گا، یا اسے تو وہی پہنے گا جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو گا، تو عمر رضی اللہ عنہ ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس باریک ریشمی کپڑے کا ایک جبہ بھیجا، تو وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا تھا کہ یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں، پھر آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بیچ دو، اور اس سے اپنی ضرورت پوری کرو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1561]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں ریشم کا ایک جوڑا (برائے فروخت) دیکھا۔ وہ اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوئے اور گزارش کی: اے اللہ کے رسول! اسے خرید لیں اور عید اور وفود سے ملاقات کے مواقع پر زیب تن فرمایا کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (ریشم) تو ان لوگوں کا لباس ہے جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔ یا (فرمایا:) اسے تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کو (آخرت میں) کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ عرصہ، جتنا کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ ٹھہرے رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ریشم کا ایک جبہ بھیجا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس جبے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے تو فرمایا تھا: یہ ان کا لباس ہے جن کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہیں۔ پھر آپ نے یہ جبہ مجھے بھیج دیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بیچ کر اپنی ضروریات پوری کرو۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 1 (2068)، سنن ابی داود/الصلاة 219 (1077)، اللباس 10 (4040)، (تحفة الأشراف: 6895) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ میں نے اسے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا ہے کہ تم خود اسے پہنو، بلکہ اس لیے بھیجا ہے کہ بیچ کر تم اس کی قیمت اپنی ضرورت میں صرف کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: الصَّلاَةِ قَبْلَ الإِمَامِ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن امام سے پہلے نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1562
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، أَنَّ عَلِيًّا اسْتَخْلَفَ أَبَا مَسْعُودٍ عَلَى النَّاسِ فَخَرَجَ يَوْمَ عِيدٍ , فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُصَلَّى قَبْلَ الْإِمَامِ".
ثعلبہ بن زہدم سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابومسعود رضی اللہ عنہ کو لوگوں پر اپنا نائب مقرر کیا، تو (جب) وہ عید کے دن نکلے تو کہنے لگے: لوگو! یہ سنت نہیں ہے کہ امام سے پہلے نماز پڑھی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1562]
حضرت ثعلبہ بن زہدم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کو (ایک دفعہ) لوگوں پر اپنا نائب مقرر فرمایا، وہ عید کے دن (عید کے لیے) باہر نکلے تو فرمایا: اے لوگو! یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں کہ امام (کے نماز عید پڑھانے) سے پہلے کوئی نفل نماز پڑھی جائے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9978) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: تَرْكِ الأَذَانِ لِلْعِيدَيْنِ
باب: عیدین میں اذان نہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1563
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِيدٍ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بغیر اذان اور بغیر اقامت کے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1563]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ عید، خطبے سے قبل اذان اور اقامت کے بغیر پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/العیدین 4 (885)، (تحفة الأشراف: 2440)، مسند احمد 3/314، 318، 381، 382، سنن الدارمی/الصلاة 18 (1643)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1576 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: الْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ
باب: عید کے دن خطبہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1564
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي زُبَيْدٌ، قال: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ , يَقُولُ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ عِنْدَ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ , قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ , فَقَالَ:" إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا , أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَذْبَحَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا , وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ يُقَدِّمُهُ لِأَهْلِهِ" , فَذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ دِينَارٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , عِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ , قَالَ:" اذْبَحْهَا وَلَنْ تُوفِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
شعبی (عامر بن شراحیل) کہتے ہیں کہ ہم سے براء بن عازب رضی اللہ عنہم نے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے پاس بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا، تو آپ نے فرمایا: اپنے اس دن میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر قربانی کریں، تو جس نے ایسا کیا تو اس نے ہماری سنت کو پا لیا، اور جس نے اس سے پہلے ذبح کر لیا تو وہ محض گوشت ہے جسے وہ اپنے گھر والوں کو پہلے پیش کر رہا ہے، ابوبردہ ابن نیار (نماز سے پہلے ہی) ذبح کر چکے تھے، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک سال کا ایک دنبہ ہے، جو دانت والے دنبہ سے بہتر ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے ہی ذبح کر لو، لیکن تمہارے بعد اور کسی کے لیے یہ کافی نہیں ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1564]
حضرت شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے ہمیں مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے پاس بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عید الاضحیٰ کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: آج کے دن ہم سب سے پہلے جس چیز کی ابتدا کریں گے وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھیں گے، پھر (قربانی) ذبح کریں گے۔ جو شخص ایسا کرے گا، وہ ہماری سنت پر عمل کرے گا اور جو اس (نماز پڑھنے) سے پہلے ذبح کرے گا تو یہ (قربانی نہیں بلکہ) اس نے اپنے گھر والوں کے لیے گوشت تیار کیا ہے۔ اتفاقاً حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے (نماز عید سے قبل) قربانی ذبح کر دی تھی۔ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک جزعہ (نوجوان بکرا) جو دو دانتے سے (جسمانی طور پر) بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو اسے ذبح کر دو لیکن ایسا جانور تیرے علاوہ کسی سے کفایت نہ کرے گا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 3 (951) مختصراً، 5 (955) مطولاً، 8 (957)، 10 (968)، 17 (976)، 23 (983) مطولاً، الأضاحي 1 (5556)، 8 (5557)، 11 (5560)، 12 (5563)، الأیمان والنذور 15 (6673)، صحیح مسلم/الأضاحي 1 (1961)، سنن ابی داود/الضحایا 5 (2800، 2801) مطولاً، سنن الترمذی/الأضاحي 12 (1508) مطولاً، (تحفة الأشراف: 1769)، مسند احمد 4/28، 287، 297، 302، 303، سنن الدارمی/الأضاحي 7 (2005)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1571، 1582، 4399، 4400 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ
باب: عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1565
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانُوا يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1565]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما عیدین میں نماز خطبے سے قبل پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین 8 (963)، صحیح مسلم/العیدین (888)، (تحفة الأشراف: 8045)، سنن الترمذی/الصلاة 266 (الجمعة 31) (531)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 155 (1276)، مسند احمد 2/12، 38 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: صَلاَةِ الْعِيدَيْنِ إِلَى الْعَنَزَةِ
باب: عیدین کی نماز نیزہ سامنے رکھ کر پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1566
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُخْرِجُ الْعَنَزَةَ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَى يُرْكِزُهَا فَيُصَلِّي إِلَيْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی دونوں میں نیزہ لے جاتے اور اسے گاڑتے، پھر اس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1566]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن چھوٹا نیزہ ساتھ لے جایا کرتے تھے، پھر اسے گاڑ لیتے اور اس کی طرف نماز پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1566]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین 13 (973)، 14 (9772)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 164 (1304)، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9597)، مسند احمد 2/98، 145، 151، سنن الدارمی/الصلاة 124 (1450) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں