صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
59. بَابُ الصَّلاَةِ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ:
باب: سفر سے واپسی پر نماز پڑھنے کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 443
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ مِسْعَرٌ: أُرَاهُ قَالَ: ضُحًى، فَقَالَ:" صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لِي عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَانِي وَزَادَنِي".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے، کہا ہم سے محارب بن دثار نے جابر بن عبداللہ کے واسطہ سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے۔ مسعر نے کہا میرا خیال ہے کہ محارب نے چاشت کا وقت بتایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (پہلے) دو رکعت نماز پڑھ اور میرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرض تھا۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا اور زیادہ ہی دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 443]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ یہ چاشت کا وقت تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا: ”دو رکعت نماز پڑھ لو۔“ میرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے قرض تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا فرمایا اور مجھے قرض سے زیادہ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 443]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
60. بَابُ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ:
باب: جب کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 444
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے عامر بن عبداللہ بن زبیر سے یہ خبر پہنچائی، انہوں نے عمرو بن سلیم زرقی کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوقتادہ سلمی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 444]
حضرت ابوقتادہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے قبل دو رکعت ضرور پڑھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 444]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
61. بَابُ الْحَدَثِ فِي الْمَسْجِدِ:
باب: مسجد میں ریاح (ہوا) خارج کرنا۔
حدیث نمبر: 445
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ، مَا لَمْ يُحْدِثْ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہ کہا ہمیں مالک نے ابوالزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک تم اپنے مصلے پر جہاں تم نے نماز پڑھی تھی، بیٹھے رہو اور ریاح خارج نہ کرو تو ملائکہ تم پر برابر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں «اللهم اغفر له اللهم ارحمه» ” اے اللہ! اس کی مغفرت کیجیئے، اے اللہ! اس پر رحم کیجیئے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 445]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک تم اپنے مصلے پر رہو جہاں تم نے نماز پڑھی تھی اور ریاح بھی خارج نہ کرو تو ملائکہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں کہ «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ» ”اے اللہ! اس کی مغفرت فرما دے،“ «اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ» ”اے اللہ! اس پر رحم فرما۔““ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 445]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
62. بَابُ بُنْيَانِ الْمَسْجِدِ:
باب: مسجد کی عمارت۔
حدیث نمبر: Q446
وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: كَانَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ، وَأَمَرَ عُمَرُ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، وَقَالَ: أَكِنَّ النَّاسَ مِنَ الْمَطَرِ وَإِيَّاكَ أَنْ تُحَمِّرَ أَوْ تُصَفِّرَ فَتَفْتِنَ النَّاسَ، وَقَالَ أَنَسٌ: يَتَبَاهَوْنَ بِهَا ثُمَّ لَا يَعْمُرُونَهَا إِلَّا قَلِيلًا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى.
ابوسعید نے کہا کہ مسجد نبوی کی چھت کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کی تعمیر کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں لوگوں کو بارش سے بچانا چاہتا ہوں اور مسجدوں پر سرخ (لال)، زرد رنگ، مت کرو کیونکہ اس سے لوگ فتنہ میں پڑ جائیں گے۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ (اس طرح پختہ بنوانے سے) لوگ مساجد پر فخر کرنے لگیں گے۔ مگر ان کو آباد بہت کم لوگ کریں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تم بھی مساجد کی اسی طرح زبیائش کرو گے جس طرح یہود و نصاریٰ نے کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: Q446]
حدیث نمبر: 446
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ،" أَنَّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ، وَسَقْفُهُ الْجَرِيدُ، وَعُمُدُهُ خَشَبُ النَّخْلِ، فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ شَيْئًا، وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ، وَبَنَاهُ عَلَى بُنْيَانِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ وَأَعَادَ عُمُدَهُ خَشَبًا، ثُمَّ غَيَّرَهُ عُثْمَانُ فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنْقُوشَةِ وَالْقَصَّةِ وَجَعَلَ عُمُدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ وَسَقَفَهُ بِالسَّاجِ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد ابراہیم بن سعید نے صالح بن کیسان کے واسطے سے، ہم سے نافع نے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد نبوی کچی اینٹوں سے بنائی گئی تھی۔ اس کی چھت کھجور کی شاخوں کی تھی اور ستون اسی کی کڑیوں کے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کسی قسم کی زیادتی نہیں کی۔ البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے بڑھایا اور اس کی تعمیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی بنیادوں کے مطابق کچی اینٹوں اور کھجوروں کی شاخوں سے کی اور اس کے ستون بھی کڑیوں ہی کے رکھے۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی عمارت کو بدل دیا اور اس میں بہت سی زیادتی کی۔ اس کی دیواریں منقش پتھروں اور گچھ سے بنائیں۔ اس کے ستون بھی منقش پتھروں سے بنوائے اور چھت ساگوان سے بنائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 446]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسجد نبوی کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی، چھت پر کھجور کی ڈالیاں تھیں اور ستون بھی کھجور کی لکڑی کے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس میں کوئی اضافہ نہ کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں توسیع ضرور کی لیکن عمارت اسی طرح کی رکھی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھی، یعنی کچی اینٹیں، ڈالیاں اور ستون کھجور کی لکڑی کے بنائے گئے۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس میں تبدیلی کر کے بہت توسیع فرمائی، یعنی اس کی دیواریں منقش پتھروں اور چونے سے بنوائیں، ستون بھی منقش پتھروں کے بنائے اور اس کی چھت ساگوان سے تیار کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 446]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
63. بَابُ التَّعَاوُنِ فِي بِنَاءِ الْمَسْجِدِ:
باب: مسجد بنانے میں مدد کرنا (یعنی اپنی جان و مال سے حصہ لینا کار ثواب ہے)۔
حدیث نمبر: Q447
مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ أُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ {17} إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ {18} سورة التوبة آية 17-18
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ” مشرکین کے لیے لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی تعمیر میں حصہ لیں “ الآیہ۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: Q447]
حدیث نمبر: 447
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ وَلِابْنِهِ عَلِيٍّ: انْطَلِقَا إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيثِهِ، فَانْطَلَقْنَا فَإِذَا هُوَ فِي حَائِطٍ يُصْلِحُهُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَاحْتَبَى، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى أَتَى ذِكْرُ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: كُنَّا نَحْمِلُ لَبِنَةً لَبِنَةً، وَعَمَّارٌ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ فرآه النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْفُضُ التُّرَابَ عَنْهُ، وَيَقُولُ:" وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ"، قَالَ: يَقُولُ عَمَّارٌ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے عکرمہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے اور اپنے صاحبزادے علی سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جاؤ اور ان کی احادیث سنو۔ ہم گئے۔ دیکھا کہ ابوسعید رضی اللہ عنہ اپنے باغ کو درست کر رہے تھے۔ ہم کو دیکھ کر آپ نے اپنی چادر سنبھالی اور گوٹ مار کر بیٹھ گئے۔ پھر ہم سے حدیث بیان کرنے لگے۔ جب مسجد نبوی کے بنانے کا ذکر آیا تو آپ نے بتایا کہ ہم تو (مسجد کے بنانے میں حصہ لیتے وقت) ایک ایک اینٹ اٹھاتے۔ لیکن عمار دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ان کے بدن سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمایا، افسوس! عمار کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔ جسے عمار جنت کی دعوت دیں گے اور وہ جماعت عمار کو جہنم کی دعوت دے رہی ہو گی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمار رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 447]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے اپنے شاگرد عکرمہ رحمہ اللہ اور اپنے لخت جگر علی رحمہ اللہ سے کہا: تم دونوں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے احادیث سنو، چنانچہ وہ دونوں گئے تو دیکھا کہ وہ ایک باغ میں ہیں اور اسے درست کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی چادر لی اور اسے کمر سے گھٹنوں تک لپیٹ کر بیٹھ گئے اور احادیث سنانے لگے حتی کہ مسجد نبوی کی تعمیر کا ذکر آیا تو فرمایا: ہم ایک ایک اینٹ اٹھاتے تھے جبکہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ دو، دو اینٹیں اٹھا کر لا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان کے جسم سے مٹی جھاڑتے ہوئے فرمانے لگے: ”عمار کی حالت قابل رحم ہے، انہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ یہ انہیں جنت کی دعوت دیں گے اور وہ انہیں جہنم کی طرف بلائیں گے۔“ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: حضرت عمار رضی اللہ عنہ (یہ سن کر اکثر) کہا کرتے تھے: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ» ”میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 447]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
64. بَابُ الاِسْتِعَانَةِ بِالنَّجَّارِ وَالصُّنَّاعِ فِي أَعْوَادِ الْمِنْبَرِ وَالْمَسْجِدِ:
باب: بڑھئی اور کاریگر سے مسجد کی تعمیر میں اور منبر کے تختوں کو بنوانے میں مدد حاصل کرنا (جائز ہے)۔
حدیث نمبر: 448
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ، يَعْمَلْ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ کہا ہم سے عبدالعزیز نے ابوحازم کے واسطہ سے، انہوں نے سہل رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے پاس ایک آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے کہے کہ میرے لیے (منبر) لکڑیوں کے تختوں سے بنا دے جن پر میں بیٹھا کروں۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 448]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کے ہاں آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے کہے کہ ”وہ میرے لیے لکڑی کے تختوں سے منبر بنا دے جس پر میں بیٹھا کروں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 448]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 449
حَدَّثَنَا خَلَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَجْعَلُ لَكَ شَيْئًا تَقْعُدُ عَلَيْهِ فَإِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا، قَالَ:" إِنْ شِئْتِ فَعَمِلَتِ الْمِنْبَرَ".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے اپنے والد کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز نہ بنا دوں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کریں۔ میرا ایک بڑھئی غلام بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے تو منبر بنوا دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 449]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز نہ بنا دوں جس پر آپ بیٹھا کریں؟ اس لیے کہ میرا ایک غلام بڑھئی کا کام کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہتی ہو تو بنوا دو۔“ چنانچہ اس نے منبر بنوا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 449]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
65. بَابُ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا:
باب: جس نے مسجد بنائی اس کے اجر و ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 450
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ الْخَوْلَانِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَى مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ أَكْثَرْتُمْ، وَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ بَنَى مَسْجِدًا، قَالَ بُكَيْرٌ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ".
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے بکیر بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عاصم بن عمرو بن قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن اسود خولانی سے سنا، انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا کہ مسجد نبوی کی تعمیر کے متعلق لوگوں کی باتوں کو سن کر آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے بہت زیادہ باتیں کی ہیں۔ حالانکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جس نے مسجد بنائی بکیر (راوی) نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا ہو، تو اللہ تعالیٰ ایسا ہی ایک مکان جنت میں اس کے لیے بنائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 450]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب انہوں نے مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی تو لوگ اس کے متعلق مختلف باتیں کرنے لگے۔ تب انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص مسجد بنائے اور اس کا مقصود محض اللہ کو راضی کرنا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس جیسا گھر جنت میں بنا دیتا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 450]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة