🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
87. بَابُ الْخَادِمِ يُذْنِبُ
غلام یا باندی سے گناہ ہو جائے تو کیا کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 166
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَفَعَ الرَّاعِي فِي الْمُرَاحِ سَخْلَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”لاَ تَحْسِبَنَّ، وَلَمْ يَقُلْ‏:‏ لاَ تَحْسَبَنَّ إِنَّ لَنَا غَنَمًا مِئَةً لاَ نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ، فَإِذَا جَاءَ الرَّاعِي بِسَخْلَةٍ ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً“، فَكَانَ فِيمَا قَالَ‏:‏ ”لاَ تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ أَمَتَكَ، وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ، إِلاَّ أَنْ تَكُونَ صَائِمًا‏.‏“
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور چرواہے نے بکری کا ایک بچہ باڑے میں داخل کیا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا) اور فرمایا: تم کچھ خیال نہ کرنا۔ ہماری سو بکریاں ہیں، ہم انہیں سو سے نہیں بڑھنے دیتے۔ جب چرواہا کوئی نیا پیدا شدہ بچہ لاتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر لیتے ہیں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو باتیں ارشاد فرمائیں ان میں یہ بھی تھا: اپنی بیوی کو لونڈی کی طرح نہ مارو، اور وضو کرتے وقت ناک میں پانی چڑھاتے ہوئے خوب مبالغہ کرو الا یہ کہ تم روزے سے ہو (تو پھر مبالغہ نہ کرو)۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه أبوداؤد، الطهارة، باب فى الاستنشار: 142 - أخرجه الحاكم فى المستدرك: 148/1 و وافقه الذهبي»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. بَابُ مَنْ خَتَمَ عَلَى خَادِمِهِ مَخَافَةَ سُوءِ الظَّنِّ
مال پر مہر لگا دینا تاکہ خادم کے بارے میں بدگمانی پیدا نہ ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 167
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلْدَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ‏:‏ كُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نَخْتِمَ عَلَى الْخَادِمِ، وَنَكِيلَ، وَنَعُدَّهَا، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَعَوَّدُوا خُلُقَ سُوءٍ، أَوْ يَظُنَّ أَحَدُنَا ظَنَّ سُوءٍ‏.‏
ابو العالیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ سامان پر مہر لگا دیں، اور سامان کو ماپ لیں، اور گنتی کر لیں تاکہ خادموں کو برے اخلاق (چوری اور خیانت) کی عادت نہ پڑے، یا ہمیں ان کے بارے میں بدگمانی پیدا نہ ہو۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه المروزي فى البر و الصلة: 352»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
89. بَابُ مَنْ عَدَّ عَلَى خَادِمِهِ مَخَافَةَ سُوءِ الظَّنِّ
خادم کے بارے میں بدگمانی سے بچنے کے لیے سامان گن کر رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 168
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ‏:‏ إِنِّي لَأَعُدُّ الْعُرَاقَ عَلَى خَادِمِي مَخَافَةَ الظَّنِّ‏.‏
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں معمولی گوشت والی ہڈیاں بھی گن کر رکھتا ہوں تاکہ خادم کے بارے میں بدگمانی پیدا نہ ہو (کہ اس نے چرا لیا ہے)۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 168]
تخریج الحدیث: «صحيح: انظر ما بعده»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 169
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ‏:‏ أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ مُضَرِّبٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ سَلْمَانَ‏:‏ إِنِّي لَأَعُدُّ الْعُرَاقَ خَشْيَةَ الظَّنِّ‏.‏
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: میں بدگمانی سے بچنے کے لیے معمولی گوشت والی ہڈیاں بھی گن لیتا ہوں۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 169]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه ابن الجعد فى مسنده: 371/1 و ابن سعد فى الطبقات: 67/4 و الخرائطي فى مكارم الاخلاق: 160/1 و أبونعيم فى الحلية: 202/1 و البيهقي فى شعب الإيمان: 6709»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. بَابُ أَدَبِ الْخَادِمِ
خادم کو ادب سکھانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 170
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ قَالَ‏:‏ أَرْسَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ غُلاَمًا لَهُ بِذَهَبٍ أَوْ بِوَرِقٍ، فَصَرَفَهُ، فَأَنْظَرَ بِالصَّرْفِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَجَلَدَهُ جَلْدًا وَجِيعًا وَقَالَ‏:‏ اذْهَبْ، فَخُذِ الَّذِي لِي، وَلاَ تَصْرِفْهُ‏.‏
یزید بن عبداللہ بن قسیط سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کسی غلام کو سونا یا چاندی دے کر بھیجا۔ اس نے بیع صرف کی تو اس میں ادھار کر لیا۔ جب واپس آیا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی سخت پٹائی کی اور فرمایا: جاؤ، میری چیز واپس لے آؤ اور بیع صرف نہ کرو۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: «حسن:» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ‏:‏ كُنْتُ أَضْرِبُ غُلاَمًا لِي، فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا‏:‏ ”اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ“، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، فَهُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ، فَقَالَ‏:‏ ”أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَمَسَّتْكَ النَّارُ أَوْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ‏.‏“
سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا کہ اچانک اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی: ابو مسعود! جان لو کہ اللہ تجھ پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس پر رکھتے ہو۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا نہ کرتے تو تجھے ضرور جہنم کی آگ چھوتی۔ یا فرمایا: آگ تجھے ضرور اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 171]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الإيمان، باب صحبة المماليك: 1659 و أبوداؤد: 5159 و الترمذي: 1948»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. بَابُ لاَ تَقُلْ‏:‏ ”قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَهُ“
”اللہ اس کا چہرہ بگاڑ دے“ کہنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 172
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”لَا تَقُولُوا‏:‏ قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَهُ‏.‏“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کسی کو یوں نہ کہو: اللہ تعالیٰ اسے بدصورت اور بھدا کر دے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 172]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه أحمد: 7420 - الصحيحة: 862»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 173
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ لاَ تَقُولَنَّ‏:‏ قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صُورَتِهِ‏.‏
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ تم ہرگز ایسا نہ کہو: اللہ تیری شکل وصورت بگاڑ دے اور اس کا چہرہ بھی بدصورت کر دے جس کی شکل تجھ سے ملتی جلتی ہے، کیونکہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو ان کی خاص صورت پر پیدا فرمایا ہے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: «حسن: أخرجه أحمد: 9604 و الحميدي: 1153 و السنة لابن أبى عاصم: 227/1 - الصحيحة: 812»
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. بَابُ لِيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ فِي الضَّرْبِ
چہرے پر مارنے سے اجتناب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 174
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي أَبِي، وَسَعِيدٌ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ‏.‏“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے تو اسے چہرے پر مارنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 174]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه البخاري، كتاب العتق، باب إذا ضرب العبد فليجتنب الوجه: 2559 و مسلم: 2612»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 175
حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ‏:‏ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَابَّةٍ قَدْ وُسِمَ يُدَخِّنُ مَنْخِرَاهُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا، لاَ يَسِمَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ وَلاَ يَضْرِبَنَّهُ‏.‏“
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جانور کے پاس سے گزرے جسے داغا گیا تھا اور اس کے نتھنوں سے داغنے کی وجہ سے دھواں نکل رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ کیا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو، کوئی شخص ہرگز چہرے پر نہ داغے، اور نہ اس پر مارے۔ [الادب المفرد/كتاب/حدیث: 175]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه مسلم، اللباس و الزينة: 2117، 2116 و أبوداؤد: 2564 و الترمذي: 1710 - الصحيحة: 2149»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں