سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْعَجْزِ
باب: عاجزی اور مجبوری سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5460
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: لَا أُعَلِّمُكُمْ إِلَّا مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَدَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تمہیں وہی سکھاتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھاتے تھے، آپ فرماتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من العجز والكسل والبخل والجبن والهرم وعذاب القبر اللہم آت نفسي تقواها وزكها أنت خير من زكاها أنت وليها ومولاها اللہم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع وعلم لا ينفع ودعوة لا يستجاب لها» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، عاجزی و مجبوری اور بے بسی سے، کاہلی سے، بخیلی و کنجوسی سے، بزدلی و کم ہمتی سے، بڑھاپے سے، قبر کے عذاب سے، اللہ! تو میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے (برائیوں سے) پاک کر دے، تو ہی بہترین پاک کرنے والا ہے، تو ہی اس کا مالک اور سر پرست ہے، اے اللہ! میں ایسے دل سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس میں تیرا ڈر نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیراب نہ ہو، ایسے علم سے جو نفع بخش اور مفید نہ ہو، اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو سکے“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5460]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں وہی دعا سکھلاؤں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھایا کرتے تھے۔ آپ فرماتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا» ”اے اللہ! میں نکمے پن، کاہلی، کنجوسی، بزدلی، شدید بڑھاپے اور عذاب قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما اور اس کو پاکیزہ فرما، تو ہی بہترین پاکیزہ فرمانے والا ہے۔ تو ہی اس کا مددگار اور مالک ہے۔ اے اللہ! تیری پناہ کا طلب گار ہوں اس دل سے جو تیرے سامنے عاجز نہ ہو، اس نفس سے جو سیر نہ ہو، اس علم سے جو مفید نہ ہو اور دعا سے جو قبول نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر 18 (2722)، (تحفة الأشراف: 3668)، مسند احمد (4/371)، ویأتي عند المؤلف برقم 5540 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 5461
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللہم إني أعوذ بك من العجز والكسل والبخل والجبن والهرم وعذاب القبر وفتنة المحيا والممات» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی و بے بسی، سستی و کاہلی، بخیلی و کنجوسی، بزدلی و کم ہمتی، بڑھاپے، قبر کے عذاب اور موت و زندگی کے فتنے سے“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5461]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا فرمائی: ”اے اللہ! میں نکمے پن، کاہلی، کنجوسی، بزدلی، ذلیل بڑھاپے، عذابِ قبر اور زندگی و موت کے فتنے سے (بچنے کے لیے) تیری پناہ حاصل کرتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5450 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
14. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الذِّلَّةِ
باب: ذلت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5462
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ". خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الفقر وأعوذ بك من القلة والذلة وأعوذ بك أن أظلم أو أظلم» ”اے اللہ! میں فقر و غربت سے تیری پناہ مانگتا ہوں، کمی اور ذلت سے پناہ مانگتا ہوں، ظلم کرنے اور ظلم کیے جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں) اوزاعی نے حماد کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5462]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ» ”اے اللہ! میں فقر سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور قلت اور ذلت سے تیری پناہ حاصل کرتا ہوں، نیز اس بات سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کسی کے ظلم کا تختۂ مشق بنوں۔“ اوزاعی نے اس (حماد بن سلمہ) کی مخالفت کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 367 (1544)، (تحفة الأشراف: 13385)، مسند احمد (2/305، 325، 254)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5464 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی دونوں کی روایتوں میں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کے شیخ مختلف ہیں، کیونکہ حماد کی روایت میں سعید بن یسار ہیں جب کہ اوزاعی کی روایت میں ان کے شیخ جعفر بن عیاض ہیں، (جو ضعیف ہیں) نیز ان دونوں کے الفاظ بھی مختلف ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5463
قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو هُوَ الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَنْ تَظْلِمَ، أَوْ تُظْلَمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فقر سے، قلت، کمی اور ذلت سے اور ظلم کرنے اور کیے جانے سے اللہ کی پناہ مانگو“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5463]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم فقر، قلت، ذلت اور اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو کہ تم کسی پر ظلم کرو یا کسی کے ظلم و ستم کا نشانہ بنو۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3842)، (تحفة الأشراف: 12235)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5465و5466 (ضعیف) (اس کے راوی ’’جعفر‘‘ لین الحدیث ہیں، ان کی روایت اور سعید بن یسار کی پچھلی روایت کے الفاظ میں فرق ملاحظہ فرمائیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5464
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْقِلَّةِ، وَالْفَقْرِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ کہا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من القلة والفقر والذلة وأعوذ بك أن أظلم أو أظلم» ”اے اللہ! میں قلت سے، فقر سے، ذلت سے، تیری پناہ مانگتا ہوں اور ظلم کرنے اور کئے جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5464]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ» ”اے اللہ! میں فقر، قلت اور ذلت سے (بچنے کے لیے) تیری پناہ میں آتا ہوں اور اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5462 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
15. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْقِلَّةِ
باب: قلت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5465
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ، وَمِنَ الْقِلَّةِ، وَمِنَ الذِّلَّةِ، وَأَنْ أَظْلِمَ، أَوْ أُظْلَمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فقر سے، قلت اور ذلت سے اور ظلم کرنے اور کیے جانے سے اللہ کی پناہ مانگو“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5465]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَنْ تَظْلِمُوا أَوْ تُظْلَمُوا» ”تم فقر، قلت، ذلت اور ظالم یا مظلوم بننے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5463 (ضعیف)»
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
16. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْفَقْرِ
باب: فقر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5466
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عِيَاضٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَنْ تَظْلِمَ، أَوْ تُظْلَمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو فقر سے، قلت اور ذلت سے اور ظلم کرنے اور کیے جانے سے“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5466]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَنْ تَظْلِمُوا، أَوْ تُظْلَمُوا» ”تم فقر، قلت، ذلت اور ظالم یا مظلوم بننے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5463 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5467
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي الشَّحَّامَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ سَمِعَ وَالِدَهُ يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ" , فَجَعَلْتُ أَدْعُو بِهِنَّ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ , أَنَّى عُلِّمْتَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، قُلْتُ: يَا أَبَتِ , سَمِعْتُكَ تَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْكَ، قَالَ: فَالْزَمْهُنَّ يَا بُنَيَّ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ.
مسلم بن ابی بکرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نماز کے بعد اپنے والد کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا: «اللہم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کفر سے، فقر سے، اور عذاب قبر سے“، تو میں بھی وہی دعا کرنے لگا، وہ بولے: اے میرے بیٹے! تم نے (دعا کے) یہ کلمات کہاں سے سیکھے؟ میں نے عرض کیا: ابو جان! میں نے آپ کو نماز کے بعد (یا نماز کے اخیر میں) یہی دعا مانگتے سنا۔ تو میں نے آپ سے ہی یہ لیے ہیں، وہ بولے: میرے بیٹے! اس دعا کو لازم کر لو، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نماز کے بعد یہ دعا مانگتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5467]
حضرت مسلم بن ابی بکرہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے والد حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کفر، فقر اور عذابِ قبر سے (بچنے کے لیے) تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ میں بھی یہ دعا پڑھنے لگ گیا۔ (ایک دفعہ) انہوں نے مجھ سے کہا: بیٹا! یہ کلمات تو نے کہاں سے سیکھے ہیں؟ میں نے کہا: ابا جان! میں نے آپ کو نماز کے بعد یہ کلمات پڑھتے سنا تو میں نے آپ سے سن کر یاد کر لیے۔ انہوں نے فرمایا: پیارے بیٹے! ان پر پابندی کرنا کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ» ”اے اللہ! میں کفر، فقر اور عذابِ قبر سے (بچنے کے لیے) تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1348 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «دبر الصلاۃ» جس کے معنی ”نماز کے بعد“ بھی ہو سکتے ہیں، اور نماز کے اخیر میں بھی ہو سکتے ہیں، دونوں معنوں میں یہ لفظ وارد ہوا ہے، لیکن بقول شیخ الاسلام ابن تیمیہ سلام سے پہلے دعا کی قبولیت زیادہ متوقع ہے، بمقابلہ سلام کے بعد کے، کیونکہ سلام سے پہلے بندہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
17. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْقَبْرِ
باب: قبر کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5468
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا مَا يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَأَنْقِ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا أَنْقَيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کلمات کے ذریعہ دعا مانگتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار وفتنة القبر وعذاب القبر وشر فتنة المسيح الدجال وشر فتنة الفقر وشر فتنة الغنى اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد وأنق قلبي من الخطايا كما أنقيت الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمأثم والمغرم» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں آگ کے فتنے، جہنم کے عذاب سے، قبر کے فتنے سے، قبر کے عذاب سے، مسیح دجال کے فتنے کے شر سے، فقر کے فتنے کے شر سے، مالداری کے فتنے کے شر سے، اے اللہ! میرے گناہ برف اور اولے کے پانی سے دھو دے، میرا دل گناہوں سے پاک کر دے جیسے تو نے سفید کپڑا گندگی سے صاف کیا ہے، اور مجھ میں اور میرے گناہوں میں دوری پیدا کر دے جیسے تو نے پورب اور پچھم کے درمیان کی ہے۔ اے اللہ! میں کاہلی، بڑھاپے، گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5468]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں آگ تک پہنچانے والے فتنے، آگ کے عذاب، قبر کی آزمائش، عذابِ قبر، مسیح دجال کے فتنے کی خرابی، آزمائشِ فقر کی خرابی اور آزمائشِ دولت کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے اللہ! میری غلطیوں کو برف کے پانی اور اولوں سے دھو ڈال، اور میرے دل کو غلطیوں کے اثرات سے یوں صاف فرما دے، جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف رکھا ہے، نیز میرے اور میری غلطیوں کے درمیان اتنا فاصلہ فرما دے جتنا فاصلہ تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھا ہے۔ اے اللہ! کاہلی، شدید بڑھاپے، گناہ اور جان لیوا قرض سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16856)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدعوات 39 (6368)، 44-46 (6375-6377)، صحیح مسلم/المساجد 25 (589)، الذکر 14 (589)، سنن الترمذی/الدعوات 77 (3495)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3838)، مسند احمد (6/57، 207) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
18. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ نَفْسٍ لاَ تَشْبَعُ
باب: آسودہ اور سیراب نہ ہونے والے نفس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5469
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الأربع من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعا لا يسمع» ”اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع بخش اور مفید نہ ہو، ایسے دل سے جس میں (اللہ کا) ڈر نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیراب نہ ہو، اور ایسی دعا سے جو (اللہ کے یہاں) قبول نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5469]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ» ”اے اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں: اس علم سے جو نفع نہ دے، اس دل سے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع و خضوع نہ کرے، اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 367 (1548)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 23 (250)، الدعاء 2 (3837)، (تحفة الأشراف: 13549)، مسند احمد (2/340، 365، 451)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5538 و 5539 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن