صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ إِذَا أَصَابَ قَوْمٌ مِنْ رَجُلٍ هَلْ يُعَاقِبُ أَوْ يَقْتَصُّ مِنْهُمْ كُلِّهِمْ:
باب: اگر کئی آدمی ایک شخص کو قتل کر دیں تو کیا قصاص میں سب کو قتل کیا جائے گا یا قصاص لیا جائے گا؟
حدیث نمبر: Q6896
وَقَالَ مُطَرِّفٌ: عَنِ الشَّعْبِيِّ، فِي: رَجُلَيْنِ شَهِدَا عَلَى رَجُلٍ أَنَّهُ سَرَقَ، فَقَطَعَهُ عَلِيٌّ، ثُمَّ جَاءَا بِآخَرَ، وَقَالَا: أَخْطَأْنَا، فَأَبْطَلَ شَهَادَتَهُمَا، وَأُخِذَا بِدِيَةِ الْأَوَّلِ، وَقَالَ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمَا تَعَمَّدْتُمَا لَقَطَعْتُكُمَا.
اور مطرف نے شعبی سے بیان کیا کہ دو آدمیوں نے ایک شخص کے متعلق گواہی دی کہ اس نے چوری کی ہے تو علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہی دونوں ایک دوسرے شخص کو لائے اور کہا کہ ہم سے غلطی ہو گئی تھی (اصل میں چور یہ تھا) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان کی شہادت کو باطل قرار دیا اور ان سے پہلے کا (جس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا) خون بہا لیا اور کہا کہ اگر مجھے یقین ہوتا کہ تم لوگوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے تو میں تم دونوں کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: Q6896]
حدیث نمبر: 6896
وَقَالَ لِي ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ غُلَامًا قُتِلَ غِيلَةً، فَقَالَ عُمَرُ: لَوِ اشْتَرَكَ فِيهَا أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ، وَقَالَ مُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، إِنَّ أَرْبَعَةً قَتَلُوا صَبِيًّا، فَقَالَ عُمَرُ مِثْلَهُ، وَأَقَادَ أَبُو بَكْرٍ، وَابْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَلِيٌّ، وَسُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ مِنْ لَطْمَةٍ، وَأَقَادَ عُمَرُ مِنْ ضَرْبَةٍ بِالدِّرَّةِ، وَأَقَادَ عَلِيٌّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَسْوَاطٍ، وَاقْتَصَّ شُرَيْحٌ مِنْ سَوْطٍ وَخُمُوشٍ.
اور مجھ سے ابن بشار نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک لڑکے اصیل نامی کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سارے اہل صنعاء (یمن کے لوگ) اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کرا دیتا۔ اور مغیرہ بن حکیم نے اپنے والد سے بیان کیا کہ چار آدمیوں نے ایک بچے کو قتل کر دیا تھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات فرمائی تھی۔ ابوبکر، ابن زبیر، علی اور سوید بن مقرن رضی اللہ عنہما نے چانٹے کا بدلہ دلوایا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے درے کی جو مار ایک شخص کو ہوئی تھی اس کا بدلہ لینے کے لیے فرمایا اور علی رضی اللہ عنہ نے تین کوڑوں کا قصاص لینے کا حکم دیا اور شریح نے کوڑے اور خراش لگانے کی سزا دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6896]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک لڑکے کو دھوکے سے قتل کر دیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر اس قتل میں صنعاء کے تمام لوگ شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کر دیتا۔“ مغیرہ بن حکیم نے اپنے والد سے بیان کیا کہ چار مردوں نے مل کر ایک بچے کو قتل کر دیا تو اس موقع پر بھی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہی بات فرمائی تھی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ نے طمانچہ کی وجہ سے قصاص دلایا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے درہ مارنے کا قصاص لیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین کوڑے مارنے کا قصاص لیا اور قاضی شریح رحمہ اللہ نے کوڑے مارنے اور خراش لگانے کی سزا دی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6896]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6897
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ" لَدَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ وَجَعَلَ يُشِيرُ إِلَيْنَا لَا تَلُدُّونِي، قَالَ: فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ بِالدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: أَلَمْ أَنْهَكُمْ أَنْ تَلُدُّونِي، قَالَ: قُلْنَا: كَرَاهِيَةٌ لِلدَّوَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبْقَى مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا لُدَّ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَّا الْعَبَّاسَ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے، ان سے سفیان نے، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں آپ کے منہ میں زبردستی دوا ڈالی۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرتے رہے کہ دوا نہ ڈالی جائے لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض کو دوا سے جو نفرت ہوتی ہے (اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں) پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو فرمایا۔ میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ دوا نہ ڈالو۔ بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے دوا سے ناگواری کی وجہ سے ایسا کیا ہو گا؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوا ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا سوائے عباس کے کیونکہ وہ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6897]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے وقت آپ کے منہ میں دوائی ڈالی تو آپ نے ہمیں اشارہ فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو۔“ ہم نے سمجھا کہ منع کرنا اس لیے ہے کہ بیمار کو دوا سے ناگواری ہوتی ہے، چنانچہ جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں دوائی ڈالنے سے روکا تھا؟“ ہم نے کہا: ہم یہ سمجھے تھے کہ دوا کی ناپسندیدگی کی وجہ سے آپ ایسا فرما رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک کے منہ میں دوائی ڈالی جائے اور میں دیکھتا رہوں گا، البتہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا جائے کیونکہ وہ تمہارے ساتھ شامل نہیں تھے۔““ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6897]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
22. بَابُ الْقَسَامَةِ:
باب: قسامت کا بیان۔
حدیث نمبر: Q6898
وَقَالَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: لَمْ يُقِدْ بِهَا مُعَاوِيَةُ، وَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى عَدِيِّ بْنِ أَرْطَاةَ، وَكَانَ أَمَّرَهُ عَلَى الْبَصْرَةِ، فِي قَتِيلٍ وُجِدَ عِنْدَ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ السَّمَّانِينَ، إِنْ وَجَدَ أَصْحَابُهُ بَيِّنَةً، وَإِلَّا فَلَا تَظْلِمِ النَّاسَ، فَإِنَّ هَذَا لَا يُقْضَى فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.
اور اشعث بن قیس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اپنے دو گواہ لاؤ ورنہ اس (مدعیٰ علیہ) کی قسم (پر فیصلہ ہو گا)“ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا قسامت میں معاویہ رضی اللہ عنہ نے قصاص نہیں لیا (صرف دیت دلائی) اور عمر بن عبدالعزیز نے عدی بن ارطاۃ کو جنہیں انہوں نے بصرہ کا امیر بنایا تھا ایک مقتول کے بارے میں جو تیل بیچنے والوں کے محلہ کے ایک گھر کے پاس پایا گیا تھا لکھا کہ اگر مقتول کے اولیاء کے پاس کوئی گواہی ہو (تو فیصلہ کیا جا سکتا ہے) ورنہ خلق اللہ پر ظلم نہ کرو کیونکہ ایسے معاملہ کا جس پر گواہ نہ ہوں قیامت تک فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: Q6898]
حدیث نمبر: 6898
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ:" أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، وَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، وَقَالُوا لِلَّذِي وُجِدَ فِيهِمْ: قَدْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا، قَالُوا: مَا قَتَلْنَا وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا، فَانْطَلَقُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ، فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلًا، فَقَالَ:" الْكُبْرَ الْكُبْرَ، فَقَالَ: لَهُمْ تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَهُ، قَالُوا: مَا لَنَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: فَيَحْلِفُونَ، قَالُوا: لَا نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن عبید نے بیان کیا، ان سے بشیر بن یسار نے، وہ کہتے تھے کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب سہل بن ابی حثمہ نے انہیں خبر دی کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے اور (اپنے اپنے کاموں کے لیے) مختلف جگہوں میں الگ الگ گئے پھر اپنے میں کے ایک شخص کو مقتول پایا۔ جنہیں وہ مقتول ملے تھے، ان سے ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی کو تم نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہمیں قاتل کا پتہ معلوم ہے؟ پھر یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: یا رسول اللہ! ہم خیبر گئے اور پھر ہم نے وہاں اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں جو بڑا ہے وہ بات کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قاتل کے خلاف گواہی لاؤ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی گواہی نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ (یہودی) قسم کھائیں گے (اور ان کی قسم پر فیصلہ ہو گا) انہوں نے کہا کہ یہودیوں کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند نہیں فرمایا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے چنانچہ آپ نے صدقہ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ (خود ہی) دیت میں دیئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6898]
حضرت بشیر بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ انصار کے ایک صاحب حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ان کی قوم کے چند لوگ خیبر گئے اور وہاں انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا۔ جہاں مقتول ملا تھا وہاں کے لوگوں سے انہوں نے کہا: ”تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہم قاتل ہی کو جانتے ہیں۔“ پھر یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم خیبر گئے تھے، وہاں ہم نے اپنے میں سے ایک مقتول کو پایا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو بڑا ہے وہ بات کرے۔“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس پر گواہ پیش کرو جس نے قتل کیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”ہمارے پاس اس کے متعلق کوئی گواہ نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اگر تمہارے پاس گواہ نہیں) تو وہ (یہودی) قسم کھائیں گے۔“ انہوں نے کہا: ”ان (یہود) کی قسم پر ہمیں اعتماد نہیں“، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند نہ فرمایا کہ مقتول کا خون رائیگاں جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کے اونٹوں میں سے اونٹ دیت میں دیے۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6898]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6899
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ مِنْ آلِ أَبِي قِلَابَةَ،حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبْرَزَ سَرِيرَهُ يَوْمًا لِلنَّاسِ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُمْ، فَدَخَلُوا، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِي الْقَسَامَةِ؟، قَالَ: نَقُولُ: الْقَسَامَةُ الْقَوَدُ بِهَا حَقٌّ، وَقَدْ أَقَادَتْ بِهَا الْخُلَفَاءُ، قَالَ لِي: مَا تَقُولُ يَا أَبَا قِلَابَةَ؟، وَنَصَبَنِي لِلنَّاسِ، فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ: عِنْدَكَ رُءُوسُ الْأَجْنَادِ وَأَشْرَافُ الْعَرَبِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ مُحْصَنٍ بِدِمَشْقَ أَنَّهُ قَدْ زَنَى لَمْ يَرَوْهُ، أَكُنْتَ تَرْجُمُهُ؟، قَالَ: لَا، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ خَمْسِينَ مِنْهُمْ شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِحِمْصَ أَنَّهُ سَرَقَ، أَكُنْتَ تَقْطَعُهُ وَلَمْ يَرَوْهُ؟، قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَوَاللَّهِ" مَا قَتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: رَجُلٌ قَتَلَ بِجَرِيرَةِ نَفْسِهِ فَقُتِلَ، أَوْ رَجُلٌ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ رَجُلٌ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ"، فَقَالَ الْقَوْمُ: أَوَلَيْسَ قَدْ حَدَّثَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَطَعَ فِي السَّرَقِ، وَسَمَرَ الْأَعْيُنَ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَقُلْتُ: أَنَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثَ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ ثَمَانِيَةً قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعُوهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَاسْتَوْخَمُوا الْأَرْضَ، فَسَقِمَتْ أَجْسَامُهُمْ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَفَلَا تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِينَا فِي إِبِلِهِ فَتُصِيبُونَ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، قَالُوا: بَلَى، فَخَرَجُوا، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَصَحُّوا، فَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَطْرَدُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُدْرِكُوا، فَجِيءَ بِهِمْ، فَأَمَرَ بِهِمْ، فَقُطِّعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، ثُمَّ نَبَذَهُمْ فِي الشَّمْسِ حَتَّى مَاتُوا، قُلْتُ: وَأَيُّ شَيْءٍ أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ، ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَقَتَلُوا، وَسَرَقُوا، فَقَالَ عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ: وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ، فَقُلْتُ: أَتَرُدُّ عَلَيَّ حَدِيثِي يَا عَنْبَسَةُ، قَالَ، لَا، وَلَكِنْ جِئْتَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ، وَاللَّهِ لَا يَزَالُ هَذَا الْجُنْدُ بِخَيْرٍ مَا عَاشَ هَذَا الشَّيْخُ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، قُلْتُ: وَقَدْ كَانَ فِي هَذَا سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَتَحَدَّثُوا عِنْدَهُ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، فَقُتِلَ، فَخَرَجُوا بَعْدَهُ، فَإِذَا هُمْ بِصَاحِبِهِمْ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَاحِبُنَا كَانَ تَحَدَّثَ مَعَنَا، فَخَرَجَ بَيْنَ أَيْدِينَا فَإِذَا نَحْنُ بِهِ يَتَشَحَّطُ فِي الدَّمِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: بِمَنْ تَظُنُّونَ أَوْ مَنْ تَرَوْنَ قَتَلَهُ؟ قَالُوا: نَرَى أَنَّ الْيَهُودَ قَتَلَتْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْيَهُودِ فَدَعَاهُمْ، فَقَالَ: أَنْتُمْ قَتَلْتُمْ هَذَا؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: أَتَرْضَوْنَ نَفَلَ خَمْسِينَ مِنَ الْيَهُودِ مَا قَتَلُوهُ؟، فَقَالُوا: مَا يُبَالُونَ أَنْ يَقْتُلُونَا أَجْمَعِينَ ثُمَّ يَنْتَفِلُونَ، قَالَ: أَفَتَسْتَحِقُّونَ الدِّيَةَ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ؟"، قَالُوا: مَا كُنَّا لِنَحْلِفَ، فَوَدَاهُ مِنْ عِنْدِهِ، قُلْتُ: وَقَدْ كَانَتْ هُذَيْلٌ خَلَعُوا خَلِيعًا لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَطَرَقَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْيَمَنِ بِالْبَطْحَاءِ، فَانْتَبَهَ لَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَحَذَفَهُ بِالسَّيْفِ، فَقَتَلَهُ، فَجَاءَتْ هُذَيْلٌ، فَأَخَذُوا الْيَمَانِيَّ، فَرَفَعُوهُ إِلَى عُمَرَ بِالْمَوْسِمِ، وَقَالُوا: قَتَلَ صَاحِبَنَا، فَقَالَ: إِنَّهُمْ قَدْ خَلَعُوهُ، فَقَالَ: يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْ هُذَيْلٍ مَا خَلَعُوهُ، قَالَ: فَأَقْسَمَ مِنْهُمْ تِسْعَةٌ وَأَرْبَعُونَ رَجُلًا، وَقَدِمَ رَجُلٌ مِنْهُمْ مِنَ الشَّأْمِ فَسَأَلُوهُ أَنْ يُقْسِمَ، فَافْتَدَى يَمِينَهُ مِنْهُمْ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَدْخَلُوا مَكَانَهُ رَجُلًا آخَرَ، فَدَفَعَهُ إِلَى أَخِي الْمَقْتُولِ، فَقُرِنَتْ يَدُهُ بِيَدِهِ، قَالُوا: فَانْطَلَقَا وَالْخَمْسُونَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا حَتَّى إِذَا كَانُوا بِنَخْلَةَ أَخَذَتْهُمُ السَّمَاءُ، فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي الْجَبَلِ، فَانْهَجَمَ الْغَارُ عَلَى الْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا، فَمَاتُوا جَمِيعًا، وَأَفْلَتَ الْقَرِينَانِ وَاتَّبَعَهُمَا حَجَرٌ، فَكَسَرَ رِجْلَ أَخِي الْمَقْتُولِ، فَعَاشَ حَوْلًا ثُمَّ مَاتَ، قُلْتُ: وَقَدْ كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ أَقَادَ رَجُلًا بِالْقَسَامَةِ، ثُمَّ نَدِمَ بَعْدَ مَا صَنَعَ، فَأَمَرَ بِالْخَمْسِينَ الَّذِينَ أَقْسَمُوا، فَمُحُوا مِنَ الدِّيوَانِ وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّأْمِ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبشر اسماعیل بن ابراہیم الاسدی نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن ابی عثمان نے بیان کیا، ان سے آل ابوقلابہ کے غلام ابورجاء نے بیان کیا اس نے کہا کہ مجھ سے ابوقلابہ نے بیان کیا کہ عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن دربار عام کیا اور سب کو اجازت دی۔ لوگ داخل ہوئے تو انہوں نے پوچھا: قسامہ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کسی نے کہا کہ قسامہ کے ذریعہ قصاص لینا حق ہے اور خلفاء نے اس کے ذریعہ قصاص لیا ہے۔ اس پر انہوں نے مجھ سے پوچھا: ابوقلابہ! تمہاری کیا رائے ہے؟ اور مجھے عوام کے ساتھ لا کھڑا کر دیا۔ میں نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! آپ کے پاس عرب کے سردار اور شریف لوگ رہتے ہیں آپ کی کیا رائے ہو گی اگر ان میں سے پچاس آدمی کسی دمشقی کے شادی شدہ شخص کے بارے میں زنا کی گواہی دیں جبکہ ان لوگوں نے اس شخص کو دیکھا بھی نہ ہو کیا آپ ان کی گواہی پر اس شخص کو رجم کر دیں گے۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ آپ کا کیا خیال ہے اگر انہیں (اشراف عرب) میں سے پچاس افراد حمص کے کسی شخص کے متعلق چوری کی گواہی دے دیں اس کو بغیر دیکھے تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟ فرمایا کہ نہیں۔ پھر میں نے کہا، پس اللہ کی قسم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو تین حالتوں کے سوا قتل نہیں کرایا۔ ایک وہ شخص جس نے کسی کو ظلماً قتل کیا ہو اور اس کے بدلے میں قتل کیا گیا ہو۔ دوسرا وہ شخص جس نے شادی کے بعد زنا کیا ہو۔ تیسرا وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی ہو اور اسلام سے پھر گیا ہو۔ لوگوں نے اس پر کہا، کیا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کے معاملہ میں ہاتھ پیر کاٹ دئیے تھے اور آنکھوں میں سلائی پھروائی تھی اور پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا تھا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سناتا ہوں۔ مجھ سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ منورہ کی آب و ہوا انہیں ناموافق ہوئی اور وہ بیمار پڑ گئے تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر کیوں نہیں تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں چلے جاتے اور اونٹوں کا دودھ اور ان کا پیشاب پیتے۔ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں۔ چنانچہ وہ نکل گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا اور صحت مند ہو گئے۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہنکا لے گئے۔ اس کی اطلاع جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، پھر وہ پکڑے گئے اور لائے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی پھر انہیں دھوپ میں ڈلوا دیا اور آخر وہ مر گئے۔ میں نے کہا کہ ان کے عمل سے بڑھ کر اور کیا جرم ہو سکتا ہے اسلام سے پھر گئے اور قتل کیا اور چوری کی۔ عنبہ بن سعید نے کہا میں نے آج جیسی بات کبھی نہیں سنی تھی۔ میں نے کہا: عنبہ! کیا تم میری حدیث رد کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں آپ نے یہ حدیث واقعہ کے مطابق بیان کر دی ہے۔ واللہ! اہل شام کے ساتھ اس وقت تک خیر و بھلائی رہے گی جب تک یہ شیخ (ابوقلابہ) ان میں موجود رہیں گے۔ میں نے کہا کہ اس قسامہ کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت ہے۔ انصار کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی پھر ان میں سے ایک صاحب ان کے سامنے ہی نکلے (خیبر کے ارادہ سے) اور وہاں قتل کر دئیے گئے۔ اس کے بعد دوسرے صحابہ بھی گئے اور دیکھا کہ ان کے ساتھ خون میں تڑپ رہے ہیں۔ ان لوگوں نے واپس آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی اور کہا: یا رسول اللہ! ہمارے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور اچانک وہ ہمیں (خیبر میں) خون میں تڑپتے ملے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور پوچھا کہ تمہارا کس پر شبہ ہے کہ انہوں نے ان کو قتل کیا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہودیوں نے ہی قتل کیا ہے پھر آپ نے یہودیوں کو بلا بھیجا اور ان سے پوچھا کیا تم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہوں نے انکار کر دیا تو آپ نے فرمایا، کیا تم مان جاؤ گے اگر پچاس یہودی اس کی قسم لیں کہ انہوں نے مقتول کو قتل نہیں کیا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یہ لوگ ذرا بھی پرواہ نہیں کریں گے کہ ہم سب کو قتل کرنے کے بعد پھر قسم کھا لیں (کہ قتل انہوں نے نہیں کیا ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا لیں اور خون بہا کے مستحق ہو جائیں۔ صحابہ نے عرض کیا: ہم بھی قسم کھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس سے خون بہا دیا (ابوقلابہ نے کہا کہ) میں نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اپنے ایک آدمی کو اپنے میں سے نکال دیا تھا پھر وہ شخص بطحاء میں یمن کے ایک شخص کے گھر رات کو آیا۔ اتنے میں ان میں سے کوئی شخص بیدار ہو گیا اور اس نے اس پر تلوار سے حملہ کر کے قتل کر دیا۔ اس کے بعد ہذیل کے لوگ آئے اور انہوں نے یمنی کو (جس نے قتل کیا تھا) پکڑا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے حج کے زمانہ میں اور کہا کہ اس نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ہے۔ یمنی نے کہا کہ انہوں نے اسے اپنی برادری سے نکال دیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب ہذیل کے پچاس آدمی اس کی قسم کھائیں کہ انہوں نے اسے نکالا نہیں تھا۔ بیان کیا کہ پھر ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسم کھائی پھر انہیں کے قبیلہ کا ایک شخص شام سے آیا تو انہوں نے اس سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قسم کھائے لیکن اس نے اپنی قسم کے بدلہ میں ایک ہزار درہم دے کر اپنا پیچھا قسم سے چھڑا لیا۔ ہذلیوں نے اس کی جگہ ایک دوسرے آدمی کو تیار کر لیا پھر وہ مقتول کے بھائی کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملایا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم پچاس جنہوں نے قسم کھائی تھی روانہ ہوئے۔ جب مقام نخلہ پر پہنچے تو بارش نے انہیں آیا۔ سب لوگ پہاڑ کے ایک غار میں گھس گئے اور غار ان پچاسوں کے اوپر گر پڑا۔ جنہوں نے قسم کھائی تھی اور سب کے سب مر گئے۔ البتہ دونوں ہاتھ ملانے والے بچ گئے۔ لیکن ان کے پیچھے سے ایک پتھر لڑھک کر گرا اور اس سے مقتول کے بھائی کی ٹانگ ٹوٹ گئی اس کے بعد وہ ایک سال اور زندہ رہا پھر مر گیا۔ میں نے کہا کہ عبدالملک بن مروان نے قسامہ پر ایک شخص سے قصاص لی تھی پھر اسے اپنے کئے ہوئے پر ندامت ہوئی اور اس نے ان پچاسوں کے متعلق جنہوں نے قسم کھائی تھی حکم دیا اور ان کے نام رجسٹر سے کاٹ دئیے گئے پھر انہوں نے شام بھیج دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6899]
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک دن دربارِ عام منعقد کیا اور سب لوگوں کو شامل ہونے کی اجازت دی۔ جب لوگ آئے تو انہوں نے پوچھا: ”قسامت کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”قسامت کے ذریعے سے قصاص لیا گیا ہے۔“ ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے کہا: ”اے قلابہ! تمہاری کیا رائے ہے؟“ مجھے انہوں نے عوام کے سامنے لا کھڑا کیا۔ میں نے کہا: ”اے امیر المومنین! آپ کے پاس عرب کے بڑے بڑے لوگ اور سردار موجود ہیں، آپ ہی بتائیں اگر ان میں سے پچاس آدمی دمشق میں رہنے والے کسی شادی شدہ شخص کے متعلق گواہی دیں کہ اس نے زنا کیا ہے جبکہ ان لوگوں نے اسے دیکھا ہی نہیں تو کیا ان کی گواہی پر آپ اس شخص کو سنگسار کر دیں گے؟“ امیر المومنین نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے کہا: ”آپ ہی بتائیں اگر ان میں سے پچاس آدمی حمص میں رہنے والے کسی شخص کے متعلق گواہی دیں کہ اس نے چوری کی ہے، حالانکہ انہوں نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو کیا آپ اس کا ہاتھ کاٹ دیں گے؟“ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: ”نہیں (ایسا تو نہیں ہوسکتا)۔“ پھر میں نے کہا: ”اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو تین حالتوں کے علاوہ قتل نہیں کیا: ایک وہ شخص جس نے کسی دوسرے کو ناحق قتل کیا ہو تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا، دوسرا وہ جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا ہو، تیسرا وہ جس نے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی اور دین اسلام سے برگشتہ ہو گیا (انہیں قتل کر دیا جائے گا)۔“ یہ بات سن کر لوگوں نے کہا: ”کیا حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان نہیں کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوری کے معاملے میں ہاتھ پاؤں کاٹ دیے تھے اور مجرموں کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر کر انہیں دھوپ میں ڈال دیا تھا؟“ حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ نے کہا: ”میں تمہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سناتا ہوں: مجھ سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل کے آٹھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی۔ انہیں مدینہ طیبہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی اور وہ بیمار ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”کیا تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اونٹوں کے باڑے میں نہیں چلے جاتے پھر تم وہاں ان کا دودھ اور پیشاب پیتے؟“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں؟“ چنانچہ وہ گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا تو صحت یاب ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے، چنانچہ انہیں گرفتار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ، پاؤں کاٹنے کا حکم دیا اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروا دیں، پھر انہیں دھوپ میں پھینک دیا حتیٰ کہ وہ مرگئے۔“ میں نے کہا: ”ان کے عمل سے بڑھ کر اور کیا جرم ہو سکتا ہے؟ وہ اسلام سے پھر گئے، انہوں نے قتل کیا اور چوری کے مرتکب ہوئے۔“ حضرت عنبسہ بن سعید رحمہ اللہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے آج جیسی بات کبھی نہیں سنی تھی۔“ میں نے کہا: ”اے عنبسہ! کیا تو میری بیان کردہ حدیث مسترد کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں، بلکہ تم نے یہ حدیث حقیقتِ حال کے مطابق بیان کی ہے۔ اللہ کی قسم! یہ لشکر اس وقت تک خیر و عافیت سے رہے گا جب تک یہ شیخ ان میں موجود رہیں گے۔“ میں نے کہا: ”قسامت کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کے کچھ لوگ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرتے رہے، پھر ان کے سامنے سے ان کا ایک شخص باہر نکلا اور وہاں قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد دوسرے لوگ باہر نکلے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا ساتھی خون میں تڑپ رہا ہے۔ ان لوگوں نے واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی خبر دی اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارا ساتھی ابھی ابھی ہمارے ساتھ گفتگو کر رہا تھا، وہ ہمارے سامنے (مقتول پڑا) ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور پوچھا: ”تمہیں کس پر شبہ ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ہمارے خیال کے مطابق اسے یہودیوں نے قتل کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ یہودیوں میں سے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ انہوں نے قتل نہیں کیا؟“ انہوں نے کہا: ”وہ تو اس کی بھی پروا نہیں کرتے کہ ہم سب کو قتل کر دیں، پھر قسمیں کھا جائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے پچاس آدمی قسم اٹھائیں اور خون بہا کے مستحق ہو جائیں۔“ انہوں نے کہا: ”ہم بھی قسم اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا کر دی۔“ (ابو قلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:) میں نے کہا: ”زمانہ جاہلیت میں قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اپنے ایک آدمی کو قبیلے سے نکال دیا تھا، پھر وہ رات کے وقت وادی بطحاء میں ایک یمنی کے گھر آیا، اس دوران ان میں سے ایک شخص بیدار ہوا اور اس نے تلوار سے وار کر دیا (جس سے وہ مر گیا)، پھر قبیلہ ہذیل کے لوگ آئے اور قاتل یمنی کو گرفتار کر کے حج کے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں پیش کر دیا اور کہا: ”اس نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ہے۔“ یمنی نے کہا: ”انہوں نے اسے اپنی برادری سے نکال دیا تھا۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اب قبیلہ ہذیل کے پچاس آدمی قسم اٹھائیں کہ اسے انہوں نے نہیں نکالا تھا۔“ چنانچہ ان میں سے انچاس آدمیوں نے قسمیں کھائیں، پھر اس قبیلے کا ایک شخص شام سے آیا تو انہوں نے اس سے بھی قسم لینے کا مطالبہ کیا لیکن اس نے اپنی قسم کے عوض ایک ہزار درہم ادا کر کے قسم سے اپنا پیچھا چھڑا لیا۔ قبیلہ ہذیل کے لوگوں نے اس کی جگہ ایک دوسرے آدمی کو تیار کر لیا، پھر انہوں نے قاتل کو مقتول کے بھائی کے حوالے کر دیا اور اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ کے ساتھ باندھ دیا گیا۔“ انہوں نے بیان کیا: ”پھر ہم اور وہ پچاس آدمی جنہوں نے قسم اٹھائی تھی روانہ ہوئے۔ جب مقام نخلہ پر پہنچے تو وہاں انہیں بارش نے آ لیا۔ چنانچہ سب لوگ پہاڑ کی ایک غار میں گھس گئے، غار ان پچاس آدمیوں کے اوپر گر پڑی جنہوں نے قسمیں اٹھائی تھیں اور وہ سب کے سب مر گئے، البتہ جن دو آدمیوں نے ہاتھ باندھے تھے وہ بچ گئے۔ ان کے پیچھے بھی ایک پتھر لڑھک کر گرا اور اس نے مقتول کے بھائی کا ٹخنا توڑ دیا۔ اس کے بعد وہ ایک سال زندہ رہا، پھر مر گیا۔“ میں نے کہا: ”حضرت عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ نے ایک آدمی سے قسامت کی بنیاد پر قصاص لیا تھا، پھر انہیں اپنے کیے پر ندامت ہوئی تو انہوں نے ان پچاس آدمیوں کے متعلق جنہوں نے قسم اٹھائی تھی حکم دیا کہ ان کے نام رجسٹر سے کاٹ دیے جائیں، پھر انہیں شام کی طرف جلاوطن کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6899]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
23. بَابُ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ فَلاَ دِيَةَ لَهُ:
باب: جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر دیت واجب نہیں ہو گی۔
حدیث نمبر: 6900
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ حُجْرٍ فِي بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ، أَوْ بِمَشَاقِصَ، وَجَعَلَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی بکر بن انس نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک حجرہ میں جھانکنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر اٹھے اور چاہتے تھے کہ غفلت میں اس کو مار دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6900]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں جھانکنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیر کا پھل لے کر اس کی طرف گئے، آپ چاہتے تھے کہ خفیہ طور پر اسے مار دیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6900]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6901
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ:" أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنَيْكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الْبَصَرِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کا کنگھا تھا جس سے آپ سر جھاڑ رہے تھے۔ جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم میرا انتظار کر رہے ہو تو میں اسے تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (گھر کے اندر آنے کا) اذن لینے کا حکم دیا گیا ہے وہ اسی لیے تو ہے کہ نظر نہ پڑے۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6901]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کے دروازے کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا جبکہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سر کھجلانے کا ایک آلہ تھا جس سے اپنا سر کھجلا رہے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو مجھے جھانک رہا ہے تو میں اس کے ساتھ تیری آنکھ پھوڑ دیتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے گھر آنے کے لیے اجازت لینے کا حکم اس لیے مشروع ہے کہ نظر نہ پڑے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6901]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6902
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَخَذَفْتَهُ بِعَصَاةٍ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں (جب کہ تم گھر کے اندر ہو) جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری مار دو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6902]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں جھانک کر دیکھے تو تم کنکری سے اس کی آنکھ پھوڑ دو، اس پر تجھے کوئی گناہ نہیں ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6902]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
24. بَابُ الْعَاقِلَةِ:
باب: عاقلہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 6903
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، قَالَ:" سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مَا لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ؟ وَقَالَ مَرَّةً: مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ؟، فَقَالَ" وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ".
ہم سے صدقہ بن الفضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، ان سے مطرف نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، کہا کہ میں نے ابوجحیفہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن مجید میں نہیں ہے اور ایک مرتبہ انہوں نے اس طرح بیان کیا کہ جو لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑ کر نکالا ہے اور مخلوق کو پیدا کیا۔ ہمارے پاس قرآن مجید کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ سوا اس سمجھ کے جو کسی شخص کو اس کی کتاب میں دی جائے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا خون بہا (دیت) سے متعلق احکام اور قیدی کے چھڑانے کا حکم اور یہ کہ کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6903]
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں یا لوگوں کے پاس نہیں ہے؟“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ” «وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ» ”قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ پھاڑا اور انسان کو پیدا کیا!“ ہمارے پاس قرآن مجید کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، ہاں ہمیں بصیرت ملی ہے جو قرآن فہمی کے لیے ہوتی ہے، نیز ہمارے پاس وہ کچھ ہے جو اس صحیفے میں ہے،“ میں نے کہا: ”اس صحیفے میں کیا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ” «الْعَقْلُ وَفَكَاكُ الْأَسِيرِ» ”دیت اور قیدیوں کو چھڑانے کے مسائل ہیں،“ نیز اس میں ہے کہ «لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ» ”مسلمان کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔““ [صحيح البخاري/كتاب الديات/حدیث: 6903]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة