🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
60. بَابُ: مَقَامِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فِي بَيْتِهَا حَتَّى تَحِلَّ
باب: جس کا شوہر مر جائے وہ حلال ہونے تک اپنے گھر ہی میں عدت گزارے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3558
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، ويحيى بن سعيد، ومحمد بن إسحاق , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنْ الْفَارِعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ، أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ فَقَتَلُوهُ، قَالَ شُعْبَةُ , وَابْنُ جُرَيْجٍ وكانت في دار قاصية فجاءت ومعها أخوها إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ، فَرَخَّصَ لَهَا حَتَّى إِذَا رَجَعَتْ دَعَاهَا، فَقَالَ:" اجْلِسِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ".
فارعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر (بھاگے ہوئے) غلاموں کی تلاش میں نکلے (جب وہ ان کے سامنے آئے) تو انہوں نے انہیں قتل کر دیا۔ (شعبہ اور ابن جریج کہتے ہیں: اس عورت کا گھر دور (آبادی کے ایک سرے پر) تھا، وہ عورت اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے گھر کے الگ تھلگ ہونے کا ذکر کیا (کہ وہاں گھر والے کے بغیر عورت کا تنہا رہنا ٹھیک نہیں ہے) آپ نے اسے (وہاں سے ہٹ کر رہنے کی) رخصت دے دی۔ پھر جب وہ (گھر جانے کے لیے) لوٹی تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: تم اپنے گھر ہی میں رہو یہاں تک کہ کتاب اللہ (قرآن) کی مقرر کردہ عدت کی مدت پوری ہو جائے۔ (اس کے بعد تم آزاد ہو جہاں چاہو رہو)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3558]
حضرت فارعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرا خاوند اپنے عجمی غلاموں کی تلاش میں نکلا، انہوں نے اسے پکڑ کر قتل کر دیا، اس وقت میری رہائش ایک دور دراز گھر میں تھی، میں اور میرے دو بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صورت حال ذکر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس گھر سے منتقل ہونے کی اجازت دے دی لیکن جب میں واپس جانے کو مڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر فرمایا: اپنے گھر ہی میں رہو حتیٰ کہ عدت پوری ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3558]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 44 (2300) مطولا، سنن الترمذی/الطلاق 23 (1204)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 8 (2031)، (تحفة الأشراف: 18045)، موطا امام مالک/الطلاق31، مسند احمد (6/370، 420)، سنن الدارمی/الطلاق 14 (2333)، ویأتي فیما یلي و برقم: 3562 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3559
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنْ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ ," أَنَّ زَوْجَهَا تَكَارَى عُلُوجًا لِيَعْمَلُوا لَهُ، فَقَتَلُوهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: إِنِّي لَسْتُ فِي مَسْكَنٍ لَهُ، وَلَا يَجْرِي عَلَيَّ مِنْهُ رِزْقٌ، أَفَأَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِي، وَيَتَامَايَ، وَأَقُومُ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ:" افْعَلِي، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ قُلْتِ؟ فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ قَوْلَهَا، قَالَ: اعْتَدِّي حَيْثُ بَلَغَكِ الْخَبَرُ".
فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے کچھ غلام اپنے یہاں کام کرانے کے لیے اجرت پر لیے تو انہوں نے انہیں مار ڈالا چنانچہ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے شوہر کے کسی مکان میں بھی نہیں ہوں اور میرے شوہر کی طرف سے میرے گزران کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے تو میں اپنے گھر والوں (یعنی ماں باپ) اور یتیموں کے پاس چلی جاؤں اور ان کی خبرگیری کروں؟ آپ نے فرمایا: ایسا کر لو، پھر (تھوڑی دیر بعد) آپ نے فرمایا: کیسے بیان کیا تم نے (ذرا ادھر آؤ تو)؟ تو میں نے اپنی بات آپ کے سامنے دہرا دی۔ (اس پر) آپ نے فرمایا: جہاں رہتے ہوئے تمہیں اپنے شوہر کے انتقال کی خبر ملی ہے وہیں رہ کر اپنی عدت کے دن بھی پوری کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3559]
حضرت فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرے خاوند نے کچھ عجمی غلام کسی کام کے لیے کرائے پر لیے، انہوں نے اسے قتل کر دیا، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی اور عرض کیا کہ میں اپنے خاوند کے ذاتی گھر میں نہیں رہ رہی اور مجھے اس کی طرف سے کوئی نفقہ وغیرہ بھی نہیں ملتا تو کیا میں اور میرے یتیم بچے میرے میکے میں منتقل ہو جائیں؟ میں وہاں ان بچوں کی دیکھ بھال بھی کروں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے کرلو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے کیسے کہا تھا؟ میں نے دوبارہ پوری بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تجھے وفات کی خبر پہنچی ہے، وہیں عدت پوری کر۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3560
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ فُرَيْعَةَ، أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُ، فَقُتِلَ بِطَرَفِ الْقَدُّومِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ لَهُ النُّقْلَةَ إِلَى أَهْلِي، وَذَكَرَتْ لَهُ حَالًا مِنْ حَالِهَا، قَالَتْ: فَرَخَّصَ لِي، فَلَمَّا أَقْبَلْتُ نَادَانِي، فَقَالَ:" امْكُثِي فِي أَهْلِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ".
فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے شوہر اپنے (بھاگے ہوئے کچھ) غلاموں کی تلاش میں نکلے تو وہ قدوم کے علاقے میں قتل کر دیئے گئے، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے اپنے گھر والوں کے پاس منتقل ہو جانے کی خواہش ظاہر کی اور آپ سے (وہاں رہنے کی صورت میں) اپنے کچھ حالات (اور پریشانیوں) کا ذکر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (منتقل ہو جانے کی) اجازت دے دی۔ پھر میں جانے لگی تو آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: عدت کی مدت پوری ہونے تک اپنے شوہر کے گھر ہی میں رہو۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3560]
حضرت فریعہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میرا خاوند اپنے عجمی غلاموں کی تلاش میں نکلا، اسے طرفِ قدوم مقام پر قتل کر دیا گیا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے میکے منتقل ہونے کا ذکر کیا اور اپنی مجبوری بیان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مجھے رخصت عنایت فرما دی، لیکن جب میں واپس چلی تو مجھے بلایا اور فرمایا: اپنے اسی گھر میں ٹھہری رہ حتیٰ کہ مقررہ عدت پوری ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3558 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
61. بَابُ: الرُّخْصَةِ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَنْ تَعْتَدَّ حَيْثُ شَاءَتْ
باب: شوہر کے مرنے کے بعد بیوہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3561
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:" عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ"، وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آیت «متاعا الی الحول غیر اخراج» ... «الی آخرہ» جس میں متوفیٰ عنہا زوجہا کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارے تو یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے (اور اس کا ناسخ اللہ تعالیٰ کا یہ قول: «فإن خرجن فلا جناح عليكم في ما فعلن في أنفسهن من معروف» (البقرة: 240) ہے، اب عورت جہاں چاہے اور جہاں مناسب سمجھے وہاں عدت کے دن گزار سکتی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3561]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اس آیت نے عورت کے لیے خاوند کے گھر عدت گزارنے کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ اس آیت سے مراد اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [سورة البقرة: 240] ہے، یعنی عورتوں کو دورانِ عدت میں گھروں سے نکالا نہ جائے، وہ خود چلی جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر البقرة 41 (4531)، والطلاق50 (5355)، سنن ابی داود/الطلاق 45 (2301)، (تحفة الأشراف: 5900) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سلسلہ میں فریعہ بنت مالک کی حدیث سے استدلال کرنے والوں کی دلیل مضبوط ہے، کیونکہ اس حدیث کا معارضہ کرنے والے کوئی ٹھوس اور مضبوط دلیل نہ پیش کر سکے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
62. بَابُ: عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا مَنْ يَوْمِ يَأْتِيهَا الْخَبَرُ
باب: شوہر کے انتقال کی خبر والے دن سے عورت کی عدت کے شمار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3562
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبٍ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي فُرَيْعَةُ بِنْتُ مَالِكٍ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَتْ: تُوُفِّيَ زَوْجِي بِالْقَدُومِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ لَهُ، إِنَّ دَارَنَا شَاسِعَةٌ فَأَذِنَ لَهَا، ثُمَّ دَعَاهَا، فَقَالَ:" امْكُثِي فِي بَيْتِكِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی بہن فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر کا قدوم (بستی) میں انتقال ہو گیا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو بتایا کہ میرا گھر (بستی سے) دور (الگ تھلگ) ہے (تو میں اپنے ماں باپ کے گھر عدت گزار لوں؟) تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ پھر انہیں بلایا اور فرمایا: اپنے گھر ہی میں چار مہینے دس دن رہو یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3562]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ حضرت فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرا خاوند قدوم جگہ میں قتل ہو گیا۔ چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور کہا کہ ہمارا گھر دور دراز جگہ میں ہے (مجھے میکے منتقل ہونے کی اجازت دی جائے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، پھر بلایا اور فرمایا: اپنے گھر ہی میں چار ماہ دس دن ٹھہر حتیٰ کہ مقررہ عدت پوری ہو جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3558 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
63. بَابُ: تَرْكِ الزِّينَةِ لِلْحَادَّةِ الْمُسْلِمَةِ دُونَ الْيَهُودِيَّةِ وَالنَّصْرَانِيَّةِ
باب: سوگ منانے والی مسلمان عورت عدت کے ایام میں زیب و زینت ترک کر دے گی، یہود یہ اور نصرانیہ عورت کیا کرے؟ اس سے کوئی غرض نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3563
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ، قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَتْ زَيْنَبُ: ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، وَقَدْ دَعَتْ بِطِيبٍ وَمَسَّتْ مِنْهُ، ثُمّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَتْ زَيْنَبُ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا، أَفَأَكْحُلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ"، قَالَ حُمَيْدٌ: فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ: وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ؟ قَالَتْ زَيْنَبُ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ، فَتُعْطَى بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا، وَتُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ مَالِكٌ: تَفْتَضُّ تَمْسَحُ بِهِ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدٍ، قَالَ مَالِكٌ: الْحِفْشُ الْخُصُّ.
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے انہوں نے یہ (آنے والی) تین حدیثیں بیان کیں: ۱- زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس (تعزیت میں) گئی، (میں نے دیکھا کہ) انہوں نے خوشبو منگوائی، (پہلے) لونڈی کو لگائی پھر اپنے دونوں گالوں پر ملا پھر یہ بھی بتا دیا کہ قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت اور خواہش نہ تھی مگر (میں نے یہ بتانے کے لیے لگائی ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے انتقال کرنے پر، کہ اس پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی۔ (اس لیے میں اپنے والد کے مر جانے پر تین دن کے بعد سوگ نہیں منا رہی ہوں)۔ ۲- زینب (زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: جب ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بھائی کا انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں سے خود لگایا پھر (مسئلہ بتانے کے لیے) کہا: قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے (و اعلان کرتے) ہوئے سنا ہے: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی۔ ۳- زینب (زینب بنت ابی سلمہ) کہتی ہیں: میں نے (ام المؤمنین) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر انتقال کر گیا ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، پھر آپ نے فرمایا: ارے یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں (جاہلیت میں کیا ہوتا تھا وہ بھی دھیان میں رہے) زمانہ جاہلیت میں تمہاری (بیوہ) عورت (سوگ کا) سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا عورت کا شوہر جب انتقال کر جاتا تھا تو اس کی بیوی تنگ و تاریک جگہ (چھوٹی کوٹھری) میں جا رہتی اور خراب سے خراب کپڑا پہن لیتی تھی اور سال پورا ہونے تک نہ خوشبو استعمال کرتی اور نہ ہی کسی چیز کو ہاتھ لگاتی۔ (سال پورا ہو جانے کے بعد) پھر کوئی جانور گدھا، بکری یا چڑیا اس کے پاس لائی جاتی اور وہ اس سے اپنے جسم اور اپنی شرمگاہ کو رگڑتی اور جس جانور سے بھی وہ رگڑتی (دبوچتی) وہ (مر کر ہی چھٹی پاتا) مر جاتا، پھر وہ اس تنگ تاریک جگہ سے باہر آتی پھر اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی اور وہ اسے پھینک دیتی (اس طرح وہ گویا اپنی نحوست دور کرتی)، اس کے بعد ہی اسے خوشبو وغیرہ جو چاہے استعمال کی اجازت ملتی۔ مالک کہتے ہیں: «تفتض» کا مطلب «تمسح به» کے ہیں (یعنی اس سے رگڑتی)۔ محمد بن سلمہ مالک کہتے ہیں: «حفش»، «خص» کو کہتے ہیں (یعنی بانس یا لکڑی کا جھونپڑا)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3563]
حضرت زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئی جب ان کے والد محترم حضرت ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے خوشبو منگوائی اور ایک بچی کو لگائی، پھر خوشبو والے ہاتھ اپنے رخساروں پر مل لیے اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو عورت اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ کرے مگر خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنا ہوگا۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3531 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
64. بَابُ: مَا تَجْتَنِبُ الْحَادَّةُ مِنَ الثِّيَابِ الْمُصْبَغَةِ
باب: سوگ منانے والی عورت رنگین کپڑے پہننے سے اجتناب کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3564
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، وَلَا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَمْتَشِطُ، وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ طُهْرِهَا حِينَ تَطْهُرُ نُبَذًا مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت شوہر کے سوا کسی میت کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی، نہ رنگ کر کپڑا پہنے، نہ ہی رنگین دھاگے سے بنا ہوا کپڑا (پہنے)، نہ سرمہ لگائے، نہ کنگھی کرے، اور نہ خوشبو ملے۔ ہاں جب حیض سے پاک ہو تو اس وقت تھوڑے سے قسط و اظفار کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3564]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ نہ کرے، البتہ خاوند پر چار ماہ دس دن کرے۔ وہ کوئی شوخ رنگ دار کپڑا نہ پہنے، نہ دھاری دار کپڑا پہنے، نہ سرمہ ڈالے، نہ کنگھی کرے، نہ خوشبو لگائے مگر جب وہ حیض سے پاک ہو تو کچھ «قُسْط» یا «أَظْفَار» خوشبو لگا سکتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 12 (313)، والجنائز 30 (1278)، الطلاق 47 (5339، 49 (5342)، صحیح مسلم/الطلاق 9 (938)، سنن ابی داود/الطلاق 46 (2303)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 35 (2087)، (تحفة الأشراف: 18134)، مسند احمد (5/85، 408)، ویأتي برقم: 3566، سنن الدارمی/الطلاق 13 (2332)، ویأتي برقم: 3572 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قسط و اظفار ایک طرح کی دھوئیں دار چیزیں ہیں جنہیں حیض کی نا پسندیدہ بو ختم کرنے کے لیے سلگاتے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ دونوں ایک طرح کی خوشبو ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3565
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ، وَلَا الْمُمَشَّقَةَ، وَلَا تَخْتَضِبُ، وَلَا تَكْتَحِلُ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کا شوہر مر گیا ہے وہ عورت (عدت کے ایام میں) کسم کے رنگ کا اور سرخ پھولوں سے رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے، خضاب نہ لگائے اور سرمہ نہ لگائے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3565]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے وہ (عدت کے دوران میں) کسنبے سے رنگا ہوا زرد کپڑا اور مشق (گیرو) سے رنگا ہوا سرخ کپڑا نہ پہنے، نہ وہ مہندی لگائے نہ سرمہ۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 46 (2304)، (تحفة الأشراف: 18280)، مسند احمد (6/302) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
65. بَابُ: الْخِضَابِ لِلْحَادَّةِ
باب: سوگ منانے والی عورت کے خضاب نہ لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3566
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَخْتَضِبُ، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا".
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے علاوہ کسی میت کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ منائے اور سوگ منانے والی نہ سرمہ لگائے گی، نہ خضاب اور نہ ہی رنگا ہوا کپڑا پہنے گی۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3566]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ خاوند کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ (دوران سوگ) وہ (بیوہ عورت) سرمہ نہ لگائے، مہندی نہ لگائے اور بنائی کے بعد رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3566]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18131) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
66. بَابُ: الرُّخْصَةِ لِلْحَادَّةِ أَنْ تَمْتَشِطَ بِالسِّدْرِ
باب: سوگ منانے والی عورت بیری کے پتے سے سر دھو کر کنگھی کر سکتی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3567
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ الضَّحَّاكِ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ أَسِيدٍ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ زَوْجَهَا تُوُفِّيَ وَكَانَتْ تَشْتَكِي عَيْنَهَا، فَتَكْتَحِلُ الْجَلَاءَ، فَأَرْسَلَتْ مَوْلَاةً لَهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا عَنْ كُحْلِ الْجَلَاءِ، فَقَالَتْ: لَا تَكْتَحِلُ إِلَّا مِنْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ، دَخَلَ عَلَيّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَى عَيْنِي صَبْرًا، فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ؟" قُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ صَبْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ، قَالَ:" إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ، فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ، وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ، فَإِنَّهُ خِضَابٌ"، قُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ أَمْتَشِطُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِهِ رَأْسَكِ".
ام حکیم بنت اسید اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اس وقت ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، چنانچہ وہ آنکھوں کو جلا پہنچانے والا (یعنی اثمد کا) سرمہ لگایا کرتی تھیں تو انہوں نے (سوگ میں ہونے کے بعد) اپنی ایک لونڈی کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج کر آنکھوں کو جلا اور ٹھنڈک پہنچانے والے سرمہ کے لگانے کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: نہیں لگا سکتی مگر یہ کہ کوئی ایسی مجبوری اور ضرورت پیش آ جائے جس کو لگائے بغیر چارہ نہیں (تو لگا سکتی ہے)۔ جب (میرے شوہر) ابوسلمہ کا انتقال ہوا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس موقع پر میں اپنی آنکھ پر ایلوا لگائے ہوئے تھی۔ آپ نے پوچھا: ام سلمہ! یہ کیا چیز ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ صرف ایلوا ہے! اس میں کسی طرح کی خوشبو نہیں ہے، آپ نے فرمایا: (خوشبو تو نہیں ہے لیکن) یہ چہرے کو جوان (اور تروتازہ کر دیتا) ہے۔ اسے نہ لگاؤ اور اگر لگانا ہی (بہت ضروری) ہو تو رات میں لگاؤ اور خوشبودار چیز اور مہندی لگا کر کنگھی نہ کیا کرو۔ کیونکہ یہ خضاب ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں کیا چیز لگا کر سر دھوؤں اور کنگھی کروں! آپ نے فرمایا: بیری کے پتے کا لیپ لگا کر اپنے سر کو ڈھانپ رکھو (اور دھو کر کنگھی کرو)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3567]
حضرت ام حکیم بنت اسید رضی اللہ عنہا اپنی والدہ محترمہ سے بیان کرتی ہیں کہ ان کا خاوند فوت ہو گیا اور انہیں آنکھوں میں تکلیف تھی، وہ سرمہ ڈال لیا کرتی تھیں، پھر انہوں نے اپنی لونڈی کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور ان سے «جِلَاء» جلاء سرمہ ڈالنے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ سوگ والی عورت سرمہ نہیں ڈال سکتی مگر اشد مجبوری کے وقت (جب سرمہ ڈالے بغیر چارہ نہ ہو)۔ جب میرے خاوند حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ میرے پاس تشریف لائے جبکہ میں نے آنکھوں پر ایلوا لگا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام سلمہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ صرف ایلوا ہے، اس میں کوئی خوشبو وغیرہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چہرے کو حسن و رونق بخشتا ہے، لہٰذا رات کے علاوہ اسے نہ لگایا کر اور کسی خوشبودار تیل یا مہندی کے ساتھ کنگھی نہ کیا کر کیونکہ یہ رنگ (والی زینت) ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو کس چیز کے ساتھ کنگھی کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیری کے پتے سر پر باندھ لیا کر، پھر کنگھی کر لیا کر۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطلاق 46 (2305)، (تحفة الأشراف: 1830) (ضعیف) (اس کے راوی ”مغیرہ“ لین الحدیث ہیں، اور ”ام حکیم“ اور ان کی ماں دونوں مجہول ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2305) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں