🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: مَاجَائَ فِي الْمُعَوِسذَتَيْنِ
باب: معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5430
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصَابَنَا طَشٌّ وَظُلْمَةٌ فَانْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ بِنَا , ثُمَّ ذَكَرَ كَلَامًا مَعْنَاهُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ بِنَا، فَقَالَ:" قُلْ"، فَقُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ قَالَ:" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , حِينَ تُمْسِي , وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثًا يَكْفِيكَ كُلَّ شَيْءٍ".
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اندھیرے کے ساتھ بارش ہوئی تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز پڑھانے کے لیے انتظار کیا، پھر کچھ کہا جس کا مفہوم یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: کچھ کہو، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد‏» اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) صبح و شام تین بار پڑھ لیا کرو، یہ (سورتیں) تمہارے لیے ہر تکلیف و مصیبت میں کافی ہوں گی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5430]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات ہلکی سی بارش ہوئی اور سخت اندھیرا تھا، ہم انتظار میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں اور نماز پڑھائیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے تشریف لائے اور (مجھے) فرمایا: پڑھ۔ میں نے کہا: کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] اور «الْمُعَوِّذَتَيْنِ» معوذتین صبح و شام تین تین دفعہ پڑھا کر، تجھے ہر مصیبت میں کفایت کریں گی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5430]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الٔبدب 110 (5082)، سنن الترمذی/الدعوات 117 (3570)، (تحفة الأشراف: 5250)، مسند احمد (5/312) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5431
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَأَصَبْتُ خُلْوَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَقَالَ:" قُلْ" , فَقُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ , قَالَ:" قُلْ"، قُلْتُ:" مَا أَقُولُ؟" , قَالَ: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ حَتَّى خَتَمَهَا"، ثُمَّ قَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ حَتَّى خَتَمَهَا"، ثُمَّ قَالَ:" مَا تَعَوَّذَ النَّاسُ بِأَفْضَلَ مِنْهُمَا".
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مکہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ کو اکیلا پا کر جب میں آپ سے قریب ہوا تو آپ نے فرمایا: کچھ کہو، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: کچھ کہو، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل أعوذ برب الفلق» یہاں تک کہ آپ نے پوری سورت پڑھی، پھر فرمایا: «قل أعوذ برب الناس» یہاں تک کہ اسے بھی پوری پڑھی پھر فرمایا: ان دونوں سے بہتر لوگوں نے کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ نہیں مانگی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5431]
حضرت عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں مکہ مکرمہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ خلوت نصیب ہوئی تو میں آپ کے قریب ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھ۔ میں نے عرض کی: کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] آخر سورہ تک پڑھا کر، پھر سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] آخر سورہ تک پڑھا کر۔ پھر فرمایا: کسی انسان نے ان دو سورتوں سے افضل کلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5431]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح الٕلسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5432
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتَهُ فِي غَزْوَةٍ إِذْ قَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ" , فَاسْتَمَعْتُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ" , فَاسْتَمَعْتُ , فَقَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقُلْتُ: مَا أَقُولُ؟ فَقَالَ:" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَرَأَ السُّورَةَ حَتَّى خَتَمَهَا" , ثُمَّ قَرَأَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ , وَقَرَأْتُ مَعَهُ حَتَّى خَتَمَهَا" , ثُمَّ قَرَأَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ , فَقَرَأْتُ مَعَهُ حَتَّى خَتَمَهَا"، ثُمَّ قَالَ:" مَا تَعَوَّذَ بِمِثْلِهِنَّ أَحَدٌ".
عقبہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب ایک غزوہ میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑے آگے آگے چل رہا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو، میں آپ کی طرف متوجہ ہوا، پھر آپ نے فرمایا: عقبہ! کہو، میں پھر متوجہ ہوا۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا تو میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد» پھر پوری سورت پڑھی، اس کے بعد «قل أعوذ برب الفلق‏» پوری پڑھی، میں نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی، پھر آپ نے «قل أعوذ برب الناس» پوری پڑھی اور میں نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی، اور فرمایا: ان جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ کسی نے پناہ نہیں مانگی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5432]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ میں ایک جنگی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی مہار پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عقبہ! پڑھ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کان لگایا (تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو فرمائیں، وہ میں سن کر پڑھوں)۔ پھر کچھ دیر کے بعد فرمایا: اے عقبہ! پڑھ۔ میں پھر متوجہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پھر یہی فرمایا۔ میں نے عرض کی: کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر تک سورت پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] آخر تک پڑھی۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] آخر تک پڑھی۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص نے ان جیسی سورتوں یا کلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9970) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: پناہ طلب کرنے کے لیے ان دو سورتوں سے بڑھ کر کوئی اور ذکر یا دعا نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5433
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُلْ"، قُلْتُ: وَمَا أَقُولُ؟ , قَالَ:" قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" , فَقَرَأَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ:" لَمْ يَتَعَوَّذْ النَّاسُ بِمِثْلِهِنَّ أَوْ لَا يَتَعَوَّذُ النَّاسُ بِمِثْلِهِنَّ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: پڑھو، میں نے کہا: کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: پڑھو «قل هو اللہ أحد‏»، «قل أعوذ برب الفلق»، «قل أعوذ برب الناس» پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پڑھا اور فرمایا: لوگوں نے ان جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ نہیں مانگی، یا فرمایا: لوگ نہیں مانگتے ان جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5433]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: پڑھ۔ میں نے عرض کی: کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] ، ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورتیں پڑھیں اور فرمایا: لوگوں نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل نہیں کی یا لوگ ان جیسی سورتوں کے ساتھ پناہ حاصل نہیں کریں گے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5433]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5434
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" يَا ابْنَ عَابِسٍ , أَلَا أَدُلُّكَ؟" أَوْ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا يَتَعَوَّذُ بِهِ الْمُتَعَوِّذُونَ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ , وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ".
ابن عابس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ابن عابس! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں؟ یا کہا: کیا میں تمہیں خبر نہ دوں سب سے بہتر پناہ کی جس کے ذریعہ پناہ مانگنے والے پناہ مانگیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» یہ دونوں سورتیں (پناہ مانگنے کے لیے سب سے بہتر ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5434]
حضرت ابن عابس جہنی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے ابن عابس! کیا میں تجھے وہ افضل کلام نہ بتلاؤں جس کے ساتھ پناہ حاصل کرنے والے اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کر سکتے ہیں؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں؟ ضرور۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] یہ دو سورتیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 15523)، مسند احمد (3/417، 4/144، 152) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5435
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ شَهْبَاءُ فَرَكِبَهَا وَأَخَذَ عُقْبَةُ يَقُودُهَا بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُقْبَةَ:" اقْرَأْ"، قَالَ: وَمَا أَقْرَأُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" اقْرَأْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ" , فَأَعَادَهَا عَلَيَّ حَتَّى قَرَأْتُهَا فَعَرَفَ أَنِّي لَمْ أَفْرَحْ بِهَا جِدًّا، قَالَ:" لَعَلَّكَ تَهَاوَنْتَ بِهَا , فَمَا قُمْتُ يَعْنِي بِمِثْلِهَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سفید اونٹنی تحفے میں آئی۔ آپ اس پر سوار ہوئے اور میں نے اس کی نکیل پکڑ کر چلنا شروع کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ سے فرمایا: پڑھو، وہ بولے: اللہ کے رسول! کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: پڑھو «‏ قل أعوذ برب الفلق * من شر ما خلق‏» آپ نے اسے دہرایا یہاں تک کہ میں نے بھی اسے پڑھا، پھر آپ نے جان لیا کہ میں اس سے کچھ زیادہ خوش نہیں ہوا۔ (چنانچہ) آپ نے فرمایا: شاید تم نے اسے بہت ہلکا سمجھا۔ لیکن مجھے (پناہ مانگنے کے لیے) اس جیسی سورۃ نہیں ملی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5435]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر بطور تحفہ پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور عقبہ اس کی لگام پکڑ کر آگے آگے چلنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ سے فرمایا: پڑھ۔ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ۝ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾ [سورة الفلق: 1-2] ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر پوری سورت پڑھی حتیٰ کہ میں نے بھی پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرمایا کہ میں اس کے ساتھ زیادہ خوش نہیں ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تو نے اس کو معمولی سمجھا ہے۔ میں نے کبھی نماز میں اس جیسی سورت نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5435]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 9916)، مسند احمد (4/149) (صحیح الٕاسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5436
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ التِّرْمِذِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ," أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ؟ قَالَ عُقْبَةُ: فَأَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں یہی دونوں سورتیں ہمیں پڑھائیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5436]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے بارے میں پوچھا، عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (آپ نے اس وقت تو کوئی جواب نہ دیا لیکن) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز کی امامت کراتے ہوئے یہ دونوں سورتیں تلاوت فرمائیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5436]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 953 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس وقت خاص طور پر ان دونوں سورتوں کی اہمیت بتانے کے لیے آپ نے نماز انہیں دونوں سورتوں سے پڑھائی، فجر کی نماز میں جہاں آپ بڑی بڑی سورتیں پڑھا کرتے تھے وہیں کبھی متوسط اور کبھی چھوٹی چھوٹی سورتیں حتیٰ کہ معوذتین بھی پڑھا کرتے تھے، یہ سب حالات، نشاط، اور کبھی بیان جواز کے لیے کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5437
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عُقْبَةَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ بِهِمَا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ".
عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں معوذتین پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5437]
حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو سورتیں صبح کی نماز میں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5435 (صحیح) (مکحول شامی کی ملاقات عقبہ رضی الله عنہ سے نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق کی وجہ سے حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5438
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ الْعَلَاءُ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عُقْبَةُ , أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا؟" فَعَلَّمَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ , وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا , فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلَاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ الْتَفَتَ إِلَيَّ , فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ كَيْفَ رَأَيْتَ؟".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی نکیل پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں جو مجھے پڑھائی گئی ہیں؟ پھر آپ نے مجھے «‏قل أعوذ برب الفلق‏» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائی، لیکن آپ نے مجھے ان دونوں پر خوش ہوتے نہیں دیکھا، پھر جب آپ فجر کے لیے مسجد آتے تو انہیں دونوں سورتوں سے لوگوں کو فجر پڑھائی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: عقبہ! تم نے (ان کو) کیسا پایا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5438]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقبہ! میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جو کبھی پڑھی گئی ہوں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورۂ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] سکھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس فرمایا کہ میں یہ سورتیں سیکھ کر زیادہ خوش نہیں ہوا، لہٰذا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے اترے تو یہ دونوں سورتیں صبح کی نماز میں لوگوں کی امامت کرواتے ہوئے پڑھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے عقبہ! تیرا کیا خیال ہے؟ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5438]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 354 (1462)، (تحفة الأشراف: 9946)، مسند احمد (4/144، 149، 153) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5439
أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: بَيْنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ , إِذْ قَالَ:" أَلَا تَرْكَبُ يَا عُقْبَةُ؟" , فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبْ مَرْكَبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا تَرْكَبُ يَا عُقْبَةُ؟" , فَأَشْفَقْتُ أَنْ يَكُونَ مَعْصِيَةً، فَنَزَلَ وَرَكِبْتُ هُنَيْهَةً , وَنَزَلْتُ وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ , وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ"، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا ثُمَّ مَرَّ بِي، فَقَالَ:" كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ؟ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَقُمْتَ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری (اونٹنی) کی نکیل ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں پکڑے آگے آگے چل رہا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا: عقبہ! کیا تم سوار نہیں ہو گے؟ میں نے آپ کی بزرگی کا خیال کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر ہو جاؤں، پھر آپ نے فرمایا: کیا تم سوار نہیں ہو گے عقبہ؟ تو مجھے ڈر لگا کہ کہیں نافرمانی نہ ہو جائے، پھر آپ اترے اور میں تھوڑی دیر کے لیے سوار ہوا پھر میں اتر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور فرمایا: لوگ جو سورتیں پڑھتے ہیں، ان میں سے میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ بتاؤں؟ چنانچہ آپ نے مجھے پڑھ کر سنائی «قل أعوذ برب الفلق» اور «‏ قل أعوذ برب الناس»، پھر نماز قائم کی گئی، تو آپ آگے بڑھے اور ان دونوں سورتوں کو پڑھا، پھر آپ میرے پاس سے گزرے، اور فرمایا: عقبہ! یہ کیسی لگیں؟ جب جب سوؤ اور جب جب جاگو انہیں پڑھا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5439]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ کر ان گھاٹیوں میں سے کسی گھاٹی میں چل رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقبہ! تو (میرے ساتھ سوار ہو جا)؟ میں نے اس بات کو بہت بڑا محسوس کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر سوار ہو جاؤں۔ کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقبہ! تو سوار کیوں نہیں ہو جاتا؟ مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہ ہو۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اترے تو میں تھوڑی دیر کے لیے سوار ہو گیا۔ پھر میں اتر آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تجھے دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جو لوگوں نے پڑھی ہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] پڑھائیں۔ پھر جماعت کے لیے اقامت کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور یہی دو سورتیں پڑھیں۔ پھر (نماز سے فراغت کے بعد) میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: عقبہ بن عامر! تیری کیا رائے ہے؟ ان سورتوں کو پڑھا کر جب بھی تو سوئے یا جاگے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5439]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5438 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں