سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مَنْصُورٍ فِي حَدِيثِ رِبْعِيٍّ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں ربعی کی حدیث میں منصور پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2132
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ صُومُوا لِلرُّؤْيَةِ، وَأَفْطِرُوا لِلرُّؤْيَةِ، فَإِنْ حَالَتْ دُونَهُ غَيَايَةٌ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے پہلے روزہ مت رکھو، چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور (چاند) دیکھ کر (روزہ) بند کرو، (پس) اگر چاند سے ورے بادل حائل ہو جائے تو تیس (دن) پورے کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2132]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو بلکہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنے بند کرو، اگر چاند نظر آنے میں بادل رکاوٹ بن جائیں تو تیس دن پورے کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2131 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”رمضان سے پہلے“ سے مراد شعبان کا آخری دن ہے، مطلب یہ ہے کہ صرف یہ خیال کر کے روزہ مت شروع کر دو کہ آج ۲۹ شعبان ہے تو ممکن ہے کہ کل سے رمضان شروع ہو جائے گا، بلکہ یقینی طور پر چاند دیکھ کر ہی روزہ شروع کرو، یا پھر تیس کی گنتی پوری کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
14. بَابُ: كَمِ الشَّهْرُ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِي الْخَبَرِ عَنْ عَائِشَةَ
باب: مہینہ کتنے دنوں کا ہوتا ہے؟ نیز عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں زہری پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2133
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا، فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ شَهْرًا، فَعَدَدْتُ الْأَيَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ (تک) اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، چنانچہ آپ انتیس دن ٹھہرے رہے، تو میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ میں نے شمار کیا ہے، ابھی انتیس دن (ہوئے) ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2133]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ناراضی کی بنا پر) قسم کھا لی کہ اپنی بیویوں کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا۔ آپ انتیس دن تک اسی حال میں رہے۔ (پھر میرے پاس تشریف لائے) میں نے (یاد دہانی کے طور پر) عرض کیا کہ آپ نے ایک ماہ کی قسم نہیں کھائی تھی، میں نے تو انتیس دن شمار کیے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 4 (1083)، والطلاق 5 (1479)، سنن الترمذی/تفسیر سورة التحریم (3318)، (تحفة الأشراف: 16635)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطلاق 24 (2059)، مسند احمد 6/163 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2134
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ حَدَّثَهُ. ح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ , قَالَ اللَّهُ لَهُمَا: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 , وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: فَاعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ قَالَ: مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ، حِينَ حَدَّثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَدِيثَهُنَّ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: إِنَّكَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّا أَصْبَحْنَا مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً نَعُدُّهَا عَدَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: مجھے برابر اس بات کا اشتیاق رہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «إن تتوبا إلى اللہ فقد صغت قلوبكما» ”اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لو (تو بہتر ہے) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں“ (التحریم: ۴) میں کیا ہے، پھر پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے انتیس راتوں تک اس بات کی وجہ سے جو حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ظاہر کر دی تھی کنارہ کشی اختیار کر لی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ نے اپنی اس ناراضگی کی وجہ سے جو آپ کو اپنی عورتوں سے اس وقت ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بات آپ کو بتلائی یہ کہہ دیا تھا کہ میں ان کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا، تو جب انتیس راتیں گزر گئیں تو آپ سب سے پہلے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک مہینے تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی، اور ہم نے (ابھی) انتیسویں رات کی (ہی) صبح کی ہے، ہم ایک ایک کر کے اسے گن رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2134]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عرصہ دراز سے خواہش مند تھا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] ”اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو تو یہ نہایت مناسب ہے کیونکہ تمہارے دل کج (ٹیڑھے) ہو گئے ہیں۔“ پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے پوری حدیث بیان فرمائی۔ اس تفصیلی حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی وجہ سے جسے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے فاش (ظاہر) کر دیا تھا، انتیس دن تک اپنی بیویوں سے جدا رہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قسم کھا کر) فرمایا تھا: ”میں اپنی بیویوں کے پاس ایک مہینے تک نہیں آؤں گا۔“ جس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیوں کی بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر سخت ناراض ہو گئے تھے، جب انتیس دن گزر گئے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک ماہ تک ہمارے پاس تشریف نہ لائیں گے اور آج تو انتیسویں دن کی صبح ہے، ہم نے یہ دن گن گن کر گزارے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 27 (89)، والمظالم 25 (2468)، وتفسیر سورة التحریم 2-4 (4914، 4915)، وانکاح 83 (5191)، واللباس 31 (5843)، صحیح مسلم/الطلاق 5 (1479)، سنن الترمذی/تفسیر التحریم (3318)، (تحفة الأشراف: 10507)، مسند احمد 1/33 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
15. بَابُ: ذِكْرِ خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ
باب: اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2135
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ هُوَ أَبُو بُرَيْدٍ الْجَرْمِيُّ بَصْرِيٌّ، عَنْ بَهْزٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2135]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آئے اور بتایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2135]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6322)، مسند احمد 1/218، 235، 240 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2136
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2136]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2136]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
16. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى إِسْمَاعِيلَ فِي خَبَرِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ فِيهِ
باب: اس بارے میں سعد بن ابی وقاص (مالک) رضی الله عنہ کی روایت میں اسماعیل بن ابی خالد پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2137
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأُخْرَى وَقَالَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَنَقَصَ فِي الثَّالِثَةِ إِصْبَعًا".
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا (ایک) ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“، اور تیسری بار میں ایک انگلی دبا لی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2137]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک دستِ مبارک کو دوسرے پر مارا اور فرمایا: ”کبھی مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے“ اور تیسری دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگلی کم کر لی (یعنی انتیس)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم4 (1086)، سنن ابن ماجہ/فیہ8 (1657)، (تحفة الأشراف: 3920)، مسند احمد 1/184 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ نے دونوں ہاتھوں کی دسوں انگلیوں سے دو بار اشارہ کیا، اور تیسری بار میں ایک انگلی گرا لی، تو یہ کل انتیس دن ہوئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2138
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، يَعْنِي تِسْعَةً وَعِشْرِينَ" , رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے اور اس طرح ہے“، یعنی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ اسے یحییٰ بن سعید وغیرہ نے اسماعیل سے، انہوں نے محمد بن سعد بن ابی وقاص سے، اور محمد بن سعد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2138]
حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ کبھی اتنا، اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے۔“ (یعنی انتیس دن کا)۔ یحییٰ بن سعید وغیرہ نے اس روایت کو بواسطہ اسماعیل، محمد بن سعد سے (صحابیِ رسول حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے واسطے کے بغیر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے، یعنی مرسلاً۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2139
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا"، وَصَفَّقَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ بِيَدَيْهِ يَنْعَتُهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَبَضَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ فِي الْيُسْرَى , قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قُلْتُ: لِإِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَا.
محمد بن سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اس طرح ہے، اس طرح ہے، اور اس طرح ہے“۔ اور محمد بن عبید نے اپنے دونوں ہاتھوں کو تین بار ملا کر بتلایا، پھر تیسری بار میں بائیں ہاتھ کا انگوٹھا بند کر لیا، یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے اسماعیل بن ابی خالد سے «عن أبیہ» کی زیادتی کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2139]
حضرت محمد بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا بھی ہوتا ہے۔“ (حدیث کے راوی) محمد بن عبید نے اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں کھول کر سامنے کیں۔ تین دفعہ ایسے کیا اور تیسری دفعہ بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کو بند کر لیا۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: میں نے اسماعیل سے پوچھا: کیا محمد بن سعد نے اس روایت کو اپنے باپ (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے بیان کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں (بلکہ مرسلاً بیان کیا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2137 (صحیح) (اس سند میں محمد بن سعد بن ابی وقاص نے صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، اس لیے ارسال کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، لیکن اوپر گزرا کہ محمد بن سعد نے اپنے والد سعد بن ابی وقاص سے یہ حدیث روایت کی ہے، اس لیے اصل حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
17. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ فِي خَبَرِ أَبِي سَلَمَةَ فِيهِ
باب: ابوسلمہ کی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرنے میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2140
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ، وَيَكُونُ ثَلَاثِينَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ (کبھی) انتیس دن کا ہوتا ہے، اور (کبھی) تیس دن کا، اور جب تم (چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، (اور) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو (تیس کی) گنتی پوری کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2140]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ کبھی انتیس دن کا اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے۔ جب تم چاند دیکھو تو روزے رکھنا شروع کرو اور جب تم چاند دیکھو تو روزے رکھنا بند کر دو اور اگر بادل ہوں (اور چاند نظر نہ آئے) تو (تیس دن کی) گنتی پوری کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15410) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2141
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ. ح وأَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2141]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مہینہ انتیس کا (بھی ہوتا) ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 11 (1907)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، (تحفة الأشراف: 8583)، مسند احمد 2/40، 75 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم