🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: مَاجَائَ فِي الْمُعَوِسذَتَيْنِ
باب: معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5440
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ"، فَقُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , فَسَكَتَ عَنِّي، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ"، قُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , فَسَكَتَ عَنِّي، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ ارْدُدْهُ عَلَيَّ، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ"، قُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ" , فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا، ثُمَّ قَالَ:" قُلْ"، قُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" , فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" مَا سَأَلَ سَائِلٌ بِمِثْلِهِمَا , وَلَا اسْتَعَاذَ مُسْتَعِيذٌ بِمِثْلِهِمَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر فرمایا: عقبہ! کہو، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، میں نے کہا: اللہ کرے آپ اسے پھر دہرائیں، آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل أعوذ برب الفلق» میں نے اسے پڑھا یہاں تک کہ اسے مکمل کیا، پھر آپ نے فرمایا: کہو، میں نے عرض کیا: کیا کہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: «قل أعوذ برب الفلق» ، پھر میں نے اسے بھی مکمل پڑھا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ نہیں مانگا اور نہ کسی پناہ مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ مانگی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5440]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ نے فرمایا: اے عقبہ! پڑھ۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا پڑھوں؟ آپ خاموش ہو گئے۔ پھر فرمایا: اے عقبہ! کہہ۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا کہوں؟ آپ پھر خاموش ہو گئے۔ میں نے (دل میں) کہا: یا اللہ! آپ کو میری طرف متوجہ فرما۔ آپ نے فرمایا: اے عقبہ! پڑھ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] میں نے سورت پڑھنا شروع کی حتیٰ کہ مکمل کر دی۔ پھر آپ نے فرمایا: پڑھ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] ۔ اس وقت میں نے آخر تک پوری پڑھ دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی سوال کرنے والے نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ سوال نہیں کیا اور نہ کسی پناہ طلب کرنے والے نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ پناہ طلب کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9927)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 24 (3482) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5441
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ , فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ , فَقُلْتُ: أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ، أَقْرِئْنِي سُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ:" لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے پاؤں پر رکھا، میں نے عرض کیا: مجھے سورۃ ہود پڑھایئے، مجھے سورۃ یوسف پڑھایئے، آپ نے فرمایا: تم اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق» سے زیادہ بہتر کوئی اور سورۃ نہیں پڑھو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5441]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا جبکہ آپ سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پر رکھ دیا اور عرض کی: مجھے سورہ ہود پڑھائیے، مجھے سورہ یوسف پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کوئی ایسی سورت نہیں پڑھے گا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] سے زیادہ عظمت والی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 954 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5442
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُنْزِلَ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ , وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر کچھ ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان جیسی آیات پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں، «قل أعوذ برب الفلق‏» پوری سورت اور «قل أعوذ برب الناس» پوری سورۃ۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5442]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ایسی آیات اتاری گئی ہیں کہ (استعاذہ کے سلسلے میں) کوئی اور آیات ان جیسی نہیں ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] آخر سورت اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] آخر تک۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 955 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5443
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَدَلٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ يَا جَابِرُ"، قُلْتُ: وَمَاذَا أَقْرَأُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" اقْرَأْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" , فَقَرَأْتُهُمَا، فَقَالَ:" اقْرَأْ بِهِمَا وَلَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِهِمَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! پڑھو، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں کیا پڑھوں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: پڑھو «قل أعوذ برب الفلق» اور «‏قل أعوذ برب الناس» میں نے یہ دونوں سورتیں پڑھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: انہیں پڑھا کرو، تم ان جیسی سورتیں ہرگز نہ پڑھو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5443]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! پڑھو۔ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہو جائیں، اے اللہ کے رسول! میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: سورۂ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور سورۂ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] پڑھ۔ میں نے دونوں سورتیں پڑھیں تو آپ نے فرمایا: ان کو پڑھا کر اور (یاد رکھ کہ) تو (استعاذے کے بارے میں) ان جیسی کوئی اور سورت نہیں پڑھے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3111) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ قَلْبٍ لاَ يَخْشَعُ
باب: اللہ کے ڈر سے خالی دل سے اللہ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5444
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار باتوں سے پناہ مانگتے تھے: ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو، ایسے دل سے جس میں اللہ کا ڈر نہ ہو، ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو اور ایسے نفس سے جو آسودہ نہ ہو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5444]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب فرمایا کرتے تھے: ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جو اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرے، ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8846)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 68 (3482)، مسند احمد (2/16767، 198) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک امتی ان چاروں چیزوں سے اس طرح پناہ مانگے «اللٰھم إنی أعوذبک من علم لاینفع ومن قلب لایخشع ومن دعا لایسمع ومن نفس لاتشبع» اسی طرح آگے جہاں بھی یہ آیا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے وہاں واحد متکلم کا صیغہ بنا لے، جیسے اگلی حدیث میں «أعوذ من الجبن» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ فِتْنَةِ الصَّدْرِ
باب: سینے دل کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5445
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَمُرَ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی، کنجوسی، سینے (دل) کے فتنے اور قبر کے عذاب سے (اللہ تعالیٰ کی) پناہ مانگتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5445]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بزدلی، بخل، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب فرمایا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 367 (1539)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3844)، (تحفة الأشراف: 10617)، مسند احمد (1/22، 54)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5482-5485، 5499)، وفي الیوم واللیلة 53 (1304) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ شَرِّ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ
باب: کان اور آنکھ کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5446
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بِلَالُ بْنُ يَحْيَى، أَنَّ شُتَيْرَ بْنَ شَكَلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ , قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ؟ فَأَخَذَ بِيَدِي ثُمَّ قَالَ:" قُلْ: أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَشَرِّ بَصَرِي، وَشَرِّ لِسَانِي، وَشَرِّ قَلْبِي، وَشَرِّ مَنِيِّي"، قَالَ حَتَّى حَفِظْتُهَا. قَالَ سَعْدٌ: وَالْمَنِيُّ مَاؤُهُ.
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! مجھے کوئی ایسا تعوذ (شر و فساد سے بھاگ کر اللہ کی پناہ میں آنے کی دعا) بتائیے، جس کے ذریعہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگوں۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: کہو: «أعوذ بك من شر سمعي وشر بصري وشر لساني وشر قلبي وشر منيي» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی سے، اپنی آنکھ کی برائی سے، اپنی زبان کی برائی سے، اپنے دل کی برائی سے، اپنی منی کی برائی سے، شکل کہتے ہیں: یہاں تک کہ میں نے اسے یاد کر لیا۔ سعد کہتے ہیں: منی سے مراد نطفہ (پانی) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5446]
حضرت شکل بن حمید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! مجھے ایسے کلمات سکھا دیجیے جن کے ساتھ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: تو یہ کلمات کہہ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي» اے اللہ! میں اپنے کانوں، آنکھوں، زبان، دل اور منی کے شر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔میں نے یہ کلمات یاد کر لیے۔ سعد (ابن اوس راوی حدیث) نے کہا کہ منی سے مراد نطفہ ہے (اس کی برائی یہ ہے کہ اسے حرام میں بہائے)۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 367 (1551)، سنن الترمذی/الدعوات 75 (3492)، (تحفة الأشراف: 4847)، مسند احمد (3/429)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5457، 5458، 5486) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْجُبْنِ
باب: بزدلی و کم ہمتی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5447
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: كَانَ يُعَلِّمُنَا خَمْسًا كَانَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ وَيَقُولُهُنَّ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ سعد رضی اللہ عنہ ہمیں پانچ باتیں سکھاتے تھے، کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگتے تھے، آپ فرماتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وأعوذ بك من عذاب القبر» اے اللہ! میں کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، مجبوری و لاچاری والی عمر تک پہنچنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5447]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے والد محترم (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) ہمیں پانچ کلمات سکھایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں یہ کلمات پڑھا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» اے اللہ! میں بخل سے بچنے کے لیے تیری پناہ میں آتا ہوں، میں بزدلی سے بچنے کے لیے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں اس بات سے بھی تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں ذلیل ترین عمر پاؤں، میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں قبر کے عذاب سے بچاؤ کے لیے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 25 (2822)، الدعوات 37 (6365)، 41 (6370)، 44 (6374)، 56 (6390)، سنن الترمذی/الدعوات 114 (3567)، (تحفة الأشراف: 3932)، مسند احمد (1/183، 186)، والمؤلف برقم: 5480، 5498 و في عمل الیوم وللیلة 53 (132) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْبُخْلِ
باب: بخل اور کنجوسی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5448
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنَ خَمْسٍ: مِنَ الْبُخْلِ، وَالْجُبْنِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ باتوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے تھے: بخیلی سے، بزدلی سے، مجبوری و لاچاری والی عمر سے، سینے (دل) کے فتنے سے اور قبر کے عذاب سے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5448]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ کیا کرتے تھے: بخل، بزدلی، بری عمر، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9490)، و في عمل الیوم واللیلة 53 (133) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5449
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُعَلِّمُ الْغِلْمَانَ , وَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ دُبُرَ الصَّلَاةِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ , وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَحَدَّثْتُ بِهَا مُصْعَبًا فَصَدَّقَهُ".
عمرو بن میمون اودی کہتے ہیں کہ سعد رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات سکھاتے تھے جیسے معلم لڑکوں کو سکھاتا ہے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعے پناہ مانگتے تھے۔ «اللہم إني أعوذ بك من البخل وأعوذ بك من الجبن وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر وأعوذ بك من فتنة الدنيا وأعوذ بك من عذاب القبر» اے اللہ! میں کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں لاچاری اور مجبوری کی عمر کو پہنچوں، میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ پھر میں نے اسے مصعب سے بیان کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5449]
حضرت عمرو بن میمون اودی سے مروی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو یہ کلمات اس طرح سکھلاتے تھے جس طرح استاد بچوں کو سبق رٹاتا ہے اور فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (فرض) نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» اے اللہ! میں بخل سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ بزدلی سے تیری پناہ حاصل کرتا ہوں۔ اس بات سے بھی پناہ طلب کرتا ہوں کہ مجھے ذلیل ترین عمر میں پہنچایا جائے۔ میں دنیا کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور قبر کے عذاب سے (بچنے کے لیے) میں تیری پناہ حاصل کرتا ہوں۔ (راوی نے کہا) میں نے یہ کلمات (حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بیٹے) مصعب کو بیان کیے تو انھوں نے تصدیق کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 25 (2822)، سنن الترمذی/الدعوات 114 (3567)، (تحفة الأشراف: 3910)، ویأتي عند المؤلف: 5481 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں