سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 2122
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ، فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ، فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، (اور) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2122]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم چاند دیکھو تو روزے رکھنا شروع کر دو اور جب تم (شوال کا) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو۔ اگر بادل ہوں (اور چاند نظر نہ آئے) تو اس مہینے کو تیس کا سمجھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 5 (1900) تعلیقاً، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصوم 4 (2320)، سنن ابن ماجہ/الصوم 7 (1654)، (تحفة الأشراف: 6983)، مسند احمد 2/152 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2123
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ , فَقَالَ:" لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: ”تم روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو، اور روزہ رکھنا بند کرو یہاں تک کہ (چاند) دیکھ لو، (اور) اگر فضا ابر آلود ہو تو اس کا حساب لگا لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2123]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کا ذکر فرمایا تو فرمانے لگے: ”جب تک چاند نہ دیکھ لو، روزے رکھنا شروع نہ کرو۔ اسی طرح روزے رکھنا بند نہ کرو جب تک (شوال کا) چاند نہ دیکھ لو۔ اگر بادل ہوں (اور چاند نظر نہ آئے) تو اس مہینے کو تیس دن کا فرض کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 11 (1906)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، (تحفة الأشراف: 8362)، موطا امام مالک/الصوم 1 (1)، مسند احمد 2/63، سنن الدارمی/الصوم 2 (1726) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
11. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
باب: اس حدیث میں عبیداللہ بن عمر سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2124
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدِرُوا لَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (رمضان کے) روزے نہ رکھو یہاں تک کہ (چاند) دیکھ لو اور نہ ہی روزے رکھنا بند کرو یہاں تک کہ (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو (اور) اگر آسمان میں بادل ہوں تو اس (مہینے) کا حساب لگا لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2124]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم روزے رکھنا شروع نہ کرو حتیٰ کہ (رمضان المبارک کا) چاند دیکھ لو اور روزے رکھنا بند نہ کرو حتیٰ کہ (شوال کا) چاند دیکھ لو۔ اگر چاند نظر نہ آئے تو مہینہ تیس کا بناؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8214)، مسند احمد 2/13 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2125
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ صَاحِبَ حِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهِلَالَ , فَقَالَ:" إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا ذکر کیا تو فرمایا: ”جب تم اسے (یعنی رمضان کا چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (یعنی عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، (اور) اگر آسمان میں بادل ہوں تو تیس دن پورے شمار کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2125]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا ذکر کیا تو فرمایا: ”جب تم چاند دیکھو تو روزے رکھنا شروع کر دو اور جب تم چاند دیکھو تو روزے رکھنا بند کر دو اور اگر بادل ہوں (اور چاند نظر نہ آئے) تو تیس دن پورے کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 2 (1081)، (تحفة الأشراف: 13797)، مسند احمد 2/287 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
12. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فِي حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيهِ
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں عمرو بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2126
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو الْجَوْزَاءِ وَهُوَ ثِقَةٌ بَصْرِيٌّ أَخُو أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (رمضان کا چاند) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے (عید الفطر کا چاند) دیکھ کر روزہ بند کرو، (اور) اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2126]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزے رکھو اور چاند دیکھ کر عید کرو۔ اگر چاند چھپ جائے (نظر نہ آئے) تو اس مہینے کی گنتی تیس دن مکمل کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6307) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2127
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: عَجِبْتُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: مجھے حیرت ہوتی ہے اس شخص پر جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے (ہی) روزہ رکھنے لگتا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم (رمضان کا) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، (اسی طرح) جب (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، (اور) جب تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2127]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو ماہ رمضان شروع ہونے سے پہلے روزہ رکھتا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم چاند دیکھو تو پھر روزہ رکھو اور جب اگلا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو، اگر چاند چھپ جائے (نظر نہ آئے) تو مہینے کی گنتی تیس دن پوری کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2127]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6435) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
13. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مَنْصُورٍ فِي حَدِيثِ رِبْعِيٍّ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں ربعی کی حدیث میں منصور پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2128
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَهُ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ قَبْلَهُ".
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو ۱؎ یہاں تک کہ (روزہ رکھنے سے) پہلے چاند دیکھ لو، یا (شعبان کی) تیس کی تعداد پوری کر لو، پھر روزہ رکھو، یہاں تک کہ (عید الفطر کا) چاند دیکھ لو، یا اس سے پہلے رمضان کی تیس کی تعداد پوری کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2128]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہ رمضان سے پہلے روزہ نہ رکھو حتیٰ کہ روزہ رکھنے سے پہلے (رمضان المبارک کا) چاند دیکھ لو، ورنہ (شعبان کے) تیس دن پورے کر کے روزہ رکھو، پھر تم روزے رکھتے رہو حتیٰ کہ (شوال کا) چاند دیکھ لو یا چاند دیکھنے سے پہلے تیس دن پورے کر لو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 6 (2326)، (تحفة الأشراف: 3316)، مسند احمد 4/314 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ، أَوْ تَرَوْا الْهِلَالَ، ثُمَّ صُومُوا وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ" , أَرْسَلَهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ.
ایک صحابی رسول رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کر لو، یا رمضان کا چاند دیکھ لو پھر روزہ رکھو، اور نہ روزہ بند کرو یہاں تک کہ تم عید الفطر کا چاند دیکھ لو، یا رمضان کی تیس (دن) کی گنتی پوری کر لو“۔ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2129]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماہ رمضان المبارک سے پہلے روزے رکھنا شروع نہ کرو حتیٰ کہ (شعبان) کے تیس دن پورے کرو یا (رمضان کا) چاند دیکھ لو، پھر روزے رکھتے رہو اور روزے رکھنے بند نہ کرو حتیٰ کہ (شوال کا) چاند دیکھ لو یا (رمضان المبارک کے) تیس روزے پورے کر لو۔“ حجاج بن ارطاۃ نے اس روایت کو مرسل ذکر کیا ہے (کہ انہوں نے صحابی کا واسطہ ہی ختم کر دیا اور اسے ربعی کی روایت بنا دیا، حالانکہ وہ صحابی نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2130
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ صُومُوا رَمَضَانَ ثَلَاثِينَ، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ".
ربعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم (رمضان کا) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے (عید الفطر کا چاند) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، (اور) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو شعبان کے تیس دن پورے کرو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو، پھر رمضان کے تیس روزے رکھو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2130]
حضرت ربعی رحمہ اللہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم (رمضان المبارک کا) چاند دیکھ لو تو روزے شروع کرو اور جب تم (شوال کا) چاند دیکھ لو تو روزے رکھنا بند کر دو۔ اگر بادل ہوں (اور تمہیں چاند نظر نہ آئے) تو شعبان کے تیس دن پورے کرو، الا یہ کہ تم اس سے پہلے چاند دیکھ لو، پھر تیس دن روزے رکھو، الا یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2128 (صحیح) (ربعی نے صحابی کا ذکر نہیں کیا اس لیے سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سابقہ روایت سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2131
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے (رمضان کے چاند کو) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے (یعنی عید الفطر کے چاند کو) دیکھ کر روزہ بند کرو، (اور) اگر تمہارے اور اس کے بیچ بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو، اور (ایک یا دو دن پہلے سے رمضان کے) مہینہ کا استقبال نہ کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2131]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزے رکھو اور چاند دیکھ کر روزے ختم کرو، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائیں (اور چاند نظر نہ آئے) تو معروف گنتی (تیس دن) پوری کرو اور ماہ رمضان المبارک کے شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصوم 7 (2327)، سنن الترمذی/الصوم 5 (688)، (تحفة الأشراف: 6105)، مسند احمد 1/226، 258، سنن الدارمی/الصوم 1 (1725)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 2132، 2191 (صحیح) (اس کے راوی سماک کے عکرمہ سے سماع میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن روایت رقم: 2126 سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح