سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ:
باب:
حدیث نمبر: 4227
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرع اور عتیرہ واجب نہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4227]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرع اور عتیرہ درست نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العقیقة 4 (5473)، الأضاحي 6 (1976)، سنن ابی داود/الأضاحي 20 (2831)، سنن الترمذی/الضحایا 15 (1512)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 2(3168)، (تحفة الأشراف: 13127، 13269)، مسند احمد (2/229، 239، 279، 490)، سنن الدارمی/الأضاحي 8 (2007) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: فرع: زمانہ جاہلیت میں جانور کے پہلوٹے کو بتوں کے واسطے ذبح کرنے کو فرع کہتے ہیں، ابتدائے اسلام میں مسلمان بھی ایسا اللہ تعالیٰ کے واسطے کرتے تھے پھر کفار سے مشابہت کی بنا پر اسے منسوخ کر دیا گیا اور اس سے منع کر دیا گیا۔ اور عتیرہ: زمانہ جاہلیت میں رجب کے پہلے عشرہ میں تقرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کرتے تھے، اور اسلام کی ابتداء میں مسلمان بھی ایسا کرتے تھے۔ کافر اپنے بتوں سے تقرب کے لیے اور مسلمان اللہ تعالیٰ سے تقرب کے لیے ذبح کرتے تھے، پھر یہ دونوں منسوخ ہو گئے اب نہ فرع ہے اور نہ عتیرہ بلکہ مسلمانوں کے لیے عید الاضحی کے روز قربانی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4228
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثْتُ أَبَا إِسْحَاق، عَنْ مَعْمَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَحَدُهُمَا:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ". وَقَالَ الْآخَرُ:" لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرع اور عتیرہ سے منع فرمایا (دوسری روایت میں ہے کہ) آپ نے فرمایا: ”فرع اور عتیرہ واجب نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4228]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”فرع اور عتیرہ“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 13127، 13269) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ دونوں اب واجب نہیں رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4229
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو رَمْلَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مِخْنَفُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ وُقُوفٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ , فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّ عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أَضْحَاةً وَعَتِيرَةً". قَالَ مُعَاذٌ: كَانَ ابْنُ عَوْنٍ يَعْتِرُ أَبْصَرَتْهُ عَيْنِي فِي رَجَبٍ.
مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم عرفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا: ”لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال قربانی اور عتیرہ ہے“ ۱؎۔ معاذ کہتے ہیں: ابن عون رجب میں عتیرہ کرتے تھے، ایسا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4229]
حضرت مخنف بن سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفہ میں وقوف کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! ہر گھر والوں پر ایک سال بعد قربانی بھی ہے اور عتیرہ بھی۔“ (راویِ حدیث) معاذ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں نے دیکھا کہ (عبداللہ) ابن عون رجب میں عتیرہ (جانور) ذبح کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا 1(2788)، سنن الترمذی/الضحایا 19 (1518)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 2 (3125)، (تحفة الأشراف: 11244)، مسند احمد (4/215، 5/76) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: فرع اور عتیرہ کے سلسلے میں مروی تمام احادیث کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ دونوں ایام جاہلیت میں جاہلی انداز میں انجام دیئے جاتے تھے جس میں شرک کی ملاوٹ ہوتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام میں ان کو جائز قرار تو دیا، مگر وہ شرک و کفر سے خالی اور جاہلی عادات کی مشابہت سے دور ہو، اور اگر نہ انجام دیئے جائیں تو بہتر ہے، خاص طور پر فرع کو اگر چھوڑ رکھا جائے تو یہ جانور بڑا ہو کر زیادہ مفید ثابت ہو سکتا ہے، واللہ اعلم (دیکھئیے اگلی روایات)۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2788) ترمذي (1518) ابن ماجه (3125) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353
حدیث نمبر: 4230
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الْفَرَعَ، قَالَ:" حَقٌّ، فَإِنْ تَرَكْتَهُ حَتَّى يَكُونَ بَكْرًا فَتَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ تُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ فَيَلْصَقَ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ فَتُكْفِئَ إِنَاءَكَ , وَتُولِهُ نَاقَتَكَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَالْعَتِيرَةُ. قَالَ:" الْعَتِيرَةُ حَقٌّ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ: هُمْ أَرْبَعَةُ إِخْوَةٍ أَحَدُهُمْ أَبُو بَكْرٍ، وَبِشْرٌ، وَشَرِيكٌ، وَآخَرُ.
محمد بن عبداللہ بن عمرو اور زید بن اسلم سے روایت ہے لوگوں (صحابہ) نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فرع کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”حق ہے، البتہ اگر تم اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ جوان ہو جائے اور تم اسے اللہ کی راہ میں دو، یا اسے کسی مسکین، بیوہ کو دے دو تو یہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم اسے (بچہ کی شکل میں) ذبح کرو اور (اس کے کاٹے جانے کی وجہ سے) اس کا گوشت چمڑے سے لگ جائے“۔ (یعنی دبلی ہو جائے گی) پھر تم اپنا برتن اوندھا کر کے رکھو گے (کہ وہ دودھ دینے کے لائق ہی نہ ہو گی) اور تمہاری اونٹنی تکلیف میں رہے گی“۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عتیرہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”عتیرہ بھی حق ہے“ ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابوعلی حنفی چار بھائی ہیں: ابوبکر، بشر، شریک اور ایک اور ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4230]
حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فرع کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اللہ کے نام پر) ٹھیک ہے لیکن اگر تو اسے (ذبح کرنے کی بجائے) چھوڑ دے (بڑا ہونے دے) حتیٰ کہ وہ جوان اونٹ ہو جائے، پھر تو اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں کسی کو سواری کے لیے دے یا کسی بیوہ کو دے دے تو یہ بہتر ہے اس سے کہ تو اسے (پیدا ہوتے ہی) ذبح کر ڈالے جبکہ اس کا گوشت اس کے بالوں ہی سے لگا ہو، اور تو اپنے (دودھ کے) برتن کو اوندھا کر دے اور اپنی اونٹنی (اس کی ماں) کو بلا وجہ پریشان کرے۔“ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! عتیرہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عتیرہ بھی حق ہے۔ (وہ بھی ٹھیک ہے)۔“ ابو عبدالرحمن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: (راویِ حدیث) ابو علی حنفی (اور اس کے بھائی) وہ چار ہیں۔ ان میں سے ایک ابوبکر ہے، ایک بشر ہے اور ایک شریک ہے، نیز ایک اور ہے (اس کا نام عمیر ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4230]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8701)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأضحایا21(2842)، مسند احمد 2/182 -183 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی باطل اور حرام نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 4231
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ زُرَارَةَ بْنِ كُرَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ , وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ , فَأَتَيْتُهُ مِنْ أَحَدِ شِقَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , اسْتَغْفِرْ لِي؟، فَقَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ"، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ، أَرْجُو أَنْ يَخُصَّنِي دُونَهُمْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي، فَقَالَ:" بِيَدِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الْعَتَائِرُ وَالْفَرَائِعُ، قَالَ:" مَنْ شَاءَ عَتَرَ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ، وَمَنْ شَاءَ فَرَّعَ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعْ فِي الْغَنَمِ أُضْحِيَّتُهَا" وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ إِلَّا وَاحِدَةً.
حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا، آپ اپنی اونٹنی عضباء، پر سوار تھے۔ میں آپ کی ایک جانب گیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے، آپ نے فرمایا: ”اللہ تم لوگوں کی مغفرت فرمائے“۔ پھر میں آپ کی دوسری جانب گیا، مجھے امید تھی کہ آپ خاص طور پر میرے لیے دعا کریں گے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں (کو اٹھا کر) فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف کرے“۔ پھر لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! عتیرہ اور فرع کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو چاہے عتیرہ ذبح کرے اور جو چاہے نہ کرے اور جو چاہے فرع کرے اور جو چاہے نہ کرے، بکریوں میں صرف قربانی ہے“، اور آپ نے اپنی سب انگلیاں بند کر لیں سوائے ایک کے (یعنی: سالانہ صرف ایک قربانی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4231]
حضرت حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں ملا، آپ اپنی عضباء اونٹنی پر سوار تھے۔ میں ایک جانب سے آپ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان! میرے لیے بخشش کی دعا فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف فرمائے۔“ پھر میں دوسری جانب سے آپ کے پاس اس امید کے ساتھ آیا کہ آپ میرے لیے خصوصی دعا فرمائیں گے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش کی دعا فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف فرمائے۔“ لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! عتیرہ اور فرع کا حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے عتیرہ ذبح کرے جو چاہے نہ کرے۔ جو شخص چاہے فرع ذبح کرے، جو چاہے نہ کرے، البتہ بکریوں میں قربانی ضروری ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرماتے وقت اپنی سب انگلیاں بند کر لیں مگر ایک کھلی رکھی۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4231]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3279)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک 9 (1742)، مسند احمد (3/485) (ضعیف) (اس کے راوی ”یحیی بن زرارہ“ لین الحدیث ہیں، مگر اس حدیث کے مضامین دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4232
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السَّهْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو. ح وَأَنْبَأَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السَّهْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّهِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأُمِّي اسْتَغْفِرْ لِي، فَقَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ" , وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ، ثُمَّ اسْتَدَرْتُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا۔ اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف فرمائے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی عضباء پر سوار تھے، پھر میں مڑا اور دوسری جانب گیا۔ اور پھر آگے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4232]
حضرت حارث بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان! میرے لیے بخشش کی دعا کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «غَفَرَ اللهُ لَكُمْ» ”اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف فرمائے۔“ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی عضباء پر سوار تھے، پھر میں دوسری جانب سے گھوم کر آیا۔ پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4232]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
2. بَابُ: تَفْسِيرِ الْعَتِيرَةِ
باب: عتیرہ کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4233
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَمِيلٌ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ: ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: كُنَّا نَعْتِرُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ:" اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ , وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , وَأَطْعِمُوا".
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بتایا گیا کہ ہم لوگ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4233]
حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ذکر کیا گیا کہ ہم زمانہ جاہلیت میں (ماہ رجب میں) جانور ذبح کیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کرو جس مہینے میں بھی اللہ تعالیٰ کے لیے نیکی کرو اور (غریبوں کو) کھانا کھلایا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4233]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا 2 (2830)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 16 (3160)، الذبائح 2 (3167)، (تحفة الأشراف: 11586)، مسند احمد (5/75، 76)، ویأتي فیما یلي: 4234، 2236، 4237 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4234
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ خَالِدٍ , وَرُبَّمَا قَالَ: عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، وَرُبَّمَا ذَكَرَ أَبَا قِلَابَةَ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ: نَادَى رَجُلٌ وَهُوَ بِمِنًى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ، فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" اذْبَحُوا فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ , وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , وَأَطْعِمُوا"، قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فَمَا تَأْمُرُنَا؟، قَالَ:" فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ".
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے منیٰ میں پکار کر کہا: اللہ کے رسول! ہم لوگ جاہلیت میں رجب میں عتیرہ کرتے تھے۔ تو اللہ کے رسول! ہمارے لیے آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ذبح کرو جس مہینے میں چاہو اور اللہ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ“، اس نے کہا: ہم فرع ذبح کرتے تھے، تو آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہر چرنے والے جانور میں ایک فرع ہے، جسے تم چراتے ہو، جب وہ مکمل اونٹ ہو جائے تو اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4234]
حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے منیٰ میں بآواز بلند کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم جاہلیت میں ماہ رجب میں جانور ذبح کیا کرتے تھے تو اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مہینہ ہو (اللہ تعالیٰ کے لیے) ذبح کرو، اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے نیکی کرو، اور (غریبوں کو) کھانا کھلاؤ۔“ اس آدمی نے کہا: ہم فرع بھی ذبح کیا کرتے تھے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر قسم کے چرنے والے جانوروں میں سے کوئی جانور ذبح کرنا چاہیے (مگر اس طرح کہ) بچے کو اس کی ماں دودھ پلائے حتیٰ کہ جب وہ سواری کے قابل ہوجائے (پورا اونٹ بن جائے) تو پھر اس کو ذبح کر اور اس کا گوشت صدقہ کر۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4235
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ. وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ كَيْمَا تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْخَيْرِ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا، وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا؟، قَالَ:" اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا؟، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي كُلِّ سَائِمَةٍ مِنَ الْغَنَمِ فَرَعٌ , تَغْذُوهُ غَنَمُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ".
بنی ہذیل کے ایک شخص نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے روکا تھا تاکہ وہ تم سب تک پہنچ جائے۔ اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور اٹھا (بھی) رکھو اور (صدقہ دے کر) ثواب (بھی) کماؤ۔ سن لو، یہ دن کھانے، پینے اور اللہ تعالیٰ کی یاد (شکر ادا کرنے) کے ہیں۔ ایک شخص نے کہا: ہم لوگ رجب کے مہینہ میں زمانہ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ“۔ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں فرع ذبح کرتے تھے، تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”ہر چرنے والی بکری میں ایک فرع ہے، جسے تم چراتے ہو، جب وہ مکمل اونٹ ہو جائے تو اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو، یہی چیز بہتر ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4235]
حضرت نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم کو تین دن سے زائد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا تھا تاکہ سب لوگ کھا سکیں لیکن اللہ تعالیٰ نے صورت حال بہتر فرما دی ہے، اب کھاؤ، صدقہ کرو اور ذخیرہ کر کے بھی رکھ لو، یہ (عید کے) دن کھانے پینے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ہیں۔“ ایک آدمی نے کہا: ہم زمانہ جاہلیت میں رجب کے دوران میں جانور ذبح کیا کرتے تھے، اب آپ کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے لیے ذبح کرو، جس مہینے میں بھی ممکن ہو، اور خالص اللہ تعالیٰ کے لیے نیکی کرو اور (غریبوں کو) کھانا کھلاؤ۔“ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم جاہلیت میں (پہلا بچہ) ذبح کیا کرتے تھے، اب آپ کیا فرماتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اسے) چرنے والی بکریوں میں رکھ کر پالے پوسے حتیٰ کہ جب وہ جوان ہو جائے تو اسے ذبح کرے، پھر اس کا گوشت مسافروں وغیرہ پر صدقہ کر دے، یہ طریقہ (جاہلیت کی رسم سے) بدرجہا بہتر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا 10(2813)، سنن ابن ماجہ/الضحایا 16 (3160)، (تحفة الأشراف: 11585) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
3. بَابُ: تَفْسِيرِ الْفَرَعِ
باب: فرع کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4236
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ: نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ: إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً يَعْنِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ:" اذْبَحُوهَا فِي أَيِّ شَهْرٍ كَانَ , وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا". قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ:" فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ".
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا: ہم لوگ عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ یعنی زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جس مہینہ میں چاہو اسے ذبح کرو، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ“، اس نے کہا: ہم لوگ عہد جاہلیت میں فرع ذبح کرتے تھے؟ آپ نے فرمایا: ”ہر چرنے والے جانور میں فرع ہے یہاں تک کہ جب وہ مکمل (جانور) ہو جائے تو تم اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو، یہی چیز بہتر ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4236]
حضرت نبیشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بآواز بلند نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا: ہم دورِ جاہلیت میں ماہِ رجب کے دوران میں «عَتِيرَة» ذبح کیا کرتے تھے، اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذبح کرو جس مہینے میں بھی ہو، اللہ تعالیٰ کے لیے نیکی کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔“ اس نے کہا: ہم جاہلیت میں «فَرَع» بھی ذبح کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چرنے والے جانوروں میں سے جانور ذبح کرنا چاہیے لیکن اس وقت جب وہ جوان ہو جائے، پھر تو اسے ذبح کرے اور اس کا گوشت صدقہ کر دے، یقیناً بہتر ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4233 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح