🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: الْحَثِّ عَلَى الصَّلاَةِ فِي الْبُيُوتِ وَالْفَضْلِ فِي ذَلِكَ
باب: گھروں میں نماز پڑھنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1599
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قال: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھو، انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1599]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز (نفل) پڑھا کرو۔ انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8520)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 52 (432)، التھجد 37 (1187)، صحیح مسلم/المسافرین 29 (777)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1043)، 346 (1448)، سنن الترمذی/الصلاة 214 (451)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 186 (1377)، مسند احمد 2/6، 16، 123 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نماز سے مراد نوافل اور سنتیں ہیں۔ انہیں قبرستان نہ بناؤ یعنی اس سے معلوم ہوا کہ جن گھروں میں نوافل کی ادائیگی کا اہتمام نہیں ہوتا وہ قبرستان کی طرح ہوتے ہیں، جس طرح قبریں عمل اور عبادت سے خالی ہوتی ہیں اسی طرح ایسے گھر بھی عمل اور عبادت سے محروم ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1600
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قال: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قال: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ , ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً فَظَنُّوا أَنَّهُ نَائِمٌ , فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ , فَقَالَ:" مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صُنْعِكُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ , وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ , فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے گھیر کر ایک کمرہ بنایا، تو آپ نے اس میں کئی راتیں نمازیں پڑھیں یہاں تک کہ لوگ آپ کے پاس جمع ہونے لگے، پھر ان لوگوں نے ایک رات آپ کی آواز نہیں سنی، وہ سمجھے کہ آپ سو گئے ہیں، تو ان میں سے کچھ لوگ کھکھارنے لگے، تاکہ آپ ان کی طرف نکلیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس کام میں برابر لگا دیکھا تو ڈرا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کر دی جائے، اور اگر وہ تم پر فرض کر دی گئی تو تم اسے ادا نہیں کر سکو گے، تو لوگو! تم اپنے گھروں میں نمازیں پڑھا کرو، کیونکہ آدمی کی سب سے افضل (بہترین) نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو سوائے فرض نماز کے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1600]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں کھجور کی چٹائی کو کھڑا کر کے حجرہ سا بنا لیا (تاکہ سکون سے رات کی نماز پڑھ سکیں)، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی راتیں اس میں نماز پڑھی حتیٰ کہ لوگ بھی آپ کے قریب جمع ہونے لگ گئے (اور آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگے) پھر ایک رات انہوں نے آپ کی آواز محسوس نہ کی۔ انہوں نے سمجھا کہ آپ سوئے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ کھنکارنے لگے تاکہ آپ (جاگ کر) ان کی طرف تشریف لے آئیں۔ (مگر آپ نہ نکلے، پھر صبح کے وقت) آپ نے فرمایا: جو کچھ تم کرتے رہے ہو میں دیکھتا رہا ہوں (مگر، اس لیے نہیں نکلا کہ) مجھے خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں (تمہارے ذوق و شوق کی وجہ سے) تم پر رات کی نماز فرض ہی نہ کر دی جائے۔ اور اگر تم پر فرض کر دی جاتی تو تم اسے ادا نہ کر پاتے، لہٰذا اے لوگو! رات کی نماز اپنے گھروں میں پڑھ لیا کرو کیونکہ فرض نماز کے علاوہ انسان کی افضل نماز وہ ہے جو گھر میں پڑھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 81 (731)، الأدب 75 (6113)، الإعتصام 3 (7290)، صحیح مسلم/المسافرین 29 (781)، سنن ابی داود/الصلاة 205 (1044)، 346 (1447)، سنن الترمذی/الصلاة 214 (450)، (تحفة الأشراف: 3698)، موطا امام مالک/الجماعة 1 (4)، مسند احمد 5/182، 183، 186، 187، سنن الدارمی/الصلاة 96 (1406) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حکم تمام نفلی نمازوں کو شامل ہے، البتہ اس حکم سے وہ نمازوں مستثنیٰ ہیں جو شعائر اسلام میں شمار کی جاتی ہیں مثلاً عیدین، استسقاء اور کسوف و خسوف (چاند اور سورج گرہن) کی نمازوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1601
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْفِطْرِيُّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قال: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَلَمَّا صَلَّى قَامَ نَاسٌ يَتَنَفَّلُونَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فِي الْبُيُوتِ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز قبیلہ بنی عبدالاشہل کی مسجد میں پڑھی، جب آپ پڑھ چکے تو کچھ لوگ کھڑے ہو کر سنت پڑھنے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (سنت) نماز کو گھروں میں پڑھنے کی پابندی کرو۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1601]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دفعہ) مغرب کی نماز بنو عبد الاشہل کی مسجد میں پڑھی، جب آپ نماز (فرض) سے فارغ ہوئے تو کچھ لوگ اٹھ کر نوافل (مغرب کی سنتیں) پڑھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نماز گھروں میں پڑھا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 304 (1300)، سنن الترمذی/فیہ 307 (الجمعة 71) (604)، (تحفة الأشراف: 11107) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: قِيَامِ اللَّيْلِ
باب: قیام اللیل (تہجد) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1602
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوَتْرِ , فَقَالَ:" أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: عَائِشَةُ، ائْتِهَا فَسَلْهَا ثُمَّ ارْجِعْ إِلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْكَ، فَأَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا , فَقَالَ: مَا أَنَا بِقَارِبِهَا إِنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا فَأَبَتْ فِيهَا إِلَّا مُضِيًّا، فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ فَجَاءَ مَعِي فَدَخَلَ عَلَيْهَا , فَقَالَتْ لِحَكِيمٍ: مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ قُلْتُ: سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَتْ: مَنْ هِشَامٌ؟ قُلْتُ: ابْنُ عَامِرٍ فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ , وَقَالَتْ: نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرًا , قَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: أَلَيْسَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ , قَالَ: قُلْتُ: بَلَى , قَالَتْ:" فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنُ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: أَلَيْسَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ؟ قُلْتُ: بَلَى , قَالَتْ: فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ , وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ , فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ أَنْ كَانَ فَرِيضَةً. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ فَبَدَا لِي وَتْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ , فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، يَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَةً فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا سَلَّمَ فَتِلْكَ تِسْعُ رَكَعَاتٍ يَا بُنَيَّ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يَدُومَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا شَغَلَهُ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ نَوْمٌ أَوْ مَرَضٌ أَوْ وَجَعٌ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، وَلَا أَعْلَمُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ , وَلَا قَامَ لَيْلَةً كَامِلَةً حَتَّى الصَّبَاحَ , وَلَا صَامَ شَهْرًا كَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا , فَقَالَ: صَدَقَتْ , أَمَا إِنِّي لَوْ كُنْتُ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى تُشَافِهَنِي مُشَافَهَةً , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: كَذَا وَقَعَ فِي كِتَابِي وَلَا أَدْرِي مِمَّنِ الْخَطَأُ فِي مَوْضِعِ وَتْرِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ.
سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہم سے ملے تو ان سے وتر کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں اہل زمین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ سعد نے کہا: کیوں نہیں (ضرور بتائیے) تو انہوں نے کہا: وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، ان کے پاس جاؤ، اور ان سے سوال کرو، پھر میرے پاس لوٹ کر آؤ، اور وہ تمہیں جو جواب دیں اسے مجھے بتاؤ، چنانچہ میں حکیم بن افلح کے پاس آیا، اور ان سے میں نے اپنے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے چلنے کے لیے کہا، تو انہوں نے انکار کیا، اور کہنے لگے: میں ان سے نہیں مل سکتا، میں نے انہیں ان دو گروہوں ۱؎ کے متعلق کچھ بولنے سے منع کیا تھا، مگر وہ بولے بغیر نہ رہیں، تو میں نے حکیم بن افلح کو قسم دلائی، تو وہ میرے ساتھ آئے، چنانچہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے، تو انہوں نے حکیم سے کہا: تمہارے ساتھ یہ کون ہیں؟ میں نے کہا: سعد بن ہشام ہیں، تو انہوں نے کہا: کون ہشام؟ میں نے کہا: عامر کے لڑکے، تو انہوں نے ان (عامر) کے لیے رحم کی دعا کی، اور کہا: عامر کتنے اچھے آدمی تھے۔ سعد نے کہا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں، تو انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق سراپا قرآن تھے، پھر میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل کے متعلق پوچھنے کا خیال آیا، تو میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل کے متعلق بتائیے، انہوں نے کہا: کیا تم سورۃ «يا أيها المزمل‏» نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھتا ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے شروع میں قیام اللیل کو فرض قرار دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ایک سال تک قیام کیا یہاں تک کہ ان کے قدم سوج گئے، اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کی آخر کی آیتوں کو بارہ مہینے تک روکے رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی، اور رات کا قیام اس کے بعد کہ وہ فرض تھا نفل ہو گیا، میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا، تو میرے دل میں یہ بات آئی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے متعلق بھی پوچھ لوں، تو میں نے کہا: ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بھی بتائیے تو انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی رکھ دیتے، تو اللہ تعالیٰ رات میں آپ کو جب اٹھانا چاہتا اٹھا دیتا تو آپ مسواک کرتے، اور وضو کرتے، اور آٹھ رکعتیں پڑھتے ۲؎ جن میں آپ صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے، ذکر الٰہی کرتے، دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جو ہمیں سنائی دیتا، پھر سلام پھیرنے کے بعد آپ بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے تو اس طرح کل گیارہ رکعتیں ہوئیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے، اور جسم پر گوشت چڑھ گیا تو وتر کی سات رکعتیں پڑھنے لگے، اور سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، تو میرے بیٹے! اس طرح کل نو رکعتیں ہوئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز پڑھتے تو آپ کو یہ پسند ہوتا کہ اس پر مداومت کریں، اور جب آپ نیند، بیماری یا کسی تکلیف کی وجہ سے رات کا قیام نہیں کر پاتے تو آپ (اس کے بدلہ میں) دن میں بارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی آپ پوری رات صبح تک قیام ہی کرتے، اور نہ ہی کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے، سوائے رمضان کے، پھر میں ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آیا، اور میں نے ان سے ان کی یہ حدیث بیان کی، تو انہوں نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے سچ کہا، رہا میں تو اگر میں ان کے یہاں جاتا ہوتا تو میں ان کے پاس ضرور جاتا یہاں تک کہ وہ مجھ سے براہ راست بالمشافہ یہ حدیث بیان کرتیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اسی طرح میری کتاب میں ہے، اور میں نہیں جانتا کہ کس شخص سے آپ کی وتر کی جگہ کے بارے میں غلطی ہوئی ہے ۳؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1602]
حضرت سعد بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملا اور ان سے نمازِ وتر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: کیا میں تجھے اس شخصیت کے بارے میں نہ بتاؤں جو روئے زمین پر بسنے والے انسانوں میں سے سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ وتر کو جانتی ہو؟ سعد نے کہا: ہاں، ضرور۔ انہوں نے فرمایا: وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ ان سے جا کر پوچھو، پھر واپس آ کر مجھے بھی بتاؤ کہ انہوں نے کیا جواب دیا، چنانچہ میں حضرت حکیم بن افلح کے پاس آیا اور انہیں بھی ساتھ چلنے کے لیے کہا۔ وہ کہنے لگے: میں تو ان کے پاس نہیں جاؤں گا کیونکہ میں نے ان سے گزارش کی تھی کہ آپ ان دو لڑنے والے گروہوں (عثمانی و علوی) کے بارے میں کچھ بھی نہ کہیں مگر انہوں نے میری بات نہیں مانی بلکہ اپنی مرضی کی۔ میں نے انہیں قسم دی (کہ وہ ضرور چلیں) تو وہ میرے ساتھ چل پڑے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ میں نے کہا: سعد بن ہشام۔ انہوں نے فرمایا: کون سا ہشام؟ میں نے کہا: ہشام بن عامر۔ تو آپ نے ان کے لیے رحمت کی دعا کی اور فرمایا: عامر بہت اچھے انسان تھے۔ میرے ساتھی نے کہا: اے ام المومنین! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ کے بارے میں بتائیے۔ تو فرمانے لگیں: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں (پڑھتا ہوں)۔ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ عالیہ عین قرآن کے مطابق تھے۔ میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو میرے ذہن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل (رات کی عبادت) کا خیال آیا۔ میں نے کہا: اے ام المومنین! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: کیا تم یہ سورت ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1] نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں (پڑھتا ہوں)۔ فرمانے لگیں: اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع میں رات کا قیام فرض کیا تھا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ایک سال تک قیام کرتے رہے حتی کہ ان کے پاؤں سوج گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی آخری آیتیں (دوسرا رکوع) بارہ مہینے روک رکھیں، پھر ان آیات میں تخفیف نازل فرمائی تو قیام اللیل نفل بن گیا جبکہ پہلے فرض تھا۔ میں نے پھر اٹھنے کا ارادہ کیا کہ اچانک میرے ذہن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ وتر کا خیال آگیا۔ میں نے کہا: اے ام المومنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازِ وتر کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: ہم رات کو آپ کی مسواک اور طہارت کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ جب پسند فرماتا آپ کو جگا دیتا۔ آپ (اٹھ کر) مسواک فرماتے اور وضو کرتے، پھر آٹھ رکعات اس طرح پڑھتے کہ ان میں سے کسی رکعت کے بعد نہیں بیٹھتے تھے مگر آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کا ذکر فرماتے اور دعائیں کرتے، پھر اتنی آواز سے سلام کہتے کہ ہمیں سنائی دیتا، پھر سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے۔ بیٹا! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں بن گئیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر زیادہ ہوگئی اور بوجھل ہوگئے تو سات رکعات پڑھتے اور سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے۔ بیٹا! اس طرح یہ نو رکعتیں بن گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز شروع فرما لیتے تو مناسب سمجھتے تھے کہ اسے ہمیشہ پڑھا کریں اور اگر کبھی نیند یا بیماری یا کوئی تکلیف رات کی نماز سے رکاوٹ بن جاتی تو دن کو (بجائے گیارہ کے) بارہ رکعات پڑھ لیتے۔ اور مجھے علم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہو یا کبھی صبح تک ساری رات نماز پڑھتے رہے ہوں یا رمضان المبارک کے علاوہ کبھی پورا مہینہ روزے رکھے ہوں، پھر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان کے سامنے یہ پوری حدیث بیان کی۔ آپ فرمانے لگے: سچ کہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے۔ «وَاللَّهِ» اللہ کی قسم! اگر میں ان کے پاس جاتا ہوتا تو ضرور جاتا کہ وہ مجھے براہِ راست یہ حدیث بیان فرمائیں۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث میری کتاب میں ایسے ہی ہے۔ میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بیان میں کس سے غلطی ہوگئی؟ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1602]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 18 (746)، سنن ابی داود/الصلاة 316 (1342، 1343، 1344، 1345)، (تحفة الأشراف: 16104)، مسند احمد 6/53، 94، 109، 163، 168، 236، 258، سنن الدارمی/الصلاة 165 (1516) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی معاویہ اور علی رضی اللہ عنہم کے درمیان میں۔ ۲؎: کسی راوی سے وہم ہو گیا ہے، صحیح نو رکعتیں ہے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے، آٹھ رکعتیں لگاتار پڑھتے، اور آٹھویں رکعت پر بیٹھ کر نویں رکعت کے لیے اٹھتے۔ ۳؎: وتر کی جگہ میں غلطی اس طرح ہوئی ہے کہ اس حدیث میں بیٹھ کر پڑھی جانے والی دونوں رکعتوں کو اس وتر کی رکعت پر مقدم کر دیا گیا جسے آپ آٹھویں کے بعد پڑھتے تھے، صحیح یہ ہے کہ آپ ان دونوں رکعتوں کو بیٹھ کر وتر کے بعد پڑھتے تھے جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا
باب: رمضان میں ایمان کی حالت میں خالص ثواب کی نیت سے قیام کرنے (تہجد پڑھنے) کے ثواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1603
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا , غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے (رات کا) قیام کرے گا، تو اس کے گناہ جو پہلے ہو چکے ہوں بخش دیے جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1603]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایمان کی بنا پر ثواب کی نیت سے رمضان المبارک کی راتوں میں قیام کرے (نماز تراویح پڑھے) تو اس کے پہلے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1603]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 27 (37)، الصوم 6 (1898)، التراویح 1 (2009)، صحیح مسلم/المسافرین 25 (759)، سنن ابی داود/الصلاة 318 (1371)، (تحفة الأشراف: 12277)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 1 (683)، 83 (808)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 173 (1326)، موطا امام مالک/رمضان 1 (2)، مسند احمد 2/241، 281، 289، 408، 423، 473، 486، 503، 29، سنن الدارمی/الصوم 54 (1817)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2201، 2202، 2203 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1604
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو بَكْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، قال: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ مَالِكٍ، قال: قَالَ الزُّهْرِيُّ , أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا , غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان میں ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے (رات کا) قیام کرے گا، تو اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1604]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ایمان کے تقاضے سے اور صرف ثواب حاصل کرنے کے لیے رمضان المبارک کی راتوں کا قیام کیا، اس کے پہلے سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 12277، 15248)، ویأتي ہذا الحدیث عند المؤلف برقم: 5028، 5029 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ
باب: ماہ رمضان میں قیام اللیل (تہجد) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1605
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ , ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ وَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ , فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ , قَالَ:" قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ , فَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ يُفْرَضَ عَلَيْكُمْ" وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، آپ کی نماز کے ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی نماز پڑھی، پھر آپ نے آنے والی رات میں بھی نماز پڑھی اور لوگ بڑھ گئے تھے، پھر تیسری یا چوتھی رات میں لوگ جمع ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نکلے ہی نہیں، پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: تم نے جو دلچسپی دکھائی اسے میں نے دیکھا، تو تمہاری طرف نکلنے سے مجھے صرف اس چیز نے روک دیا کہ میں ڈرا کہ کہیں وہ تمہارے اوپر فرض نہ کر دی جائے، یہ رمضان کا واقعہ تھا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1605]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نماز (تراویح) پڑھی۔ کچھ لوگ بھی آپ کی اقتدا میں نماز پڑھنے لگے، پھر اگلی رات آپ نے (مسجد میں) نماز پڑھی تو لوگ پہلے سے زیادہ ہو گئے، پھر تیسری یا چوتھی رات تو سب لوگ ہی جمع ہو گئے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لائے۔ جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: رات جو تم نے کیا میں دیکھ رہا تھا (یعنی تمہارا اجتماع اور ذوق و شوق) مگر مجھے آنے سے یہ چیز مانع تھی کہ مجھے خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض ہی نہ کر دی جائے۔ اور یہ رمضان المبارک کی بات ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1605]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 80 (729)، الجمعة 29 (924)، التھجد 5 (1129)، التراویح 1 (2011)، صحیح مسلم/المسافرین 25 (761)، سنن ابی داود/الصلاة 318 (1373)، (تحفة الأشراف: 16594)، موطا امام مالک/رمضان 1 (1)، مسند احمد 6/169، 177 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد یہ اندیشہ باقی نہیں رہا اس لیے تراویح کی نماز جماعت سے پڑھنے میں اب کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ مشروع ہے، رہا یہ مسئلہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں راتوں میں تراویح کی کتنی رکعتیں پڑھیں، تو دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے کہ آپ نے ان راتوں میں اور بقیہ قیام اللیل میں آٹھ رکعتیں پڑھیں اور وتر کی رکعتوں کو ملا کر اکثر گیارہ اور کبھی تیرہ رکعت تک پڑھنا ثابت ہے، یہی صحابہ سے اور خلفاء راشدین سے منقول ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے بیس رکعتیں پڑھیں لیکن یہ روایت منکر اور ضعیف ہے، لائق استناد نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1606
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قال: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا فِي السَّادِسَةِ، فَقَامَ بِنَا فِي الْخَامِسَةِ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ , قَالَ:" إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ قِيَامَ لَيْلَةٍ" , ثُمَّ لَمْ يُصَلِّ بِنَا وَلَمْ يَقُمْ حَتَّى بَقِيَ ثَلَاثٌ مِنَ الشَّهْرِ , فَقَامَ بِنَا فِي الثَّالِثَةِ وَجَمَعَ أَهْلَهُ وَنِسَاءَهُ حَتَّى تَخَوَّفْنَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ , قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ:" السُّحُورُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں روزے رکھے، تو آپ ہمارے ساتھ (تراویح کے لیے) کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ مہینے کی سات راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی، پھر چوبیسویں رات کو قیام نہیں کیا، پھر پچیسویں رات کو قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ ہماری اس رات کے باقی حصہ میں بھی اسی طرح نفلی نماز پڑھاتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے حق میں پوری رات کے قیام (کا ثواب) لکھے گا، پھر آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی، اور نہ آپ نے قیام کیا یہاں تک کہ مہینے کی تین راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے ستائیسویں رات میں ہمارے ساتھ قیام کیا، اور اپنے اہل و عیال کو بھی جمع کیا یہاں تک کہ ہمیں ڈر ہوا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ کہنے لگے: سحری ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1606]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رات کی نماز نہیں پڑھائی حتیٰ کہ اس ماہ مبارک کے سات دن باقی رہ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رات کی نماز (تراویح) پڑھائی حتیٰ کہ رات کا تہائی حصہ گزر گیا، پھر اگلے دن ہمیں نماز نہیں پڑھائی، پھر پچیسویں رات ہمیں نماز پڑھائی حتیٰ کہ نصف رات گزر گئی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہی خوب ہوتا اگر آپ باقی رات بھی نماز پڑھاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے امام کے ساتھ اس کے فارغ ہونے تک نماز پڑھی، اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھا جاتا ہے (خواہ اس کے بعد وہ سو ہی جائے)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلی رات نماز نہیں پڑھائی حتیٰ کہ اس ماہ مبارک کے تین دن باقی رہ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ستائیسویں رات نماز پڑھائی اور اپنے گھر والوں اور بیویوں کو بھی جمع فرمایا (اور اتنی لمبی نماز پڑھائی) حتیٰ کہ ہمیں خطرہ ہوا کہ ہم سے «الْفَلَاحُ» فلاح رہ جائے گی۔ (جبیر کہتے ہیں) میں نے (حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے) پوچھا: «الْفَلَاحُ» فلاح سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: سحری۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1606]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1365 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1607
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قال: أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قال: حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو طَلْحَةَ، قال: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصَ , يَقُولُ:" قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِكَ الْفَلَاحَ وَكَانُوا يُسَمُّونَهُ السُّحُورَ".
نعیم بن زیاد ابوطلحہ کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بشیر رضی اللہ عنہم کو حمص میں منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں تیئسویں رات کو تہائی رات تک قیام کیا، پھر پچسویں رات کو آدھی رات تک قیام کیا، پھر ستائیسویں رات کو ہم نے آپ کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ ہم فلاح نہیں پا سکیں گے، وہ لوگ سحری کو فلاح کا نام دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1607]
حضرت نعیم بن زیاد سے روایت ہے کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو حمص (شہر) کے منبر پر فرماتے سنا کہ ہم نے رمضان المبارک کی تیئسویں رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہائی رات تک قیام کیا، پھر پچیسویں رات میں آپ کے ساتھ نصف رات تک قیام کیا، پھر ستائیسویں رات آپ کے ساتھ اتنی دیر تک قیام کیا کہ ہم نے سمجھا: ہم «الْفَلَاحُ» (سحری) نہیں کھا سکیں گے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1607]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11642)، مسند احمد 4/272 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ
باب: قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1608
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ عَقَدَ الشَّيْطَانُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ عَلَى كُلِّ عُقْدَةٍ لَيْلًا طَوِيلًا أَيِ ارْقُدْ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ أُخْرَى، فَإِنْ صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ كُلُّهَا فَيُصْبِحُ طَيِّبَ النَّفْسِ نَشِيطًا وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی سو جاتا ہے تو شیطان اس کے سر پر تین گرہیں لگا دیتا ہے، اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی رات بہت لمبی ہے، پس سوئے رہ، تو اگر وہ بیدار ہو جاتا ہے، اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر وہ وضو بھی کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، پھر اگر اس نے نماز پڑھی تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں، اور وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ ہشاس بشاس اور خوش دل ہوتا ہے، ورنہ اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ وہ بد دل اور سست ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1608]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سوتا ہے تو شیطان اس کے سر پر تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ دیتے وقت یہ پڑھتا ہے: «عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ، فَارْقُدْ» لمبی رات ہے، سوجا، پھر اگر وہ جاگ کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، اگر وہ وضو کرے تو دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور اگر وہ نماز شروع کر دے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے اور وہ خوش دل اور چست و چالاک ہو جاتا ہے، ورنہ بد دل اور سست رہتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التھجد 12 (1142)، بدء الخلق 11 (3269)، موطا امام مالک/المسافرین 28 (776)، (تحفة الأشراف: 13687)، سنن ابی داود/الصلاة 307 (1306)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 174 (1329)، موطا امام مالک/ صلاة السفر 25 (95)، مسند احمد 2/243، 253 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں