سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: الصَّيْدِ إِذَا أَنْتَنَ
باب: جب شکار سے بدبو آنے لگے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4308
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْخَلَّالُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَلْيَأْكُلْهُ , إِلَّا أَنْ يُنْتِنَ".
ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اپنا شکار تین دن کے بعد پائے تو اسے کھائے إلا کہ اس میں بدبو پیدا ہو گئی ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4308]
حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے شکار کو تین دن بعد بھی پا لے تو اسے کھا سکتا ہے الا یہ کہ وہ بدبودار ہو جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4308]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 2 (1931)، سنن ابی داود/الصید 4 (2861)، (تحفة الأشراف: 11863)، مسند احمد (4/194) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 4309
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُرِّيَّ بْنَ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أُرْسِلُ كَلْبِي فَيَأْخُذُ الصَّيْدَ , وَلَا أَجِدُ مَا أُذَكِّيهِ بِهِ، فَأُذَكِّيهِ بِالْمَرْوَةِ وَالْعَصَا؟، قَالَ:" أَهْرِقِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں، وہ شکار پکڑ لیتا ہے، لیکن مجھے ایسی کوئی چیز نہیں ملتی جس سے ذبح کروں تو میں پتھر (چاقو نما سفید پتھر) سے یا (دھاردار) لکڑی سے اسے ذبح کرتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے چاہو خون بہاؤ اور اللہ کا نام لو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4309]
حضرت حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں، وہ کسی شکار کو پکڑ لیتا ہے لیکن میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس کے ساتھ اسے ذبح کر سکوں، تو میں کسی تیز دھار پتھر یا لکڑی سے اسے ذبح کر لیتا ہوں (تو کیا یہ درست ہے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خون بہاؤ جس چیز سے بھی ہو سکے (اور ذبح کرتے وقت) اللہ تعالیٰ کا نام لے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا 15 (2824)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 5 (3177)، (تحفة الأشراف: 9875)، مسند احمد (4/256، 258)، ویأتي عند المؤلف فی الضحایا19 (برقم: 4406) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
21. بَابُ: صَيْدِ الْمِعْرَاضِ
باب: معراض کا شکار۔
حدیث نمبر: 4310
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ , فَتُمْسِكُ عَلَيَّ فَآكُلُ مِنْهُ؟، قَالَ:" إِذَا أَرْسَلْتَ الْكِلَابَ يَعْنِي الْمُعَلَّمَةَ، وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ، فَأَمْسَكْنَ عَلَيْكَ فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟، قَالَ:" وَإِنْ قَتَلْنَ مَا لَمْ يَشْرَكْهَا كَلْبٌ لَيْسَ مِنْهَا"، قُلْتُ: وَإِنِّي أَرْمِي الصَّيْدَ بِالْمِعْرَاضِ فَأُصِيبُ فَآكُلُ؟، قَالَ:" إِذَا رَمَيْتَ بِالْمِعْرَاضِ، وَسَمَّيْتَ فَخَزَقَ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سدھائے ہوئے کتے چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ کر لاتے ہیں، کیا میں اس سے کھا سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کتے دوڑاؤ یا چھوڑو، (یعنی سدھائے ہوئے) اور اللہ کا نام لے لو اور وہ تمہارے لیے شکار پکڑ لائیں تو تم کھاؤ“۔ میں نے عرض کیا: اور اگر وہ اسے مار ڈالیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ وہ اسے مار ڈالیں جب تک کہ اس میں کوئی ایسا کتا شریک نہ ہو جو ان کتوں میں سے نہیں تھا“۔ میں نے عرض کیا: میں «معراض» (بے پر کے تیر) سے شکار کرتا ہوں اور مجھے شکار مل جاتا ہے تو کیا میں کھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم «معراض» (بغیر پر والا تیر) پھینکو اور «بسم اللہ» پڑھ لو اور وہ (شکار کو) چھید ڈالے تو کھاؤ اور اگر وہ آڑا لگے تو مت کھاؤ“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4310]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں سدھائے ہوئے کتے شکار پر چھوڑتا ہوں اور وہ اسے میرے لیے پکڑ رکھتے ہیں تو کیا میں اسے کھا لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو سدھائے ہوئے کتے اللہ کا نام لے کر چھوڑے اور وہ شکار کو تیرے لیے پکڑ رکھیں (خود نہ کھائیں) تو تو اسے کھا سکتا ہے۔“ میں نے کہا: خواہ اسے قتل کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواہ قتل کر دیں بشرطیکہ ان کے ساتھ کوئی اور کتا شریک نہ ہو۔“ میں نے کہا: میں معراض تیر پھینکتا ہوں اور کوئی جانور شکار کرتا ہوں تو کیا اسے کھا سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو معراض تیر پھینکے اور «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھے، پھر وہ تیر شکار کو نوک کے ساتھ پھاڑے تو اسے کھا سکتا ہے۔ اور اگر وہ تیر چوڑائی کے بل جا کر لگے تو پھر اسے نہ کھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4270 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شکار کو چھید ڈالنے کی صورت میں اس سے خون بہے گا جو ذبح کا اصل مقصود ہے، اور آڑا لگنے کی صورت میں صرف چوٹ لگے گی اور خون بہے بغیر شکار مر جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
22. بَابُ: مَا أَصَابَ بِعَرْضٍ مِنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ
باب: معراض (آڑے نیزہ اور تیر) سے کئے گئے شکار کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4311
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقُتِلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» (آڑے نیزہ اور تیر) کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب (شکار میں) «معراض» کی نوک لگے تو اسے کھاؤ اور جب آڑا «معراض» پڑے اور وہ (شکار) مر جائے تو وہ «موقوذہ» ۱؎ ہے، اسے مت کھاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4311]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «الْمِعْرَاضِ» ”تیر“ کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ جانور کو نوک کے بل لگے تو اسے کھا سکتا ہے اور جب وہ عرض کے بل لگے اور جانور کو قتل کر دے تو وہ چوٹ سے مرا ہے، اسے مت کھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4277 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «موقوذہ» : چوٹ کھایا ہوا جانور، اس کا کھانا حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
23. بَابُ: مَا أَصَابَ بِحَدٍّ مِنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ
باب: معراض (آڑے نیزہ اور تیر) کی نوک لگے ہوئے شکار کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 4312
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الذَّرَّاعُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُحْصَنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟، فَقَالَ:" إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» (آڑے نیزہ اور تیر) کے شکار کے پوچھا سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”جب (شکار میں) «معراض» (آڑے نیزہ اور تیر) کی نوک لگے تو کھاؤ اور جب وہ آڑا لگے تو مت کھاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4312]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب وہ نوک کے بل لگے تو شکار کھا لے اور جب عرض کے بل لگے تو مت کھا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4312]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9857) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4313
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَغَيْرُهُ عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟، فَقَالَ:" مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «معراض» (آڑے نیزہ اور تیر) کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جب اس (شکار) میں «معراض» کی نوک لگے تو کھاؤ اور جب وہ آڑا لگے تو مت کھاؤ کیونکہ وہ «موقوذہ» (چوٹ کھایا ہوا شکار) ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4313]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”جس جانور کو تو اس کی نوک سے شکار کرے، اسے تو کھا لے اور جس جانور کو وہ عرض کے بل لگے، وہ چوٹ سے مرنے والا جانور ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4269 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
24. بَابُ: اتِّبَاعِ الصَّيْدِ
باب: شکار کا پیچھا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4314
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا، وَمَنِ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنِ اتَّبَعَ السُّلْطَانَ افْتُتِنَ". وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو «باديہ» (دیہات) میں رہے گا وہ سخت مزاج ہو گا، اور جو شکار کا پیچھا کرے گا وہ (اس کے علاوہ دوسری چیزوں سے) غافل ہو جائے گا، اور جو بادشاہ کا چکر لگائے گا وہ فتنے اور آزمائش میں پڑ جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4314]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صحرا میں رہے گا، سخت طبیعت ہو جائے گا، اور جو شخص شکار کے پیچھے لگ گیا، وہ (ہر چیز سے) غافل ہو گیا، اور جو شخص بادشاہ کا دم چھلہ بنا، وہ آزمائش میں پڑ گیا۔“ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصید 4 (2859)، سنن الترمذی/الفتن 69 (2256)، (تحفة الأشراف: 6539) مسند احمد (1/357) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
25. بَابُ: الأَرْنَبِ
باب: خرگوش کا بیان۔
حدیث نمبر: 4315
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْبَحْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ وَهُوَ ابْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا، وَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ"، قَالَ: إِنِّي أَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، قَالَ:" إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمْ الْغُرَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا، اس نے اسے بھون رکھا تھا، اسے آپ کے سامنے رکھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکے رہے اور خود نہیں کھایا اور لوگوں کو کھانے کا حکم دیا۔ اعرابی بھی رک گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تمہیں کھانے سے کیا چیز مانع ہے؟“ وہ بولا: میں ہر ماہ تین دن کے روزے رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تمہیں روزے رکھنے ہیں تو چاندنی راتوں (تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخوں) میں رکھا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4315]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش بھون کر لایا اور آپ کے آگے رکھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ نہ بڑھایا اور نہ کھایا لیکن آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ کھائیں۔ اعرابی نے بھی نہ کھایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تو کیوں نہیں کھاتا؟“ اس نے کہا: میں ہر مہینے سے تین دن روزہ رکھتا ہوں (آج میرا روزہ ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو نے نفل روزے رکھنے ہوں تو چاندنی راتوں کے روزے رکھا کر۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2423 (ضعیف) (اس کے راوی ”عبدالملک“ مدلس اور مختلط ہیں، موسی بن طلحہ سے صحیح سند ”عن أبی ذر‘‘ ہے، جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (2423) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353
حدیث نمبر: 4316
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ حَاضِرُنَا يَوْمَ الْقَاحَةِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: أَنَا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ بِهَا: إِنِّي رَأَيْتُهَا تَدْمَى، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلْ، , ثُمَّ إِنَّهُ قَالَ:" كُلُوا"، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ:" وَمَا صَوْمُكَ؟"، قَالَ: مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، قَالَ:" فَأَيْنَ أَنْتَ عَنِ الْبِيضِ الْغُرِّ؟ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قاحہ (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) کے دن ہمارے ساتھ کون تھا؟ ابوذر رضی اللہ عنہ بولے: میں، (اس دن) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا تو جو لے کر آیا اس نے کہا: میں نے اسے حیض آتے دیکھا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا پھر فرمایا: ”تم لوگ کھاؤ“، ایک شخص نے کہا: روزہ دار ہوں، آپ نے فرمایا: ”تمہارا یہ کون سا روزہ ہے؟“ اس نے کہا: ہر ماہ تین دن والا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم ایام بیض یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں راتوں کے روزے کیوں نہیں رکھتے؟“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4316]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ فرمایا: قاحہ کے دن ہمارے ساتھ کون حاضر تھا؟ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں، وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خرگوش لایا گیا۔ لانے والے شخص نے یہ بھی کہا کہ میں نے اسے حیض آتے دیکھا ہے۔ میرا خیال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ کھایا، پھر آپ نے (حاضرین سے) فرمایا: ”تم کھاؤ۔“ وہ آدمی کہنے لگا: میرا روزہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”کیسا روزہ؟“ اس نے کہا: ہر مہینے سے تین روزے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تو چاندنی راتوں تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے کیوں نہیں رکھتا؟“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2428 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4317
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامٍ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ:" أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَأَخَذْتُهَا، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا، فَبَعَثَنِي بِفَخِذَيْهَا وَوَرِكَيْهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَهُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مرالظہران میں میں نے ایک خرگوش کو چھیڑا اور اسے پکڑ لیا، میں اسے لے کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا، پھر مجھے اس کی دونوں رانیں اور پٹھے دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، تو آپ نے اسے قبول فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4317]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مقامِ مر الظہران میں ہم ایک خرگوش کے پیچھے بھاگے، میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے لے کر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے اسے ذبح کیا، پھر اس کی چاروں ٹانگیں مجھے دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قبول فرما لیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الہبة 5 (2572)، الصید 10 (5489)، 32 (5535)، صحیح مسلم/الصید 9 (1953)، سنن ابی داود/الأطعمة 27 (3791)، سنن الترمذی/الأطعمة 2 (1789)، سنن ابن ماجہ/الصید 17 (3243)، (تحفة الأشراف: 1629)، مسند احمد (3/118، 171، 191)، سنن الدارمی/الصید 7 92056) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”مرالظہران“ مکے سے کچھ دور ایک مقام کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه