🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
82. بَابُ حُسْنِ الْمَلَكَةِ
غلاموں سے اچھا برتاؤ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 156
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ثَقُلَ قَالَ‏:‏ ”يَا عَلِيُّ، ائْتِنِي بِطَبَقٍ أَكْتُبْ فِيهِ مَا لاَ تَضِلُّ أُمَّتِي بَعْدِي“، فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقَنِي فَقُلْتُ‏:‏ إِنِّي لَأَحْفَظُ مِنْ ذِرَاعَيِ الصَّحِيفَةِ، وَكَانَ رَأْسُهُ بَيْنَ ذِرَاعِي وَعَضُدِي، فَجَعَلَ يُوصِي بِالصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ، وَقَالَ كَذَاكَ حَتَّى فَاضَتْ نَفْسُهُ، وَأَمَرَهُ بِشَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ”مَنْ شَهِدَ بِهِمَا حُرِّمَ عَلَى النَّارِ‏.‏“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت جب زیادہ ناساز ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! میرے پاس کوئی پارچہ لاؤ جس میں وہ بات لکھ دوں جس سے میری امت بھٹکنے سے محفوظ ہو جائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ڈرا کہ میرے کاغذ لانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کو پیارے نہ ہو جائیں، تو میں نے کہا: میں خود ہی یاد کر لوں گا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میرے بازو کے درمیان تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز، زکاة اور غلاموں سے حسنِ سلوک کی وصیت فرمائی، اور یہ کہتے کہتے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» کہنے کا حکم دیا اور فرمایا: جس نے ان دونوں کی گواہی دی اس پر دوزخ کی آگ حرام ہو گئی۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه أحمد: 693 و ابن سعد فى الطبقات: 243/2 و المزي فى تهذيب الكمال: 482/21 - التعليق الرغيب: 237/2»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 157
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”أَجِيبُوا الدَّاعِيَ، وَلاَ تَرُدُّوا الْهَدِيَّةَ، وَلاَ تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ‏.‏“
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرو اور تحفہ واپس نہ کرو، نیز مسلمانوں کو نہ مارو۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أحمد: 3838 و ابن أبى شيبة: 555/6 و الطبراني فى الكبير: 197/10 و أبويعلى: 5412 و ابن حبان: 5603 - الإرواء: 1616»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 158
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى، عَنْ عَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ قَالَ‏:‏ كَانَ آخِرُ كَلاَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”الصَّلاَةَ، الصَّلاَةَ، اتَّقُوا اللَّهَ فِيمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ‏.‏“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلام یہ تھا: نماز کی پابندی کرنا، نماز کی حفاظت کرنا اور اپنے غلاموں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أبوداؤد، الأدب، باب فى حق المملوك: 5156 و ابن ماجة: 2698 - صحيح الترغيب: 2285»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. بَابُ سُوءِ الْمَلَكَةِ
غلاموں سے بدسلوکی کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 159
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لِلنَّاسِ‏:‏ نَحْنُ أَعْرَفُ بِكُمْ مِنَ الْبَيَاطِرَةِ بِالدَّوَابِّ، قَدْ عَرَفْنَا خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ‏.‏ أَمَّا خِيَارُكُمُ‏:‏ الَّذِي يُرْجَى خَيْرُهُ، وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ‏.‏ وَأَمَّا شِرَارُكُمْ‏:‏ فَالَّذِي لاَ يُرْجَى خَيْرُهُ، وَلاَ يُؤْمَنُ شَرُّهُ، وَلاَ يُعْتَقُ مُحَرَّرُهُ‏.‏
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے: ہم تمہیں اس سے زیادہ جانتے ہیں جتنا جانوروں کا علاج کرنے والے جانوروں کو جانتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کو بھی جانتے ہیں جو تم میں اچھے ہیں اور انہیں بھی جو تم میں برے ہیں۔ تمہارے اچھے لوگ وہ ہیں جن سے بھلائی کی امید کی جاتی ہے اور جن کے شر سے لوگوں کو اطمینان ہو۔ اور برے وہ لوگ ہیں جن سے خیر کی امید نہیں کی جاتی اور ان کے شر سے بھی امان نہیں اور ان کا آزاد کردہ بھی آزاد نہیں ہوتا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: «صحيح الإسناد موقوفًا وقد صح منه مرفوعًا جملة الخيار والشرار دون العتق: المشكاة: 4993 - رواه البيهقي فى شعب الإيمان: 189/13 و ابن عبدالبر فى جامع بيان العلم: 608/1 و أبونعيم فى الحلية: 221/1»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوفًا وقد صح منه مرفوعًا جملة الخيار والشرار دون العتق

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 160
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ‏:‏ الْكَنُودُ‏:‏ الَّذِي يَمْنَعُ رِفْدَهُ، وَيَنْزِلُ وَحْدَهُ، وَيَضْرِبُ عَبْدَهُ‏.‏
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ناشکرا وہ ہے جو اپنے عطیات روک لیتا ہے، اور (سفر) میں علیحدہ پڑاؤ ڈالتا ہے، اور اپنے غلام کو مارتا ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: «ضعيف موقوفًا و روى عنه مرفوعًا بسند واه جدا: الضعيفة: 5833 - رواه ابن معين فى تاريخه: 485/4 و الطبراني فى تفسيره: 566/24»
قال الشيخ الألباني: ضعيف موقوفًا و روى عنه مرفوعًا بسند واه جدا

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 161
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَحَمَّادٍ، عَنْ حَبِيبٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَجُلاً أَمَرَ غُلاَمًا لَهُ أَنْ يَسْنُوَ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ، فَنَامَ الْغُلاَمُ، فَجَاءَ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ فَأَلْقَاهَا فِي وَجْهِهِ، فَتَرَدَّى الْغُلاَمُ فِي بِئْرٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَرَأَى الَّذِي فِي وَجْهِهِ، فَأَعْتَقَهُ‏.‏
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کو اپنے اونٹ پر پانی لانے کا حکم دیا لیکن غلام سو گیا (اور پانی نہ لایا) تو اس نے آگ کا ایک شعلہ لا کر اس کے چہرے پر ڈال دیا۔ غلام (گھبرا کر بھاگا تو) ایک کنویں میں گر گیا۔ جب صبح ہوئی تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا (اور صورتِ حال بتائی) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب اس کا چہرہ دیکھا تو اسے آزاد کر دیا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه عبدالرزاق: 17928»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. بَابُ بَيْعِ الْخَادِمِ مِنَ الأعْرَابِ
غلام یا باندی کو گنواروں کے ہاتھ فروخت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 162
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَمْرَةَ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَبَّرَتْ أَمَةً لَهَا، فَاشْتَكَتْ عَائِشَةُ، فَسَأَلَ بَنُو أَخِيهَا طَبِيبًا مِنَ الزُّطِّ، فَقَالَ‏:‏ إِنَّكُمْ تُخْبِرُونِي عَنِ امْرَأَةٍ مَسْحُورَةٍ، سَحَرَتْهَا أَمَةٌ لَهَا، فَأُخْبِرَتْ عَائِشَةُ، قَالَتْ‏:‏ سَحَرْتِينِي‏؟‏ فَقَالَتْ‏:‏ نَعَمْ، فَقَالَتْ‏:‏ وَلِمَ‏؟‏ لاَ تَنْجَيْنَ أَبَدًا، ثُمَّ قَالَتْ‏:‏ بِيعُوهَا مِنْ شَرِّ الْعَرَبِ مَلَكَةً‏.‏
سیدہ عمرہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک لونڈی کو مدبر کر دیا۔ بعد ازاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار پڑ گئیں تو ان کے بھتیجوں نے ایک عجمی طبیب سے دریافت کیا (کہ انہیں اس طرح تکلیف ہے)، اس نے کہا کہ تم جس عورت کی بات کرتے ہو وہ تو سحر زدہ ہے، جس پر اس کی لونڈی نے جادو کیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا گیا تو انہوں نے اس لونڈی سے پوچھا: تو نے مجھ پر جادو کیا ہے؟ تو اس نے کہا: ہاں! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اب تو غلامی سے کبھی نجات نہیں پائے گی، پھر فرمایا: اسے عرب کے اس قبیلے کے ہاتھ فروخت کر دو جن کا سلوک غلاموں کے ساتھ سب سے برا ہو۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 162]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مالك فى الموطأ رواية أبى مصعب: 2782 و أحمد: 24126 و عبدالرزاق: 140/6 و الحاكم: 219/4 و البيهقي فى الكبريٰ: 236/8»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. بَابُ الْعَفْوِ عَنِ الْخَادِمِ
خادم سے درگزر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 163
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا أَبُو غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ‏:‏ أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ غُلامَانِ، فَوَهَبَ أَحَدُهُمَا لِعَلِيٍّ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ، وَقَالَ‏:‏ ”لَا تَضْرِبْهُ، فَإِنِّي نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلاَةِ، وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مُنْذُ أَقْبَلْنَا“، وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ غُلاَمًا، وَقَالَ‏:‏ ”اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا“، فَأَعْتَقَهُ، فَقَالَ‏:‏ ”مَا فَعَلَ‏؟“‏ قَالَ‏:‏ أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِي بِهِ خَيْرًا فَأَعْتَقْتُهُ‏.‏
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ آپ کے ساتھ دو غلام تھے۔ ان میں سے ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا اور نصیحت کی: اسے مارنا نہیں ہے کیونکہ مجھے نمازی (مسلمان) غلاموں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے، اور یہ جب سے ہمارے پاس آیا ہے میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ اور ایک غلام سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور یوں نصیحت فرمائی: اس کے بارے میں اچھائی کی وصیت قبول کرو۔ تو انہوں نے اسے آزاد کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تو نے اس غلام کا کیا کیا؟ انہوں نے عرض کیا: آپ نے مجھے اس کے بارے میں حسنِ سلوک کی وصیت قبول کرنے کا حکم دیا تو میں نے اسے آزاد کر دیا۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 163]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه أحمد: 22154 و الطبراني فى الكبير: 275/8 و محمد بن نصر فى تعظيم قدر الصلاة مختصرًا: 977 و البيهقي فى شعب الإيمان نحوه: 292/4 - الصحيحة: 1428»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 164
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ‏:‏ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ لَهُ خَادِمٌ، فَأَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي حَتَّى أَدْخَلَنِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ‏:‏ يَا نَبِيَّ اللهِ، إِنَّ أَنَسًا غُلاَمٌ كَيِّسٌ لَبِيبٌ، فَلْيَخْدُمْكَ‏.‏ قَالَ‏:‏ فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ حَتَّى تُوُفِّيَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُ‏:‏ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا‏؟‏ وَلاَ قَالَ لِي لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ‏:‏ أَلاَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا‏؟‏‏.‏
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی خادم نہیں تھا، چنانچہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے نبی! انس بڑا ذہین و فطین اور ہوشیار بچہ ہے، لہٰذا یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے وفات تک حضر وسفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میرے کسی (نامناسب) کام پر یہ نہیں کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ اور نہ میرے کسی کام کے سر انجام نہ دینے پر یہ کہا کہ تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، الوصايا، باب استخدام اليتيم فى السفر و الحضر: 2768، 6038 و مسلم: 2309»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. بَابُ إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ
غلام اگر چوری کرے تو (اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 165
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”إِذَا سَرَقَ الْمَمْلُوكُ بِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ“، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ‏:‏ النَّشُّ‏:‏ عِشْرُونَ‏.‏ وَالنَّوَاةُ‏:‏ خَمْسَةٌ‏.‏ وَالأُوقِيَّةُ‏:‏ أَرْبَعُونَ‏.‏
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ ڈالو خواہ ایک نش (بیس درہم) کا بکے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نش بیس درہم کا، نواة پانچ درہم کا، اور اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه النسائي، كتاب قطع السارق، باب القطع فى السفر: 4983 و أبوداؤد: 4412 و ابن ماجة: 2589 - المشكاة: 3606»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں